میں قبریں گنتے گنتے تھک گیا ہوں

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

میں قبریں گنتے گنتے تھک گیا ہوں
(سید نصیر شاہ بھی رخصت ہوگئے۔)


ایک اور نوحہ
اورایک مرثیہ
ایک اور بین
ایک اور درد بھری شام سامنے کھڑی ہے
سید نصیر شاہ بھی رخصت ہوگئے۔
ان کے جانے پر انہی کا شعر یاد آرہا ہے

اجل کی زد پہ ہے میرا قبیلہ
میں قبریں گنتے گنتے تھک گیا ہوں

ایک تو وہ دریائے سندھ ہے جس کی روانی موج موج پہاڑوں کا جگر چیرتی ہوئی۔۔
شیروں کی طرح دھاڑتی ہوئی۔۔ا?ہنی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی۔۔
سنگلاخ زاروں میں نت نئے راستے تراشتی ہوئی۔۔
کالاباغ کے مقام پر جب کوہساروں سے باہرآتی ہے تو میانوالی کے میدانوں کی سبک خرامیاں پہن لیتی ہے۔
مگر ایک اِس سے بھی عظیم تر دریائے سندھ تھا۔وہ علم و ادب کا دریائے سندھ تھا جس کا دوسرا کنارہ آنکھ نہیں دیکھ
سکتی۔ وہ دریا روحوں کو سیراب کررہا تھا دماغوں میں بہہ رہاتھا۔اس دریا کے میٹھے پانیوں نے زندگی کی آبیاری کی۔اس کی
سبک خرامی نے میانوالی کی تہذیب کو چلنے کا ہنر سکھایا ہے
مجھے گولائی میں تراشی ہوئی نمل جھیل کی سفید پہاڑیوں کی قسم
مجھے کھجور کی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح افق کی چشمہ جھیل میں گرتے ہوئے چاند کی قسم
مجھے کوہ سرخ کی بے ا?ب و گیاہ چٹانوں پربہنے والے جھرنے کے اردگرد پتھروں پر اگی ہوئی روئیدگی کی قسم
مجھے پانیوں میں ڈوب جانے والی بستی ’’گانگی‘کی قسم جس نے علم و ادب کی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
مجھے نمک کی کانوں میں کان کنوں کی نمک میں گھلتی ہوئی ہڈیوں کی قسم
مجھے کندیاں کے جنگلوں میں صبح سویرے شور مچاتے ہوئے کالے تیتروں کی قسم
مجھے کالاباغ اسٹیٹ کی کرچیاں فضاؤں میں بکھیرتی ہوئی بغوچی تحریک کی قسم
مجھے جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کے خلاف بننے والے عوامی محاذ کی قسم
مجھے برکتوں بھرے سلطان ذکریا کے مزار کی قسم
مجھے میانوالی کے خود سر شاعروں ،سر پھرے ادیبوں ،عمل کرنے والے دانشوروں اورسر فروش عالموں کی قسم
مجھے اپنی یعنی منصورآفاق کی قسم
کہ لوح و قلم کے اس خوبصورت دریا (جنہیں سید نصیر شاہ کہتے تھے)نے میانوالی کی خوبصورت ترتہذیب کو موج موج
خوبصورت ترین بنادیا۔
لوح و قلم کی داستاں کچھ زیادہ پرانی نہیں۔مجھے وہ دن یاد ہے۔۔ جب حرف سے حرف ہم لمس ہوا۔۔۔ وصالِ حروف
کے افق سے لفظ طلوع ہوئے اور جگنوؤں کی طرح رات کے کاغذ پر جگمگانے لگے۔زمیں پر کہیکشاں اتر آئی۔تتلی نے رنگوں کی۔۔۔۔
گلابوں نے خوشبو کی۔۔۔۔اور مہتابوں نے روشنیوں کی تاریخ رقم کی۔۔۔ماضی کے مْردوں کی ہڈیاں۔۔حال کے چمکتے ہوئے سکے اور
مستقبل کے ثمرور شاخچے ایک ہی ہار میں پرو دئیے گئے۔۔۔۔یہ معجزہ پہلی بارکرہ ء ارض پر قلم کی نوک سے ٹپکتی ہوئی
