ڈاکٹر طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

ڈاکٹر طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے


یہ تو طے پاگیا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم چکاہے کہ دھاندلی کیسے ہوئی ہے۔ کیونکہ پچیس کے قریب قومی اسمبلی کی
نشستوں پر کئی پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں کل ووٹوں کی ایک ہزار تھی وہ ڈالے جانے والے ووٹ کی تعداد پندرہ سو نکلی
اورعمران خان نے بڑی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف انہی حلقوں میں دوبارہ گنتی کیلئے کہا ہے ۔یہ وہ حلقے
ہیں جہاں جعلی ووٹ ڈالنے والوں کوجعلی سازی کرنا بھی نہیں آسکی تھی۔یہ اسی طرح کا عمل ہے جیسے کسی طالب علم
کے پاس کمرہ ء امتحان نقل پہنچے اور اس پر لکھا ہوا ہوکہ اس سوال کا جواب یہاں سے شروع کرناہے ۔اورنقل کرتے
ہوئے وہ جملہ بھی پرچے میں درج کر دے ۔ مگرسوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پچیس کے قریب حلقوں میں ایسا ہوا ہے تو یہ کیسے
کہا جا سکتا ہے کہ باقی حلقوں میں صاف شفاف انتخابات ہوئے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ باقی حلقوں میں نقل مارنے
والے سیاسی طالب علم اپنے کام میں پوری مہارت رکھتے تھے ۔یہ جو زائد ووٹ ڈالے گئے ۔سوال پیدا ہوتا ہے یہ
کہاں سے آئے یقیناًکسی پرنٹنگ پریس میں چھپائے گئے ہونگے ۔کچھ لوگوں خیال ہے کہ یہ جعلی بیلٹ پیپر اسی پریس
سے شائع ہوئے ہیں جہاں سے جعلی بیلٹ پیپر پرنٹ ہو کر افغانستان جایا کرتے ہیں ۔جس پر افغان الیکشن کمیشن نے
باقاعدہ احتجاج بھی کیا تھا۔انتخابات سے کئی دن پہلے یہ جعلی بیلٹ پیپر پورے ملک میں کرنسی کی طرح
گردش کرتے پھرتے تھے ۔
لاہورکے جنرل پوسٹ آفس سے بڑی تعداد میں جعلی بیلٹ پیپرز کے چار پارسل پکڑے گئے ۔چیف پوسٹ ماسٹر
لاہورارم طاہرنے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم او آفس ریلوے اسٹیشن پر ایک نامعلوم شخص نے چار
تھیلے بک کرائے تھے، شبہ گزرنے پر عملے نے پارسل کھولے تو ہزاروں کی تعداد میں جعلی بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے۔ چیف
پوسٹ ماسٹرنے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے کارروائی کے لئے تمام جعلی بیلٹ پیپرز ریٹرننگ آفیسر کو بھجوا دیئے ہیں۔
چار مئی کوپختون خواہ کے ضلع دیر لوئیرمیں بڑی مقدار میں جعلی بیلٹ پیپر پکڑے گئے ملزمان کوپولیس نے گرفتار کر
لیامگر بعد میں ملزمان کو رہا کر دیا گیا اور دیر لوئیر کے پولیس سربراہ نے کہا کہ بیلٹ پیپر دراصل عورتوں کو سمجھانے
کیلئے بنائے گئے تھے کہ انہوں نے ووٹ کا استعمال کس طرح کرنا ہے ۔ڈی آئی جی مالاکنڈ کے مطابق ان کی تعداد نوے ہزار تھی۔
نو مئی کوسندھ رینجرز نے شہر قائد کی مچھر کالونی میں چھاپہ مار کر جعلی بیلٹ پیپرز برآمد کرلیے گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع
کے مطابق خفیہ اطلاع ملی تھی کہ مچھر کالونی میں واقع ایک مکان میں جعلی بیلٹ پیپرز تیار کر لیے گئے ہیں اور نامعلوم
مقام پر ترسیل ہونے کو ہیں۔ حکام کے مطابق تفتیش شروع کردی گئی ہے کہ کس نے اور کیوں بیلٹ پیپرز تیار کیے جبکہ کسی
گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
نو مئی کورینجرز نے خیر پور بائی پاس پرکا رسے بیلٹ پیپرز بر آمد کر کے دو افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق
رینجر ز نے ایک مشکوک کارکو روک کر تلاشی لے تو اس سے پی ایس 76کے425اور این اے 233کے 35بیلٹ پیپرز بر آمد
