پہلی انٹرنیشنل سلطان باہو ادبی کا نفرنس

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

پہلی انٹرنیشنل سلطان باہو ادبی کا نفرنس


برطانیہ میں پیر سلطان فیاض الحسن اور پیر سلطان نیاز الحسن نے سلسلہ ء سلطان باہوکی روحانی تحریک تو
برسوں سے چلا رکھی ہے ۔تقریباً ایک سال پہلے پیر سلطان نیاز الحسن سلطان باہو کے علمی و ادبی کام کی طرف
متوجہ ہوئے اورباہو اکیڈمی کی رکھی گئی۔آئیے دیکھتے ہیں کہ باہو اکیڈی کیا ہے ۔باہو اکیڈمی کا سلوگن 'احیائے فکرِ سلطان باہو

 ہے۔یہ اکیڈمی سلطان باہو رحمتہ اللہ کی اس فکر کا احیا چاہتی ہے جو پچھلے تین سو سال سے مخطوطات سے مکمل طور پر باہر
نہیں آ سکی۔اس اکیڈمی کا نام باہو اکیڈمی فار ہیومنسٹک انڈر سٹیڈنگ رکھا گیا ہے۔اس نام کا مخفف پھر 'باہو' بن جاتا
ہے، یعنی بی اے ایچ یو۔ اس ادارے کے چار بنیادی ستون ہیں جن پر اس ادارے کی عمارت استوار کی جائے گی۔ یہ چار
ستون، تصوف، آرٹس یعنی فنون لطیفہ، تہذیب و ثقافت اور انسان دوستی کے ہیں۔یعنی ہم سلطان باہو رحمتہ اللہ
علیہ کے شعورِ تصوف کوفنونِ لطیفہ اور تہذیب و ثقافت کی وساطت سے لوگوں تک پہنچا کر انسان دوستی کے
ماحصل تک پہنچیں گے۔ یوں یہ ادارہ روح و بدن تک پھیلی ہوئی انسانی ضروریات فکرِ باہو کے تناظر میں سمجھنے کی
کوشش کرے گا۔ اور مسائل میں الجھی ہوئی انسانیت کو درِ سلطان باہو سے طلوع ہوتی ہوئی روشنی میں زندگی گزارنے کا راستہ
سمجھائے گا۔دنیا سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کو ایک جلیل القدر روحانی پیشوا اور ایک عظیم پنجابی شاعر کی حیثیت
سے جانتی ہے۔لیکن اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ سلطان باہو فارسی زبان ایک بڑے نثرنگار اور اعلی
مرتبت شاعر بھی ہیں، جنہوں نے ایک سو چالیس کتابیں تصنیف کیں جن میں اکتیس کتابیں منظر عام پر آ سکی
ہیں۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ سلطان باہو پنجابی اور فارسی کے عظیم شاعر اور ادیب ہونے کے علاوہ ایک
عظیم فلسفی بھی ہیں۔اور اس کام میں ان کا مرتبہ کسی طرح بھی محی الدین ابن عربی اور مجدد الف ثانی سے کم نہیں انہوں نے
فلسفہ ؤحدت الوجود اور فلسفہء وحدت الشہود کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہوئے ہمیں اس اصل فلسفے سے
روشناس کرایا جسے فلسفہ ء توحید کہا جا سکتا ہے۔ یعنی تصوف کی فلاسفی میں سلطان باہو اپنے علیحدہ سکول آف
تھاٹ کے بانی ہیں۔
یہ بات بھی کم لوگ جانتے ہیں کہ سلطان باہو وہ پہلے مجددِ طریقت و شریعت ہیں جنہوں نے طریقت اور
شریعت کے درمیان پھیلے ہوئے فاصلے کم کر کے انہیں آپس میں ہم آغوش کر دیا۔یہ بات بھی بہت کم لوگ
جانتے ہیں کہ علامہ اقبال کی شاعری اور فلاسفی کی عمارت جن بنیادوں پر کھڑی ہے وہ بھی سلطان باہو رحمتہ اللہ
علیہ کی فراہم کردہ ہیں۔ اقبال کا استعارہ شاہین دراصل سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کا شہباز ہے۔ اقبال کا فقر، فقرِ
سلطانِ باہو ہے۔ اقبال نے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی زمینوں میں غزلیں کہی ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کی مشہور ترین
غزل "خود ی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ" کی نہ صرف زمین اقبال کی ہے بلکہ اس غزل کے موضوعات تک
سلطان باہو رحمتہ اللہ کی فارسی غزل سے لئے گئے ہیں۔ سلطان باہو فرماتے ہیں:

