مقصود الہی شیخ

Posted in دیوار پہ دستک ۔ کالمز

 

مقصود الہی شیخ


مقصود الہی شیخ برطانیہ کی ایک بزرگ ادبی شخصیت ہیں ۔انہوں نے بریڈفورڈ سے مسلسل پچیس سال ہفتہ روزہ اخبار راوی
نکالااور اس کے صحافت کو چھوڑ کر ادب کی ملازمت کرلی ۔بے شک انہوں نے ادبی بے پناہ خدمت کی ہے مخزن کے نام
سے ایک ادبی جریدہ نکالنا شروع کیا جس کے اس وقت کم ازکم اٹھ دس شمارے یا اس سے بھی زیادہ شائع ہو چکے ہیں
۔ آج تقربیاً پانچ سال جب انہوں نے مخزن کا دوسرا شمارہ شائع کیا تھا تو اس وقت میں نے لکھا تھا
’’میرا ایک خوش فہم جاننے والا ہے جومجھے بہت بڑا شاعرسمجھتا ہے۔ گذشتہ روز اس کا ٹیلی فون آیااور وہ بڑے پریشان
کن لہجے میں کہنے لگا کہ ’’آپ جانتے ہیں نا مقصود الہی شیخ صاحب کو ۔۔آج کل ’’مخزن ‘‘کے نام سے ایک ادبی مجلہ نکالتے ہیں
‘‘۔ میں نے بے ساختہ کہا ’’ میرے بہت مہربان بزرگ دوست ہیں ، کیوں کیا ہوا انہیں‘‘ کہنے لگا ’’میں نے
رات کو کسی دوست کے گھر میں ان کے مخزن کے مجلے دیکھے ہیں ان میں برطانیہ کے تقریباً تمام اہم شاعر اور
ادیب موجود ہیں مگراِس میں آپ کو شامل نہیں کیا گیا یہ تو ایک تاریخی بدیانتی ہے۔سوسال کے بعد ادب پر ت
حقیق کرنے والے تو یہ سمجھیں گے کہ اس عرصہ میں آپ برطانیہ میں موجود ہی نہیں تھے‘‘۔ میں ہنس پڑا اور
میں نے کہا کہ فکر نہ کروکیونکہ تاریخی عمل بہت بے رحم ہوتا ہے اور جہاں تک ’’ مخزن‘‘ کی بات ہے تو اس
میں مقصود الہی شیخ صاحب کا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے وہ ٹائپ شدہ خط جو دوسرے ادیبوں اور شاعروں کو بھیجاتھا
اس سے مجھے محروم نہیں رکھا تھامگر میں نے انہیں اپنا کلام نہیں بھیجا تھا کیونکہ اس کے ساتھ پچاس پونڈ کی
ادائیگی بھی ضروری تھی ۔ادب کی خدمت کیلئے پچاس پونڈ کوئی بڑی رقم نہیں تھی مگر اُن دنوں میں ’’اندلس کے آخری
مسلمان فلسفی ابن باجہ کو پڑھ رہا تھا۔جہاں بالکل ایسی ہی ایک بات سامنے آئی کہ ابن باجہ کے دور میں فتح بن خاقان
کے نام کا ایک لکھنے والا شخص بھی تھا جس کا یہ طریقہ کار تھا کہ وہ اپنے زمانے کے شاعروں کے نام خط لکھتا تھا کہ وہ
ادب کو تاریخ میں محفوظ کرنے کیلئے علمی وادبی مخزن تیار کر رہا ہے۔ آپ لوگ اس مخزن میں شمولیت کیلئے
اپنے شعرو سخن کے جواہربھیجیں تاکہ آپ کا کام تاریخ میں محفوظ کیا جاسکے اور اس کے ساتھ اتنی اشرفیاں بھی ضروری ہیں
کیونکہ اس عظیم کام پر بڑے اخراجات اُٹھ رہے ہیں ۔ جو لوگ اسے کلام کے ساتھ اشرفیاں بھیج دیتے تھے وہ ان کی
تعریف میں بڑے بڑے مضامین خود بھی لکھتا تھا اور دوسروں سے بھی لکھواتا تھااور جو نہیں بھیجتے تھے ان کی ہجو گوئی کرتاتھا
اور اسے ہجوگوئی کے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ اس نے ابن باجہ کو بھی خط لکھا تھا مگر اُس امامِ فلسفہ نے
اس خط کو درخور اعتنا ء نہیں سمجھا۔جو بھی معاملہ تھافتح بن خاقان نے بہت انتظار کیامگر ہجو نہیں لکھی کیونکہ اس
وقت تک ابن باجہ وزارت کے عہدے پر پہنچ چکے تھے۔ ہاں جب ابن باجہ کو زہر دے کر قتل کر دیا گیا تو فتح بن
خاقان نے بھی اپنے دِل کی بھڑاس نکال کر اپنی رنجِش کی آگ کو یوں ٹھنڈا کر لیا ۔اِبن باجہ کے متعلق لکھا’’وہ سنت و
فرائض کا تارک تھا، خدا کا منکر تھا،قر آن حکیم کو چھوڑ کرعلم ہیئت اورعلم نجوم کی کتابوں کے مطالعے میں مشغول
رہتا تھا۔معاد کا قائل نہیں تھا، اِنسان کو گھاس پھونس سمجھتا تھا،ہمیشہ گانے بجانے کے شغل میں
مصروف رہتا تھا،بدنسل اور بدصورت تھا‘‘۔فتح بن خاقان نے جو کچھ لکھا اس کی تردیداُس عہد کے مورّخین
نے تو کی ہی تھی خوداِبن باجہ کی اپنی کتابیں بھی ان تمام باتوں کو رد کر دیتی ہیں۔ ‘‘
