زبان کی زنجیر

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 

زبان کی زنجیر


اب آتے ہیں کوثروتسنیم سے دھلی ہوئی زبان میں بیان کی غلطیوں کی طرف۔ میں ذاتی طور پر زبان کی صحت
کے حوالے سے بہت آزاد خیال واقع ہوا ہوں جس وجہ سے اہل زبان احباب میں ہمیشہ غیر پسندیدہ
شخص کی حیثیت سے دیکھا گیا ہوں یقیناًجو اردو میں لکھتا ہوں اس کا دہلی اور لکھنو سے کوئی علاقہ نہیں میں نے
ہمیشہ زبان کی اس زنجیر کو توڑا ہے جو اس کی حدوں کو محدود کرتی ہے، فیض نے بھی جو زبان کے تجربے کئے
ہیں میں ان کا معترف ہوں مثال کے طور پراپنی نظم ”انتساب“ میں انہوں نے جو ”پوسٹ مینوں، ریل
بانوں “ وغیرہ کا استعمال کیا ہے وہ میرے لئے وہ نقشِ اول ہے جس پر پائوں رکھ کر میں چلنے کی کوشش کر رہا
ہوں مگر زبان کی زنجیر کے کچھ حلقے ایسے ہیں جو نہیں نکالے جا سکتے، ادب کا ابتدائی طالب علم بھی ان چیز وں
کا خاص خیال رکھتا ہے مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ فیض نے زبان کی لگام پر بہت بے احتیاطی سے ہاتھ
دھرا ہے بد لگامی کی حد تک۔ یہ شعر ملاحظہ ہو۔

کبھی منزل کبھی رستے نے ہمیں ساتھ دیا

ہر قدم الجھے رہے قافلہ سالا ر سے ہم

ہمیں ساتھ دیا، بھلا کیا بات ہوئی کہنا تو یہ مقصود تھا کہ ہمارا ساتھ دیا مگر مسئلہ وزن کا تھا اور فیض پھر
فیض تھے سو یہاں برملا” ہمیں“ لکھ دیامیں نے اس سلسلے میں ایک زبان دان سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ

 ”ساتھ دینا “کا چونکہ ایک مطلب ’مدد دینا‘ بھی ہے اس لئے فیض یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کبھی منزل کبھی
رستے نے ہمیں مدددی۔۔۔ میں نے بے ساختہ کہا۔۔۔ جی ہاں فیض بالکل یہی کہنا چاہ رہے ہیں مگر ”ہمیں
“ کا استعمال انہوں نے” ساتھ دینے“ کے ساتھ کیا ہے اُس کے مفہوم کے ساتھ نہیں۔ یہاں ذہن میں

 ایک مثال سی آگئی ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس نے ”ہماری“ دیدے نکال لئے ہیں “تو فوراً کہا جائے گا ”ہماری “
دیدے نہیں ”ہمارے“ دیدے کہوکیونکہ’دیدے‘ کا لفظ مونث نہیں مذکر ہے۔ اور جواباً اگر میں یہ کہہ دوں کہ چونکہ”

 دیدے “آنکھوں کوکہتے ہیں اور آنکھیں مونث ہیں اس لئے ’ہماری‘ درست ہے تو بتائیے میری اُردو زبان کے بارے
میں لوگ کیا رائے قائم کریں گے۔ ہاں البتہ فیض کی زبان پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور اس سے اگلے
شعر میں تو کمال ہی ہو گیاہے۔ فرماتے ہیں

فیض جب چا ہا، جو کچھ چا ہا سدا ما نگ لیا

ہا تھ پھیلا کے دل ِبے زرو دینا ر سے ہم

یہ ’ہم‘ کیساآگیا ؟ اُنہوں نے کہنا تو یوں تھا کہ ہم نے ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زرو دینا ر سے مانگ لیا مگر قلم زوری
بھی تو کوئی چیز ہے نا، سو قلم نے ”نے “ کوحذف کر دیا۔ کیا ہوا جوجملہ غلط ہوگیا یا ابلاغ نہیں ہوسکا۔ کیسا کیسا
وقت آجاتا ہے اللہ محفوظ رکھے۔ ذرا سی ردیف کے بھی چیونٹیوں کی طرح پر اُگ آئیں تو بیچارے فیض احمد
فیض کیا کریں۔ چلیں آگے چلتے ہیں زبان کڑوی سی ہوگئی ہے۔ کیاخود کلامی کی۔۔۔ ذرا زور سے کہو کہ اِس شعر

