نظم کی قربان گاہ

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 

نظم کی قربان گاہ

 

ترقی پسند اد ب میں فیض کے پیش کردہ بہت خیال پہلے سے موجود تھے اور فیض کی نظم ’’یہ داغ داغ
اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘ڈنمارک کے معروف ترقی پسند شاعراوفی ہارڈر کی لائن ’’میٹھے خواب اوردوپہر کا
اندھیرا‘‘کی یاد دلاتی ہے۔۔۔ سیاہ روشنی، کالا سورج یا اندھیروں سے بھری ہوئی صبح کے استعارے فرانسیسی
شاعری میں بہت زیادہ ملتے ہیں یہ تصور پہلی بار بائیبل کی Book of Revelation میں
Apoclypseکی نمائندگی کرتے ہوئے نظرآتا ہے، فرانسیسی شاعرNervalکے 1853میں لکھے گئے ایک
سانیٹ EL DESDICHADOمیں پژمردگی کے کالے سورج کی علامت بہت مشہورہوئی۔

’’گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں‘‘ پڑھ کرفیض کا ہم عصرنارویجن شاعر لارش سوبیئے کرسٹن سن یاد
آجاتا ہے جس نے کہا تھا ’’دریچوں نے صلیبیں ہی صلیبیں تان رکھی ہیں۔ دریچے میں صلیبوں کو دیکھتے ہوئے جی
کے چسٹرٹن بھی ذہن میں لہرا جاتا ہے جس نے کہا تھا

میرے باغ میں گاڑی ہوئی سولی
بہت ہی صاف ستھری اور نئی ہے

فیض احمد فیض کی مشہور ترین نظموں میں ایک نظم ’’رقیب سے ‘‘ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ
رقیب ‘‘ جسے شاعری میں ہمیشہ دشمن سمجھا جاتا ہے فیض نے اسے گلے لگا کر بالکل نیا مضمون پیدا’’
کیا ہے۔ جہاں تک اردو شاعری کا تعلق ہے تو یہ بات بہت حد تک درست ہے لیکن شاعری میں یہ
قطعاً کوئی نیا خیال نہیں تھا، صو فیا کے ہاں یہ تصور ہمیشہ موجود رہا ہے کہ عشق خدا وندی میں یہ حیران کن کر شمہ ہے کہ اس راہ

پر چلنے والوں کا محبوب چونکہ ایک ہوتا ہے اسلیئے عام تصور کے مطابق وہ ایک دوسرے کے ’’ رقیب ‘‘ توہوتے
ہیں مگر آپس میں بلا کی محبت کر تے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے سینئر رقیب کے یعنی کسی ولی االلہ کے مرید ہوجاتے ہیں۔
شیخ فخر الدین عراقی کہتے ہیں۔

عجب عشقے کہ درراہ طریقت رقیبت شد عزیز ہمچو رفیقت

(عجیب عشق ہے کہ طریقت کے رستے میں تیرے رقیب بھی تجھے تیرے رفیق کی طرح عزیز

ہوگئے )۔ یہ اور اس قسم کے بیسیوں اقوال نظم و نثر میں صو فیا سے منقول ہیں۔

مومن نے بھی کہا تھا
میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

سترہویں صدی عیسوی کی انگلش شاعری میں بھیmetaphysical پہلودر آیا تھا۔ فلسفیانہ تخلیقات
نہایت صوفیانہ رنگ لئے ہوئے تھیں۔ قیامت، موت، زندگی، دن، رات اور محبت جیسے مضامین ما بعد
الطبیعات میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اِسی دور کے ایک معروف شاعر Sir John Suckling کی نظم My

 dearest Rival, منظرِ عام پر آئی۔ اِس نظم میں سر جان سکلِنگ اپنے رقیب سے مخاطب ہوکر
اُسے غمِ الفت کے مشترکہ معاملات سمجھاتے ہوئے اپنی محبت کا رُخ جاودانیت کی طرف موڑنے کی
بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے رقیب سے اپنے محبوب کے حسن و جمال کی مدح میں اپنے محبوب کی
ساحرانہ آنکھیں، ہونٹ، ہاتھ، تصور اور کشِش کی یاد دلائی ہے بالکل اُسی طرح جیسے فیض نے اپنے رقیب سے مخاطب ہوکر کہا ہے

