سوگئے ہیں ہار کر سب رات کے جاگے ہوئے

Posted in میں عشق میں ہوں

سوگئے ہیں ہار کر سب رات کے جاگے ہوئے

صبح کے روشن تصورات کے جاگے ہوئے

 

رات کی پچھلی گلی میں ایک میں اور ایک چاند

جاگتے پھرتے ہیں دو حالات کے جاگے ہوئے

 

رونے پہ پابندیاں ہیں، قہقہے ممنوع ہیں

کیا کریں ہم ہجر کے صدمات کے جاگے ہوئے

 

اے شبِ گرم و ملائم رہ ابھی آغوش میں

تیرے پہلو میں ہیں تیرے ساتھ کے جاگے ہوئے

 

دیدہ ٔ شب میں پہن کر بارشوں کے پیرہن

پھر رہے ہیں موسمِبرسات کے جاگے ہوئے

 

کھو گئے منصور آخر زردیوں کی نیند میں

موسمِ گل کی توقعات کے جاگے ہوئے