میں سے ’نے‘ کے لفظ کو شعری ضرورت کے ساتھ حذف کیا گیا ہے اور ایسا کرنا جائز ہے۔ اے مرے
ہمزاد!مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا ہرگز جائز نہیں۔ زبان میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ لفظ اور زبان
کی ساخت۔ لفظ بھی متروک ہوتے رہتے ہیں اور زبان کی ساخت میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس میں کوئی
شک نہیں کہ ”نے“ کا لفظ بطور ِ علامتِ فاعل بعد میں استعمال ہوااور اکثر زبانوں میں علامتِ
فاعل ہوتی ہی نہیں جیسے پنجابی، سرائیکی، فارسی اور انگریزی وغیرہ میں نہیں ہے۔ عربی زبان میں
علامتِ فاعل موجود ہے اور یہ کہ کوئی اور عامل نہ ہو تو فاعل کے آخری حرف پر پیش آتا ہے۔ اردو
میں ایک مخصوص دور میں علامتِ فاعل ”نے“ کا استعمال ہونے لگا مگر یہ بھی مخصوص حالات میں
مثلاً یہ فعل لازم پر نہیں فعل متعدی پرآتا ہے۔۔۔ پر وہ بھی یوں کہ فعل حال اور فعل مستقبل میں نہیں آتا
صرف فعل ماضی کی تمام صورتوں میں آتا ہے دیکھئے ”جانا “فعل لازم ہے اسے ماضی بنائیں تو کہیں گے وہ گیا۔
وہ گیا ہے۔ وہ گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ”کھانا “فعل متعدی ہے تو اس میں فعل حال اور فعل
مستقبل میں ”نے“ کی علامتِ فاعل نہیں آئے گی ہم کہیں گے وہ کھائے گا وہ کھاتاہے لیکن جب اسے
ماضی میں لے جائیں گے تو تمام صیغوں کے ساتھ اورتمام صورتوں میں ”نے“ کی علامت ِفاعل ضرور
آئے گی۔ جیسے اس نے کھایا۔۔۔ میں نے کھایاہے۔۔۔ تم نے کھایا تھا۔۔۔ ہم نے کھایا ہو گا۔ یہ گرائمر ہے
اور اس کا تعلق زبان کی ساخت سے ہے۔ متروک الفاظ تو کبھی شاعر نمائشی طور پر استعمال کر دیتے ہیں جیسے”
کرے ہے “ ”کھائے ہے “ وغیرہ مگر متروک ساخت کو استعمال کرنا ناجائز ہے ضرورت شعری
کیلئے بھی نہیں۔ اول تو ضرورتِ شعری بھی کمزور شاعروں کا ایک احمقانہ عذر ہے۔ آخر شاعرپر ایسی کیا
مصیبت پڑی ہے کہ اسے غلط لفظ اور غلط ساخت سے ضرور کام لینا پڑ گیا ہے۔ اگر وہ شعر نہ لکھا گیاتو آخر کیا کمی رہ
جائے گی۔ فیض کے اسی شعر کو لے لیجئے مقطع یا پانچواں شعر کہنا اگر ناگزیر تھاتو بہت سے قافیے پڑے تھے۔ ایک
اور شعر کہنا بھی کوئی مشکل نہ تھا۔ اگر یہی شعر ہی کہنا ضروری تھا اور اسی شعر کو انہی الفاظ میں ادا کرنے کی کوئی
مجبوری تھی تو شعر یوں بھی کہا جا سکتا تھا

فیض جب چاہیں تو پھر مانگ لیا کرتے ہیں

ہاتھ پھیلاکے دلِ بے زرو دینار سے ہم

جب بچے اردو زبان سیکھنے لگتے ہیں تو انہیں بتا یا جاتا ہے کہ ” تو “ تم “ اور” آپ“ میں کیا فرق ہے اور ان الفاظ
کے ساتھ فعل کس طرح آتا ہے۔ بچوں کویہ سبق عمر بھر کیلئے ازبر ہوجاتا ہے ’تو جا، تم جاﺅ اور

 آپ جائیں ‘۔ پھر وہ بات کرتے ہوئے کہنے لگتے ہیں ” تو بات کر “ ” تم بات کر و “ ”آپ بات کر یں “
 
اور انہیں کوئی کبھی یہ کہتے نہیں سُنتا” تو بات کر یں۔ تم بات کر۔ آپ بات کر و “۔ مگر فیض تو بچے نہیں تھے وہ تو
بی بی سی کے مائیک کے سامنے بیٹھ کر کہہ سکتے تھے۔

خیر ہیں اہل دیر جیسے ہیں

آپ اہل حرم کی بات کر و

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اہل زبان جن کی زبان پنچابی کے اثرات سے ذرا ’کلر فل‘ ہوگئی ہے انہوں نے ”آپ کرو“ بولنا
شروع کر دیا ہو۔ فیض کی مشہور ترین نظم’ موضوع سخن‘ کا ایک مصرعہ ہے

