بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

Posted in تین کواڑ

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ


میں اس وقت دیارِ عیسویں کی اکیسویں سٹریٹ پر کھڑا ہوں۔
مجھے اس مصروف ترین گلی میں آتے جاتے ہوئے
زیادہ تر لوگ مرغ سر بریدہ دکھائی دے رہے ہیں۔
تقریباٌہر شخص نے اپنے سر پر جو ٹوپی پہن رکھی ہے
اس پر فاختہ کا نشان بنا ہوا ہے
اور ٹائی کے پن کی صورت شاخِ زیتون جیسی ہے۔
لباس پر امن کے پرفیوم کا بہت زیادہ اسپرے کیا ہو اہے
مگر ان کے جسموں سے آتی ہوئی بارود کی بوپوئزن کی تیز خوشبو میں دب نہیں رہی۔
میرے سامنے ایک طرف
گیارہ ستمبر کے میناروں سے لے کرمقامِ صفر کی پامال تک جلوہ فگن ہے
دوسری طرف
گون ٹانا موبے سے لے کر ابو غریب جیل کا احاطہ تکدکھائی دے رہا ہے
اس اکیسویں سٹریٹ سے میری دوستی کچھ زیادہ قدیم نہیں۔
میں ابھی بیسویں صدی کے شہر سے اس امید کے ساتھ نکلا تھا
کہ اگلا دیار روشنیوں اور خوشبوؤں سے بھرا ہو ہو گا
مگر اس وقت مجھے محسوس ہو رہا ہے
کہ میں انسانی تاریخ کے انتہائی بد قسمت موڑ پر کھڑا ہوں۔
گھور اندھیرے آنکھوں میں چبھنے لگے ہیں۔
تاریکیاں دل ودماغ تک اترنے لگی ہیں۔
امن ،سلامتی اور عافیت کا نگر کونسا ہے۔
یہ سوال صرف میرا نہیں ہے
میرے عہد کا ہے
چھوڑئیے۔
میری طرح میرا عہد بھی بک بک کرتا رہتا ہے