رب المشرقین و رب المغربین

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

رب المشرقین و رب المغربین


میں آج اہلمشرق کی طرف سے ایک پیغام لایا ہوں اہلمغرب کی طرف۔۔کہ آؤ ہم مل کر دنیا میں ظلم و زیادتی کرنے
والوں کے خلاف کام کریں ۔۔آؤ جہاد کریں امن اور انصاف کیلئے۔آؤ وہاں وہاں روشنیوں کی تقسیم کریں جہاں جہاں
اندھیرے ہیں ۔۔آؤایک دوسرے سے نفرت کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے پیار کریں ۔ ایک دوسرے کو
قتل کر نے کی بجائے ایک دوسرے کو زندگی کی خوبصورتیوں سے سرفراز کریں ۔مجھے ایک نظم یاد آرہی ہے جس کا عنوان
ہے صدیوں کا فرق۔
ہم ڈیسک بنایا کرتے تھے
پچھلی صدی تک
اب تابوت بنانے کا
کام زیادہ ہے
آؤ ۔ہم تابوت بنانے کی بجائے ڈیسک بنائیں سکولوں کے ڈیسک۔ بارودبانٹنے کی بجائے روشنی اور خوشبو تقسیم کریں ۔مشرق
اور مغرب کے درمیان محبت کے اس پیغام کو ایک گیت کی شکل بھی دی گئی ہے اس گیت میں جو انگلش کی
لائنیں ہیں وہ گیت کے باقی اوزان سے لگا نہیں کھاتی مگر دھن میں یہ بہت خوبصورت لگتی ہیں ۔اس گیت کی دھن مشہور
شاعر اور موسیقار افضل عاجز نے ترتیب دی ہے مجھے ایسا لگتا ہے جیسا یہ گیت دھن کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے

مری گلیوں میں اذانیں
مری مسجدیں ہزاروں
یہاں علم کے خزانے
یہاں رحمتیں ہزاروں
یہی فخر سے کہوں میں
آئی ایم دی ویسٹ
یو آر دی ایسٹ
یٹ وئی آر ون
یہی ماتھے پر لکھوں میں
آئی ایم دی ویسٹ
جو ہے مشرقین کا رب
وہی مغربین کا رب
وہ جو تیری آنکھ میں ہے
وہی میرے نین کا رب
کوئی صاحبِ جنوں میں۔۔
یہی فخر سے کہوں میں
آئی ایم دی ویسٹ
یو آر دی ایسٹ
یٹ وئی آر ون
میں غلامِ مصطفی ہوں
ہے فروغِ دین مجھ سے
میں ہوں اس سے معتبر تو
یہ ہے سرزمین مجھ سے
سو شریکِ درد ہوں میں
یہی فخر سے کہوں میں
آئی ایم دی ویسٹ
یو آر دی ایسٹ
یٹ وئی آر ون
مجھے جنگ سے ہے
نفرت میرا دین امن پرور
کوئی ظلم کی کہانی
نہ لکھے کہیں پہ جا کر
ہرستم پہ دکھ کروں میں
یہی فخر سے کہوں میں
آئی ایم دی ویسٹ
یو آر دی ایسٹ
یٹ وئی آر ون