مجھے آج اس پیراگراف کو پڑھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا نہیں سوچنا چاہئے تھا ۔ کیا ہوا کہ انہوں
نے مخزن کے کسی شمارے میں مجھے شامل نہیں کیا ۔بے شک بہت سے لوگوں کیلئے مخزن میں شائع ہونا
باعث اعزاز ہوگا مگرضروری نہیں منصور آفاق کہ تم بھی ہر اعزاز کے مستحق ٹھہراجاؤ ۔بہر حال میں مخزن میں
شائع ہونے والے احباب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ اور یہ سمجھتا ہوں کہ مقصود الہی شیخ صاحب مخزن میں
اپنا کلام شائع کرانے کیلئے پچاس کی بجائے سوپونڈبھی مانگیں تو وہ بھی کم ہیں ۔اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے
پچاس کی بجائے سو پونڈ کی ادائیگی کیلئے حاضر ہوں ۔اور شیخ صاحب کی مستقل مزاجی کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ڈاکٹر
جواز جعفری نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز میں ان کے متعلق لکھا ہے
’’انہوں نے اکیسویں صدی کے اس پہلے دہے کے ابتدائی سالوں میں’’مخزن‘‘ کے اجرا سے ایک تحریک چلائی
کہ برطانیہ کے قلم کاروں کو پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں کے مرکزی دھارے میں اچھی طرح سمویا
جائے۔مخزن کے دس شمارے اسی مقصدکے لیے وقف رہے اورآجکل ( بجز منصور آفاق ) برطانوی تخلیق کار اس کے
ثمرات کی فصل بڑی حد تک کاٹ رہے ہیں۔
میں نے اپنے طورپر یہ کالم مقصود الہی شیخ کو منانے کیلئے لکھنا شروع کیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید معاملاتِ
محبت بہتر نہ ہوسکیں کیونکہ میں نے پھر ہر بات کھلی کھلی کر دی ہے۔ کیا کروں اپنے مزاج کے ہاتھوں مجبور ہوں ۔
شیخ صاحب بزرگ ہیں ۔ یہی توقع کرتا ہوں کہ وہ اور زیادہ ناراض ہونے کی بجائے میرے مزاج کو سمجھتے ہوئے مان جائیں گے ۔
مقصود الہی شیخ بنیادی طورفسانہ نگارہیں۔ ترقی پسندانہ ذہن کے مالک ہیں۔زیادہ تر بیانیہ کہانیاں لکھتے ہیں اورکہانی کو
پھیلا کر سمیٹنے کا فن جا نتے ہیں ۔میری انیس سو نوے سے ان کے ساتھ علیک سلیک ہے پہلی مرتبہ وہ مجھے لاہور کے ایم
او کالج میں ملے تھے جہاں وہ اور میں دونوں عطاالحق قاسمی سے ملنے گئے تھے ۔قاسمی صاحب ابھی کالج میں نہیں پہنچے تھے
سو ایک انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے دو آدمی اکثر اوقات آپس میں کشش محسوس کرتے ہیں ۔اسی کشش کی بدولت ان
سے تعارف ہوااور پھرلمبی گفتگو ہوئی جو کئی دن تک جاری رہی ۔ اس ملاقات کے کچھ ماہ بعد میں حضرت شاہ کی
دعوت پر مشاعرے پڑھنے برطانیہ آیا تو مقصودالہی شیخ نے باقاعدہ میرے اعزاز کھانا دیا۔انیس سو نوے میں
جب مشاعرے پڑھنے برطانیہ آیا تھا تو ایک عجیب و غریب صورت حال سے دوچار ہو گیا تھا۔لندن
میں میری ملاقات افتخار قیصر سے ہوئی انہوں جنگ لندن کے ادبی صفحے کیلئے میری انٹرویو کر لیا اس انٹرویو
میں ،میں نے جو برطانیہ کے شعرائے کرام کے بارے میں محسوس کیا تھا۔ کہہ دیا۔ جو اپنے ہمسفر شاعروں کے
بارے میں سچ سمجھاتھابیان کر دیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف برطانیہ والے شعرائے کرام ہی ناراض نہیں ہوئے میرے
ہمسفرشاعروں نے میرا ساتھ کلام کرنا بند کر دیا ۔ زندگی میں پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ سچ بولنا کتنا مشکل کام ہے ۔مجھے یاد
میں نے افتخار قیصر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں مشاعرہ پڑھتے ہوئے مجھے یوں لگا ہے جیسے میں چیچو
کی ملیاں میں مشاعرہ پڑ ھ رہا ہوں ۔ اب بھی صورت حال برطانیہ میں اردو ادب کی وہی ہے فرق صرف اتنا پڑا
ہے کہ اب میں بھی چیچو کی ملیاں کا شاعر ہوں ۔