نجاتِ مردمِ جاں لا الہ الا اللہ
 کلیدِ قفلِ جناں لا الہ الا اللہ
چہ خوف آتشِ دوزخ چہ باکِ لعین
ورا کہ کردبیاں لاالہ الا اللہ

باہو اکیڈمی نے اس سلسلے میں کچھ کام فوری پر شروع کئے ہیں جن میں سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی گمشدہ کتابوں کی تلاش
۔سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی موجود کتابوں کے متن کی درستگی کا کام ۔سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کا منظوم اور نثری
ترجمہ ، نئی تدوین ۔سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی علمی و ادبی کام پر تحقیقی و تنقیدی کام ۔سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی کتابوں کی
اشاعت کے لئے اشاعتی ادارے کا قیام ۔فکر باہو رحمتہ اللہ علیہ کی ترویج کیلئے تعلیمی نیٹ ورک (یونیورسٹیز کی سطح
تک)۔سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی فکر پر عالمی سطح کی ادبی اور ثقافتی کانفرنسز کا انعقاداورالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا
کی وساطت سے فکرِ باہو کی ترویج شامل ہے ۔اس سلسلے میں باہواکیڈمی اب تک جو کام کرچکی ہے ان کی تفصیل
یہ ہے ،پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ لینگویج کے زیر اہتمام باہو سیمینار ہوا۔شامِ باہو کا اہتمام کیا گیااس
سیمینار اور شام باہو کے مہمان خصوصی پیر سلطان نیاز الحسن قادری تھے۔ پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ لینگویج
کے پنجابی میگزین ’’ترنجن ‘‘ کا سلطان باہو نمبر باہو اکیڈمی کے تعاون شائع ہو رہا ہے ۔اس کے علاوہ باہو اکیڈمی جتنی کتابیں
سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے کسی زبان میں بھی شائع کرائیگی پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ لینگویج ان
کتابوں کا پنجابی زبان میں ترجمہ کروا کے شائع کرائے گی۔اور مصنفین و مترجمین کو اس کام کا معاوضہ بھی دے
گی۔انٹرنیشنل باہو کانفرنس پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ لینگویج اور باہو اکیڈمی کے اشتراک سے لاہور
میں ہو گی جس کے اخراجات دونوں ادارے برداشت کریں گے۔جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام باہو سیمینار
منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کی جب کہ مہمان
خصوصی پیر سلطان نیاز الحسن قادری اور پیر سلطان فیاض الحسن قادری تھے۔ اس سیمینار میں وائس چانسلر نے
باہو چیئر کا اعلان کیا گیا، جس کے لئے ابتدائی طور پر پانچ لاکھ وائس چانسلر اور پانچ لاکھ پیر سلطان نیاز الحسن قادری
نے دینے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ یونیورسٹی کے شعبہ فارسی نے پی ایچ ڈی کے دو تھیسز، تین ایم فل کے تھیسز اور پانچ ایم
اے لیول کے تھیسز کرانے کا اعلان کیا۔ یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے صدر ڈاکٹر ریاض شاہد نے بھی اتنے ہی تھیسز پنجابی
زبان میں کرانے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ باہو چیئر کے تحت سلطان باہو کے متعلق علمی و تحقیقی کام کرانے کے سلسلہ
کا بھی آغاز کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جی سی یونیورسٹی لاہور شعبہ فارسی نے فوری کے طور پر ایم فل کے تین تھیسز کرانے کا
اعلان کیا ہے۔چیئرمین شعبہ فارسی ڈاکٹر اقبال شاہد نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگلے سال وہ سلطان باہو پی ایچ ڈی
