مایوسی گناہ ہے

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

مایوسی گناہ ہے


مایوسی گناہ ہے اورمیں گناہگار ہوں ۔نوازشریف کی کابینہ کے چہرے دیکھ دیکھ کر مجھے اپنے گنہگار ہونے کاپورا یقین ہوتا جا رہا
ہے ۔ میں رات دیر تک یہی سوچتا رہا کہ ایک چہرے پر دوسرا چہرہ سجانے کے سوا اور کیا تبدیلی آئی ہے ۔میں
نے تو جس چہرے پربھی زیادہ دیر غور کیا ہے اسی کے پس منظر میں وہی چہرہ دیکھا ہے جس سے پچھلے پانچ سال پاکستان
نبردآزما رہا ہے۔دوچار وزیروں کے سواسب وہی وزیرہیں جنہیں کچھ خبر نہیں کہ جو محکمہ اسے دیاگیا ہے وہ کیا کام کرتا
ہے۔زیادہ تر وہی لوگ ہیں وہی سرمایہ دار ہیں جن کی بدولت خزانہ خالی ہے۔اُسی طرح وزارت کے اس بازار سے کسی
متوسط طبقے کے کسی شخص کا گزرہوتاہوا نہیں دکھائی دیا۔
بے شک حکومت نئی آگئی ہے مگربدلنا کیا ہے ۔تبدیلی کیا آنی ہے ۔ ہونا کیاہے وہی جو پہلے ہوتا آرہاہے ۔یعنی جس کو ماضی
میں پی آئی اے چیئرمین بنایا گیاتھا اس نے چیئرمین شپ ختم ہوتے ہی اپنی ایئرلائن بنالی تھی ۔اب
پٹرولیم کی بھی کوئی کمپنی بنا لے گااورہر سڑک پر اس کی کمپنی کے پٹرول پمپ دکھائی دیں گے۔ترقی کا ایک یہ بھی انداز
ہے۔پہلے ’’قرض مکاؤ‘‘ تحریک چلا کر کھربوں جمع کئے گئے تھے اب ’’لوڈ شینڈنگ مکاؤ‘‘ تحریک کا آغاز کیا جائے
گا۔پہلے پیلی ٹیکسیاں تقسیم ہوئی تھیں ۔اب نیلی ٹیکسیاں تقسیم کردی جائیں گی
پچیس میں سے گیارہ وزیروں کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ وہ بازارِ وزارت میں پہلی بار داخل ہوئے ہیں مگرسچ یہ بھی
نہیں ہے وہ تمام گیارہ کے گیارہ ۔ حکمرانی کے روایتی انداز سے بخوبی واقف ہیں۔کہتے ہیں کہ ان میں سب سے بہتر لوگ
پرویز رشید اور پیرامین الحسنات ہیں ۔پرویز رشید پچھلی حکومت میں پی ٹی وی کے چیئرمین بنائے گئے تھے سو کچھ نہ
کچھ انہیں بھی اندازہ ہے کہ حکومت کیا ہوتی ہے البتہ پیر امین الحسنات بہت شریف آدمی ہیں اور ان کے سامنے
مذہبی امور کے ایک سابق وزیر کا انجام بھی ہے۔جنہیں صرف اسلئے کچھ عرصہ جیل میں قیام کرنا پڑا کہ وہ بھی
شریف آدمی تھے ۔گوجرانوالہ کے خرم دستگیر خان کانام بھی ان گیارہ لوگوں میں شامل ہے۔ بہر حال ہیں تو وہ
غلام دستگیر خان کے بیٹے۔یہ لوگ وزیر نہ بھی ہوں تو وزیروں سے زیادہ طاقتور ہیں۔انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی
وزارت دی گئی ہے ۔کیا کہوں کس سے کیا کام لیا جارہا ہوں ۔سائرہ افضل تارڑ بھی پہلی بار وزیر بنی ہیں مگر ان کے
سسرسابق صدر رفیق تارڑ ہیں۔میاں بلیغ الرحمن بھی وزیر پہلی بار بنے ہیں مگر پچھلے پانچ سال وہ نون لیگ کے ایم این اے
رہے ہیں اور پنجاب میں ان کی پنجاب کے کئی سابق وزیروں سے زیادہ حیثیت رہی ہے ۔جام آف لسبیلہ جام کمال
