شاید تمام ہونے کو ہے رات کی گھڑی

Posted in میں عشق میں ہوں

شاید تمام ہونے کو ہے رات کی گھڑی

کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی

 

باہر سے لوٹ جائے وہ امید کی کرن

اب ختم ہو چکی ہے ملاقات کی گھڑی

 

اچھی ہیں اس کی یہ متلون مزاجیاں

ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی

 

بہتاہے میرے سامنے سرچشمۂ دعا

پتھرا گئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی

 

منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو

ٹھہری ہوئی زخم میں حالات کی گھڑی