تم کیا کہتے ہو میں کیا کہتا ہوں

Posted in تین کواڑ


تم کیا کہتے ہو میں کیا کہتا ہوں


تم کہتے ہو کہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔۔۔
میں کہتا ہوں کہ صدیوں سے چند ناپاک سوالوں کے عوض
انسانیت اپنا بدن بیچتی چلی آ رہی ہے۔۔۔
تم کہتے ہو۔انسان سسک سسک کر جی رہا ہے۔
میں کہتا ہوں انسانی تاریخ میں کوئی کم ہی لمحہ ایسا گزراہوگا
جب اس کی سسکاریوں سے ہوا مغموم نہیں ہوئی ہو گی۔
تم کہتے ہودہشت گردی دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو گئی ہے۔
میں کہتا ہوں۔دہشت گردی تو ہزاروں سالوں سے
لوگوں کے زندہ بدن پر چل رہی ہے۔۔
بادشاہوں کے لشکریوں کے پاؤں تلے کچلی ہوئی نوع انسانی کی کہانی۔
دہشت گردی ہی کی کہانی ہے۔۔
ہیروشیما اور ناگاساکی کی شمشان گاہ میں اڑتی ہوئی ایٹمی راکھ۔۔
ہٹلر کے گیس چیمبروں میںیہودیوں کی اجتماعی موت۔
فلسطین میں مرتے ہوئے معصوم بچے۔۔
بغداد کی گلیوں میں بہتا ہوا خون۔۔
افغانستان میں چٹختے ہوئے مظلوم پہاڑ
اور مقامِ صفر پر گرتی ہوئی گیارہ ستمبر کے دو ہندسوں کی سر بلند عمارتیں۔۔
سب ایک طرح کی دہشت گردی ہے
تم کہتے ہو۔۔
پتہ نہیں تم کہتے ہو
میں کہتا ہوں۔۔
پتہ نہیں کیاکہتا ہوں