دوبارہ کاٹنے آؤ گے۔۔۔ آس ہے سائیاں

Posted in میں عشق میں ہوں

دوبارہ کاٹنے آؤ گے۔۔۔ آس ہے سائیاں

ابھی توکھیت میں دو دن کی گھاس ہے سائیاں

 

تمہارے قرب کی مانگی تو ہے دعا میں نے

مگر یہ ہجر جو برسوں  سے پاس ہے سائیاں

 

جسے ملو وہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

بھرا ہوا بھی کسی کا گلاس ہے سائیاں

 

ترے بغیر کسی کا بھی دل نہیں لگتا

مرے مکان کی ہر شے اداس ہے سائیاں

 

ٹھہر نہ جائے خزاں کی ہوا اسے کہنا

ابھی شجر کے بدن پر لباس ہے سائیاں

 

کوئی دیا کہیں مصلوب ہونے والا ہے

بلا کا رات پہ خوف و ہراس ہے سائیاں

 

نجانے کونسی کھائی میں گرپڑے منصور

یہ میرا وقت بہت بد حواس ہے سائیاں