موازنہ فیض و فراز 2

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 

موازنہ فیض و فراز



جہاں تک مجھے یادہے تو غالباً فیض نے اپنے ایک انٹرویو میں نثر ی شاعری کو بڑی سختی سے ریجیکٹ کیا
تھا اور صاف کہا تھا کہ نثر نثر ہے اور نظم نظم۔ انہیں باہم گڈ مڈ نہیں کرنا چاہئے۔ جب یہ کہا جا رہا
ہوتا ہے کہ شاعری اور نثر کا آہنگ جد اہے تو اہل علم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ شاعری او زان اور بحور کے تابع
ہوتی ہے۔ یہ کناروں کی قیدمیں رہ کر بہنے والی ندی کا نام ہے جبکہ نثر میں یہ بات نہیں وہ سمندر ہے۔
معمولی سے معمولی شاعر بھی یہ التزام رکھتا ہے کہ شعر بھلے انتہائی عامیانہ اور بھو نڈا بلکہ مہمل ہی کیوں نہ ہو مگر
اس کا وزن درست ہو۔ آزاد نظم کا بھی ایک خاص وزن ہوتاہے جو شروع سے آخر تک چلتا ہے۔ فیض بھی یہ بات
جانتے تھے مگر افسوس کہ کئی جگہوں پر۔۔۔ شاید اپنی ’سہل طلبی‘ کے باعث۔ (ہم سہل طلب کون سے فرہاد ہیں
لیکن)۔ اپنی نظموں میں وہ اس کا خیال نہیں رکھ سکے اوراپنی شخصیت کے بھاری بھرکم بلڈوزر پر بیٹھ کر بڑی
بے دردی سے وزن کو روندتے چلے گئے ہیں۔ ان کی کتاب ’مرے دل مرے مسافر ‘ کی دوسری نظم ”پھول مر جھا
گئے سارے“ پر وزن کے اعتبار سے تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے میں نے کئی طرح کی عینکیں بدل لیں مگر ہر
عینک سے نظم ا وزان کی صلیب پر آویختہ نظرآئی۔ نظم کا مصرع آغاز ہے” پھول مر جھا گئے ہیں
سارے“ ایک رکن کی کمی کے ساتھ یہ مثنوی کی معروف بحر ہے، اسے بحر خفیف مسدس مخبون
مقطوع کہتے ہیں، یوں اس کا وزن بنتا ہے۔

پھو لمرجھا۔ گئے ہیں سا۔ رے۔۔۔

فاعلاتن مفاعلن فعلن

اس سے جڑا ہوا اگلا مصرع ہے۔ ”تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو“ یہاں ترازو کے ایک پلڑے میں وزن کچھ زیادہ
پڑگیا ہے، صلیب ایک طرف جھک گئی ہے

