مایوس دن کی اداس نظم

Posted in تین کواڑ


مایوس دن کی اداس نظم


اندھیروں میں چراغ جلائے جا سکتے ہیں۔
تاریک گلیوں میں لائٹس لگائی جا سکتی ہیں۔
حکومتی تندوروں پر دو روپے کی روٹی بیچی جا سکتی ہے۔
غریبوں کے میلے میلے بچوں کے لئے اجلے اجلے سکول کھولے جا سکتے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ سے کسی بیمار بڑھیا کی دوائی خریدی جا سکتی ہے۔
مگر میں جب مسا واتِ محمدی کے خواب دیکھتا ہوں
تو تعبیر ایک سوالیہ نشان کی طرح
تاریخ کی میان سے نکل کر
میری آنکھوں میں چبھنے لگتی ہے
شاید نظام نہیں بدلا جا سکتا۔
ہاں نظام بدلنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔۔
بے معنی کوشش۔لا یعنی کوشش۔