ایک خواہش جو صدیوں سے ہوتی آئی ہے

Posted in تین کواڑ


ایک خواہش جو صدیوں سے ہوتی آئی ہے


آؤ ہم سب مل کر پکار بلند کریں
ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
رنگ ، نسل ،وطن،مذہب اور زبان کا اختلاف
کسی بھی انسان کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا۔
انسان کا خون مقدس ہے
انسانی لہو لندن کی انڈر گراؤنڈ ٹرینوں میں بہے
یا بغداد کی گلیوں میں
اس کے تقدس میں کوئی فرق نہیں آتا۔
آؤ روشن لفظوں میں آسمان کی چھاتی پر کندہ کر دیں
لہو کی کوئی داستان اب کہیں نہیں لکھی جائے گی۔
کسی ماں کا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا جائے گا۔
کسی بچے کے مقدر پر اب یتیمی کی مہر نہیں لگائی جائے گی
مغرب اور مشرق دونوں جگہوں پر
ہمارے لئے مغرب اور مشرق کافرق و امتیاز کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اپنا خدا تو رب المشرقین بھی ہے اور رب المغر بین بھی۔
آؤ سلا متی کے علم بلند کریں۔
انسان کو روشنی دیں
بینائیاں دیں
بصیرتیں دیں۔
کہ وہ اندھا ہو کر اپنے گھر کو آگ لگا رہا ہے۔