ہوئے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بیلٹ پیپر کسی پرنٹنگ پریس میں نہیں چھپائے گئے یہ وہی بیلٹ پیپر ہیں جو الیکشن کمیشن
نے اٹھارہ کروڑ کی تعدادپرنٹ کرائے تھے ۔ کیا پاکستان میں اٹھارہ کروڑ ووٹر ہیں ۔ اگر نہیں ہیں توالیکشن کمیشن نے ایسا کیوں کیا
تھا۔پھر الیکشن کے پاس ان اٹھارہ کروڑ بیلٹ پیپرز کا حساب ہونا چاہئے کہ کہاں کتنا ووٹ تھا اور کتنا بیلٹ
پیپر بھیجا گیا ۔اگر ایک حلقے ووٹر کی کل تعداد دو لاکھ ہے اور الیکشن کمیشن وہاں تین لاکھ بیلٹ پیپر بھیج رہا ہے تو اس وقت
مطلب ہے کہ یہ دھاندلی امیدواروں کی انفرادی دھاندلی نہیں کسی اوراجتماعی پلاننگ کا حصہ ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ان جعلی بیلٹ پیپر کا استعمال کیسے کیا گیا۔ اخباری خبر کے ضلع کوہاٹ کی تحصیل کرک میں
پریزائیڈنگ آفیسر احمدگل، اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر عبدالرحمن اور پولنگ آفیسر سحردادکو جعلی بیلٹ پیپر
اصل بیلٹ پیپرزکے ساتھ ملا کر ووٹرز میں تقسیم کرنے پر چھاپہ مارکر رنگے ہاتھوں گرفتارکر لیا ہے۔ پشاور میں
پولیس نے دوران پولنگ ایک امیدوارکے بیلٹ پیپر پر مہریں لگانے والے اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر نثار خان کو رنگے
ہاتھوں گرفتار کرلیا۔چمکنی پشاورمیں خواتین کے پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپرزکی ایک کاپی غائب ہوگئی،خاتون
پریذائیڈنگ افسر نے بتایا کہ ایک کاپی میں 100ووٹ ہوتے ہیں،کاپی نمبر733غائب ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق
ارمڑ میں خواتین پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپر اور مہریں پولنگ بوتھ سے باہر لا کر ووٹ ڈالے جارہے ہیں ایبٹ
آبادکے حلقہ پی کے47 میں دو پولنگ اسٹیشن نمبر 84 اور 129 میں بیلٹ پیپرزکی دو بکس بھی چوری ہونے کی
اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔پی پی170سانگلہ ہل کے پولنگ اسٹیشن نمبر 53 پر قائم لیڈیز پولنگ کی پریزائیڈنگ آفیسر
شاہدہ نواز خود اپنے ہاتھوں سے جعلی ووٹ ڈالتے پکڑی گئی۔ریٹرننگ آفیسر محمد شبیرحسین نے موقع پر پہنچ کر پولیس کے ہمراہ
صورتحال پر قابو پایا اور پریذائیڈنگ آفیسر شاہد نوازکو فوری طور پر تبدیل کردیا۔سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس119سے مسلم
لیگ (ن) کے امیدوار اور سندھ کے سیکریٹری اطلاعات علی اکبر گجر کو رینجرز نے گرفتارکرلیا۔ پاکستان
رینجرز سندھ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی اکبرگجر سے جعلی بیلٹ پیپر برآمد ہوئے ہیں۔کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں
جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش میں ایک خاتون کوگرفتارکرلیا گیا۔ کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی نمبر4 میں
رینجرز نے چھاپہ مارکر3 افرادکو بیلٹ پیپرز اور اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔ حراست میں لیے گئے افراد سے
بیلٹ پیپرز اور اسلحہ برآمد کیا ہے۔
ایسی بے شمار واقعات سے پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات بھرے پڑے ہیں ۔یعنی دھاندلی اجتماعی سطح پر بھی ہوئی ہے اور
انفرادی سطح پر بھی ۔یعنی وہی ہوا ہے کہ کرپٹ نظام کی مدد سے کرپٹ لوگوں نے انتخابات میں بھرپور کرپشن کی ہے اور
ایک بار پھر فرشتوں کی مدد سے آدمیوں کا حق چرا لیا گیا ہے۔ایک اور کرپٹ قومی اسمبلی ۔زندہ باد۔