الیکشن کے بعد پھر الیکشن

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

الیکشن کے بعد پھر الیکشن


کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ تبدیلی کا نعرہ ایک دھوکہ ہے ۔ووٹ سے تبدیلی ممکن نہیں۔۔یہ صرف ایک
سیاسی نعرہ ہے ۔حکمران اس وقت تک تبدیلی نہیں لاسکتے جب تک لوگ اپنے آپ کو تبدیل نہ کریں ۔اگر
عوام چاہتے ہیں کہ تبدیلی آئے تو وہ خود کو تبدیل کریں اچھے شہری بنیں ، اولاد کم پیدا کریں ،محنت کریں، حلال کی روزی
کھائیں،کرپشن نہ کریں ، جھوٹ نہ بولیں،دھوکا نہ دیں،پورے روزے رکھیں ، باجماعت پانچ وقت کی نماز پڑھیں
وغیرہ وغیرہ تو پاکستان تبدیلی ممکن ہے وگرنہ نہیں۔ میرے خیال میں اسوقت ایسی باتوں کا پرچار کرنے والے
صاحبانِ علم و دانش دراصل سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے والی قوتوں کے نمائندے ہیں اور اپنے آقاؤں کی نمک حلالی کرتے
ہوئے عوام کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام جس تبدیلی کیلئے
گیارہ مئی کو فیصلہ دینے والی ہے کسی طرح اس تبدیلی کو روکا جائے ۔

