ہم نے اقبال کا کہا مانا

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

ہم نے اقبال کا کہا مانا


آج کل پھر پاکستان میں کچھ لوگ فوج کو آوازیں دے رہے ہیں ۔ مارشل لاء کے حق میں قیصدے لکھ رہے ہیں۔میں ایسے اہل
قلم کی تحریریں حیرت سے پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ انسانی ضمیر نام کی چیز کچھ لوگوں میں کیوں نا پید ہوتی ہے۔شاید
انہوں نے اس لفظ کا مفہوم ہی بدل لیا ہے ۔میرا پاکستان بھی عجیب و غریب لوگوں کا ملک ہے ۔میں جب شہباز
شریف کی زبان سے یہ مصرعہ ’’اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے ‘‘ بار بار سنتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ شہباز
شریف کے نزدیک شاید نظامِ زر کا کچھ اور مفہوم ہے۔میں صدر پاکستان آصف زرداری کی زبان سے روٹی کپڑا اور مکان کا
نعرہ سنتا ہوں تو میرا سرپیٹنے کو جی چاہتا ہے ۔یقیناًکچھ اور دوستوں کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت احوال ہوتی ہوگی اور وہ
عمران خان کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتے ہونگے۔سو بدقسمتی سے ان کی نگاہ فوجی جنرلوں پر جا ٹھہرتی ہوگی ۔جنرل ضیاء الحق
کے زمانے کی ایک کہانی یاد آرہی ہے ۔سن لیجئے ۔شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات۔
اسے یہ مزار پسند آیا تھااس نے جتنے مزار بھی اس سے پہلے دیکھے تھے یہ ان سے مختلف تھا۔ مزار کے پچھلی
طرف ایک وسیع عریض مسجد تھی جس کے فلک بوس مینار بادلوں سے گفتگو کرتے تھے اورگنبدوں کے سنہرے
کلس پرواز کرتے ہوئے شاہینوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے۔ مزار کے سامنے سنگ مرمر سے بنی ہوئی بارہ دری تھی
اور اس کے پیچھے ایک بہت بڑے قدیم قلعہ کا بڑا دروازہ تھا۔ مزار کے چاروں کونوں میں چھوٹے چھوٹے خوبصورت
سائبان تھے ہر سائبان کے تلے ایک گوشت پوست کا باوردی سپاہی ایستادہ تھا۔ ہر ایک کے پاس رائفل تھی ۔سنگین
چڑھی رائفل۔۔۔اورہر سپاہی کی ٹانگ کے ساتھ میان بندھی ہوئی تھی جس میں خنجر اپنے ہونے کا احساس دلا رہا
تھایہ مزار رات کی تنہائی میں یقیناًکسی اور طرح سے نظر آتا ہو گا مگر اس وقت تو صبح کا سورج اپنی پوری آب
وتاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔ وہ مزار کے باہر پریشان حال کھڑا تھا۔۔ مزار کو دیکھ کر اسے ذرا سکون کا احساس
ہواتھاپچھلے کئی دنوں کے بعداسے یہ سکون محسوس ہو رہا تھا
الماس کو یہ مقبرہ کچھ زیادہ پسند نہیں آیا تھا اسے مزار کے چاروں کونوں میں کھڑے فوجی بہت برے لگے تھے۔۔۔ وہ
دونوں دیور بھابھی تھے۔دوسو میل کا سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔۔۔ وہ علامہ اقبال کا مزار دیکھنے کیلئے نہیں آئے تھے انہیں
شاہی قلعہ میں کسی ملناتھا دراصل اس قلعہ میں الماس کا شوہر قید تھااوران کے پاس قلعہ میں متعین
ڈپٹی سرینڈنٹ پویس کے نام کسی کا خط تھا مگر اس نے کئی گھنٹوں کے بعد ڈیوٹی پر آنا تھاوہ اس کے بارے میں پوچھ چکے
تھے۔الماس پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر گھوم رہی تھی اور اس کا دیورمزار پر آنے والوں لوگوں کو دیکھتا تھا اور سوچتا
تھاکہ ایسی قبر کا مالک ہونا قبر والے کو کیسا لگتا ہو گا جس پردن بھر لوگ آتے رہتے ہیں اس نے سوچا کہ ان لوگوں سے
شاید یہ قبر زیادہ زندہ ہے جن سے ملنے کوئی نہیں جاتا۔۔اسے الماس کی آواز سنائی دی ۔
’’انہوں نے یہ مسلحہ فوجی مزار کے اردگرد کیوں کھڑے کئے ہوئے ہیں یہ تو ایک شاعر کا مزار ہے اسے یہ بندوقیں
دیکھ بڑی تکلیف ہوتی ہوگی وقاص‘‘وقاص نے بھابھی کی طرف طنزیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا’’اس شاعر نے