تونے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جِن کے تصور میں لُٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحرآنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

یہ اور بات ہے کہ جان سکلِنگ کی نظم موضوع کے اعتبار سے نہایت مرکوز ہے انہوں نے گریز کرتے ہوئے اپنی
محبت کو دوام دینے کی سعی فرمائی ہے جب کہ فیض نے گریز سے کام لیتے ہوئے اپنی محبت کوغریبوں کی حمایت کی
طرف مبذول کیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ سکلِنگ کی نظم اورفیض کی نظم میں عنوان
سمیت بنیادی خیال ایک ہے مگر جان سکلِنگ کی نظم فیض احمد فیض کی پیدائش سے کئی سو برس پہلے کی تحلیق ہے۔

رقیب سے تو ارل برنی بھی اپنی نظم ’’وداعیہ ‘‘میں مخاطب ہوئے ہیں اور اُسے عزیز ترین بھی قرار دیتے ہیں۔ اُن کی نظم کا آغاز کچھ ایسے ہوتا ہے

مرے عزیر ترین رقیب
تم نے اپنے آغاز بہار میں
میرے برف آبادتک میرے ساتھ چلنے کیلئے
مجھے اپنے بازوؤں کا سہارافراہم کیا

جہاں تک فیض کی نظم کے خیال کے تسلسل کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں ایک دو باتیں زیر غور لاتے ہیں۔
پہلے چار بند میں تو انہوں نے رقیب کو پچھلے واقعات یا دو لائے ہیں اور محبوب کے حسن اور اسکی
عنایات کا ذکر کیا ہے۔ پانچویں بند میں کہتے ہیں

ہم پر مشتر کہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے

جز تر ے اور کو سمجھاؤں تو سمجھانہ سکو ں

یہاں سے واضح ہو اکہ غم الفت نے شاعر اوراس کے رقیب پر ایک جیسے اثرات چھوڑے ہیں۔ اگلے تین بند
میں شاعران اثرات کی تفصیل بتاتا ہے کہ اس عشق نے دونوں کو عاجزی سکھائی، غربیوں کی حمایت
سکھائی، زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سکھا یا، استحصالی طبقوں کی چھینا جھپٹی سمجھائی اور بتایا کہ مزدور پردہ
ظلم ہو رہا ہے۔ جیسے اس کا گو شت سر باز ار بیچا جا رہا ہو وغیر ہ وغیرہ۔ اب یہ سو چنے کی بات ہے کہ کیا
’’غم الفت ‘‘ ہر عاشق کو یہی چیز یں سکھاتا ہے اگر ایسا ہوتا تو جو بھی عشق میں ناکام ہوتا وہ فیض صاحب کی
طرح انقلابی ہو جاتا۔ مگر ظاہر۔ ایسا ہر ناکامِ محبت کے ساتھ نہیں ہوتا۔ کچھ عاشق ناکام ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں
کچھ زہر غم پی کر گریبان سی لیتے ہیں اور جیتے رہتے ہیں کچھ ’’ تم نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی ‘‘ کہ کر چل نکلتے ہیں پھر
فیض صاحب یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا رقیب بھی انکی طرح انقلابی ہو گیا ہے۔ انہیں ’’ ہم ‘‘ کی بجائے’
میں‘کہنا چاہئے تھا اور غالباً نظم کے آخر ی شعر میں فیض کو اچانک اِس اعتراض کا خیال
آگیا اور انہوں نے ’ ’’ ہم‘‘ کو چھو ڑ کر ’’ میں ‘ ‘ کہہ کر یہ سمجھ لیا کہ یہ اعتراض دور ہوجائے گا۔