”یہ ہر اک گام پہ اُ ن خوابوں کی مقتل گا ہیں“

’مقتل‘ کے معنی قتل گاہ کے ہیں۔۔۔ اس کے آگے ”گاہیں“ لگانا فیض جیسے عربی زبان کے پروفیسر نے شاید کچھ سوچ
کر ہی کیا ہو مگر میں توعربی زبان کا پروفیسر نہیں ہوں مجھے یہ زبان اختیار کرنے میں خاصی جھِجھک ہے ابھی۔ ایسے
ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ میں تمہیں سیٹر ڈے والے دن ملنے آئوں گا۔ مجھ سے خود ہی غلطی ہوگئی ہے
سیٹر ڈے تو انگریزی زبان کا لفظ ہے چلئے اپنی بات اِس انداز میں کرتا ہوں کہ یہ وہی بات ہے جیسے کوئی ”ما ہ رمضان کا
مہینہ “ یا ” شبِ برات کی رات “ کہہ بیٹھتا ہے۔ یہاں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ فیض دانوں نے صرف
اِس لئے اپنی سانس دبائے رکھی اورکبھی جنبشِ ابرو سے بھی کام نہ لیا کہ فیض کی بات پر حرف گیری سے
کہیں کفر نہ سرزد ہوجائے۔ پھر ہمزاد کچھ بولا ذرا اس کی بھی سن لیں۔ ممکن ہے مقتل‘ مصدرِمیمی کی
حیثیت سے عربی زبان میں قتل کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہو اس لئے فیض نے درست سمجھا ہو۔ نہیں
ہمزاد بھائی بالکل نہیں۔ اول تو یہ کہ اُردو اور عربی دو مختلف زبانیں ہیں۔ عربی زبان کے الفاظ اگر اُسی مفہوم کے
ساتھ اردو میں استعمال ہونے شروع ہوجائیں تو اردو شاعری کی شکل ہی مسخ ہو کر رہ جائے گی۔ مثال کے
طور پر عربی زبان کا ایک لفظ ہے ”رقیب “ جس کے معنی نگران، نگہبان اور محافظ کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی
نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے مگر اردو میں اس کا مطلب کچھ اورہے۔ اگر اِس لفظ کا عربی زبان والا مفہوم اردو
زبان میں روا رکھا جائے تو ”رقیب روسیاہ “کہنے والے شاعر پر کفر کافتویٰ صادر کرنا پڑے گا۔ دوئم یہ کہ
جہاں تک مصدرِ میمی کی بات ہے تو عربی زبان سے معمولی شُد بُد رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ ہر میم سے
شروع ہونے والا اور مَفعَل یا مفعِل کے وزن پر آنے والا لفظ مصدرِمیمی نہیں ہوتا” اسم ظرف مکان“ ہوتا ہے یا”
اسم ظرف زمان “ہوتا ہے۔ ’مقتل‘اگر مصدر میمی ہے تو پھراِس کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہئے اور ہاں اگر’

مقتل گاہ‘ کی ترکیب فیض کے علاوہ کسی اور کے ہاں مل جائے تو اسکی اطلاع۔۔۔ اے مرے ہمزادمجھ سے
پہلے تم تک نہیں پہنچ سکتی ہے۔ ” اے روشنیوں کے شہر “ فیض کی ایک بہت اچھی نظم ہے مگر افسوس ہے
کہ اس میں بھی انہوں نے تو اور تم کے ساتھ قلم درازی کا ایکشن ری پلے کردیاہے۔ ارشاد فرماتے ہیں۔

ﺅخیر وطن کی لیلاووں کی ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیئے جلا ئیں اونچی رکھیں لو


شہر کو” تُو“ سے مخاطب کیا ہے اور ”تیری لیلا “ کہا ہے اِس لئے یوں آنا چاہیئے تھا ” خیر ہو
تیری لیلاوں کی ان سب سے کہہ دے “ فیض صاحب نے قافیہ کی دھن میں اس جائز و ناجائز
میں تمیز برقرار نہیں رکھی۔ اسی چیز کو شتر گر بہ “ بھی کہا جاتا ہے، شتر اونٹ کو کہتے ہیں اور گربہ بلی کو۔
بلی اور اونٹ کا یہ ملاپ فیض کے ہاں بہت ملتا ہے۔ انکی ایک نظم ہے ” کیا کریں “ اس میں کہا ہے”
میری تری نگاہ میں۔۔۔ جو لا کھ انتظار ہیں۔۔۔ جو میرے تیرے تن بد ن میں۔۔۔ لا کھ دل فگار ہیں “ اور پھر
آگے چل کر کہتے ہیں۔ ” یہ ہے بھی یا نہیں بتا۔۔۔ یہ ہے کہ محض جال ہے۔۔۔ مرے تمہارے عنکبوت وہم کا
بنا ہوا “ یہ ایک ہی نظم میں ’تیرے‘ سے ’تمہارے‘، تک اچانک پہنچ جانا ’شتر گر بگی‘ کی نہایت بھو نڈی
سی مثال ہے۔ یعنی گربہ کی خواہش میں شتر بے مہار ہو گیا ہے۔۔۔ فیض صاحب کی ایک نظم ہے” دو
عشق “ بلا شبہ یہ نظم انکی خوبصورت نظموں میں سے ایک ہے لیکن اس کے پہلے حصہ کے اس قطعہ
میں قافیوں کی تلاش سے نظم کامفہوم شرمندہ شرمندہ لگ رہا ہے

امید کہ لو جا گا غم دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہوگئی آخر

