مسکراہٹ کانوحہ

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

مسکراہٹ کانوحہ


صبحِ روشن کی آہٹ چلو ڈھونڈئیے
گمشدہ مسکراہٹ چلو ڈھونڈئیے
چہرے پڑھنے والے اِس سلگتے ہوئے سوال میں کھوئے ہوئے ہیں کہ نواز شریف کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی وہ مسکراہٹ کہاں
روٹھ گئی ہے ۔جس نے جلاوطنی کے دنوں میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔مسکراہٹ کی گمشدگی کا یہ مقدمہ
خاصا غور طلب ہے ۔یقیناًپس منظر میں کہیں کوئی بہت پریشان کن واردات کار فرماہے۔مریم نواز نے حلف
برداری کے دنوں اس اداسی کا سبب صحت کی خرابی کو قرار دیا تھایعنی الزام بیچارے ‘‘فلو‘‘ پر لگاگیا تھا مگراب تو اسے بھی
جاتی عمرے کی کھلی فضائیں چھوڑے ہوئے کئی ہفتے ہوگئے ہیں
میرا ذاتی خیال ہے وہ وزیر اعظم کیسے مسکرا سکتا ہے جو اپنی جبینِ ناز کونائن ’زیروگراونڈ ‘کے سامنے جھکانے پرمجبور ہوجائے۔خدا
جانے وہ کیسی مجبوری تھی کہ نواز شریف نے اپنے سینے پر متحدہ قومی موومنٹ کا تمغہ ء محبت سجالیاہے ۔اسے سینے
سے لگالیاہے جس کا کبھی ہاتھ ملانے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔اور ہاں یہ کوئی جوازنہیں کہ نوازشریف صدراتی انتخابات
میں ممنون حسین کی فتح کیلئے ’’متحدہ محبت لیگ ‘‘کا قیام عمل میں لائے ہیں ۔یہ تو سادہ لوح عوام بھی جانتی ہے کہ وہ
متحدہ کے ووٹوں کے بغیربھی صدر بن سکتے تھے ۔اصل سیکرٹ کیا ہے ۔اُس تلک تو ابھی خود نون لیگ کے اہم ترین
لوگ بھی نہیں پہنچ پائے ۔بیچارے را نا ثنااللہ پرانا پارٹی پالیسی بیان دے کر خاصے شرمندہ ہوچکے ہیں اور لوگوں سے پوچھتے
پھرتے ہیں کہ وہ کونسی بات ہے جس نے نواز شریف کو الطاف بھائی کا بھائی بنادیا ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ مسکراہٹ کے خاتمے کاسبب حکومت کاطالبان کے ساتھ مذکرات کے ایجنڈے سے
پیچھے ہٹنا ہے ۔وہ شرمندہ ہیں طالبان کی اُن حامی قوتوں سے جنہوں نے الیکشن میں ان کا بھرپورساتھ دیا تھااورطے
کیاگیا تھا کہ صبحِ اقتدار کے طلوع ہوتے ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے۔نواز شریف اپنے اِ س
وعدے پر خوش تھے کہ چلو اس طرح ملک دہشت گردی کے جہنم سے نکل آئے گااور ہتھیار ڈالنے والے طالبان کیلئے
بھی عام معافی کا اعلان کر دیاجائے گا
نواز شریف کے دل میں آمن کی آشا کا جو چراغ روشن ہے ۔اس کے ساتھ بھی اندھیروں کے بڑے مسائل ہیں ۔وہ
ابھی تک بھارت کے ساتھ دوستی کی تمنا سے دستبردار نہیں ہوئے اور اسی افق سے صبح پاکستان نکھرتی ہوئی دیکھتے ہیں جب
کہ انہیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ معاملہ اب اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہے تھے۔درِ رسول پر رو رو کے دعا مانگنے کے
بعد بھی انہوں نے سعودی میڈیاکویہی بیان دیا کہ بھارت اور پاکستان کے بہتر تعلقات دونوں ممالک کیلئے ناگزیر ہیں
دوسری طرف بھارت نے الزام لگایا ہے کہ پاک فوج نے ان کے پانچ سپاہیوں کو ہلاک کردیا ہے ۔ پچھلے دنوں سیالکوٹ
کے مخاذ پر بھارت اور پاکستان کے درمیان خاصی دیرفائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔بی جے پی نے بھی بھارتی وزیر اعظم سے
کہا ہے کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم ملاقات نہ کریں۔بھارتی میڈیا پر بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت
آگیا ہے ۔یہ فاختہ کے لہو میں لتھڑے معاملات بھی نواز شریف کی مسکراہٹ کے جانی دشمن ہیں لیکن
میں سمجھتا ہوں کہ ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی مجسم اداسی کے پیچھے کوئی اور بات ہے ۔
یہ خیال بھی موجودہے کہ انتخابات سے پہلے نواز شریف نے سعودیہ کی وساطت سے امریکہ کے ساتھ بھی کچھ
وعدے وعید کئے تھے جنہیں پورا کرنااس وقت ان کیلئے ممکن نہیں ہے وہ وعدوں کی تکمیل کیلئے وقت کے خواہش
مند ہیں جب کہ امریکہ چاہتا ہے کہ فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے جن میں سب سے پہلا وعدہ ایرانی گیس کے
متعلق تھا ۔جس نے پاک سرزمین میں اپنی سرنگ بنانی شروع کردی ہے یہ مسئلہ بھی مسکراہٹ کی گم
شدگی کے پس منظر میں درج ہوسکتا ہے۔
ایک مسئلہ پرویز مشرف بھی ہیں ۔ان کے خلاف بھی نواز شریف کوئی واضح قدم نہیں اٹھا سکے ۔ شروع شروع میں
خواجہ آصف نے اسمبلی میں جو فوجی حکمرانوں کے خلاف تقریر کی تھی وہ کسی اور سمت میں جانے کی پیشگوئی کررہی
تھی مگرکسی مجبوریوں نے نواز شریف کو کسی اور سمت بھیج دیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات سے چھ ماہ پہلے فوجی
معاملات پر کئے گئے وعدوں کے ارادوں کی زمین پرنواز شریف کے پاؤں کب تک جمے رہیں گے ۔پھر ایک اور بڑا
مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اردگر بے شمار ایسے لوگ جمع کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو پرویزمشرف کی حکومت کا حصہ تھے ۔
یہ لوگ بھی نواز شریف کے ہونٹوں سے مسکان چھن جانے کا سبب ہوسکتے ہیں۔اس باب میں کوئی نیا این آر او بھی
مسئلہ ہوسکتا ہے۔
باڈی لیگونج سمجھنے والے کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم ابھی تک تذبذب کے عالم میں ہیں۔شاید اہم فیصلے ان کیلئے خاصے
دشوار گزار ثابت ہورہے ہیں۔ابھی تک متحدہ کا نوالہ ان کے حلق سے پوری طرح نہیں اترا۔یقیناًسوچ رہے ہونگے کہ ایم کیو ایم وفاقی
حکومت میں شامل کیا جائے یا نہیں۔مولانا فضل الرحمن کو ان کے من پسند کی وزارتیں دی جائیں یا نہیں ۔تمام
بڑے اداروں کے سربراہوں کی تقرری کا معاملہ بیچ میں لٹکا ہوا ہے ۔کوئی مسئلہ ضرور ہے جس کی وجہ سے وہ کسی فیصلے نہیں پہنچ
پا رہے ۔ امریکہ ، برطانیہ اور کئی ممالک میں پیپلز پارٹی کے لوگ ہی سفارت کے عہدوں پر ابھی تک موجود
ہیں۔نجانے کیوں ۔
کراچی کے حالات پربھی وہ خاموش ہیں۔بلوچستان میں پنجابیوں کے قتل عام پر بھی گہری خاموشی ہے ۔لوڈ
شیڈنگ کا بھی کوئی واضح حل نہیں نکل سکا۔ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بھی اور زیادہ بڑھادی گئی ہیں۔باقی تمام مسائل بھی جوں
کے توں ہیں۔ اوپر سے سیلاب نے صورت حالات اور زیادہ سنگین کردی ہے۔کوئی امید کی کرن ، کوئی چراغ کوئی روشنی کا
نقطہ کہیں نظر نہیں آرہا شاید اسی وجہ سے نواز شریف کوبھی عوام سے براہِ راست مخاطب ہونے کی ہمت بھی نہیں ہو
رہی ۔بہرحال یہ ساری باتیں مسکراہٹ چھین لینے والی ہیں مگر لوگ کہتے ہیں ان کی پریشانی کے پیچھے ملک کی معاشی
صورت حال نہیں ان کیلئے فوری طور پر دوچار ارب ڈالر جمع کرلینا کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور وہ یہ کام کرلیں گے۔اصل قصہ کوئی
اور ہے۔بہرحال گذشتہ رات ٹیپو سلطان میرے پاس تشریف لائے تھے اور نواز شریف کیلئے یہ میسج چھوڑ گئے
تھے ’’شیر کی ایک دن کی حکومت گیڈر کی سو سالہ حکومت سے بہتر ہے‘‘