کے بھی دو تھیسز کرائیں گے۔ وہاں بھی باہو سیمنار کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان پیر سلطان نیاز الحسن قادری تھے جی سی
یونیورسٹی لاہور نے باہو اکیڈمی سے مل کر شعبہ اردو کی پروفیسر ڈاکٹر صائمہ ارم سے ایک ریسرچ پراجیکٹ کرانے کا
اعلان بھی کیا ہے۔ اس ریسرچ پراجیکٹ کا موضوع ہے۔’ سلطان باہو اور یورپ ‘۔ اس پراجیکٹ میں اس بات پر
ریسرچ کی جائے گی کہ سلطان باہو اور اورنگ زیب عالم گیر کے درمیان جو تعلق تھا اس کا اندازہ عالمگیری دورے کے
سرکاری رقعات سے لگایا جائے جو برطانیہ کی لائبریریوں میں محفوظ ہیں اس کے علاوہ برٹش لائبریری سے سلطان
باہو کے مخطوطات تلاش کیے جائیں جن کا حوالہ کئی تحقیقی کتابوں میں موجود ہے اور دورِ حاضر یورپ میں سلطان باہو کے
حوالے سے جو کام ہوا ہے یا ہو رہا ہے ، اسے جمع کیا جائے۔ اس مقصد کے بنیادی فنڈنگ یونیورسٹی فراہم کرے گی اور یورپ
میں ہونے والے اخراجات کی ذمہ داری باہو اکیڈمی پر ہو گی۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فارسی نے سلطان باہو
کے حوالے سے پی ایچ ڈی کا ایک مقالہ تحریر کرایا ہے اور ایم فل کے کچھ مقالے تحریر کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ پروفیسر نبیلہ
رحمان اس سلسلے میں وہاں کام کر رہی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی نے بھی سلطان باہو پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے
مقالے لکھوانے کا اعلان کیا ہے۔باہو اکیڈمی نے مختلف یونیورسٹیوں کے ان طلبا کو تحقیقی سہولیات فراہم کرنے کا
اعلان بھی کیا ہے جو سلطان باہو کے حوالے سے تھیسز لکھیں گے۔الخیر یونیورسٹی بھی باہو اکیڈمی کے ساتھ مل کرسلطان باہو
کے حوالے سے کام کرارہی ہے دونوں اداروں میں اس حوالے سے ایک یاداشت پر دستخط ہوچکے ہیں۔الخیر یونیورسٹی سلطان
باہو پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے تھیسز بھی کرا رہی ہے اور باہو چیئر کے قیام بھی ارادہ رکھتی ہے الحمرا آرٹ کونسل لاہور کی طرف
سے کونسل کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی نے کہا ہے کہ باہو اکیڈمی کی تقریبات کے لیے الحمرا آرٹ کونسل
اسے الحمرا کے تمام ہال مفت فراہم کرے گی۔نیز اگر باہو اکیڈمی الحمرا آرٹ کونسل کے ساتھ مل کر کئی پراجیکٹ پر
کام شروع کرنے والی ہے۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ کے ڈائریکٹر حسن رضا عباس نے باہو اکیڈمی کو دعوت
دی ہے کہ وہ پی این سی اے کے ساتھ مل کر سلطان باہو کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کرے۔ خاص طور پر سلطان باہو کے
حوالے سٹیج ڈرامہ کرانے میں انہوں نے بہت دلچسپی کا اظہار کیا۔جس کا جلد اہتمام کیا جارہا ہے۔باہو اکیڈمی سلطان
الطاف علی، پروفیسر احمد سعید ہمدانی ،ڈاکٹر طاہر تونسوی ڈاکٹر حمید اللہ ہاشمی ، ڈاکٹر امجد بھٹی، ڈاکٹر ریاض شاہد
اور پروفیسر عامر حفیظ ملک سے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ سے کتابیں لکھواچکی ہے ۔سلطان باہو رحمتہ للہ علیہ کی فارسی
شاعری کے کلیات کا مسودہ بھی تیار ہے۔جس کے متن کی درستگی کا کام ڈاکٹر اقبال شاہد نے کیا ہے ۔راقم
الحروف نے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی فارسی شاعری کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ باہو اکیڈمی
سلطان باہو کی کئی کتابوں کے تراجم فارسی زبان سے اردو زبان میں کراچکی ہے۔اور اس وقت برمنگھم میں پہلی سلطان باہو
انٹرنیشنل ادبی کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