کتوں کے جبڑوں میں خواہش

Posted in تین کواڑ


کتوں کے جبڑوں میں خواہش

چاہتا ہوں میں رہنا
ایک خوشبو بھری شام میں۔
ایک مہکی ہوئی رات کے گیت میں۔۔
ایک کھوئی ہوئی روح کے وجد میں۔
اک تہجد کے جاگے ہوئے پہر میں
چرچ کے گنگناتے سروں کی دعا بخش اتوار میں
ایک مندر کے اشلوک میں۔
سینا گاگوں میں ہوتی مناجات میں۔
گرداوارے کی ارداس میں۔۔
اور بابا فرید ایسے شاعرکی آیات میں
تیرہ غاروں میں ہوتی نماز وں کے بیچ۔۔
چاہتا ہوں میں رہنا
حسنِ نور جہاں کی لہکتی ہو ئی گرم آواز میں
رقصِ گوگوش کے دلربا بول میں
ام کلثوم کی خواب بنتی ہوئی تان میں
اور میڈونا کی صدیوں پہ پھیلی ہوئی تال میں
ایک کتھک کرتی ہوئی سونیا کی ہراک قوس میں
مونالیزا کے ہونٹوں پہ لکھی ہوئی نظم میں
رنگ جیسے پکاسو کی تجرید میں
چاہتا ہوں کہ ہومر کی ہیلن مجھے پیار کرتی رہے
چاہتا ہوں نئے عہد نامے کی کیتھی مرے لمس میں رنگ بھرتی رہے
چاہتا ہوں کہ روزنیہ کی لمبی پلکیں مجھے خواب دیتی رہیں
اور منصور تعمیر ہوتارہے۔
میری خواہش مگر
کتنی صدیوں سے کتوں کے جبڑوں میں ہے