سرقہ کی سولی

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 

 سرقہ کی سولی

اکثر شعراءکے ہاں یہ بات پائی جاتی ہے کہ کسی شاعر کا کوئی خیال پسند آیا ہے تو اسے اپنا لیتے ہیں۔ اس
میں کوئی ایسی زیادہ قباحت نہیں سمجھی جاتی مگر کوشش یہ کی جاتی ہے کہ یا تو اس خیال کو بلند تر کیا
جائے۔ یا اسے اسطرح ادا کیا جائے کہ شعر ایک طرح سے طبعز اد معلوم ہو مطلب یہ کہ الفاظ کے در و
بست میں بہت زیادہ حسن وجمال آجائے۔ مثال کے طور پر شاعر وں نے اپنی نازک خیالی سے
سوچاکہ عام سے بیج سے خوبصورت اور متنوع پھول کس طرح پیدا ہوجاتے ہیں نظیر اکبر آبادی نے کہا
یہ غنچہ جو بے درد گل چیں نے توڑا
خدا جانے کس کا یہ نقش دہن تھا

غالب نے بھی یہی خیال لیا ہے مگر حسن و شوکتِ الفاظ کے ساتھ خیال کو تر فع اور وسعت عطا کی اور اسے اپنا نادر خیال بنا دیا۔ غالب کہتا ہے۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں

بہرحال خیال کا توار د کہیں یا حسن تقلید و تر فعِ فکر یہ چیز شعراءکے ہا ں پائی جاتی ہے۔ بڑے
شعراءکے یہاں کم اور عام شعراءکے ہاں زیادہ مگر ان شرائط کے ساتھ جو بیان کی گئی ہیں اگر وہ شرائط نہ
ہوں اور دوسرے کا خیال اپنا نے والاشاعر اسے اس طرح بیان کرے کہ نیا شعر پہلے شعر سے
کمتر ہوجائے تو اسے صاف صاف سر قہ کہا جاتا ہے فیض اس طرح تو سرقے کی سولی نہیں
لٹک رہے جس طرح کاآج کے نوجوان شاعروں سے وطیرہ اپنا رکھا ہے مگر فیض کے ہاں
غزلیات میں بالخصوص یہ چیزآگئی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ وہ خیال کو بلند نہیں کر سکے ہیں ایک مثال دیکھئیے میر تقی میرکہتے ہیں۔

ایسے ہم اسکی بزم سے اٹھے۔
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

فیض کہتے ہیں۔

اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر۔۔۔
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

حکیم مومن خان کا شعر ہے۔

تم ہمارے کسی طرح نہ ہو ئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

فیض کہتے ہیں۔

اک تری دید چھن گئی مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

دوسرا مصرع پورے کا پورا لے لیا گیا ہے صرف ایک لفظ ہوتا ہٹا کر ”باقی “ لگا دیا گیا ہے پہلے مصرع میں ایک
تو مو من کے وسیع خیال کو محدود کر دیا گیا دوسرے ” دید چھن گئی “ روز مرہ کے خلاف اور انتہائی کمزور
مصرع ہے۔ یہ کہا جا چکا ہے کہ دوسرے کا خیال اپنا لینا شاعری کا معمول ضرور ہے لیکن بعد میں آنے
والا شاعر کو شش کر تا ہے کہ خیال کو رفیع تر کرے یا الفاظ اور انداز بیان میں ندرت اور نیا پن لائے اسکی ایک آدھ مثال فیض کے ہاں بھی مل جاتی ہے غالب کا شعر ہے۔

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک میں اور گر یبان کے چاک میں

شاید عہد غالب میں دلی کے معاشرتی لباس وہ قمیض پہنی جا تی ہے جو عربی پہنتے ہیں اور ٹخنوں تک لمبی ہوتی ہے۔ اس وقت کی حالت میں آدمی دوڑتا ہوگا۔

اور پاؤں سے ملے ہوئے دامن پھٹ جاتے ہونگے دامن سے گر یبان تک بڑا فاصلہ ہو تا ہوگا اس لئے غالب نے
اسے انتہائے جنوں کہ دامن کے چاک اور گر بیان کے چاک کا درمیانی فاصلہ مٹا دیا جائے لیکن
فیض کے دور میں لمبائی میں بہت چھوٹی (آج کے مقابلہ میں بھی بہت چھوٹی ) قمیضیں پہنی جاتی
تھیں۔ ان میں تو دامن اور گر بیان کے درمیان بمشکل ایک بالشت کا فاصلہ ہوتا تھا اور دامن ذرا چاک
کیا جاتا تو گر بیان سے مل جاتا تھا یہ چیز فیض نے سوچی ہوگی وہ اپنی بات اگر اسی طرح کر دیتے جیسے
غالب نے کی تھی تو شعر مضحکہ بن جاتا اس لئے انہوں نے سو چا اور پھر یہ شعر کہا۔

جو ش و حشت ہے تشنہ کا م ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے

یقینا چاک دام کو تا جگر کرنے کے الفاظ سے خیال میں رفعت آگئی ہے اور فیض کا شعر غالب کے شعر
سے بلند ہوگیا ہے ہم ایسی صورت میں دوسرے شاعر کا خیال اپنا لینے کو جائز اور کسی حد تک مستحسن
سمجھتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ایسی مثالیں فیض کے ہاں بہت کم ملتی ہے۔