اس مصرع کا وزن فعلن فعولن فاعلن فعولن ہے۔ تارکول کی صاف شفاف سڑک پربڑی سموتھ چلتی ہوئی
کار اچانک ہچکولے کھانے لگی ہے۔ یکدم کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہے اور بے ہنگم سی آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ
آوازیں نظم کے آگے کے مصر عوں سے کچھ یوں سنائی دے رہی ہیں۔ ”شمعیں بے نور ہوگئی ہیں۔۔۔ آئنے چور ہوگئے
ہیں۔۔۔ ساز سب بج کے کھو گئے ہیں۔۔۔ پائلیں بجھ کے سوگئی ہیں۔۔۔ اور ان بادلوں کے پیچھے۔۔۔ دور اک رات کا دُلارا۔۔۔
درد کا ستارا۔۔۔ ٹمٹما رہا ہے۔۔۔ جھنجنارہا ہے۔۔۔ مسکرا رہا ہے۔ “ یہ پوری نظم مختلف قسم کی بحروں کی ایک ایسی
سڑک بن گئی ہے جس پر جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ اسے پڑھتے ہوئے جا بجاصرف
جھٹکے نہیں دھکے بھی لگتے ہیں۔ اسی طرح انکی ایک نظم فلسطینی بچے کے لئے لوری ہے۔ اس میں بھی کئی مصرعے
نظم کے مجموعی آہنگ کو برقرار نہیں رہنے دیتے۔ یہ بے وزن کیفیت واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ یہ نظمیں فیض
صاحب نے چاند پر بیٹھ کر کہی ہیں(فیض صاحب یہ جملہ کستے ہوئے پتہ نہیں مجھے کتنے مسیحوں کو
مصلوب کرنا پڑا ہوگامگر میں بھی سچائی کی صلیب پر لٹک رہا ہوں) ”مت رو بچے۔۔۔ رو رو کے ابھی۔۔۔ تیری
امی کی آنکھ لگی ہے۔۔۔ تیرے آنگن میں۔۔۔ مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں۔۔۔ چندر ما دفنا کے گئے ہیں “ یہ نظم
“بحرمتدار ک مثمن میں ہے۔ جو سیدھی سادی فعلن کی بحر ہے مگر” مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں
اچانک اس سے خارج ہوجاتا ہے۔ میرے علم میں ہے کہ عرب ماں لوری میں جملے لمبے
چھوٹے کرتی رہتی ہے دوسری زبانوں میں بھی ایساہوتا ہے مگر ریل گاڑی کی آواز کی طرح مجموعی آہنگ پھر
بھی موجود رہتا ہے جویہاں ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک اور نظم ہے ” اے شام مہر باں ہو “ اس کا آغاز یو ں
ہوتا ہے۔ ”اے شام مہرباں ہو۔۔۔ اے شام شہر یاراں “یہ ابتدائیہ سیدھی سادی عام سی بحر مضارع
مثمن اخرب ” مفعول فاعلاتن‘ مفعول فاعلاتن “ میں ہے۔ مگر آگے اس کی حشرسامانیوں میں
ستم کی دوزخی دوپہر کو دیکھئے۔ ”ہم پہ مہرباں ہو۔۔۔ دوزخی دوپہرستم کی۔۔۔ دوپہر درد و غیظ و غم کی۔۔۔ بے
زباں درد و غیظ وغم کی۔۔۔ یہاں بحر بالکل بد ل گئی ہے یعنی اب فیض فاعلن، فاعلن، فعو لن پر آگئے ہیں۔ مگر
 یہاں بھی اُن کا دِل نہیں لگتا اور وہ اگلے مصرع میں پھر بحربدل لیتے ہیں۔ ”اس دوزخی دوپہر کے تاز یا نے “
اس کے بعد پھر اگلے مصرع میں پھر بحر بدل جاتی ہے اور وہ کہنے لگتے ہیں۔ ” آج تن پہ دھنک کی
صورت “تقریبا ً تمام نظم میں اسی طرح کی” کثیر البحوریت “ موجود ہے۔ اور اس پرمیرے لئے
ایک اور تازیانہ۔۔۔ کہ شایدوہ اپنی اسی نظم کو اپنا انتخاب سمجھتے تھے، ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے اسی میں
استعمال شدہ ترکیب ” شام شہرِ یا راں “ پر اپنی کتاب کا نام رکھا۔ ان کی ایک اور نظم” منظر “ہے اس
میں پہلے ایک بحر چلتی ہے۔ پھر دو مصر عے اس سے خارج ہوجاتے ہیں اورفیض پھر پہلی
بحر میں واپس آجاتے ہیں۔ ذرا آسمان کے اس منظر کی طرف غور سے دیکھئے۔

”آسماں آج اک بحر پر شور ہے۔۔۔

جس میں ہر سو رواں بادلوں کے جہاز۔۔۔

ان کے عر شے پہ کرنوں کے مستول ہیں۔۔۔

بادبانوں کی پہنے ہوئے فرغلیں۔۔۔

نیل میں گنبد وں کے جزیرے کئی۔۔۔

ایک بازی میں مصروف ہے ہر کوئی“

اور اب یہ دومصرعے آگئے ہیں

”ابا بیل کوئی نہاتی ہوئی۔۔۔

کوئی چیل غوطے میں جاتی ہوئی “

یہ دومصرعے لکھ کر پھر پہلی بحر میں لوٹ آتے ہیں

”کوئی طاقت نہیں اس میں زور آزما “

پوری نظم پڑھتے ہوئے یو ں لگتا ہے کہ چیل کے ساتھ نظم بھی غوطے میں گئی اور پھر اُبھر آئی۔ میرے
لئے اتنے اہم شاعر کی شاعری میں ایسی غوطہ زنی کی کیفیت حیرت انگیز ہے۔ ایسی ہی ایک اور کا روائی ان کی
ایک اور پابندنظم ” ہم تو مجبور وفاہیں “ میں بھی موجود ہے کہ اچانک بحر بدل جاتی ہے۔ پہلے دو اشعار کا
آغاز ”فا علن “ سے کرتے ہیں اگلے دو شعر ”مفاعلن “ سے شروع کر لیتے ہیں۔ پھر واپس فاعلن پر
آجاتے ہیں۔ آغاز یوں کرتے ہیں

”تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودہ ٗ اقرار ہوئے

کتنی آنکھوں کو نظر کھاگئی بد خواہوں کی

خواب کتنے تری شہ راہوں میں سنگسار ہو ئے “

دوسرے مصرع میں چلئے فرض کر لیتے ہیں کہ’ اقرار‘ کے معنی’ ایفاء‘کے ہیں اور چوتھے مصرع میں ’
سنگسار‘ کو ’سگسار‘ کے وزن پر باندھنے پر خاموش رہنے کا گناہ بھی اپنے نامہ ءاعمال میں لکھ لیتے ہیں مگراگلے
مصرع میں بحر کی ایسی قلابازی۔۔۔ کوئی سمجھائے کہ اس سے کیسے صرفِ نظر کروں۔ کوئی تو کہے کہ تونے جو
آج تک سیکھا ہے وہ غلط ہے فیض درست ہیں۔ میرا بس چلتا تو اس غوطہ کھاتی ہوئی چیل کی دونوں ٹانگیں چیر دیتا

”بلا کشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

جو مجھ پہ گزری مت اس کو کہو ہوا

سو ہوا مبادا ہو کوئی ظالم ترا گر یباں گیر

لہو کے داغ تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا“

پھر پہلی بحر کی طرف لوٹتے ہیں ”ہم تومجبور وفاہیں مگر اے جانِ جہاں اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی
کرتا ہے “ فیض صاحب کی ایک اور نظم ہے

” عشق اپنے مجر موں کو پابجولاں لے چلا “۔

اس کی ابتداءبھی فا علن، فاعلن، فا علن “ کی بحر سے ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ یہاں پہنچ جاتے ہیں۔

”اپنا پہلو ٹٹو لا تو ایسا لگا۔۔۔

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے “

۔۔۔ اس سے اگلے مصرعوں میں اچانک فعولن فعولن ہونے لگتا ہے۔ ”گلو میں کبھی طوق کا وا ہمہ۔۔۔ کبھی پاوں

 میں رقص زنجیر “

یہاں بھی اِن دو مصرعوں کے بعد وہ فاعلن والی بحر میں لوٹ آتے ہیں۔

”اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح “

یہ ایک مصرع فاعلن کی بحر کہہ کر پھر فعولن، میں جانکلتے ہیں۔۔۔

”رسن در گلو پابجولاں ہمیں۔۔۔

اسی قافلے میں کشاں لے چلا “

کیا کہوں تبصرے کی گنجائش ہی نہیں۔ ان کی ایک اور نظم ’اشک آباد کی شام ‘کی آخری چھ لائنیں دیکھئے

”تم اپنے تن کی سیج پہ سج کر۔۔۔

تھیں یوں محوِ آرام۔۔۔

کہ رستہ تکتے تکتے۔۔۔

بجھ گئی شمع ِ جام۔۔۔ اشک آباد کے نیلے افق پر۔۔۔

غارت ہوگئی شام“۔۔۔

ان لائنوں میں ایک بحر تلا ش کرنے کا تر دد نہ کیجئے کیونکہ یہاں کھینچ تان کر دو بحروں میں کام چلایا جا سکتا ہے۔۔۔

اپنی کتاب ’سر وادی ئِ سینا‘ میں فیض نے بغیر عنوان کے ایک چھوٹی سی نظم درج کی ہے جس کا آغاز
فا علن، فاعلن فعولن سے ہوتا ہے۔ اور آگے کیا ہوا۔ اپنی سمجھ سے معاملہ باہر ہے۔ فیض کہیں مصرعہ کہتے
ہیں توآسمان سے پھولوں کے آبشار گرنے لگتے ہیں اور کہیں شاعری تو کجامصرعہ وزن میں ہی نہیں ہوتا۔۔۔