اس حوالے سے ایک مختصر سی نظم بھی برطانیہ سے پاکستان کی فضاؤں میں گردش کرتی ہوئی دکھائی دی ہے اس نظم کا
عنوان بھی یہی ہے ’’آئی ایم دی ویسٹ ‘‘
اہلِ مغرب سہی۔یہ مگر یاد رکھ
اُس سراپا ہدایت کا ہوں امتی
جس نے بس ایک انسان کے قتل کو
ساری انسانیت کا کہا قتل ہے
جس کے نزدیک انسانی اعمال میں
جرم کی آخری انتہا قتل ہے
اہلِ مغرب سہی۔یہ مگر یاد رکھ
مصطفی جان رحمت کا ہوں امتی
برطانیہ کا امیج پاکستان بہتر بنانے والی اعتدال پسند برطانوی سوچ کے ساتھ اُس شدت پسندسوچ کاایک
مناظرہ بھی ہوا جو یہ سمجھتی ہے کہ برطانیہ اس وقت دنیامیں واحد استحصالی طاقت کاسب سے بڑا حلیف
ہے سو عظیم جنگی جرائم میں دونوں طاقتیں برابر کی شریک ہیں ۔اس مناظرہ کے دوران ادا ہونے والے کچھ
ڈائیلاگ پیش خدمت ہیں
برطانوی سوچ۔’’تمہیں برطانیہ میں ہزاروں مسجدیں نہیں دکھائی دیتیں ۔برطانیہ میں جس قدر مذہبی آزادی ہے وہ
دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ۔برطانیہ کے گلی کوچوں میں مسلمان کئی دھائیوں سے اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں جن کی
وجہ سے کئی ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ جن شہروں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں کے گلیوں میں اسی طرح
اذان کی آواز سنائی دیتی ہے جس طرح کسی اسلامی ملک میں۔ ۔سکولوں میں مسلمان بچوں کو حلال کھانا ملتا ہے ۔
برطانیہ میں عورت کو بھی اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جتنے مرد کو۔ یہاں جذباتی طور پر کسی بھی کسی کو مجروح کرنا جرم
ہے۔ تمہیں پاکستان میں رہتے ہوئے برطانیہ اس انداز میں دیکھنا چاہئے‘‘
شدت پسند سوچ۔’’ جو کچھ عراق میں ہورہا ہے جو کہانی افغانستان میں لکھی جارہی ہے اس کا ذمہ دار بھی برطانیہ
ہے۔کیا ہم اتنی آسانی سے اس کے اتنے بڑے جرائم کو معاف کردیں صرف اس لئے وہاں تم مسلمان بھی رہتے ہو ‘‘
برطانوی سوچ ۔ ’’ نہیں پیارے بھائی اس جرائم کا ذمہ دار برطانیہ نہیں چند صاحب اقتدار شخصیات ہیں ۔جن
کے ہاتھ میں اب دنوں برطانیہ کی خارجہ پالیسی ہے ۔جو اگلے انتخابات کے بعد ان کے ہاتھ میں نہیں رہے گی میں
تمہیں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ برطانوی عوام قطعاً نہیں چاہتے کہ ان کی فوجیں کہیں جا کر ظلم کی کوئی کہانی لکھیں ۔ جب
عراق پر حملہ کیا گیا تھا اس کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا احتجاج لندن میں ہوا تھا جو برطانوی لوگوں نے کیا
تھایعنی انگریزوں نے کیا تھا بیس لاکھ سے زائد لوگ لندن کی سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔‘‘
شدت پسندسوچ۔ ’’ ممکن ہے تمہاری بات درست ہو لیکن میں اس لئے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہوں
کہ برطانوی عوام موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہیں ۔اگر وہ خلاف ہوتے توانہیں ووٹ نہ دیتے ۔جب
برطانوی عوام ایسے حکمرانوں کو ووٹ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثریت ان کی ان پالیسوں کے حق میں ہے ‘‘
برطانوی سوچ۔’’ نہیں ایسا ہرگز نہیں ۔ برطانیہ کے پچھلے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو اسی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پرائم منسٹر
شپ سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں ‘‘
شدت پسند سوچ ۔’’مگر موجودہ وزیر اعظم بھی تو اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ‘‘
برطانوی سوچ ۔ ’’ مکمل طور پر نہیں ۔ مگر اس پالیسی کے تسلسل کی وجہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کی مقبولیت میں دن بہ
دن کمی واقع ہوتی جارہی ہے ‘‘
اس مناظرے میں دونوں طرف سے کئی مشکل مقام آئے مگراعتدال پسند قوتوں نے شدت پسند قوتوں کواپنے
دلائل کی گرفت سے نہیں نکلنے نہیں دیا۔لیکن سچ یہی ہے کہ برطانیہ کو اتنی خوبصورتی بحال رکھنے کیلئے اپنی خارجہ پالیسی پر بھی غور
کرنا ہو گا۔برطانوی حکومت کو اپنا معیارِ انسانیت دنیا کے ہر خطے میں ہر نسل اور ہر مذہب کے لوگوں کے یکساں بنا نا ہو گا
وگرنہ یہ اعتدال پسند برطانوی عوام کی سوچ کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