روشنائی سے نمودار ہوا۔۔۔سطر اسی ہار پرونے کو کہتے ہیں۔اسی سے اساطیر کا لفظ خلق ہوا۔جس نے زماں کو مکاں کی گرفت سے نکال
کر بے کرانی کی ویرانی میں پھینک دیا۔۔۔۔سورج کے ماتھے کی آگ اگلتی آنکھ کیا جانے کہ سلسلہ ء روز و شب کیا ہے۔ ؟۔گزرا ہوا
کل اور آنے والا کل کس نے اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا ہے۔اس کی آنکھ کیوں نگارخانہ ء لوح و قلم کی تصویریں دیکھ لیتی ہے۔شاید
صرف اس لئے کہ اس پر وہی صحیفے نازل ہوئے ہیں۔جنہیں قلم کے فرشتے نے زمین پر اتارا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میں اِ س صاحبِ لوح و قلم کی جدائی کے ہزاروں نوحوں لکھوں۔ان کیلئے قطرہ قطرہ آنکھ سے
قصیدے کشید کروں۔عقیدت کے درخت سے شاخ شاخ منقبت کے پھول چنوں۔۔میں نے ان کے شعری مجموعہ
کاپیش لفظ لکھا تھاکہ یہ کوئی شاعری کا مجموعہ نہیں ایک لٹے پٹے درویش کی بچی کھچی متاع ہے۔ایک برباد شدہ
قصرفریدوں کا باقی ماندہ خزانہ ہے۔بیدردی سے کاٹی ہوئی فصلِ گل کے بعدکھیت میں رہ جانے والے موتیوں
بھرے خوشوں کی ڈھیری ہے۔اِس کتاب میں اْس سبزہ زار کے بچے کھچے پھول ہیں جسے پچاس سال تک
رونداگیا۔اور جب درویش سے کہا گیا کہ ایک شعری مجموعہ تو ترتیب دے دیں کہ اسے اشاعت کے مراحل
سے گزارا جا سکے۔تو کہنے لگے
ہیں کتابِ دل کے اجزا مختلف لوگوں کے پاس
آؤان سے مانگنے جائیں کہ شیرازہ تو ہو
مجموعی طور پرروشنی اور خوشبوکی اس بڑی ’’لوٹ‘‘ کے متعلق درویش کا خیال مجھ سے مختلف تھا۔وہ سوچتے تھے
میں میٹھے پانیوں کا سمندر تھا اب بھی ہوں
سب نے بقدر ظرف پیا۔۔۔میرا کیا گیا
مگرمیں سمجھتا ہوں اگر برسوں تک کسی سمندر کے سیپیوں سے موتی چرائے جاتے رہیں تو ڈوبتے ہوئے سورج کی آخری
شعاعوں میں غوطہ خوروں کی تلاش فیروزمندیوں سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔سید نصیر شاہ کے ہاں متاعِ علم و
دانش کی ارزانی کے ویسے تو کئی سبب تھے مگر انہوں نے اس کی وجہ کچھ یوں بیان کی ہے
میں متاعِ علم و دانش کو بھی ارزاں کر گیا
اس لئے کہ میرا بیٹا بدر شہزادہ رہے
بے شک غربت سے رہائی کا جذبہ جب اپنے علم لہراتا ہے تو اس کے ہزار رنگ ہوتے ہیں۔ پھر شاہ صاحب
تواس مرتبے پر فائزتھے جہاں انہیں کہنا پڑا
آپ نے ٹھیک کہا آپ بڑے سچے ہیں
میری بیوی ہے میرا گھر ہے مرے بچے ہیں
ساغرِ زہر اٹھا لیجئے میں سقراط نہیں
اس لئے ان کے پاس ازرانی ء علم ودانش کا سبب صرف غربت نہیں ہو سکتی۔ میرے نزدیک اس کا اہم ترین
سبب کچھ اور ہے۔وہ شاید ان کی وہ سائیکی ہے جو خاندانی دستارِ علم و فضل کے ری ایکشن سے نمودار ہوئی۔اس حوالے سے انہوں
نے بہت پہلے کہا تھا


دستارِعلم و فضل کا وہ شملہ ء طویل
اک طوق تھا سو مدتوں پہلے تلف کیا

لیکن ایک بات طے ہے کہ انہیں متاعِ علم و دانش کی ارزانی کابہت دکھ تھا۔وہ جب کہتے تھے کہ

