ابد کے اُس پار

Posted in تین کواڑ

خانہ ء لاشعور میں کھڑکیاں بج رہی تھیں۔

چمکتی بجلیوں میں پنجابی فلموں کے ہیرو صوراسرافیل پھونک رہے تھے ۔

بادلوں میں روشنیوں کی رقاصہ آخری کتھک ناچ رہی تھی۔

بھادوں بھری شام کے سرمئی سیال میں زمین ڈوبتی چلی جا رہی تھی ۔

پگھلا ہوا سیسہ سماعت کا حصہ بن گیا تھا ۔

مرتے ہوئے سورج کی چتا میں ڈوبتے ہوئے درخت چیخ رہے تھے۔

پرندوں کے پروں سے آگ نکل رہی تھی ۔

ٹوٹتے تاروں کے مشکی گھوڑوں کی ایڑیوں سے اٹھتی ہوئی کالک زدہ دھول میں کائنات اور میں گم ہوچکے تھے۔

سٹریٹ لائٹ کی آخری لوبھانپ بنتی ہوئی تار کول میں ضم ہوچکی تھی ۔

سائے دیواروں کو چاٹ چکے تھے ۔

آسماں گیر عمارتیں مقام ِ صفر سے مل چکی تھیں ۔

انڈر گراونڈٹرینوں کی طرح بہتا ہوا لاوہ سرنگوں میں دوڑ رہا تھا۔

چٹانوں کے ٹکڑے نرم نرم ریشوں میں ڈھل رہے تھے ۔

آہنی چیزوں میں کپاس کے پھولوں کا گداز در آیا تھا۔

کُن کا عمل وقت سے کئی لاکھ گنا زیادہ تیزہو چکا تھا۔

ہوا نے آخری ہچکی لی اوراچانک شعور کے بیڈروم میں میری آنکھ کھل گئی۔