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلشی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابوہی نہیں رہتا ہے

مگر انہیں احساس نہیں ہوتا کہ اس ایک شعر میں انہوں نے ساری نظم کا تارو پود بکھیر دیا ہے۔ کا ش
انہوں نے سوچ لیا ہوتا کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ اصل میں انکی نظم پہلے چار بند میں ہی ختم ہورہی
ہے۔ اسکے بعد ’’گر یز ‘‘ کا مرحلہ وہ خود پیدا کر نے کی اور اسے طے کر نے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی مر حلہ کبھی وہ
سلیقے سے طے نہیں کر سکے۔ پھر فیض جہاں گریز کیا ہے وہاں نظم شاعری کی بزم سے نکل کر نعرہ بازی کے جلسہ گاہ میں آگئی ہے۔

عاجزی سیکھی، غربیوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرماں کے، دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے، رخ زرد کے معنی سیکھے

اور پھر جب یہاں پہنچتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یکم مئی کے کسی جلسے میں کوئی جیالا تقریر کر رہا ہے

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غربیوں کا لہو بہتا ہے

فیض صاحب بنیادی طور پر نظم گو شاعر ہیں اس لئے ابتک کی تمام بحث کا محور انکی نظم گوئی ہی رہی ہے۔
فیض کی چند نظموں بہت اچھی ہیں اور وہ زیادہ تر رو مانوی ہی ہیں مگر انکی تعداد زیادہ سے زیادہ ستائیس ہو سکتی ہے ان
میں سے بھی بعض ایسی ہیں جن کا کوئی نہ کوئی حصہ کمزورہے جیسے ابھی ہم ’’ رقیب سے ‘‘ پر بحث کر چکے ہیں۔ سچ یہ
ہے کہ نظم کی قربان گاہ پر فیض سارا کچھ کر بھی شرمندہ نہیں، زنداں کے موضوع پر انہوں نے بڑی بڑی یادگار نظمیں
کہی ہیں انہوں نے اپنی اسیری کے دنوں میں زندان کی شاعری کی ہے جوان کاسرمایۂ حیات ہے۔ لیکن ایسی
شاعری اردو ادب میں پہلی بار نہیں ہوئی تھی بلکہ زنداں کی شاعری اردوغزل کی روایت کا ہمیشہ سے ایک
حصہ چلی آ رہی تھی اور اُس کیلئے شاعر کا قید ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ یہ شاعری اپنی جگہ ایک الگ اوربہت بڑا موضوع ہے۔

مشرقی شعرائ میں یہ روایت غالباً مسعود سلیمان سے شروع ہوئی اورپھرتقریباً ہر شاعر نے اس
موضوع پر طبع آزمائی کی کوشِش کی۔ میر نے کہا

زنداں میں بھی شورِش نہ گئی اپنے جنوں کی

اب سنگ مداوا ہے پریشاں نظری کا

مصفحی نے بھی اس موضوع پر بہت سے شعر کہے

ہم اسیران ِ قفس لطفِ چمن کیا جانیں

کون لے جاتا ہے ہم کو گل و گلزار کے پاس

خبر تو لیجو کوئی خستہ مر گیا تو نہ ہو

کہ آج آتی ہے آوازِ نوحہ زنداں سے

فصلِ بہار آئی، گئی، اب قفس کے بیچ

پھڑکیں ہیں طائران ِ گرفتار کس لئے

یہ تو آوازِ ہم صفیر ہی ہے

اس قفس میں کوئی اسیر ہی ہے

ایک اور کسی استاد شاعر کا مصرعہ یا د آر ہا ہے دیکھئے زنداں کی کوٹھری کا نقشہ کس طرح کھینچ دیا ہے

