وہ جو تیری طرف نہیں ہوتے

Posted in میں عشق میں ہوں

وہ جو تیری طرف نہیں ہوتے

گولیوں کے ہدف نہیں ہوتے

 

تارے ہوتے ہیں صرف پلکوں پر

ہر طرف صف بہ صف نہیں ہوتے

 

روح پر پھیر اپنی نرماہٹ

جسم اندر سے رف نہیں ہوتے

 

بات ہم تک پہنچ ہی جاتی ہے

سارے جملے حذف نہیں ہوتے

 

ہم شرابی نئی طرح کے ہیں

یونہی ساغربکف نہیں ہوتے

 

سب سمندر ہیں قطرۂ جاں میں

ہم صدف در صدف نہیں ہوتے

 

عشق کرنا خیال سے منصور

خوبرو باشرف نہیں ہوتے