لو ڈوب گئے درد کے بیخواب ستارے

اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس میں مقدر کے ساتھ آخر کا قافیہ آیا ہے۔ فیض صاحب انگریزی کے بھی ایم اے تھے اور عربی کے بھی ایم
اے تھے۔ عربی میں ایم اے کرنے والے صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ عربی میں آخر کے معنی ہیں
ختم، اختتام، وغیرہ او رآخر “ (خ کی زبر کے ساتھ )کے معنی ہیں” دوسرا “یہاں مقدر کے ساتھ آخر (خ کی زبر
والا) ہی پڑھا جائیگا۔ اس صورت میں معنی ہونگے لو شوق کی ترسی ہوئی شب دوسری ہوگئی جب کہ وہ کہنا چاہتے ہیں
شب ختم ہوگئی یعنی آخر (خ کی زیر کے ساتھ) ہوگئی اب یا مقدر کو زیر کے ساتھ پڑھیں یا آخر کو زبر کے ساتھ
پڑھیں یہ دونوں صورتوں میں غلط ہے۔ ٹھہرئیے پھر مرا ہمزاد کچھ بولا ہے ” غالب جیسے شاعر نے بھی ایک
مصرع میں شعری ضرورت کیلئے لفظ ’کافِر‘ کو’ کافَر‘ بنا دیا جو بالکل مہمل لفظ ہے “۔ نہیں بھیا!یہاں بھی
معاملہ کچھ یوں ہے کہ غالب سے پہلے بھی کافِراور کافَر دونوں لفظ ایک ہی مفہوم میں رائِج تھے۔ غنیمت کنجاہی نے غالب
سے بہت پہلے کہا تھا

دلبرے جاں پرورے عشوہ گرے رہزن ِایمان و تمکیں کافرے

حقیقت یہ ہے کہ اہل علم و دانش نے ہمیشہ سے اُن الفاظ کے دو تلفظ درست تسلیم کئے ہیں جن کا ایک مفہوم ہو۔ مثال
کے طور پرایک لفظ’راہ بُر‘ ہے اس کے معنی راہ پر لے جانے والا ہی’ بردن‘ مصدر سے ’بُر‘ فعل امر ہے۔ فارسی

گرائمر کا قاعدہ ہے کہ ایک اسم اور ایک فعل امر مل جائیں تو اسم فاعل قیاسی بن جاتا ہے۔ ’راہ‘
 
اسم ہے اور’ بُر‘ فعل امر یعنی ’راہ بُر‘اسم فاعل قیاسی مگر مدتِ مدید اور عرصہ بعیدسے اِسی’راہ بَر‘
پڑھتے اور باندھتے چلے آرہے ہیں۔ کوئی معترض نہیں ہوا کیونکہ راہ بُر کو راہ بَر پڑھنے سے کوئی الگ معنی نہیں بنتا۔ جہاں ایسا
کرنا ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے وہ وہی مقام ہے جہاں فیض آکرزیر و زبر ہوگئے ہیں، چھوڑئیے !یہاں کیا زیر و زبر
ہونا، چلئے پہلو بدلتے ہیں ابھی آگے بہت رنگ بھرنا ہے۔ اسی نظم میں ایک اور شعرہے گرجے ہیں بہت
شیخ سرِ گوشہ ئِ منبر

کڑکے ہیں بہت اہل حکم برسر دربار

دربارکے ساتھ اہل حکم گواہی دے رہا ہے کہ یہاں اہل حکم سے حاکم لوگ مراد ہیں اور فیض صاحب نے اسی
مفہوم میں شعر کہا لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ اس طرح وزن تبھی قائم رہتا ہیجب حُکم پڑھا جا ئے (یعنی ک کی زبر کے ساتھ )

بے احتیا طی میں حکم باندھ دیا گیا تھا۔۔۔ کتاب کے مرتیبن نے یہ دانشور ی کی کہ حکم کو حِکم کر_کر دیا (یعنی اعراب لگا دئیے )

یہ ک متحرک والا حکم کی جمع حکمت ہے۔ اس طرح اہل حکم سے مراد دانشور ہوگئے۔ وزن بھی ٹھیک ہوگیا
مگر قاری پر یہ مصیبت ڈال دی گئی کہ وہ سو چتا رہے ایسے دانشور کہاں ہوتے ہیں جو بر

سر دربار کڑکتے اور دھاڑتے ہیں۔ دربار میں تو حاکم (اہل حُکَم)

ہی دھا ڑ اکرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ مصرعہ فیض نے اپنے متعلق کہا ہو۔ وہ بھی صدر کے مشیر ہوا کرتے تھے جب
ان پر طنز کرتے ہوئے حبیب جالب نے کہا تھا پہلے بھی فیض صدر کا ادنیٰ مشیرتھا۔۔۔ پہنچی وہی پہ
خاک جہاں کا خمیر تھا مگر میں کون ہوتا ہوں حکم لگانے والا، میں توعمر میں چھوٹا ہونے کی وجہ
سے ہمیشہ حکم اٹھانے کا سزاوار رہا ہوں۔۔۔ ہاں لیکن اتنا بھی حکم بردار نہیں سوپنجوں پہ کھڑا ہو کرفیض کی
ایک اورحکمت پر حکم انداز ہونے کی کوشش کرتا ہوں اگر چلتے چلتے گراپڑا تو مذاق مت اڑائیے گا، ۔ سچ پوچھئے تو جن نقائص
کی میں نے نشاندہی کی ہے یہ اور اس قسم کے اور نقائص فیض کے کلام میں موجود ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ایسے
نقائص ہیں جو کسی مبتدی مگر معقول شاعر کے کلام میں بھی ہمیں نہیں ملتے۔