تنگ ہے خانۂ زنجیر سے زنداں اپنا

رند کا ایک شعر دیکھئے

کھلی ہے کنجِ قفس میں مری زباں صیاد

میں ماجرائے قفس کیا کروں بیاں صیاد

مغرب میں بھی بہت سے شعرائ زندان سے متعارف رہے۔ وہ تمام آزادی پسندلوگ جِن کا جرم حق
گوئی اور بیبا کی تھا اُنہیں سلاخوں کے پیچھے سے اُبھرتے سورج اور چاند کو دیکھتے دیکھتے اپنے زخم زخم خواب

کاغذوں کی نذر کرنے کی عادت سی ہو گئی۔ مگر پابندِ سلاسل ہوکر بھی اُن کے حوصلے گرفتار نہ ہوسکے، اُن کی
ہمت بلند رہی اور اپنی کبھی کبھار کی گر یہ وزاری میں بھی اُن کی امید کی کرن خورشید کی طرح چمکتی رہی، چراغ کی
صورت لو دیتی رہی، اُن کی آوازقیدخانوں کی دیواروں کا سینہ چیرتی ہوئی دُنیا بھر میں ارتعاش پیدا کرتی
رہی، اُن کی استقامت میں لر زش نہیں آئی۔ غالب نے تو ایک قانونی جرم میں سزاپائی تھی۔ انہوں نے فراخدلی
سے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور سزا کو گو یا ٹھٹھے میں اڑا دیا تھا۔

قرض کی پیتے تھے کے لیکن سمجھتے تھے ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

غالب باقاعدہ زندانی ہوئے چاہے کچھ عرصہ کیلئے ہی سہی۔ اور اس موضوع پر یادگار شعر کہے

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا

کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا

فارسی اور اردو کے تقریبا ً تمام شعرائ خیالی طور پرقفس کے دائرے میں گھومتے رہے قیس کو اپنا
علامتی نمائندہ (symbol) بناکرکہ اُس پر جب جنوں کا دورہ پڑتا تھا تواُسے زنداں میں ڈال دیا جاتاتھا کیونکہ
صحرا نور دی میں اس کے کھوجانے کا اندیشہ لاحق ہو تاتھا۔ غالب بہر حال بہت بڑے شاعر تھے اور انہوں نے اِس مضمون میں بھی اپنا رنگ دکھا یا

احباب چارہ سازی ئِ و حشت نہ کر سکے

زندان میں بھی خیال بیاباں نور دتھا

احباب کی طرح وہ حکومتیں بھی جویہ سوچتی ہیں کہ انقلابی خیالات رکھنے والے لوگوں کو قید کردیا جائے
تاکہ ایک تو وہ خود مر عوب ہوجائیں اور جیل کی سختیوں سے گھبرا کر انقلا بیت کا جنوں سرسے نکال کر تا ئب ہوجائیں
اور دوسرے یہ کہ ِاس طرح سے اِنقلابی خیالات دوسروں تک نہ پہنچ سکیں گے۔ اگرچہ غالب کو ایسی
صورت درپیش نہیں تھی لیکن انہوں نے یہ بتا دیا تھا کہ جسم کو پسِ زندان کرنے سے خیا لات کو قیدنہیں
کیا جا سکتا جوایک انقلابی شاعر کیلئے بڑی حوصلہ افزا بات ہے۔

میرا خیال ہے کہ فیض نے زندان کے موضوع پر جو شاعری کی ہے اس میں اردو شاعری کی روایت کے
علاوہ ہوچی من کی زندان کی نظموں کا بڑا کردار ہے۔ احساس ہوتا ہے کہ فیض یقیناً ہوچی من سے متاثر تھے۔ ہوچی من ویتنام
کے وہ کمیونسٹ ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ جیلوں میں گزارا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سلاخوں
کے پیچھے کہی گئیں ہوچی من کی دو نظمیں ’’زنداں کی شفاف صبح‘‘ اور’’ زنداں کی سرد رات ‘‘ فیض کی دستِ صبا
کی دونظموں ’’زنداں کی ایک صبح ‘‘ اور ’’ زنداں کی ایک شام ‘‘ کی بنیاد بنی ہیں۔ ویسے قید میں کہی گئی ہو چی من کی نظموں کی
مختلف لائنیں فیض کی زنداں کی شاعری میں بکھری پڑی ہیں۔ ہوچی من کی نظم’’زنداں کی شفاف صبح ‘‘ کا
ترجمہ فیض کی نظم کی مصرعوں میں تھوڑے سے ردّوبدل کے ساتھ یوں قریب تر ہے

