محبت ہے بہت سیدھی بہت سادی محبت میں

Posted in میں عشق میں ہوں

محبت ہے بہت سیدھی بہت سادی محبت میں

لٹاتی ہے بدن کا زر، یہ شہزادی محبت میں

 

اسے دیوارِ جاں پر کوئی آویزاں کرے کیسے

کہ ہے تصویر کا ہر نقش فریادی محبت میں

 

نظر میں وصل کی قوسِ قزح ہے، پاؤں میں بادل

سنورتی جاتی ہے پھولوں بھری وادی محبت میں

 

سنا ہے اپنے گھر کے بام و در تک پھونک ڈالے ہیں

جہاں تک مجھ سے ممکن تھا کی بربادی محبت میں

 

ترے بالوں میں میری انگلیوں کے ساز لرزاں ہوں

بس اتنی چاہیے منصور آزادی محبت میں

 

تیرے پاکیزہ بدن کے خواب میں رہتا ہوں میں

اک ہجومِریشم و کمخواب میں رہتا ہوں میں

 

تجھ میں شادابی تو ہے اے اجنبی لڑکی مگر

رات بھر بس ہجر کے آداب میں رہتا ہوں میں

 

یہ نہیں کہ کچھ نہیں حاصل بجز تنہائی کے

جانِ جاں اک عالمِ اسباب میں رہتا ہوں میں

 

اور کوئی بھی نہیں ہے زغم بس اس کے سوا

تیرے دل کے قریہ ٔ مہتاب میں رہتا ہوں میں

 

اک ترو تازہ نظرکے ساتھ کتنے سال سے

یاد کی د وشیزہ ٔ شاداب میں رہتا ہوں میں