چیختی ہے بے زبانی شہر میں

Posted in میں عشق میں ہوں

چیختی ہے بے زبانی شہر میں

درد کی ہے حکمرانی شہر میں

 

صرف دیوارِ وفا اونچی نہیں

ہر طرف ہے بد گمانی شہر میں

 

رو رہا ہے آسماں جانے کسے

پھیلتا جاتا ہے پانی شہر میں

 

جاتے جاتے ایک کردارِ وفا

لکھ گیا کیسی کہانی شہر میں

 

گاؤں والو دیکھتے کیا ہو مجھے

چھوڑآیا ہوں جوانی شہر میں

 

آرہے ہیں آسماں کے مالکان

بڑھ رہی ہے لا مکانی شہر میں