قزاقی کا طوق

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 

قزاقی کا طوق


فیض نے ایک اور دلچسپ کھیل یہ دکھایا ہے کہ وہ بڑے مزے سے اور بڑے وقار و دبدبے سے دوسرے
شعراءکے مصرعے بلکہ بعض اوقات دو دو شعر اپنی نظم میں ڈال لیتے ہیں اور واوین تک نہیں لگاتے جن سے
پتہ چلے کہ یہ کسی دوسرے شاعر کا مصرع یا شعر ہے جسے شاعر نے اپنے عجزو کوتاہی ءبیان کے باعث
جوں کا توں برت لیا ہے کہ وہ اپنا مافی الضمیراس خوبصورت انداز میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ جیسے
دوسرے شاعر نے کر دیا ہے ” واوین “ نہ لگانا یہ دعوٰی کرنا ہے کہ یہ شعرا سکے اپنے ہیں یہ سرقہ نہیں ڈاکہ ہے
ایسے نظائر بکثرت ان کے کلام میں مل جاتے ہیں۔ میں قزاقی کا طوق فیض کے گلے میں ڈالنے کی
کوشش نہیں کر رہا صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اگر ایسا کام فیض کے علاوہ کوئی کرتا تو اس کے خلاف
تھانے میں باقاعدہ مقدمہ درج کرایا جاسکتاتھا مثال کے طور پرانہوں نے اپنی نظم ”ہم تو مجبورِ وفا
ہیں“میں مرزامحمد رفیع سوداکے دو اشعارشامل کئے ہیں بغیر واوین کے۔ اور ایک دنیا یہی سمجھتی ہے کہ یہ اشعار فیض ہیں۔

بلا کشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا
جو مجھ پہ گزری مت اسکو کہو ہوا
سو ہوا مبادا ہو کوئی ظالم ترا گر یباں گیر
لہو کے داغ تو دامن سے دھو ہوا سو ہوا

فیض نے ایک غزل سودا کی زمیں میں کہی اس پر اتنا کرم کیا کہ اس کے اوپر لکھ دیا ”نذر سودا“ لیکن
اس میں ایک مصرعہ جو سوداسے لیا اس پر واوین ڈالنا بھول گئے، سودا کا مصرعہ ہے ”ذکرِمرغان
گرفتار کروں یا نہ کروں “۔۔۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دستِ صبا کے پہلے ایڈیشن میں اس مصرعے پر واوین موجود
تھیں جو بعد میں ہٹا دی گئیں” دل من مسافرمن“ فیض کی آخری ادوار کی نظموں میں سے ایک ہے اس
نظم میں کل انیس مصرعے ہیں جن میں سے نو مصر عے فیض کے اپنے ہیں اور باقی دس مصرعے
سرقہ/توارد کے زمرے میں آتے ہیں۔ نظم دیکھئے۔ ان کے اپنے مصرعے یہ ہیں۔

مرے دل مرے مسافر۔۔۔
ہوا پھر سے حکم صادر۔۔۔
کہ وطن بد رہوں ہم تم۔۔۔
دیں گلی گلی صدائیں۔۔۔
کریں رخ نگر نگر کا۔۔۔
کہ سراغ کوئی پائیں۔۔۔
کسی یا ر نامہ برکا۔۔۔
ہر اک اجنبی سے پوچھیں۔۔۔
جو پتہ تھا پنے گھر کا۔۔۔

اسکے بعد اگلے چار مصرعے وہ مصحفی کی غزل سے اڑا لیتے ہیں۔ مصحفی کی غزل کے مطلع کو توڑکر یہ چار
مصرعے لکھ دیئے گئے۔ ان میں ایک لفظ بھی فیض کا اپنا نہیں۔

سر کوئے نا شنا ساں۔۔۔ ہمیں دن سے رات کرنا۔۔۔
کبھی اس سے بات کرنا۔۔۔ کبھی اس سے بات کرنا۔۔۔
اس کے بعد اگلے مصرعے غالب سے چھین لیئے گئے ہیں۔۔۔
” تمہیں کہا کہوں کہ کیا ہے۔۔۔ غالب کا مصرع تھا ( کہوں کس سے میں کہ کیا ہے)۔۔۔
شبِ غم بری بلا ہے۔۔۔
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت۔۔۔ جوکوئی شمار ہوتا۔۔۔
ہمیں کیا برا تھا مرنا۔۔۔ اگر ایک بار ہوتا۔۔۔

