کوئی جگنو، کوئی شب، کوئی ہوا، کوئی ستارہ

Posted in میں عشق میں ہوں

کوئی جگنو، کوئی شب، کوئی ہوا، کوئی ستارہ

کوئی میرا نہیں اب تیرے سوا کوئی ستارہ

 

کتنے برسوں سے مرے دل میں اندھیرا ہے کسی کا

میرے چارہ گرو!ہے میری دوا کوئی ستارہ

 

پاؤں رکھا مرے بختوں میں زوالوں کی گھڑی نے

برج میں آ گیا ہے غیرروا کوئی ستارہ

 

تیری قسمت میں نہیں ہے کسی مہتاب کا چہرہ

کہہ رہا ہے یہ مجھے نرم نوا کوئی ستارہ

 

مل رہا ہوں میں کسی اورجہاں زاد سے منصور

ہو رہا ہے یہ مری آنکھ پہ وا کوئی ستارہ