چلا گیا ہے وہ اب شور اس کے بعد نہ کر

Posted in میں عشق میں ہوں

چلا گیا ہے وہ اب شور اس کے بعد نہ کر

سکوتِ درد میں اے دل بہت فساد نہ کر

 

مرے مزاج کا حصہ ہے یہ اکیلا پن

کہا ہے تجھ سے جو اس پہ تُو اعتماد نہ کر

 

اداسیوں بھری تنہائی ہے بہت سندر

یہ خامشی کی غزل سُن کسی کو یاد نہ کر

 

ترے لیے ہے بنایا یہ دانۂ گندم

نفس نفس میں سلگتا ہوا جہاد نہ کر

 

سیاہی رہنے دے صحنِ حیات میں منصور

ملال خانہ ٔ شب کو چراغ زاد نہ کر