پاکستان تیرا کیا کروں

Posted in تین کواڑ


پاکستان تیرا کیا کروں


میں پاکستان ہوں
اور مجھ میں وقت پتھرا گیا ہے۔
زمین و آسمان کی گردشیں رکی ہوئی ہیں۔
موسموں کے دریا جمے ہوئے ہیں۔
بصارتوں میں سلائیاں پھیری ہوئی ہیں۔
سماعتوں میں سیسہ بھرا ہوا ہے۔
آوازوں میں سناٹے گونج رہے ہیں۔
تعبیروں سے محروم خوابوں کے ہجوم آنکھوں سے چپک کر رہ گئے ہیں۔
آسیب زدہ قافلے دائرے کے بھنور میں ڈوب چکے ہیں۔
آرزو کی سسکتی ہو ئی آنکھیں
گلی کے نکڑپر اپنی بے بسی کا تما شا آپ دیکھ رہی ہیں۔
میں مردہ منظروں کی ایک فلم بن چکا ہوں۔
اڑتی ہوئی راکھ کے بگولے۔
فاسفورس بموں میں جلی ہوئی مسجدیں۔
دور تک پھیلی ہوئی قبریں۔
خود کش بمباروں کے طشت میں رکھے ہوئے سر۔
چٹانوں پر کھدے ہوئے موت کے نقشِ پا۔
نمازیوں کی چہروں کے خوفزدہ کتبے۔
امید کے پرندوں کی کر لاہٹیں۔
تپتی ہوئی ریت میں گم ہوتے ہوئے آسمان کے آنسو۔
جمہوریت کے ایوانوں میں ہوتا ہوا پتلی تماشا۔
بس یہی میں ہوں
بس یہی میرا ماضی ہے۔
بس یہی ۔