زبان کی زنجیر

اب آتے ہیں کوثروتسنیم سے دھلی ہوئی زبان میں بیان کی غلطیوں کی طرف۔ میں ذاتی طور پر زبان کی صحت
کے حوالے سے بہت آزاد خیال واقع ہوا ہوں جس وجہ سے اہل زبان احباب میں ہمیشہ غیر پسندیدہ
شخص کی حیثیت سے دیکھا گیا ہوں یقیناًجو اردو میں لکھتا ہوں اس کا دہلی اور لکھنو سے کوئی علاقہ نہیں میں نے
ہمیشہ زبان کی اس زنجیر کو توڑا ہے جو اس کی حدوں کو محدود کرتی ہے، فیض نے بھی جو زبان کے تجربے کئے
ہیں میں ان کا معترف ہوں مثال کے طور پراپنی نظم ”انتساب“ میں انہوں نے جو ”پوسٹ مینوں، ریل

بانوں “ وغیرہ کا استعمال کیا ہے وہ میرے لئے وہ نقشِ اول ہے جس پر پائوں رکھ کر میں چلنے کی کوشش کر رہا
ہوں مگر زبان کی زنجیر کے کچھ حلقے ایسے ہیں جو نہیں نکالے جا سکتے، ادب کا ابتدائی طالب علم بھی ان چیز وں
کا خاص خیال رکھتا ہے مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ فیض نے زبان کی لگام پر بہت بے احتیاطی سے ہاتھ
دھرا ہے بد لگامی کی حد تک۔ یہ شعر ملاحظہ ہو۔

کبھی منزل کبھی رستے نے ہمیں ساتھ دیا

ہر قدم الجھے رہے قافلہ سالا ر سے ہم ’

ہمیں ساتھ دیا‘ بھلا کیا بات ہوئی کہنا تو یہ مقصود تھا کہ ہمارا ساتھ دیا مگر مسئلہ وزن کا تھا اور فیض پھر
فیض تھے سو یہاں برملا” ہمیں “ لکھ دیامیں نے اس سلسلے میں ایک زبان دان سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ

ساتھ دینا “کا چونکہ ایک مطلب ’مدد دینا‘ بھی ہے اس لئے فیض یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کبھی منزل کبھی” 

رستے نے ہمیں مدددی۔۔۔ میں نے بے ساختہ کہا۔۔۔ جی ہاں فیض بالکل یہی کہنا چاہ رہے ہیں مگر ”ہمیں

 “ کا استعمال انہوں نے” ساتھ دینے“ کے ساتھ کیا ہے اُس کے مفہوم کے ساتھ نہیں۔ یہاں ذہن میں
ایک مثال سی آگئی ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس نے ”ہماری“ دیدے نکال لئے ہیں “تو فوراً کہا جائے گا ”ہماری“

دیدے نہیں ”ہمارے“ دیدے کہوکیونکہ’ دیدے‘ کالفظ مونث نہیں مذکر ہے۔ اور جواباً اگر میں یہ کہہ دوں کہ چونکہ”

دیدے “آنکھوں کوکہتے ہیں اور آنکھیں مونث ہیں اس لئے ’ہماری‘ درست ہے تو بتائیے میری اُردو زبان کے بارے

میں لوگ کیا رائے قائم کریں گے۔ ہاں البتہ فیض کی زبان پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور اس سے اگلے
شعر میں تو کمال ہی ہو گیاہے۔ فرماتے ہیں

