ڈڈلی کونسل کا ڈپٹی لیڈر

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

ڈڈلی کونسل کا ڈپٹی لیڈر


تقریباً دو ہفتے پہلے میں نے سنڈے میگزین میں ڈڈلی کی نئی مساسک کے متعلق ایک فیچر شائع کیا تھا۔جس
میں کچھ احباب نے اس مسجدکی تعمیر کے راستے میں رکاوٹوں کے متعلق ڈڈلی کونسل کے مسلمان کونسلروں پر الزام لگایا
تھا ۔گذشتہ دنوں ڈڈلی کونسل کے پہلے مسلمان ڈپٹی لیڈرکونسلر شوکت علی کی دعوت پر میں ان کے گھرگیاتو کچھ
آنکھیں کھولنے والی گفتگو کانوں میں اتری ۔ان کی رہائش گاہ پر کونسلر ظفر اسلام ،کونسلر خورشید احمد، کونسلر قادر زادہ
،کونسلر آصف احمد اور کونسلر مس ارشد بھی موجود تھیں۔ایک پُرتکلف کھانے کے بعد رات دیرگئے تک کونسلرز
کے ساتھ ڈڈلی کی نئی مسجد کے موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ ایک ایک رکاوٹ زیرِ بحث آئی۔کچھ نئے حقائق بھی سامنے آئے ۔کچھ
پرانے حقائق کی شکلیں مسخ ہوئیں۔کونسلرز پر الزام لگانے کی وجوہات پر بھی غور کیا گیا۔خاص طور پر وہاں میرے اس دعوی کی نفی
بھی ہوئی کہ ڈڈلی کی مسلمان کمیونٹی میں صرف دو گروہ ہیں ۔اس سے پہلے صوفی پرویز جو موجودہ مسجد کے ٹرسٹی ہیں وہ بھی اس بات
کی تردید کر چکے ہیں کہ میرا ظفر اسلام کے گروپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ظفر اسلام بھی مجھے ایک عرصہ سے
کہہ رہے ہیں کہ میرا کوئی گروپ نہیں ۔مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آسکی کہ میں صوفی پرویز کوکس گروپ
کے ساتھ جوڑوں ۔وہ عجیب شخصیت ہیں سب کے ساتھ بھی ہیں اور کسی کے ساتھ بھی نہیں ۔(ان سے بھی التماس ہے کہ نئی
مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں اپنا کردار کریں) اس محفل میں کئی چھوٹے چھوٹے گروپ بھی موضوعِ گفتگو رہے۔کونسلر
شوکت علی کی پُردلیل گفتگو نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کسی کونسلر زنے بھی کبھی مسجد کے پراجیکٹ کی مخالفت
نہیں کی ۔اس گفتگو سے میں نے بھی یہی نتیجہ نکالاکہ نئی مسجد کے پراجیکٹ کی مخالفت کسی بھی مسلمان نے نہیں کی ۔بس
اتنی سی بات ہے کہ موجودہ مسجد کی کمیٹی کے کچھ سابقہ عہدہ دار چاہتے تھے کہ نئی مسجد کی تعمیر کا کام ہمارے ہاتھوں سر انجام
پائے وہ بھی اس کارٰ ثواب میں شریک ہوں۔اس سلسلے میں موجودہ مسجد کے سابق سیکریٹری غلام حسین کی
سابق کونسل لیڈر ٹم سنٹر کے ساتھ ڈڈلی میلہ میں ملاقات سے لے کرٹم سنٹر کے ساتھ ظفر اسلام کی سربراہی
میں کونسل ہاؤس میں ہونے والی ملاقات تک سب کچھ زیر بحث آیا۔
رات بھرکونسلرزکا اٹھایا ہوا ایک اور سوال بڑی اہمیت کا حامل رہا کہ ڈڈلی کی نئی مسجد کی تعمیر کیلئے ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن
کے نام ایک نیاادارہ کیوں بنایا گیا تھا ۔کیا یہ کام مسجد کی کمیٹی کے زیر اہتمام ممکن نہیں تھا؟۔ظفر اسلام نے
یہ بھی بتایا کہ جب ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی بنائے جا رہے تھے تو اس لسٹ میں میرا نام شامل تھا
مگر بعد میں کاٹ دیا گیا۔ نجانے کس نے لکھا تھا اور نجانے کس نے کاٹ دیا۔ایک اور بات کونسلر شوکت
علی نے کی کہ ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن کو چاہئے تھا کہ وہ ہائی سٹریٹ پر دفتر بنانے کی بجائے مسجد کی جگہ میں کبین لگا
کر وہاں پر کام کرتے اس سے دو فائدے ہوتے ایک تو زمین پر قبضہ ہوجاتا دوسرا وہ رقم جو کرائے کی مد میں ایک طویل
عرصہ تک دی جاتی رہی وہ کہیں اور بہتر انداز میں استعمال کی جا سکتی تھی۔سفید فام کمیونٹی کی مخالفت کے حوالے
کونسلر علی کا خیال تھا کہ اس پراجیکٹ کو پرائیڈ آف ڈڈلی کا جو ٹائیٹل دیا گیاتھاوہ ڈڈلی کی سفید فام کمیونٹی کو پسند نہیں
