قتل کا خوف

Posted in تین کواڑ


قتل کا خوف

شاید میں ایک مقدس دیوانے بھی ہوں
مگر میرا روحانی راستے پر الوہی سفر
ظاہری اور مروجہ رویوں سے مختلف ہے۔
شاید میں خود ملامتی میں اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہوں
میری زندگی کا اولین مقصد اپنی ذات کو فنا کر نا ہے
کیونکہ جب تک میں مکمل طور پر اپنی نفی نہیں کر لیتا
اس وقت تک اثبات کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا
جو راہِ سلوک کے ہر مسافر کا مقصدِحیات ہوتی ہے
اس راستے پر میرے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے
مگر تاریخ نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے
کہ بادشاہوں اور فقیہوں کے فیصلے غلط تھے۔۔
معاملہ چاہے منصور حلاج کا ہو یا سرمد کا۔۔
تاریخ چیخ چچیخ کر کہہ رہی ہے کہ
وہ بھی میری طرح سچائی پر تھے۔
اگر مجھے بھی قتل کر دیا گیا
تو کیا میں بھی صرف دوسروں کی طرح
سنہرے تابوت میں سج کر تاریخ کی قبرمیں دفن ہو جاؤں گا
نہیں نہیں
میرے جیسے لوگ جب کسی تہذیب میں قتل ہوتے ہیں
تو پھر وہ تہذیبیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔
مغل تہذیب جو اپنے دور میں ایک بڑی تہذیب گردانی جاتی تھی
سرمد کے قتل کے بعد کتنی کم مدت میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہو گئی تھی۔
مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے
ہماری تہذیب کے خون سے لتھڑے ہوئے ہاتھ
اسے ایسے ہی خوفناک انجام سے دوچار نہ کر دیں