فیض جب چا ہا، جو کچھ چا ہا سدا ما نگ لیا

ہا تھ پھیلا کے دل ِبے زرو دینا ر سے ہم

یہ ’ہم‘ کیساآگیا ؟ اُنہوں نے کہنا تو یوں تھا کہ ہم نے ہاتھ پھیلا کے دلِ بے زرو دینا ر سے مانگ لیا مگر قلم زوری
بھی تو کوئی چیز ہے نا، سو قلم نے ”نے “ کوحذف کر دیا۔ کیا ہوا جوجملہ غلط ہوگیا یا ابلاغ نہیں ہوسکا۔ کیسا کیسا
وقت آجاتا ہے اللہ محفوظ رکھے۔ ذرا سی ردیف کے بھی چیونٹیوں کی طرح پر اُگ آئیں تو بیچارے فیض احمد
فیض کیا کریں۔ چلیں آگے چلتے ہیں زبان کڑوی سی ہوگئی ہے۔ کیاخود کلامی کی۔۔۔ ذرا زور سے کہو کہ اِس شعر
میں سے ’نے‘ کے لفظ کو شعری ضرورت کے ساتھ حذف کیا گیا ہے اور ایسا کرنا جائز ہے۔ اے مرے
ہمزاد!مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا ہرگز جائز نہیں۔ زبان میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ لفظ اور زبان
کی ساخت۔ لفظ بھی متروک ہوتے رہتے ہیں اور زبان کی ساخت میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس میں کوئی
شک نہیں کہ ”نے“ کا لفظ بطور ِ علامتِ فاعل بعد میں استعمال ہوااور اکثر زبانوں میں علامتِ
فاعل ہوتی ہی نہیں جیسے پنجابی، سرائیکی، فارسی اور انگریزی وغیرہ میں نہیں ہے۔ عربی زبان میں
علامتِ فاعل موجود ہے اور یہ کہ کوئی اور عامل نہ ہو تو فاعل کے آخری حرف پر پیش آتا ہے۔ اردو
میں ایک مخصوص دور میں علامتِ فاعل ”نے“ کا استعمال ہونے لگا مگر یہ بھی مخصوص حالات میں
مثلاً یہ فعل لازم پر نہیں فعل متعدی پرآتا ہے۔۔۔ پر وہ بھی یوں کہ فعل حال اور فعل مستقبل میں نہیں آتا
صرف فعل ماضی کی تمام صورتوں میں آتا ہے دیکھئے ”جانا “فعل لازم ہے اسے ماضی بنائیں تو کہیں گے وہ گیا۔
وہ گیا ہے۔ وہ گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ”کھانا “فعل متعدی ہے تو اس میں فعل حال اور فعل
مستقبل میں ”نے“ کی علامتِ فاعل نہیں آئے گی ہم کہیں گے وہ کھائے گا وہ کھاتاہے لیکن جب اسے
ماضی میں لے جائیں گے تو تمام صیغوں کے ساتھ اورتمام صورتوں میں ”نے“ کی علامت ِفاعل ضرور
آئے گی۔ جیسے اس نے کھایا۔۔۔ میں نے کھایاہے۔۔۔ تم نے کھایا تھا۔۔۔ ہم نے کھایا ہو گا۔ یہ گرائمر ہے
اور اس کا تعلق زبان کی ساخت سے ہے۔ متروک الفاظ تو کبھی شاعر نمائشی طور پر استعمال کر دیتے ہیں جیسے”
کرے ہے “ ”کھائے ہے “ وغیرہ مگر متروک ساخت کو استعمال کرنا ناجائز ہے ضرورت شعری
کیلئے بھی نہیں۔ اول تو ضرورتِ شعری بھی کمزور شاعروں کا ایک احمقانہ عذر ہے۔ آخر شاعرپر ایسی کیا
مصیبت پڑی ہے کہ اسے غلط لفظ اور غلط ساخت سے ضرور کام لینا پڑ گیا ہے۔ اگر وہ شعر نہ لکھا گیاتو آخر کیا کمی رہ
جائے گی۔ فیض کے اسی شعر کو لے لیجئے مقطع یا پانچواں شعر کہنا اگر ناگزیر تھاتو بہت سے قافیے پڑے تھے۔ ایک
اور شعر کہنا بھی کوئی مشکل نہ تھا۔ اگر یہی شعر ہی کہنا ضروری تھا اور اسی شعر کو انہی الفاظ میں ادا کرنے کی کوئی
مجبوری تھی تو شعر یوں بھی کہا جا سکتا تھا

فیض جب چاہیں تو پھر مانگ لیا کرتے ہیں

ہاتھ پھیلاکے دلِ بے زرو دینار سے ہم

جب بچے اردو زبان سیکھنے لگتے ہیں تو انہیں بتا یا جاتا ہے کہ ” تو “ تم “ اور” آپ“ میں کیا فرق ہے اور ان الفاظ
کے ساتھ فعل کس طرح آتا ہے۔ بچوں کویہ سبق عمر بھر کیلئے ازبر ہوجاتا ہے ’تو جا، تم جاﺅ اور
آپ جائیں ‘۔ پھر وہ بات کرتے ہوئے کہنے لگتے ہیں ” تو بات کر “ ” تم بات کر و “ ”آپ بات کر یں“
اور انہیں کوئی کبھی یہ کہتے نہیں سُنتا” تو بات کر یں۔ تم بات کر۔ آپ بات کر و “۔ مگر فیض تو بچے نہیں تھے وہ تو
بی بی سی کے مائیک کے سامنے بیٹھ کر کہہ سکتے تھے۔

خیر ہیں اہل دیر جیسے ہیں

آپ اہل حرم کی بات کر و

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اہل زبان جن کی زبان پنچابی کے اثرات سے ذرا ’کلر فل‘ ہوگئی ہے انہوں نے ”آپ کرو“ بولنا
شروع کر دیا ہو۔ فیض کی مشہور ترین نظم’ موضوع سخن‘ کا ایک مصرعہ ہے

” یہ ہر اک گام پہ اُ ن خوابوں کی مقتل گا ہیں “’

