سوال کی خود کلامی

Posted in تین کواڑ


سوال کی خود کلامی

’’ہاں مجھے جواب دینے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے
مگر میں تو خود سلگتے ہوئے سوالوں سے بھرا ہواہوں۔
میرے اندر اورباہر ہر طرف سوال ہی سوال ہیں۔
میں کیا کہوں کہ یہ نخل و گل کہا ں سے آئے ہیں۔
یہ ہوا کیا ہے ۔پانی کیا شے ہے زمین و آسمان کیسے تخلیق ہوئے ہیں۔
یہ روزوشب کیا ہیںآدمی کا کا ئنات سے رابطہ۔
کیوں ہے کیا ہے کس لئے ہے کس طرح سے ہے۔
میں کچھ نہیں جانتامگر مجھے کہا گیا ہے کہ مجھے بولنا ہے۔
میں کچھ نہیں جانتا۔میں کچھ نہیں جانتا‘‘
’’مگر پھر بھی ۔۔کچھ تو کہیے نا‘‘
’’خزاں کی ٹہنی پہ لرزتا ہوا آخری پتہ۔۔
پلک پلک سے ٹوٹ کے گرتا ہو ا آنسو۔۔
زندگی کی سڑک پر ٹپکتے ہوئے لہو کی گرم بوند۔
بے گناہ مرنے والی کی آخری نگاہ۔
سراپا سوال بن کر مجھ سے جواب مانگتی ہے
مگر میں خاموش رہنا چاہتا ہوں۔۔
تمہیں پتہ ہے نا مجھے تین عمل سخت نا پسند ہیں۔
میں سونا نہیں چاہتا
میں
کچھ کھانا چاہتا
میں بولنا نہیں چاہتا۔ میں بولنا چاہتا‘‘
’’مگر وہ جو آپ کوجواب دینے کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے‘‘
’’پوچھو کیا پوچھنا ہے‘‘
’’کچھ بھی نہیں‘‘