خان کے والدگرامی جام یوسف بلوچستان کے وزیراعلی ہواکرتے تھے ۔ان گیارہ لوگوں میں کامران مائیکل کا نام بھی درج کیا
گیا ہے یہ یہاں تو بات درست ہے کہ وہ وفاقی وزیر پہلی بار بن رہے ہیں مگر پنجاب میں تو ان کے پاس کئی وزارتیں رہی
ہیں ۔کچھ وزیر ایسے بھی بنائے گئے جو کبھی صدر مشرف کے بھی ساتھی ہواکرتے تھے۔سکندر بوسن اور زاہد حامد کے علاوہ سردار
یوسف کا نام بھی اسی فہرست میں آتا ہے کیونکہ پرویز مشرف کے دور میں وہ ضلع مانسہرہ کے ناظم ہواکرتے تھے۔سردار
یوسف کے بیٹے شاہ جہان گذشتہ کابینہ میں بھی تھے۔صدر مشرف کے دور کے وزیر امیر مقام جو الیکشن بھی ہار گئے تھے
انہیں بھی نہ صرف مشیر بنایا گیا بلکہ مواصلات جیسا اہم محکمہ بھی دیا گیا۔ صدر مشرف کے قریبی ساتھی سینٹر
طارق عظیم کے بھائی شجاعت عظیم کو بھی مشیر بنایا گیا ہے اور بھی کئی لوگ وہی ہیں۔
اس نئی کابینہ میں باقی چودہ لوگ ایسے ہیں جو پہلے کئی بار وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان سے کیا توقع کی
جاسکتی ہے کہ وہ اب کچھ ایسا کریں گے جو انہوں نے پہلے نہیں کیا تھا۔مجھے تو نہیں لگتا۔ پھربہتری کیسے آئے گی ۔ سچ کہوں
تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔حیران ہوں کہ ایسے لوگوں کو اقتدار لانے والوں نے کیا سوچا ہے ۔کیسے توقع کرلی ہے کہ یہی
چلے ہوئے کارتوس پھر چل جائیں گے۔کہتے ہیں کہ کبھی کبھی کارتوس دھوپ میں پڑے پڑے بھی چل جایا کرتے ہیں ۔کوئی
ایسی کرامت ہوجائے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔وگرنہ مجھے اپنے گنہگار ہونے میں کوئی شک نہیں رہا۔کیونکہ یہ طے شدہ
بات ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔
سوچتا ہوں کہ میری یاداشت بہت کمزور ہے ۔اگر میں اپنی کمزور یاداشت کے ساتھ اس درجہ مایوسی کا شکار ہوں تو
عوام کا کیاحال ہوگا جس کی یاداشت پر مجھے کوئی شک نہیں ۔کیا عوام بھی میری طرح سوچ رہی ہوگی ۔ایک سکتہ تو
انتخابات کا نتیجہ آنے پر عوام پر طاری ہوا تھا جس سے ابھی لوگ باہر نہیں آئے۔اس کابینہ کے اعلان پر توایک اور
سکتہ سے وابستہ پڑ گیا ہوگا بقول غالب

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنور
پھر ترا رختِ سفر یاد آیا

میرا خیال ہے عوام ’’چیفس‘‘ کی طرف دیکھ رہی ہے اور دن شمار کر رہی ہے ۔یہ سال تبدیلیوں کا سال ہے ۔نئے چیفس اور
نئے صدر کے بعد شاید عوام زیادہ دیر تک پتھرائی ہوئی نہ رہ سکے ۔فروخت شدہ میڈیا کو بھی ممکن ہے شرم آنے
لگے۔ممکن ہے جلدکچہریاں انصاف گاہوں بدل جائیں۔پاکستانیوں کی بیعت پر ایک بڑی ’’لوٹ‘‘ کا قصہ کپڑوں سے
باہر آجائے ۔بہر حال یہی سال ۔۔تبدیلیوں کا سال ہے ۔365دن بہت ہوتے ہیں ۔عوام اتنا انتظار نہیں کر سکتے۔نقارے
بجاتے رہو کہ مال ایک چور نے دوسرے چور کو دے دیا ہے ۔نواز شریف زندہ باد