اس کے دماغ میں ہی سہی ربرو ہوں میں

Posted in میں عشق میں ہوں

اس کے دماغ میں ہی سہی ربرو ہوں میں

مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں

 

پھیلی ہوئی ہے لمس کی دونوں طرف بہار

دیکھو مجھے کہ آج کنارِ گلو ہوں میں

 

وحشت تمام اس میں ہے میرے وصال کی

ہم رقص کے پھڑکتے بدن کا لہو ہوں میں

 

اک دوسرے سے کہتے نہیں، جانتے تو ہیں

تُو میرے چارسو ہے، ترے چارسو ہوں میں

 

مجھ کو بھی گنگنا اے تہجد گزار دل

تیرے لیے تو نغمۂ اللہ ہو ہوں میں

 

منصور کیا کرے گا زمانے کا شور و غل

تُو میری آرزو ہے تری آرزو ہوں میں