”یار اغیار ہوگئے ہیں۔۔۔

اور اغیا ر مصر ہیں کہ وہ سب۔۔۔

یا ر غار ہوگئے ہیں۔۔۔

اب کوئی ندیم با صفا نہیں ہے۔۔۔

سب رند شراب خوار ہوگئے ہیں“

اس نظم میں پہلے کے تین مصر عے تو ربڑ کی طرح کھینچ کھا نچ کر بحر میں فٹ کئے جا سکتے ہیں۔ چلو
چوتھے مصرع سے بھی آنکھیں چُرا لیتے ہے۔ مگر آخری مصرعہ تو پاوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔۔۔
اِس کا کیا کیا جائے۔ یہ خار خار شاخِ گلاب تو زخم زخم ہوکر بھی گلے لگانی ہی ہوگی۔ ممکن ہے کہ وزن کے
سلسلہ میں اِس ناروا بے احتیاطی کا فیض کے ہاں بکثرت ہونا آپ کیلئے حیرت انگیز ہومگر میں
یہ ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ فیض کو پڑھنے والوں نے اِسے محسوس نہیں کیاہوگا۔ میرا خیال ہے کہ فیض کو جو
مقام و مرتبہ اُن کی بین الاقوامی سیاست کی وجہ سے مِلا تھا اُس نے بولنے والوں کی جسارت چھین لی تھی۔
فیض کامنکر میں بھی نہیں ہوں۔ مجھے بھی انکے مقام و مرتبہ کا پوری طرح سے احساس ہے۔ جیلوں کی
دیواروں میں چکراتے ہوئے پانچ سات سالوں سے لے کر(ادب کے نہیں) امن کے لینن پرائز کی پروازوں
تک۔۔۔ مجھے سب کچھ یاد ہے۔ لیکن میں پوری دیانت داری سے یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگرادبی کوتاہیوں کی نشا ندہی نہ کی جائے
تو پھر یہ روش عام ہو جائیگی اور نظم کا حلیہ بگڑ کر رہ جائیگا۔ سعدی والی بات کہ ”بنیادِ ظلم درجہاں اند
ک بود ہر کہ آمد برآں مزید کر د“( ظلم کی بنیاد پہلے جہاں تھوڑی تھی پھر جو آتا گیا اس پر ردّے چڑھاتا گیا۔ کسی حد تک
فیض کی انہی اداوں کی بدولت کچھ غلطیوں کو بھی رواج ملا۔ پائوں کا لفظ فیض سے پہلے فعل کے وزن پر باندھا جاتا تھا فیض نے

اسے فعلن کے وزن پر باندھ دیا۔

جس کی پک زور والوں کے پائوں تلے

پہر کا لفظ مفا کا وزن رکھتا تھا مگر فیض نے اس کو بھی فعل وزن دے دیا

”سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی، زرد دوپہر“

اور”نہ“ کو ”فع“ کے وزن پر باندھ دیا”اب تو ہاتھ سجھائی ناں دیوے لیکن اب سے پہلے تو“

اور

”اب بادل ہے ناں برکھا ہے“۔

فیض سے پہلے شاعری میں ایسا کرنا ایک بہت بڑی غلطی سمجھا جاتا تھا مگر اب کسی پر اعتراض
کیا جائے تو جواباً کہا جاتا ہے کہ ”فیض نے ایسا ہی باندھا ہے جی“۔ جی تو چاہتا ہے کہ اِس جواب کے
جواب میں احتجاجاًیہ کہا جائے کہ فیض نے لفظ نہیں کھونٹے کے ساتھ بیل باندھا ہے۔ مگراِس
باندھنے کے کام میں اکیلے فیض ہی نہیں۔ یہ وہ مساج پارلر ہے جہاں ایک جمِ غفیربے لباس ہے میرے سمیت۔۔۔

فیض کی نظم ”پائوں سے لہو کو دھوڈالو“ میں بھی ایک مصرعہ لہولہان لہو لہان ہے“۔ اس مصرعے
میں انہوں نے ”لہو لہان “ کے لفظ کو’ مفامفعول‘ کے وزن پر باندھ دیا ہے جب کہ اس کا وزن مفاعلات کا ہے
انشاءکا شعر دیکھئے