مرے زنداں کی وہ دیوار کے اوپر آکر

مجھ سے سورج نے کہا ’’جاگ سحر آئی ہے

رات کے سایوں کے پھرنے لگے بیزار قدم

اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہے ہیں یہ اسیر

جن کے ترکش میں ہیں امید کے جلتے ہوئے تیر

خاک پر زیست سے مخمور ہوائیں جاگیں

صحن ِ زنداں میں رفیقوں کے کھلے پھرچہرے

فیض کی دوسری نظم ’’زنداں کی شام ‘‘پر ہوچی من کے اثرات اتنے گہرے نہیں مگر ان کی ساری نظم
عزیز لکھنوی کے اس شعر سے نکلی ہوئی ہے

اس نے بجھا دیا ہے چراغِ قفس تو کیا

وہ جل اٹھا ہے دیدۂ مہتاب بام پر

فیض کی نظم کی آخری لائنیں یوں ہیں

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

چاند کو گل بھی اچھا نہیں لگا ویسے یہ روزمرہ کے خلاف ہے

فیض کی نظموں میں جو پرانے سماجی اور معاشی نظام کی بوسیدگی اور خاتمے کی امید نظر آتی ہے۔ اس سے
فیض پہلے تخلیق ہونے والا مختلف زبانوں کا ادب بھرا پڑا ہے۔ خاص طور پر روسی اور چینی ادب میں ان سب
موضوعات پربہت کچھ لکھا جا چکا تھاسو اسے سرقہ کہاجائے گا نہ توارد، یہ استفادہ ہے اور فیض کی ترقی
پسندانہ شاعری اسی استفادہ کا پیش نظر ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فیض نے شعر کو نیا مزاج اور اردو
شاعر ی کو نیا موڑ دیا ہے اور یہ کہ یہ مزاج ترقی پسندانہ ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ نہ تو فیض کی شاعری کا مزاج مکمل طور پر
ترقی پسندانہ ہے اورنہ ہی انہوں نے اردو شاعری کو کوئی نیا موڑدیا۔ آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ کس حد تک ترقی پسند ادب
کی تحریک کے اغراض و مقاصد فیض کی شاعر ی سے پورے ہوتے ہیں۔ اس تحریک کا منشور جو سامنے آیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ۔

’’ ہماری انجمن ترقی پسند مصنفین کا مقصد یہ ادب اور آرٹ کو ان رجعت پسندطبقوں کے چنگل سے نجات
دلانا ہے جو اپنے ساتھ ادب اور فن کو بھی انحطا ط کے گڑھوں میں دھکیل دینا چاہئے ہیں۔ ہم ادب کو عوام کے
قریب لا نا چاہتے ہیں اور اسے زندگی کی عکاسی اور مستبقل کی تعمیر کا موثر ذریعہ بنانا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہندو
ستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کو اپنا موضو ع بنائے ‘‘

