وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام

Posted in میں عشق میں ہوں

وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام

اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام

 

گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ

لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام

 

رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ

پھر آ رہی ہے رات پہن کر اگر وہ شام

 

شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر

افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام

 

مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے

منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام