بادشاہ کا محل

Posted in تین کواڑ


بادشاہ کا محل

اس نے کہا
’آدھی رات کے پیٹ میں ہم صحرا کے بیچ میں تھے۔
وہاں کوئی روڈنہیں تھا۔
ہاں کئی سڑکیں تھیں
انسانی قدموں کے نشانات کی سڑکیں‘‘
اس نے کہا
’’ہم اقوامِ متحدہ کے انتظار میں تھے۔
ابھی بھرے ہوئے پیٹ کی دنیا
خالی پیٹ دنیا کے لئے
خوراک کے تھیلے بھیجے گی۔
بھکاری نسلوں کے لئے من وسلویٰ کے تھیلے۔۔
ہم سب کی نظریں آسمان کی طرف تھیں۔
وہاں پہلا جہاز نمودار ہوا
چہروں پر رونق آ گئی
مگر جہاز نے خوراک کی بجائے
آگ کے تھیلے گرائے یعنی بم۔۔
پیٹ بھری دنیا نے
اس مرتبہ شاید بموں کی خیرات نکالی تھی۔‘‘
اس نے کہا
’’ہر طرف لوگ مر رہے تھے ۔جیسے لوگ مرتے ہیں
میں نے بہت مرتے ہوئے لوگ دیکھے ہیں۔
موت کے منظر کا نقشہ نہیں کھینچا جا سکتا
اس منظر کو صرف دیکھنے سے محسوس کیا جا سکتا ہے
بچ جانے والے سرپٹ بھاگ رہے تھے۔
میں بھی بھا گنے والوں میں سے تھا
بھاگتے بھاگتے ہم سوڈان سے ایتھوپیا پہنچ گئے۔
بھاگنے کے اس سفر میں
ایک لق دق صحرا میرا ہمسفر تھا
موت کا صحرا۔۔
وہی مرتے ہوئے لوگ۔
سانپوں کے ڈسے ہوئے لوگ،
بھوک اور پیاس سے مرتے ہوئے لوگ‘‘
اس نے کہا
’’اب ہم مہاجر تھے
ایک لامکان سے دوسرے لا مکان کی طرف سفر پر روانہ مہاجر۔۔۔
مہاجر کی زندگی بھی کیا ہے
انسان سے جانور بن جانے کا عمل ہے۔
پھر ہمیں ایتھوپیا سے واپس سوڈان بھیج دیا گیا
ہم پھر گاؤں میں اقوامِ متحدہ کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔
آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔
پھر ایک طیارہ آیا
۔ لیکن اس نے بھی بم برسائے
بہت سی گائیں بھینسیں اور آدمی ہلاک ہوئے
آخرکار اقوامِ متحدہ والے آئے
اور ہم میں سے کچھ لوگوں کو کینا لے گئے۔
ہم عرصہ تک اقوامِ متحدہ والوں کے پھر آنے کے انتظار میں زندہ رہے۔۔۔
پھر موت بہت قریب آ گئی۔
اور دہشت گرد بننے کا فیصلہ کر لیا۔
سوچاکہ مرنا تو ہے ہی
کیا یہ بہتر نہ ہو گا
کہ پیٹ بھر ی ہوئی دنیاکے
دو چار لوگ بھی ساتھ لے جاؤ
شاید ان کا کھانا میرے جیسے لوگوں کو زندہ رہنے میں مدد دے۔
میں دہشت گردوں کے ساتھ مل کر اس دنیا میں پہنچ گیا
جہاں بھرے ہوئے پیٹ والے رہتے ہیں
میں جب پہلی بار اس دنیا میں داخل ہوا تو مجھے لگا
جیسے میں کسی بادشاہ کے محل میں آ گیا ہوں۔
پھر میں گرفتار ہو گیا
مگر پھر بھی بہت خوش ہوں
کہ بادشاہ کے محل میں رہتا ہوں