شہر میں کوئی نہ تھا میرے لہو کا قدر داں
میرے فن پر لوگ تو سوداگری کرتے رہے
یوں تو اس عہدِ گرانی میں ہر اک شے ہے گراں
ایک میرافن ہے ارزاں اور اک تیرا بدن

سید نصیر شاہ کی شاعر ی پڑھ کریوں احساس ہوتا ہے جیسے فنکار کرب کے دوزخ میں کروٹیں لے رہا ہے۔انہیں اپنے شہر
سے بھی بہت گلہ ہے۔ وہ اپنے دوستوں سے بھی ناراض ہیں کہ دوستوں نے بھی ان کیلئے کچھ نہیں کیا دوستوں پر ایک طنز دیکھئے

گراں قیمت خزانے کو سدا پوشیدہ رکھتے ہیں
مرے یاروں نے مجھ کو اس لئے گمنام رکھا ہے

ممکن ہے شاہ صاحب کا کہا ہوا سچ ہومگر وہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میانوالی کسی گمنامی کے جزیرہ سے کم
نہیں اورانہیں میانوالی کی سڑکیں عزیز ہیں ،انہیں زندگی بھر انہی پر آوارہ گردی اچھی لگی ہے بڑے شہرکی سڑکیں جن کے دونوں
فٹ پاتھوں پر ذرائع ابلاغ کی وسیع و عریض آبادیاں ہیں انہوں نے ان پر قدم ہی نہیں رکھا اور وہ اِس سچائی سے اچھی طرح
واقف بھی ہیں۔ انہوں نے یونہی تو نہیں کہہ دیاتھا

جانتا تھا منزلوں کی سمت جاتی ہیں مگر
انہی سڑکوں پر میں برسوں یونہی آوارہ پھرا

اس موضوع پر شاہ صاحب سے بھی میری کئی مرتبہ بات ہوئی۔ایک دفعہ میں نے انہیں کہا’’کیا یہ میں
کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو آپ کے عہد نے نہیں پہچانا،اس وقت آپ سے بہت کم تخلیقی صلاحیت رکھنے والے
آپ سے بہت زیادہ بلند قامت دکھائی دے رہے ہیں ، ایسا کیوں ہوا۔‘‘تو وہ کہنے لگے کہ ایک روز میں والد صاحب کے
ساتھ سکول کی کتابیں خریدنے گیا اس وقت میانوالی میں کتابوں کی دکان جیسہ رام کی تھی وہاں پہنچے تو دیکھاکہ جیسہ رام اور بازار کے
دوسرے دکاندار دکانوں سے باہر نکلے کھڑے ہیں اور مشرق کی طرف دیکھ رہے ہیں ہماری نظریں بھی ادھر اٹھ گئیں کیا دیکھتے
ہیں کہ ایک بہت اونچا آدمی۔۔۔ بجلی کے کھمبوں سے بھی اونچا۔۔۔ دکانوں کے چوباروں کی بلندی تک پہنچتا ہوا آدمی آہستہ آہستہ
چلتا آرہا ہے میں نے بے سوچے سمجھے کہہ دیا یہ آدمی اونٹ پر کھڑا ہے پھر میں کھسیانا ہوگیا کہ وہ آدمی تو اونٹ سے
بھی بہت اونچا تھا والد صاحب نے کہا بیٹا اسکے پاؤں کی طرف دیکھو بلند قامتی کا راز کھل جائیگا میں نے نیچے
دیکھا تو اس آدمی نے پاؤں کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ رکھے تھے اور انہیں بڑی مہارت سے ٹیکتا آگے بڑھ رہا تھا آپ نے بھی
سر کس میں ایسے کر تب دکھانے والے بہت دیکھے ہونگے لیکن میں نے دیکھا تو میرے ذہن میں یہ واقعہ
مر تسم ہوگیا اب جس بلند قامت شخصیت کو دیکھتا ہوں اسکے پاؤں کی طرف ضرور دیکھ لیتا ہوں اور یقین مانیے کہ میں
نے اکثر شخصیتوں کو یا تو دوسروں کے کاندھوں پر کھڑے دیکھا یا یہ کہ انہوں نے اپنی ٹانگوں سے لمبے لمبے بانس باندھے ہوتے ہیں
غالباً غالب کو بھی کوئی اسی قسم کا تجربہ ہوا تھا جب اس نے کہا تھا۔

بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اسی طرہءِ پر پیچ و خم کا پیچ وخم نکلے