یہ بے سبب ہوا احمق زمانہ تیری طرف

Posted in میں عشق میں ہوں

یہ بے سبب ہوا احمق زمانہ تیری طرف

میں خود پرست یونہی تھا روانہ تیری طرف

 

میں آگیا ہوں سرِ شام تیرے کوچے میں

ہے آج رات کا پھر آب و دانہ تیری طرف

 

شکار گاہِ جہاں میں خیال رکھ کہ ہے آج

ہر ایک تیرِ نظر کا نشانہ تیری طرف

 

نہیں ابھی تجھے پہچان اپنے چہرے کی

بنا رہا ہوں میں آئینہ خانہ تیری طرف

 

خریدنا ہے مکاں اک ترے علاقے میں

ضروری ہے کوئی میرا ٹھکانہ تیری طرف

 

بس ایک بوسۂ سر گرم کی تمنا میں

رکھا ہمیشہ ہے منصور شانہ تیری طرف