آغوشِ غیر ہو گئے سارے لہو لہان

آساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا

فیض سے یہ غلطی شاید اس لئے سرزد ہوئی کہ فعلن کی بحر میں ہندی یا پنجابی میں لکھنے والے
اکثراوقات اس بات کا قطعاً خیال نہیں رکھتے۔ فیض تو فیض تھے۔ کہتے ہیں کہ عربی زبان کے عظیم
شاعر متنبی سے کسی نے کہا تھا کہ آپ کے بعض اشعارکی بحر میں نہیں ہیں تو متنبی نے لمحہ توقف
سے کام لیا اور کہاکہ ماہرین ِ عروض سے کہو کہ میرے اشعار کے اوازن درست ہیں انہیں اپنی بحریں میرے
اشعار کے مطابق بنا لینی چاہئیں اور وقت نے ثابت کیا کہ متنبی کے اوزان درست تھے مگر افسوس کہ
میں یہ بات صاحبانِ علمِ عروض سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے فیض نے مجھے اوزان کے باب
میں وہاں وہاں شرمندہ کیا ہے جہاں جہاں میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ فیض شاید اوزان کے بارے
میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے جو افتخار عارف کی کتاب ”مہر دونیم “ کا دیباچہ لکھا
اس میں انکی منظوم نظموں کو نثری قرار دیا اورانکی نظم بارہواں کھلاڑی جس میں فنی سقم موجود ہے اسے باوزن قرار
دیا حیرت افتخار عارف پر بھی ہے کہ انہوں نے آج تک اس بات کی نشان دہی نہیں کی شاید ان کیلئے یہی
بہت بڑی بات ہے کہ فیض نے ان کی کتاب کا دیباچہ لکھاایک اور بات بھی اس سلسلہ میں
حیران کن ہے کہ فیض کی پہلی کتابوں میں وزن کی اور زبان و بیان غلطیاں بہت کم ہیں جبکہ بعد کی کتابوں
میں یہ زیادہ ہوتی گئی ہیں۔ کہنہ مشقی سے تو کلام میں صفائی آنا چاہیے تھی اور اسے غلطیوں سے پاک ہوجانا
چاہیئے تھا۔ فی الواقع فیض کا مطالعہ کر نے والوں کے لئے یہ سوال بڑا پر یشان کن ہے انتہائی دھیمے سروں میں
سرگو شیوں کے سے انداز میں کچھ لوگ کچھ لوگوں سے یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ فیض اپنا کلام پہلے صوفی غلام
مصطفےٰ تبسم کو دکھا لیتے تھے اور وہ ایسے اسقام دورکر دیتے تھے بعد میں صوفی صاحب فوت ہوگئے اسلئے بعد کاکلام اسقام
سے پاک نہ ہوسکا۔ پر وفیسر صوفی تبسم 1929 میں گورنمنٹ کالج لاہور آئے۔ اسوقت فیض تھرڈ ائیر کے طالب
علم تھے یہاں سے فیض وتبسم کے تعلق کی ابتداءہوئی جو کسی نہ کسی صورت میں صوفی صاحب کی وفات
تک قائم رہا۔ عین ممکن ہے کہ سر گو شیوں میں کہی جانے والی یہ بات کسی حد تک درست ہو۔ عدیل
یوسف صدیقی نے اپنے مضمون ”فیض احمد فیض کے ساتھ چند لمحے “ میں لکھاہے کہ فیض نے
لندن کے ایک مشاعرہ میں جب ”مرثیہ امام“ سنایا تو اس میں ایک مصرعہ یوں پڑھا”پھرنام
لیا اللہ کا اور یوں ہوئے گویا“۔۔۔ لیکن جب یہ مرثیہ کتاب میں شائع ہوا تو وہ مصرعہ کچھ یوں تھا۔ ”پھر
نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا۔۔۔ یقینا صوفی صاحب یا کسی اورصاحب نے اس بات کی نشاندہی کی ہوگی کہ وہ مصرعہ
بے وزن ہے ”اللہ “ کے لفظ کا وزن فعل نہیں مفعول یا فعلن ہے۔