ہر پاکستانی کویہ بات روز روشن کی طرح واضح نظر آرہی ہے کہ گیارہ مئی انتخابات کے نتیجے میں عمران خان ہر
صورت میں وزیر اعظم بن جائیں گے ۔سٹیٹس کو کے تمائندے تبدیلی کی اس سونامی کو نہیں روک سکتے ۔اب آتے
ہیں اسی سوال کی طرف کہ تبدیلی کیسے آئے گی نیا پاکستان کس طرح وجود میں آئے گا۔یقیناًیہ بہت اہم سوال ہے
۔تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وہ امیرا ور غریب کا فرق ختم کرے گی ۔یہ عظیم کام کیسے
ممکن ہوگاکیا پاکستان کاآئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اللہ کی زمینوں پر جاگیرداروں نے جو قبضہ کر رکھا
ہے۔وہ ختم کرایا جائے اور وہ زمینیں آباد رکھنے والے مزرعوں کو دے دی جائیں ۔یعنی جاگیر داری کا خاتمہ ہو۔نہیں ہر گز
نہیں۔موجودہ آئین کے تحت یہ ممکن نہیں۔کیا پاکستان کاآئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ملک میں ہونے
والی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرکے اسے ہر شخص کے حق کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔بالکل نہیں ۔ قطعاً نہیںْ
۔تحریک انصاف کے منشور میں یہ بھی ہے کہ صحت اور تعلیم اور دوسرے انتظامی اداروں کوعوام کے سامنے جواب
دہ بنایا جائے مگرضلعی سطح اور صوبائی سطح پر بیورو کریسی کے اس نظام کو بدلنے کیلئے بھی آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔سویسی
تبدیلی صرف اس وقت ممکن ہے جب تحریک انصاف کے پاس دو تہائی اکثریت ہو۔یا کم از کم واضح
اکثریت تو ہو کہ تحریک انصاف کوحکومت بنانے کیلئے کسی اور پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کی ضرورت نہ
پڑے ۔کیونکہ باقی تمام پارٹیاں’’ سٹیٹس کو ‘‘پرموٹ کرنے والی پارٹیاں ہیں انہیں ساتھ ملانے کی صورت میں تبدیلی ممکن
نہیں ہوسکے ۔ان میں سے جس پارٹی کے ساتھ بھی عمران خان نے اتحادکیا وہ ہر معاملہ میں عمران خان کو
بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔اور عمران خان جس تبدیلی کے نعرے کے ساتھ نئے پاکستان کی تعمیرکیلئے
اقتدار میں آئیں گے وہ تعمیر ممکن نہیں ہو سکے گی
اس مسئلے کے حل کیلئے میرا پہلا مشورہ تو پاکستان کی عوام کیلئے ہے کہ عوام عمران خان کا بھرپور ساتھ دے اور نوجوان
اپنے بزرگوں کو مجبور کریں کہ وہ اپنے مفادات کو چھوڑ کر ہو حال میں پاکستان کی بقا کیلئے عمران خان کو ووٹ دیں تاکہ
اس پاس دوتہائی اکثریت نہیں تو کم ازکم واضح اکثریت ضروری ہونی چاہئے اورمیرا دوسرا مشورہ عمران خان
کیلئے ہے کہ اگران کے پاس واضح اکثریت نہیںآتی اور وہ کسی اور پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر مجبور ہیں تو
انہیں وزیر اعظم بننے کے فوراً بعدہی تیس دن کے اندر نئے انتخابات کا اعلان کردینا چاہئے ۔سچ مچ کے انتخابات ۔۔آئین کے
مطابق انتخابات۔جن میں 62اور63کے مطابق تمام امیدواروں کی سکروٹنی کی جائے ۔ہر وہ راستہ بند کر دیا جائے جس
سے چوراور لٹیرے اس پاکیزہ ترین عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ امیدوار جو ٹیکس چور ہیں یاجعلی ڈگریوں والے ہیں یا جنہوں
نے قرضے معاف کرائیے اور اس وقت عدالتوں سٹے لے کر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں انہیں نااہل قرار دیا
جائے تاکہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے۔بیرون ملک رہنے والے ساٹھ لاکھ پاکستانیوں
کے ووٹوں کی پولنگ یقینی بنائی جائے یہ ووٹ کم از کم قومی اسمبلی کی ساٹھ اور صوبائی اسمبلی کی ایک سو بیس نشستوں کے
نتائج بدل سکتے ہیں ۔یہ وہ ووٹر ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد میں ووٹ نہیں دینے بلکہ ملک و قوم کی بہتری کیلئے ووٹ
کاسٹ کرنے ہیں اور شاید اسی خوف سے موقع پرست حکمرانوں کے ان پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم نہیں کی
کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ ووٹ کسی ٹیکس چور اور جھوٹ بولنے والے کو نہیں مل سکتے ۔انہیں کوئی سرمایہ دار نہیں
خرید سکتا ، انہیں کوئی جاگیردار ڈرا دھمکا کے حاصل نہیں کر سکتا ۔مجھے پورا ہے کہ ایسے شفاف اور حقیقی انتخابات کے بعد
تحریک انصاف دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کر سکتی ہے اور ایک نیا پاکستان وجود میں آسکتا
ہے کیونکہ نئے پاکستان کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم وہ ادارہ جو اس ملک کا محترم ترین ادارہ ہے جسے قومی اسمبلی کہتے ہیں اس
میں دھوکے بازتو موجودنہ ہیں وہاں تک توجھوٹ بولنے والوں کی رسائی نہ ہوسکے۔وہاں پر توعدالتوں پر اثرانداز ہوکر غلط
فیصلے کرانے والے نہ پہنچ سکیں ،وہاں بیٹھ کرتوٹیکس چور سرمایہ داراپنے کالے دھن کو سفید نہ کر سکیں ۔
کتنی حیرت انگیز ہے کہ اگرسات گریڈ کے سرکاری ملازم کی اسناد جعلی نکل آئیں تو بیچارہ نوکر ی بھی جاتا ہے اور اس کے
ساتھ اسے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اس قانون سے مبراہیں وہ تمام
سابقہ ممبران جن کی اسناد جعلی ثابت ہوئی وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان میں سے کئی ایک کو اسمبلی میں پہنچنے سے کوئی
نہیں روک سکتا مثال کیلئے ایک جمشید دستی ہی کافی ہے ۔وہ ملک جس میں انصاف امیر اور غریب کیلئے
ایک نہیں ہوتا وہ ملک نہیں ہوتا کسی وڈیرے کا دربار ہوتا ہے جب تک پاکستان میں انصاف سب کیلئے برابر نہیں ہوگا
اس وقت تک اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیںآئے گی اور شاید اسی بات کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے اپنی پارٹی کا نام ہی
تحریک انصاف رکھا تھا۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران عدالتوں کا کیا کرلیں گے افتخار محمد چوہدری جیسے
چیف جسٹس کی موجودگی میں بھی پاکستان میں عدالتوں کا نظام درست نہیں ہوسکا یقیناًاسے درست کیلئے عمران
خان کو آئین میں ترمیم ضرورت ہوگی یعنی اسے ہر حال دو تہائی اکثریت چاہئے۔کیا کوئی شخص جو غلط بیانی سے کام لیتا
ہے اور پوری قوم دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے اسے سزا ملنے چاہئے یا الیکشن لڑنے کے مواقع ملنا چاہئے یا اس کی حفاطت
کیلئے سیکڑوں سپاہیوں کو مامور کیا جانا چاہئے ۔ٹیلی ویژن پر لوگوں کی غلط بیانی جو اشتہار چل رہے ہیں کیا وہ الیکشن کمیشن
کو دکھائی نہیں دیتے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں اتنے عرصہ میں ایسے نہ کردوں تو میرا
نام بدل دینا ۔مگر کسی کے کان پر جوں ہی نہیں رینگتی ۔ایسے جھوٹے لوگ جب اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے تو وہ اپنے جھوٹ
اور فریب کی مدد سے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عمران خان ملک کی بہتری کیلئے جس تبدیلی کے خواہاں وہ تبدیلی
نہ آسکے ۔ ضروری امر یہی ہے کہ عدالتیں ہی ایسے دو نمبر لوگوں کو قومی اسمبلی پہنچانے کی جیل تک پہنچائیں تاکہ وہ پھر
پاکستان کی سادہ لوح عوام کو فریب نہ دے سکیں۔کسی ایک شخص کو فریب دینے والے کو معاف کیا جاسکتا ہے
مگر پوری قوم کو فریب دینے والے ناقابل معافی ہیں