خود کہا تھا کہ تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں ۔۔۔ خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا۔۔اور سنگین تیغ کی ہی ایک قسم ہوتی
ہے سوہم نے من حیث القوم سنگینوں کے سائے میں پل کر جوان ہونے کو اپنا مقدر سمجھ لیاہے اور یہ خنجر جو ہرسپاہی کی
ٹانگ کے ساتھ لٹک رہا ہے یہ (ہلال کا خنجر) ہے‘‘
’’وہ پولیس والا کب تک آئے گا ہم نے جس سے ملنا ہے ‘‘ الماس نے کہا
’’ابھی تین گھنٹے اور انتظار کرنا ہے ، تم ادھر مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاؤ تھک جاؤ گی‘‘ وقاص بولا
’’پتہ نہیں اس سنگلاخ دیوار کے پیچھے تمہارے بھائی کِس حال میں ہونگے‘‘ الماس یہ کہتے ہوئے بادشاہی مسجد کی
سیڑھیوں کی طرف چل پڑی۔۔اور وقاص مزار کے اندر چلا گیا وہاں کچھ لوگ اور بھی موجود تھے جو فاتحہ خوانی کیلئے
آئے ہوئے تھے وقاص نے بھی ہاتھ اٹھادئیے اور اقبال سے کہنے لگا’’میں ایک شاعرکا بھائی ہوں اور میرا بھائی تمہاری
قبر سے ذرا فاصلے پر شاہی قلعے میں سچ لکھنے کی سزا کاٹ رہا ہے بہت تکلیف دہ سزا۔۔وہ تمہارے راستے چلنے والا شخص
ہے تم نے جو خودی کا فلسفہ اسے سمجھا دیا ہے وہی اسے اس مقام پر لے آیا ہے ۔تمہارے بارے میں کسی دل جلے نے ٹھیک
کہا تھا
ہم نے اقبال کا کہا مانا اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں ہم خودی کو بلند کرتے رہے
دعا کیلئے اٹھے ہوئے ہاتھوں پر دو بوندیں گریں شاید آنکھوں سے نکلی تھیں وقاص کی نگاہ قبر کے تعویز کی طرف گئی ۔۔۔پھر اس
نے قبر کودیکھا اور خیال آیا کہ ہر شخص کایہی انجام ہے چاہے کوئی ظالم و جابر حکمران ہے یا مظلوم شاعر ۔۔سو اس
دوروزہ زندگی کے چاند تاروں کے لئے رات سے کیامفاہمت کرنی۔۔۔ایک نئی ہمت اور نئے ولولے کے ساتھ وہ مزار سے
باہر آیا اب وہ پر سکون تھا۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کی طرف گیا جہاں اس کی بہن بیٹھی تھی اور
اس کے پاس بیٹھ کرکہنے لگا ’’میری علامہ اقبال سے بات ہوئی ہے بھائی جان کے بارے میں۔۔ انہوں نے مجھے
فارسی کے دو شعر سنائے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ تیرا دل ایک زرد گھاس کی طرح موت کے خوف سے لزر رہا ہے
اپنی خودی کو پختہ تر کر۔۔کہ اس کے بعد مرنے کے بعد بھی تُو زندہ رہے گا‘‘
الماس بولی‘’علامہ اقبال کا اگر اس ضیانام کے ظالم اور سفاک اندھیرے سے واسطہ پڑتا تو سب فارسیاں بھول
جاتیں‘‘
الماس کا مایوسی اور کم ہمتی سے بھرا ہوا جواب سن کر وہ وہاں سے اٹھ گیااور سیڑھیاں چڑھتا ہوا مسجد کے صحن کی
طرف بڑھنے لگاطویل صحن عبور کر کے جب وہ مسجد کے ہال میں پہنچا تو اسے خیال آیا کہ یہ اللہ کا گھر ہے کیوں نہ
اللہ کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا جائے کیونکہ سننے والا تو صرف وہی ہے پھر اسے یاد آیا کہ امی تو کئی دن سے مسلسل
قرآن حکیم پڑھ پڑھ کر اللہ سے اپنے بیٹے کی رہائی کیلئے دعائیں مانگ رہی ہیں اور میری امی تو وہ ہیں کہ جنہوں نے زندگی بھر کوئی
ایسا عمل نہیں کیا جو سنتِ رسول کے خلاف ہو ۔۔ یقیناًاللہ تعالی میرے بھائی کے حق میں فیصلہ کرنے والا ہے
پھر اسے یادآیا کہ لبِ فرات جب اسی طرح کا کوئی سلسلہ تھا تو اللہ تعالی نے فوری طور پر کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔۔۔وہ
یہی سوچتا ہوا مسجد میں گھومتا پھرتا ہوا واپس وہیں آگیا یعنی علامہ اقبال کے مزار کے سامنے۔جہاں اب
درخت کے نیچے کوئی فقیر بھی آکر بیٹھ گیا تھا اس نے فقیر کی طرف دیکھا فقیر اپنی موج میں اقبال کا یہ
شعر پڑھتا جا رہا تھا

