سلوک خود سے کیا غیر کی طرح میں نے

Posted in میں عشق میں ہوں

سلوک خود سے کیا غیر کی طرح میں نے

اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے

 

وہ چاند رات کی وحشت کے بعد ہفتوں تک

سکوت تان لیا بحر کی طرح میں نے

 

شبِ فراق کی تلخی بہت تھی سو تجھ کو

پیا شراب کسی زہر کی طرح میں نے

 

وہ چل رہی تھی سمندر کے نرم ساحل پر

اسے سمیٹ لیا لہر کی طرح میں نے

 

بدن سے اپنے گزرنے دیا سدا اس کو

مثالِ آب کسی نہر کی طرح میں نے

 

وہ حادثاتِ زمانہ کی پتلی تھی منصور

اسے گزار دیا خیر کی طرح میں نے