آنا۔اور جہاں تک مسجد کی مخالفت کا تعلق ہے توکونسلر علی کے بقول کونسل کی میتنگزکے منٹس اٹھا کر دیکھ لیجئے میں نے
ہر میٹنگ میں اس پراجیکٹ کے حق میں بات کی ہے ۔2008میں ہونے والی پبلک انکوائری میں جو کہہ سکتا تھا میں
نے مسجد کے حق میں کہا سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے ۔
اس تمام گفتگو سے جو نتیجہ میں نے اخذ کیا ہے اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شاید اس معاملہ
بنیادانجانے میں ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی اور ڈی ایم اے سیکریٹری مشتاق احمدبنے وہ سابق کونسلر ہیں،جب
وہ کونسلر تھے اس وقت انہوں نے دوسرے مسلمان کونسلر کو اس انداز میں دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ مسلمان
کونسلرز بھی نئی مسجد کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتے ہیں۔ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی
آخرت کی بہتری کیلئے کچھ کر جائے ۔دوسرا ڈڈلی کے تقریبا آدھے مسلمان میر پور کے ایک گاؤں بلا گالہ سے تعلق
رکھتے ہیں اور ایک ہی برادری کے لوگ ہیں ۔اس لئے وہ ان لوگوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جن کی یہاں برادریاں موجود نہیں ۔اور
اتفاق سے وہی کونسلر ہیں جو بلا گالہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ ۔ڈاکٹر خورشیداحمدجن کی تمام تر زندگی اسی طرح کے تعصبات
کیخلاف کام کرتے ہوئے گزری ہے انہیں اس بات پر ضرور غور کرنا چاہئے ۔ویسے ڈاکٹر خورشیداحمد کے ساتھ ایک طویل
رفاقت کے سبب کبھی کبھی مجھے بھی لگتا ہے کہ میں بھی بلا گالہ کا ہوں ۔شاید اس کیفیت کا ایک سبب میرا میانوالی کا ہونا
ہے ۔وہاں بھی زیادہ تر لوگ بلا گالہ جیسے رہتے ہیں ۔دوہزار نو اور دس میں جب میں ڈاکٹر خورشیداحمد کے ساتھ پاکستان
میں ’’آئی ایم مسلم آئی ایم برٹش‘‘ پراجیکٹ کر رہا تھا تو ہمارا ایریا میرپور سے پشاور تک تھا۔ اس پراجیکٹ کے سلسلے
میں کئی مرتبہ بلاگالہ میں جا کر رہا ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بلا گالہ اس وقت میر پور شہر کے
درمیان میں واقع ہے مگر پھر بھی گاؤں ہے۔وہی گاؤں جیسا سلوک وہی گاؤں جیسی محبت وہی پیار۔وہی ایک ہوکر رہنے کی
کیفیت ابھی کونسلرز کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو جاری ہے ۔میں چاہ رہا ہوں کہ اس مسجد کی تعمیر کے حوالے سے
ایک اور   بھرپور فیچر لکھوں جس میں کونسلرز کا نقطہ ء نظر وضاحت کے ساتھ پیش کروں۔اورمیں یہ امید
بھی رکھتا ہوں کہ اس سے پہلے پہلے ڈڈلی کے مسلمانوں کے درمیان اختلاف ختم ہوجائیں گے اور وہ ڈڈلی کی اُس مسجد کی
تعمیر میں کامیاب ہو جائیں گی جس کی مخالفت یورپ اور امریکہ تک کی جارہی ہے۔میں اس سلسلے میں
کونسلر علی کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور انہیں درخواست بھی کرتا ہوں کہ وہ اختلافات ختم کرانے کی ہر ممکن
کوشش کریں ۔یہ ایک پُرثواب کوشش ہوگی۔اور ڈڈلی کونسل کے پہلے مسلمان ڈپٹی لیڈر ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری
بھی ان کے کاندھوں پر آپڑی ہے کہ دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود یہ مسجد ہر حال میں تعمیر ہو۔ اللہ تعالی ڈڈلی کے
مسلمانوں کو اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر میں کامیابی عطا فرمائے۔
اور ایک آخری بات مجھے ڈڈلی مسلم ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے احباب کے ہمقدم چلتے ہوئے دس سال ہونے کو ہیں
۔میں نے کونسلر شوکت علی اور ظفر اسلام کی ہربات اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھول کر سنی ہے اور میرا خیال ہے کہ
دونوں طرف غلط فہمیوں کے سوا اور کچھ نہیں۔