مقتل‘ کے معنی قتل گاہ کے ہیں۔۔۔ اس کے آگے ”گاہیں “لگانا فیض جیسے عربی زبان کے پروفیسر نے شاید کچھ سوچ کر
ہی کیا ہو مگر میں توعربی زبان کا پروفیسر نہیں ہوں مجھے یہ زبان اختیار کرنے میں خاصی جھِجھک ہے ابھی۔ ایسے ہی
محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ میں تمہیں سیٹر ڈے والے دن ملنے آئوں گا۔ مجھ سے خود ہی غلطی ہوگئی ہے سیٹر
ڈے تو انگریزی زبان کا لفظ ہے چلئے اپنی بات اِس انداز میں کرتا ہوں کہ یہ وہی بات ہے جیسے کوئی ”ما ہ رمضان کا
مہینہ “ یا ” شبِ برات کی رات “ کہہ بیٹھتا ہے۔ یہاں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ فیض دانوں نے صرف
اِس لئے اپنی سانس دبائے رکھی اورکبھی جنبشِ ابرو سے بھی کام نہ لیا کہ فیض کی بات پر حرف گیری سے
کہیں کفر نہ سرزد ہوجائے۔ پھر ہمزاد کچھ بولا ذرا اس کی بھی سن لیں۔ ممکن ہے مقتل‘ مصدرِمیمی کی
حیثیت سے عربی زبان میں قتل کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہو اس لئے فیض نے درست سمجھا ہو۔ نہیں
ہمزاد بھائی بالکل نہیں۔ اول تو یہ کہ اُردو اور عربی دو مختلف زبانیں ہیں۔ عربی زبان کے الفاظ اگر اُسی مفہوم کے
ساتھ اردو میں استعمال ہونے شروع ہوجائیں تو اردو شاعری کی شکل ہی مسخ ہو کر رہ جائے گی۔ مثال کے
طور پر عربی زبان کا ایک لفظ ہے ”رقیب “ جس کے معنی نگران، نگہبان اور محافظ کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی
نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے مگر اردو میں اس کا مطلب کچھ اورہے۔ اگر اِس لفظ کا عربی زبان والا مفہوم اردو
زبان میں روا رکھا جائے تو ”رقیب روسیاہ “کہنے والے شاعر پر کفر کافتویٰ صادر کرنا پڑے گا۔ دوئم یہ کہ
جہاں تک مصدرِ میمی کی بات ہے تو عربی زبان سے معمولی شُد بُد رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ ہر میم سے
شروع ہونے والا اور مَفعَل یا مفعِل کے وزن پر آنے والا لفظ مصدرِمیمی نہیں ہوتا” اسم ظرف مکان“ ہوتا ہے یا”
اسم ظرف زمان “ہوتا ہے۔ ’مقتل‘اگر مصدر میمی ہے تو پھراِس کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہئے اور ہاں اگر


مقتل گاہ‘ کی ترکیب فیض کے علاوہ کسی اور کے ہاں مل جائے تو اسکی اطلاع۔۔۔ اے مرے ہمزادمجھ سے
پہلے تم تک نہیں پہنچ سکتی ہے۔ ” اے روشنیوں کے شہر “ فیض کی ایک بہت اچھی نظم ہے مگر افسوس ہے
کہ اس میں بھی انہوں نے تو اور تم کے ساتھ قلم درازی کا ایکشن ری پلے کردیاہے۔ ارشاد فرماتے ہیں۔

ﺅخیر وطن کی لیلاووں کی ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیئے جلا ئیں اونچی رکھیں لو

شہر کو” تُو“ سے مخاطب کیا ہے اور ”تیری لیلا “ کہا ہے اِس لئے یوں آنا چاہیئے تھا ” خیر ہو
تیری لیلاوں کی ان سب سے کہہ دے “ فیض صاحب نے قافیہ کی دھن میں اس جائز و ناجائز
میں تمیز برقرار نہیں رکھی۔ اسی چیز کو شتر گر بہ “ بھی کہا جاتا ہے، شتر اونٹ کو کہتے ہیں اور گربہ بلی کو۔
بلی اور اونٹ کا یہ ملاپ فیض کے ہاں بہت ملتا ہے۔ انکی ایک نظم ہے ” کیا کریں “ اس میں کہا ہے”
میری تری نگاہ میں۔۔۔ جو لا کھ انتظار ہیں۔۔۔ جو میرے تیرے تن بد ن میں۔۔۔ لا کھ دل فگار ہیں “ اور پھر
آگے چل کر کہتے ہیں۔ ” یہ ہے بھی یا نہیں بتا۔۔۔ یہ ہے کہ محض جال ہے۔۔۔ مرے تمہارے عنکبوت وہم کا
بنا ہوا “ یہ ایک ہی نظم میں ’تیرے‘ سے ’تمہارے‘، تک اچانک پہنچ جانا ’شتر گر بگی‘ کی نہایت بھو نڈی
سی مثال ہے۔ یعنی گربہ کی خواہش میں شتر بے مہار ہو گیا ہے۔۔۔ فیض صاحب کی ایک نظم ہے” دو
عشق “ بلا شبہ یہ نظم انکی خوبصورت نظموں میں سے ایک ہے لیکن اس کے پہلے حصہ کے اس قطعہ
میں قافیوں کی تلاش سے نظم کامفہوم شرمندہ شرمندہ لگ رہا ہے

امید کہ لو جا گا غم دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہوگئی آخر