فیض کی کتاب ” شہریا راں “ میں ایک نظم ہے ” سجاد ظہیر کے نام “فیض نے اس میں اپنے
مصرعوں سے مربوط کرکے ایک فارسی شعر لکھتے ہیں۔

بنا م ِ شاہد ناز ک خیالاں۔۔۔ بیا د ِ مستی چشمِ غزالاں

اس شعر کو اتنی چابکدستی سے اپنے اشعار میں ڈیزالوDesolve کرلیا گیا ہے کہ ہر قاری سمجھتا ہے کہ یہ
شعر بھی فیض کا ہے لیکن یہ شعر فارسی کے بہت بڑے شاعر غینمت کنجا ہی کا ہے۔ غالب اور مصحفی سے
شعر لیتے ہوئے فیض نے کم از کم اتنا کیا تھا کہ دو مصرعوں کو چار مصرعوں میں بدل دیا تھا مگر یہاں
یہ بھی نہیں کیا۔ یہ ”لوٹ “کا تصور ہماری معاشرت میں بہت گہرائی تک اترا ہواہے صرف اسی سے
اندازہ لگائیے کہ کٹی ہوئی تپنگ کوپکڑا نہیں لوٹا جاتا ہے اور اس کی واپسی کا کوئی تصور نہیں 1947میں تقسیم
ہندوستان کے وقت اتنا کچھ لوٹا گیا ہے کہ پرانے بزرگ ان دنوں کو یاد کریں تو کہتے ہیں ”لوٹی کے دنوں میں یہ ہوا
تھا“میرا خیال ہے یہ کرپشن کی آخری حد ہے۔ سوری! اس وقت صرف ادبی لوٹ مار کی بات کی جارہی
تھی۔ اس صورت حال سے ایک اور بات کھل کر سامنے آتی ہے فیض کوئی صاحب اسلوب شاعر
نہیں تھے اگر سودا، مصحفی اور غالب کے اشعار ان کے اشعار ہو سکتے ہیں تو پھر فیض کا اسلوب کہاں ہے یعنی
فیض کی شاعری مختلف شاعروں کے اسلوب کا ایک خوبصورت اجتماع ہے کہیں فیض کا رنگ غالب
جیسا ہے تو کہیں سودا جیسا، کہیں وہ مصحفی بن جاتے ہیں تو کہیں اقبال کا اسلوب اپنا لیتے، اقبال کے اسلوب کے حوالے سے فیض کا ایک مصرعہ دیکھئے

”جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں “۔۔۔

یہ مصرع دیکھ کر فوراً اقبال کا یہ مصرع ذہن میں انگڑ ائیاں لینے لگتا ہے۔

”غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیر یں نہ تدبیریں “۔۔۔

یعنی ہر واردات میں فیض کی انگلیوں کے نشانات موجود ہیں صرف عکس اٹھانے کی دیر ہے، اقبال کا ایک
اورمصرعہ بھی” نسخہ ہائے وفا “کے الہامات میں موجود ہے۔ شاید فرشتہ ءسروش کو یاد نہیں رہا
تھا کہ وہ پہلے یہ مصرعہ اقبال کیلئے بھی غیب سے لا چکا ہے

”خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں “۔۔۔

فیض نے اس میں اتنی سی ترمیم کی ہے کہ خداوندا کو اٹھا کر آخر میں لگادیا ہے

”یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں خداوندا۔۔۔ شیخ محمد ابراہیم ذوق کا مشہور شعر ہے۔ اب تو گھبرا کے یہ
کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مرکے بھی چین نہ پایا تو کد ھر جا ئیں گے فیض کہتے ہیں۔

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے

فیض نے بہر حال ذوق کے مصرعے میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں۔ ”اب تو “ کی جگہ ”لاکھ “ کا لفظ
لگایا، ”ہیں “ اور ”کہ “ کی جگہ ”رہیں “ لگانے کی زحمت فرمائی اتنی کے بعد کیسے ممکن تھا کہ فیض اس کے
اردگرد ”واوین “ ڈال دیتے۔ اسی طرح غالب کے ایک مصرعہ میں جہاں ”نشہ“ کا لفظ تھا وہاں ” مے “کا
لفظ لگا دیا اور مصرعے کی آخری ”ہے“حذف کردی، غالب کا مصر ع ہے ”نشہ باندازہئِ خمار نہیں ہے “۔ فیض
نے اسے کچھ یوں اپنا یا ہے۔۔۔ میَ باندازئِ خما رنہیں “۔ کہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ فیض نے تو صرف غالب
سے ”باندازہ خمار “ لیا ہے باقی ”نہیں “ تو ردیف کی وجہ سے آگیا ہے اور ”مے “کا لفظ مصرعے کی ضرورت
تھامگر ان ساری باتوں کے باوجود یہ سوال تو اپنی جگہ سلگ رہا ہے کہ اس مصرعے میں فیض کہاں
ہے۔ فیض نے غالب کی ایک اور زمین ”وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے تھے“پر ایک غزل کہی ہے، مجھے اس زمین
میں غزل کہنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر جب ہم کسی زمین غزل کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم
اس غزل کی بحر، قافیہ، اور ردیف کو اپنے تصرف میں لا رہے ہیں، یہ نہیں کہ اس کا خیال بھی اٹھا اور
مصرعہ کے باقی الفاظ بھی جیسا فیض نے کیا ہے۔ کہتے ہیں۔ کسی گماں پہ تو قع زیادہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح انہوں
نے مصحفی کی اس زمین میں کچھ لکھا۔۔۔ ”ہے ہر کسی سے گرمیء بازار دیکھنا“۔۔۔ تو ایک مصرعہ یوں کہہ

دیا ”ہم آگئے تو گرمی ءبازار دیکھنا“۔۔۔ یہ کسی کی زمین میں لکھنا نہیں ہل چلاناہوتا ہے، بالکل یہی کاروائی فیض نے
شیفتہ کے ساتھ بھی ہے شیفتہ نے کہا تھا”دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی “۔۔۔ فیض نے فرمادیا”ہے
میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی“۔۔۔ غالب کا شعر ہے ناکر دہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب یہ اگر
کر دہ گناہوں کی سزا ہے۔ فیض کا مصر ع ہے۔۔۔ ”وہ رنج جو ناکر دہ گناہوں کی سزا ہے۔ “ساغر صدیقی نے کسی
فٹ پاتھ سے آواز لگائی تھی آﺅ اک سجدہ کریں عالم ِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدایاد نہیں
فیض فرماتے ہیں آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی، ہم جنہیں رسم ِ دعا یاد نہیں ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا، کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں غالب کا شعر ہے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
بلاشبہ یہ خیال عام ہے حافظ شیراز ی نے کہا تھا
واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبرمی کنند
چوں بخلوت می روند ایں کا ردیگر می کنند

مگر غالب کے تیکھے انداز بیان اور تجاہل عارفانہ کی زیر لب تبسم کی ہلکی شوخی نے خیال کو بہت خوبصور ت
بنا دیا، فیض اسے غالب سے ہی لیتے ہیں مگر خیال کو اس طرح بلند نہیں کر سکتے کہتے ہیں۔ تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا

یہ آکے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے

فیض نے پہلی کتابوں میں اگر کسی مصرع میں کسی دوسرے شاعر کے کسی مصرع کا کوئی ٹکڑا بھی شامل
کیا ہے تو بڑے اہتمام سے واوین لگا کر اسکی نشاندہی کر دی گئی ہے مگر آخر میں آکر قلم بد لگام ہوگیا ہے۔ کچھ واوین فیض کے بعد ان کے چاہنے والوں نے بھی لگائے

پہلی مرتبہ جب ”برابر لگی ہوئی “ والی غزل شائع ہوئی تھی تو اس شعرپر واوین نہیں تھے

لائوتو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر ِ محضر لگی ہوئی

مگر بعدکی شائع شدہ کتابوں میں اس شعر پر واوین موجود ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بعد کی کتابوں میں
وزن کی یا زبان و بیان کی غلطیاں بھی اسی لئے آگئیں کہ فیض کو انکی مقبولیت نے اس زعم میں مبتلا کر دیا تھا

 کہ” مستند ہے میرا فرما یا ہوا “اور دوسروں کے مصرعے یا اشعار لے کر انکی نشاندہی نہ کر نے میں بھی کوئی
قباحت نہیں سمجھتے تھے۔۔۔