ہم جادوگر ہیں

Posted in تین کواڑ

ہم جادوگر ہیں

ہم کانٹوں کو گلاب
شعلوں کو شبنم
اندھے غاروں کو کہکشاں
صرف کہتے نہیں ثابت بھی کرتے ہیں
ہم سے کوئی ہاتھ ملائے
تو وہ ہاتھ کاٹ لیتے ہیں
مگر خبر نہیں ہوتی
آئینہ دکھانے لگتے ہیں
اور آنکھیں نکال لیتے ہیں
گیت سنانے کی فرمائش کرتے ہیں
اور زبان کا ٹ لیتے ہیں۔
پھر اسی لکنت بھری زبان کو
تمغوں سے سر فراز کرنے لگتے ہیں
ہم جادوگر ہیں