لو ڈوب گئے درد کے بیخواب ستارے

اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس میں مقدر کے ساتھ آخر کا قافیہ آیا ہے۔ فیض صاحب انگریزی کے بھی ایم اے تھے اور عربی کے بھی ایم
اے تھے۔ عربی میں ایم اے کرنے والے صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ عربی میں آخر کے معنی ہیں
ختم، اختتام، وغیرہ او رآخر “ (خ کی زبر کے ساتھ )کے معنی ہیں” دوسرا “یہاں مقدر کے ساتھ آخر (خ کی زبر
والا) ہی پڑھا جائیگا۔ اس صورت میں معنی ہونگے لو شوق کی ترسی ہوئی شب دوسری ہوگئی جب کہ وہ کہنا چاہتے ہیں
شب ختم ہوگئی یعنی آخر (خ کی زیر کے ساتھ) ہوگئی اب یا مقدر کو زیر کے ساتھ پڑھیں یا آخر کو زبر کے ساتھ
پڑھیں یہ دونوں صورتوں میں غلط ہے۔ ٹھہرئیے پھر مرا ہمزاد کچھ بولا ہے ” غالب جیسے شاعر نے بھی ایک
مصرع میں شعری ضرورت کیلئے لفظ ’کافِر‘ کو’ کافَر‘ بنا دیا جو بالکل مہمل لفظ ہے “۔ نہیں بھیا!یہاں بھی
معاملہ کچھ یوں ہے کہ غالب سے پہلے بھی کافِراور کافَر دونوں لفظ ایک ہی مفہوم میں رائِج تھے۔ غنیمت کنجاہی نے غالب
سے بہت پہلے کہا تھا

دلبرے جاں پرورے عشوہ گرے رہزن ِایمان و تمکیں کافرے

حقیقت یہ ہے کہ اہل علم و دانش نے ہمیشہ سے اُن الفاظ کے دو تلفظ درست تسلیم کئے ہیں جن کا ایک مفہوم ہو۔ مثال
کے طور پرایک لفظ’راہ بُر‘ ہے اس کے معنی راہ پر لے جانے والا ہی’ بردن‘ مصدر سے ’بُر‘ فعل امر ہے۔ فارسی
گرائمر کا قاعدہ ہے کہ ایک اسم اور ایک فعل امر مل جائیں تو اسم فاعل قیاسی بن جاتا ہے۔ ’راہ‘
اسم ہے اور’ بُر‘ فعل امر یعنی ’راہ بُر‘اسم فاعل قیاسی مگر مدتِ مدید اور عرصہ بعیدسے اِسی’راہ بَر‘
پڑھتے اور باندھتے چلے آرہے ہیں۔ کوئی معترض نہیں ہوا کیونکہ راہ بُر کو راہ بَر پڑھنے سے کوئی الگ معنی نہیں بنتا۔ جہاں ایسا
کرنا ناقابل معافی سمجھا جاتا ہے وہ وہی مقام ہے جہاں فیض آکرزیر و زبر ہوگئے ہیں، چھوڑئیے !یہاں کیا زیر و زبر
ہونا، چلئے پہلو بدلتے ہیں ابھی آگے بہت رنگ بھرنا ہے۔ اسی نظم میں ایک اور شعرہے گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہ ئِ منبر

کڑکے ہیں بہت اہل حکم برسر دربار

دربارکے ساتھ اہل حکم گواہی دے رہا ہے کہ یہاں اہل حکم سے حاکم لوگ مراد ہیں اور فیض صاحب نے اسی
مفہوم میں شعر کہا لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ اس طرح وزن تبھی قائم رہتا ہیجب حُکم پڑھا جا ئے (یعنی ک کی زبر کے ساتھ )

بے احتیا طی میں حکم باندھ دیا گیا تھا۔۔۔ کتاب کے مرتیبن نے یہ دانشور ی کی کہ حکم کو حِکم کر_کر دیا (یعنی اعراب لگا دئیے )

یہ ک متحرک والا حکم کی جمع حکمت ہے۔ اس طرح اہل حکم سے مراد دانشور ہوگئے۔ وزن بھی ٹھیک ہوگیا مگر قاری پر یہ مصیبت ڈال دی گئی کہ وہ سو چتا رہے ایسے دانشور کہاں ہوتے ہیں جو بر

سر دربار کڑکتے اور دھاڑتے ہیں۔ دربار میں تو حاکم (اہل حُکَم)

ہی دھا ڑ اکرتے ہیں۔ ممکن ہے یہ مصرعہ فیض نے اپنے متعلق کہا ہو۔ وہ بھی صدر کے مشیر ہوا کرتے تھے جب
ان پر طنز کرتے ہوئے حبیب جالب نے کہا تھا پہلے بھی فیض صدر کا ادنیٰ مشیرتھا۔۔۔ پہنچی وہی پہ
خاک جہاں کا خمیر تھا مگر میں کون ہوتا ہوں حکم لگانے والا، میں توعمر میں چھوٹا ہونے کی وجہ
سے ہمیشہ حکم اٹھانے کا سزاوار رہا ہوں۔۔۔ ہاں لیکن اتنا بھی حکم بردار نہیں سوپنجوں پہ کھڑا ہو کرفیض کی
ایک اورحکمت پر حکم انداز ہونے کی کوشش کرتا ہوں اگر چلتے چلتے گراپڑا تو مذاق مت اڑائیے گا، ۔ سچ پوچھئے تو جن نقائص
کی میں نے نشاندہی کی ہے یہ اور اس قسم کے اور نقائص فیض کے کلام میں موجود ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ایسے
نقائص ہیں جو کسی مبتدی مگر معقول شاعر کے کلام میں بھی ہمیں نہیں ملتے۔