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا


وقاص کو یوں محسوس ہوا کہ فقیر نے وہ شعر جیسے وقاص کے لئے پڑھا ہے وقاص پھر الماس کی طرف چل پڑا
اب الماس وہاں موجود نہیں تھی وقاص اسے تلاش کرنے لگا کافی تلاش کے بعد اسے الماس علامہ اقبال مزار
کے اندر مل گئی جہاں وہ رو رو کر دعا کر رہی تھی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد سپاہی آگئے انہوں نے سب لوگوں کو مزار سے نکال دیا
کہ گورنر پنجاب کسی غیر ملکی مہمان کے ساتھ مزار اقبال پر پھول چڑھانے آرہے ہیں مزار پر پھول چڑھانے کی
تقریب ہوئی اور جب گورنر پنجاب واپس جانے لگے تو الماس نے بھاگ کر ان کے پاؤں پکڑ لئے۔ سپاہی الماس
کی طرف لپکے مگر اس سے پہلے غیرملکی مہمان خاتون نے بڑی شستہ اردو زبان میں الماس کو نیچے سے اٹھاتے
ہوئے کہا’’مجھے بتائیے آپ کو کیا پریشانی ہے میں انہیں کہوں گی کہ آپ کو انصاف ملنا چاہئے ‘‘تو الماس نے
کہا ’’ میں ایک شاعر کی بیوی ہوں اور میرا شوہر سامنے قلعہ میں پولیس کے تشدد کا شکار ہے ۔۔اس کا جرم
صرف سچ لکھناہے۔ اس غیر ملکی خاتون کی گہری دلچسپی کی وجہ سے الماس کا شوہر رہا کردیاگیاوہ خاتون جرمن نژاد
مشتشرق این میری شمل تھیں۔۔۔۔