نواز شریف کے نام ایک خط

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

نواز شریف کے نام ایک خط


جیسے بھی ہوا، چاہے دھاندلی ہوئی یا نہیں یاسر پیرزادہ جیت گیا ہے اور میں ہار گیا ہوں ۔میں نے شکست کی رات
عطاالحق قاسمی کو فون کیا اور کہا کہ سکندر اعظم کی بارگاہ میں راجہ پورس حاضر ہے اورقاسمی صاحب نے
بادشاہی بھری ہوئی آواز میں پوچھا ’’بتا ترے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔اور میں نے راجہ پورس کے جملے
میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے کہا ’’وہی جو کالم نگار، کالم نگاروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ بے شک جیتنے سے زیادہ ہارکو برداشت کرنا
مشکل کام ہے ۔اوریہ کام میں عمران خان سے سیکھتا آرہا ہوں کرکٹ کے میدان سے لے کر سیاست کے میدان تک
۔فتح کیلئے شکست کا حوصلہ بھی ضرور ہے ۔
میرے بہت دوست اس وقت فتح کے جلوس میں بھی شامل ہیں جنہیں میں حیرت اور پریشانی سے دیکھ
رہا ہوں ایک دوست کو میں نے بازو سے پکڑ کر کہا’’تمہیں تو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا تم تو ہار گئے ہو۔ تم فتح
مندیوں کے جشن کی طرف کیسے رواں دواں ہو‘‘ تو ہنس پڑا اور اس نے ظفرخان نیازی کا یہ شعر پڑھ دیا

شکست کھا کے بھی میں فتح کے جلوس میں ہوں
جو دے گئے ہیں مجھے مات ۔۔ میرے اپنے ہیں

بلاول زرداری بھٹو الیکشن سے پہلے ہی کچھ اسی سے ملی جلی بات کر رہے تھے ۔بار بار فیض صاحب کا یہ شعر پڑھتے تھے

یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگالوڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں

مگر میں (جس کا نام تبدیلی ہے )مسلسل اپنی شکست کا سوگ منارہا ہوں ۔میں نے مستقبل کی عبرت سرامیں
اڑتی ہوئی راکھ اپنے بالوں میں ڈال رکھی ہے۔دو دن ہوگئے ہیں کالے کپڑے پہنے پھر رہا ہوں ۔دوستوں نے دل بہلانے کیلئے اس
شکست کو پہلی فتح قرار دیا۔تبدیلی کی نوید کہا،مجھے آئندہ کی تاریک گپھا میں روشنی کی پہلی کرن دکھائی ۔صوبہ
پختون خواہ میں آتے ہوئے انقلاب کی طرف متوجہ کیا مگر دل ہے کہ مانتا نہیں ۔کچھ دوستوں نے کہا کہ آوازِ
خلق کو نقارہء خدا سمجھو نواز شریف سے بھی ایک بہتر پاکستان کی امیدکی جا سکتی ہے ۔اسی امید کو سامنے رکھتے
ہوئے ایک دوست خط درج کر رہا ہوں جو اس نے نواز شریف کے نام لکھا ہے ۔
محترم جناب نواز شریف صاحب
اسلام علیکم
گیارہ مئی2013کے انتخابات کے نتیجے میں آپ وہیں آکھڑے ہوئے ہیں جہاں بارہ اکبوتر 1999کی صبح کھڑے تھے ۔جب
آپ نے جنرل ضیاالدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھا۔مگر معزول جنرل پرویز مشرف نے ہوائی
جہاز میں آپ کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بغاوت کا ارتکاب کرتے ہوئے آپ کی حکومت کا تحتہ الٹ دیا
تھااور آپ نے اپنے اہل و اعیال اور ملازمین سمیت جلاوطن ہوجانے میں عافیت جانی تھی ۔۔آپ کے ساتھ تو
جو ہوا سو ہواآپ پہ جو گزری سو گزری اور اس سے ساری دنیا آشنا ہے مگر جنرل ضیاالدین بٹ جو پاکستان کے آئین کے
مطابق چیف آف آرمی سٹاف قرار دئیے جاتے ہیں ان کے ساتھ غیر قانونی طور پر جو کچھ ہوا وہ بھی پاکستان کی تاریخ کا
حصہ ہے ۔جنرل راشد قریشی نے کہا تھاکہ جنرل ضیاالدین آرمی کی تاریخ کے بہترین جنرلوں میں سے ایک ہیں
۔مگرانہیں زبردستی ملازمت سے علیحدہ کر دیاگیا۔جنرل ضیا الدین کی تعیناتی بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف
آپ نے کی تھی اور بحیثیت وزیر اعظم آپ اسے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کے مجاز تھے۔مگر ایک
بغاوت پسند اور نوکری سے نکالے گئے جنرل نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کرایک حاضر سروس چیف
آف آرمی سٹاف کو یرغمال بنا کر غیر قانونی اور جبری طور پر برخاست کردیا۔میاں صاحب آپ سے
درخواست ہے کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعدپہلا حکم جسے جدید اصطلاح میں’’ ایگزیکٹو آڈر ‘‘کہتے ہیں دیتے ہوئے
جنرل ضیالدین بٹ کا بحال کریں تاکہ انصاف کا بول بالا ہواور آپ اپنی حکومت کا سلسلہ وہیں سے شروع کر سکیں جہاں
سے بارہ اکتوبر کو منقطع کیا گیا تھایقیناًجنرل ضیاالدین بٹ کی بحالی کے بعد آپ جو کارگل پر کمیشن بنا رہے ہیں اس کی
کارکردگی میں مثبت اضافہ ہوگا اور پاک آرمی بھی اپنے ایک جنرل کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالہ پر آپ کی ممنون ہوگی
وسلام
آپ کا
محمد رمضان رمضانی
میں نے ایک سو احباب کو ہار جانے کی صورت میں کھانے کھلانے کی یاسر پیرزادہ کے ساتھ شرط لگائی
تھی۔چونکہ میں ہار گیا ہوں اور یاسر پیرزادہ جیت چکا ہے اسلئے میں بہت جلد ان کے اعزاز میں ایک عشائیے کا
بندوبست کر رہا ہوں ۔جہاں زیادہ امکان یہی ہے کہ میں اپنے دل کے پھپھولے پھوڑوں گا اور وہ جشن منائیں گے ۔آہوں پر سازوں کا
رقصِ مشتعل جاری ہوگا ۔ہاں اگر جنرل ضیاالدین بٹ کی ملازمت بحال ہوگئی تو ممکن ہے میرے روپے میں بھی لچک
آجائے ۔