اعتماد ذات کی گھمبیر آواز۔محمد اجملؔ نیازی

Posted in چہرہ نما ۔ خاکے

اعتماد ذات کی گھمبیر آواز۔محمد اجملؔ نیازی

 

 

ایک تو وہ راوی ہے جو شاہی قلعے کی دیواروں کے ساتھ بہتا ہے۔جس کی چھاتیاں بادشاہی مسجد کے میناروں کےسائے 

چوم لیتی ہیں لیکن ایک اس سے بھی عظیم تر راوی ہے جس کی رویت گورنمنٹ کالج لاہور سے منسوب ہے۔جسنے علم 

و ادب کے اتنے بڑے بڑے میناروں کو جنم دیا ہے ۔جن کا سایہ نہ صرف پاکستان پر بلکہ علم و ادب کی پوری دنیا پر محیط

ہے ۔علامہ اقبال ،پطرس بخاری ، فیض احمد فیض ،امتیاز علی تاج جیسی طوفان بخش لہریں اِسی راوی سے اٹھیں اور غیر ملکی ادب کی تلاطم خیزیوں کو شرما گئیں۔


ء کے راوی نے ایک اور موج تاریخ کے سپرد کی بڑی بڑی مونچھوں والا خوبصورت چہرہ راوی کے سینے پر سج گیا۔وہ

چہرہ دیکھ کر یوں79 محسوس ہوتا تھا۔جیسے محمد بن قاسم کی فوج کا کوئی سپاہی یا فلسطین میں جان کی بازی لگانے والے کوئی جیالا میدان میں اتر آیا ہو۔


اس کے اداریے ایک عریاں تلوار تھے اس کے قلم سے سیاہی کی جگہ خون ٹپکتاہے اس کی پکار ایک للکارتھی جو سرمایہ 

داری نظام کےپیدا کردہ حالات کے خلاف حضرت ابو ذرؓ کی تاریخ ساز اور اور جرأت مند تحریک کی علمبردار تھی وہ

خوبصورت چہرہ اور محبوب قلم اجملؔ نیازی کا تھا۔یہ راوی کا عہدِ جوانی تھا۔موسیٰ خیل کی سنگلاخ زمین کا سینہ چیر

کر ایک چشمہ پھوٹا تھا۔جس نے راوی کی طغیانیوں کو بہت تیز کر چھوڑا تھا۔اور پھر اس غیور چشمے کو موسیٰ خیل کی 

لپکتی باہوں نے اپنی آغوش میں لے لیا وہ نئے اسمائیلوں کو آدابِ فرزندی سکھانے کے لئے تدریس و تعلیم کے میدان

میں نکل آیا۔گارڈن کالج پنڈی سے ہوتا ہوا جب میانوالی آیا۔توس کے چہرے پر مونچھیں اور ایک خوبصورت سی داڑھی

سجی ہوئی تھی۔غمِ یار اور غمِ روزگار کے سلگتے مسئلوں میں الجھ کر بھی وہ دیوانہ لبکار خویش ہوشیار تھا۔


اس کی شاعری زندگی کی وحشت سامانیوں اور انسانیت کو پہنچانے والی درد انگیزیوں کی ایک سسکتی تصویر ہے وہ 

اب بھی سوچوں کا ایک ایسا پیغمبر ہے جسے دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا ہے اس نے اپنے سر کو

جسم کے چہرے پر سجا کر اس انقلاب کی صور پھونکا ہے جس کے خوشگوار نتائج کے لئے حضرت امام حسینؓکربلا کے وحشت خیز مناظر دیکھے تھے۔

 

عہدِ غفلت میں مجھے مثلِ سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا

کربلائے وقت میں لفظ اور لہو کے سامنے

جسم کے نیزے پہ رکھ کر میرا سر بھیجا گیا

 

یہ اجمل نیازی کی ذہنی سوچ کا ایک اجمالی خاکہ تھا۔اگر اس کے ظاہری اوصاف کو دیکھا جائے تو وہ ایک زندہ تحریک ہے 

جس میں جلال و جمال کی ساری اعجاز آفرنیاں سمٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اس کی رفتار اس کی فطرتِ

سیماب کی عکاس ہے اس کی گفتار آنسوؤں سے دھلی ہوئی ایک ایسی لپک کی آئینہ دار ہے ۔جو دل سے نکلتی ہے

اور دلوں میں اتر جاتی ہے۔اجمل نیازی کی رگوں میں وہی خون گردش کر رہا ہے جو عمرو بن کلثوم میں تھا۔اس کا پاکیزہ

تکلم ایک ایسی رواں نثر میں بکھرتا ہے جس پر شاعری قربان کرنے کو دل مچلتا ہے۔اُس کی گھمبیر آواز صدیوں کا درد

سمیٹ کر ابھرتی ہے اور محفل پر چھا جاتی ہے۔اُس کا حسنِ اخلاق درد مندوں کا ایک خوبصورت گہوارہ ہے ۔وہ اپنی

سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر اتنی چابک دستی سے ابھرا ہے کہ اب اس کو مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

 

تجھ کو معلوم ہے اے ظلمتِ شب کے خدا

تیرے روکے سے بھی خورشید کبھی رکتا ہے