ہابیل کا مرثیہ

Posted in تین کواڑ


ہابیل کا مرثیہ
جو شایدآدم علیہ السلام نے لکھا تھا


زمین نے گرد پہن لی ہے
بد نمائی کو اپنے ماتھے پر سجا لیا ہے۔
رنگوں بھری ہوئی اور لطف واکرام سے وابستہ ہر شے نے اپنی آنکھیں پھیر لی ہیں
چہروں کی بشاشت مٹی ہو گئی ہے۔
قابیل نے کسی سفاک درندے کی طرح ہابیل کو موت کی وسعتوں میں اتار دیا ہے۔
اس کی اٹھتی ہوئی پُر ثواب جوانی پر افسوس کا ایک دریائے بے کنار۔۔
مگر میری آنکھوں کو کیا ہوا ہے
ان سے آنسوؤں کی ندیاں کیوں رواں نہیں ہوئیں۔
اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ میرے خوش مزاج ہابیل کو
مٹی نے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