بے شک فیض کے ہاں ترقی پسندی موجودہے مگر وہ ہے بڑی عجیب طرح کی۔ وہ اگر انسانی دکھوں کے مو
ضوعات چھیڑتے بھی ہیں تو انکے ہاں کوئی انقلاب آفریں پیغام نہیں ابھرتا وہ تھکے تھکے لہجے میں
بات کر تے ہیں اور انکی نظم کسی جد و جہد کے لئے ابھارنے والی رجز کی بجائے محض آشوب نامہ اور انقلابی روحوں کا
مرثیہ بن جاتی ہے اور کہیں تو وہ صاف کہ دیتے ہیں کہ انسانی مصائب اور زیر دستون کے آلام مو ضوعات تو
ہیں مگر ایسے نہیں کہ شاعر اپنے آپ کو ان کے لیئے وقف کئے رکھے شاعر کی طبع کا اصل وطن کچھ اور ہے
نقش فریادی میں شامل انکی نظم موضوع سخن کا مطالعہ کیجئے ابتدائ بڑے رومانی انداز میں ہوتی ہے۔ حسن
دل آرائ کی سج دھج کی باتیں ہوتی ہیں۔ آنکھ، کاجل رنگ رخسار، غازہ، صند لی ہاتھ، حناکے تذکر ے ہوتے ہیں اور صاف کہ دیا جاتا ہے

اپنے افکا ر کی اشعار کی دنیا ہے یہی

جان ِ مضمون ہے یہی شاید معنیٰ ہے یہی

پھر جیسے کوئی انکا کندھا تھپتھپا کر ان کی گردن انکی کومٹ منٹ کی طرف موڑ تا ہے۔ وہ اس طرف دیکھتے ہیں
انہیں سرخ و سیاہ صدیو ں میں سلسکتی ہوئی اولاد ِ آدم و حوا نظر آتی ہے کھیت مزدور وں کی بھوک دیکھتے ہیں۔
مخلوق کے خوابون کی قتل گاہوں کا احساس جا گتا ہے مگروہ فوراً ان منا ظر سے اکتا کر پھر اسی شوخ جسم کی
طرف لو ٹ آتے ہیں اور اس کے دل آویز خطوط میں کھو کر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ نظم کا یہ آخری بند دیکھئے

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضمون ہونگے
لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ
ہائے اس جسم کے کم بخت دل آویز خطوط
آپ ہی کہیئے کہیں ایسے بھی افسوس ہو نگے
اپنا مو ضوع سخن ان کے سوا اور نہیں
طبع ِ شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

ہر نظم کے بین الطور میں یہ فضا ملتی ہے کہیں انقلاب اور انسانی مصائب کی بات آتی ہے تو ایسے جیسے شاعر کچھ
دیر کے لئے جلا وطن ہو گیا ہے اور اسے انتظار ہے کہ کب جلا وطنی ختم ہو اور وہ اپنے وطن لوٹ جائے۔ ایسی رومانی
شاعری اس وقت بہت سے لوگ کر رہے تھے خاص طور پر اختر شیرانی تو رومانی شاعر تھے اور اس
شاعری میں بھی بڑے منفرد لہجے کے مالک تھے انہوں نے بیسویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشرے کی گھٹی
گھٹی فضا میں سلمیٰ و عذر اکی محبتوں کی ایسے رسیلے گیت گائے کہ لوگ انہیں اردو کا کیٹس کہنے گے، خو د ترقی

پسند شعرائ اس میدان میں بھی جوہر دکھارہے تھے۔ اور اسی نظمیں تخلیق کر رہے تھے جن میں رومانویت
کے ساتھ مقصدیت کی طرف گریز فیض کی طرح کا بد نما گریز نہیں جیسے مجھ سے پہلی سی محبت مری
محبوب نہ مانگ ‘‘ میں یاد وسری نظموں میں آجاتا ہے ساحر لدھیانوی کی تاج محل دیکھئے کس
غضب کا خیال ہے اور کس طرح ایک رو مانوی خیال میں دوسرے غریب انسانوں کے دکھ سمولئے گئے
تھے۔ فیض کی تمام نظموں کو دیکھ جائیے سوائے آجاؤ ایفر یقا‘‘ کے اور کوئی ایسی نظم نہیں جس میں انقلابیوں کی رجز بننے کی توانائی ہو۔

فیض جس غم دوراں اور غم جاناں کے امتزاج سے ایک نئی آواز پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ طے
شدہ بات ہے کہ وہ غالب کی عطا ہے۔

غالب نے کہا تھا

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کے دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے