وقت اور مقام

Posted in تین کواڑ


وقت اور مقام


جعفر بن یحیےٰ۔۔
اپنے وقت کے سب سے بڑے۔
۔شیخ کی جستجومیں۔۔
سپین سے مکہ پہنچے
تو اک سبز
جبہ پوش بدن نے
ان سے کہا
تم جس کی خواہش میں مشرق میں آئے ہو
وقت کا وہ استاد ہے مغرب میں
اور تلاش تمہا ری میں
ایک کمی ہے۔ایک ابھی
جہاں سے آئے ہو ۔لوٹ وہیں جاؤ۔وہ شخص وہیں ہے۔
حاتم طائی کے قبیلے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔
العربی کا بیٹا ہے۔
نام محی الدین ہے اسکا
اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جعفر بن یحیےٰ
ایک درس گاہ میں پہنچا۔
اور محی الدین کا پوچھا
تو کسی نے اک طا لب علم کی سمت اشارہ کر کے کہا
وہ ہے محی الدین۔
(وہ اس وقت کتاب کوئی ہاتھ میں لے کراک کمرے سے عجلت میں باہر نکل رہا تھا۔)
جعفر نے سولہ سال کے اس لڑکے کو حیرت سے دیکھا
اور اسے روک کے پوچھا
’’موجودہ زمانے کا سب سے بڑااستاد ہے کون۔
تو اس لڑکے نے اس وقت کہا
’’مجھے اس سوال کا جواب دینے کے لئے کچھ وقت چاہئیے‘‘
جعفر نے اس سے پوچھا
طائی قبیلے کے العربی کے تم ہی بیٹے ہو۔
تو محی الدین نے ’’ہاں میں ہی ہوں ۔
جعفر بولا’’تو پھر مجھے تمہاری ضرورت نہیں‘‘
تیس سال کے بعد جعفر اس ہال میں داخل ہوا
جہاں محی الدین ابن عربی تقریر کر رہے تھے۔
انہوں نے جعفر کے اندر داخل ہوتے ہی کہا
’’جعفر بن یحیےٰ اب جب میں تمہارے سوال کا جواب دینے کے قابل ہوں۔
تو تمہیں اس کی ضرورت نہیں
تیس سال پہلے جعفر تم نے کہا تھا
تمہیں میری ضرورت نہیں
کیا اب بھی تمہیں میری ضرورت نہیں ہے۔
اس جبہ پو ش نے تیس سال پہلے تمہاری تلاش میں کسی کمی کا ذکر کیا تھا۔
وہ کمی وقت اور جگہ نے تعین کی تھی۔