اسلوب کی پھانسی

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 


 اسلوب کی پھانسی


غالب ایک عہد آفریں شاعر ہے نمعلوم اس نے کس عالم کشف میں یہ باتیںکہی تھیں کہ

ناز دیوانم کہ سر مستِ سخن خوا ہد شدن
این مے از قِحطِ خریداری کہن خوا ہد شدن
کو کبم رادر عدو او ج قبولی بودہ است
شہرت ِ شعرم بگیتی بعد ِ من خوا ہد شدن

یہ باتیں حرف بحرف صحیح ثابت ہوتی رہیں ، مختلف ادبی تحریکات اٹھتی اور گم ہوتی رہیں زمانہ بد لتا رہا
ادبی نظریات بدلتے رہے لیکن غالب کی مقبولیت بر ابر بڑھتی گئی اور بڑھتی آرہی ہے اسکی فکر نے حیرت
انگیز طریقے سے مختلف زمانوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اس طرح وہ جیسے ہر تحریک کا مقتدائے
اول چلا آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آنے والا ہر شاعر کسی نہ کسی طرح سے اثر پذ یر ہوا ہے اقبال نے
اپنے لئے قطعی مختلف میدان کا انتخاب کیا غالب انسان کا شاعر تھا اقبال نے مسلمان کا شاعر بننا پسند
کیا غالب بین الاقوامی شاعر تھا اقبال نے قومی شاعر بننے کی تنگنا ئے قبول کر لی تاکہ اسکی کسی طرح
انفرادیت قائم رہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہا بلکہ اس نے اپنی تنگنائے میں سمندر سمیٹ لئے
لیکن یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو غالب کے سحر سے آزادنہ کر سکا ۔ اسکی لفظیات ،

اسکی تشبہیات و استعارات کا در و بست اور اس کا فکری و تخئیلی نظام کسی حد تک غالب سے متاثر رہا
لیکن اس نے اپنا مجموعی اسلوب اتنا مختلف کر لیا تھا کہ اس کے ہاں غالب واضح طور پر دکھائی
نہیں دیتا۔ فیض بھی غالب سے متاثر بلکہ شدید متاثر ہے لیکن اقبال کے برعکس فیض میں غالب
صاف نظر آتا ہے پھر فیض نے غالب کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی، اسکی کتابوں کے نام کچھ اور بھی
ہوسکتے تھے مگر اس نے غالب سے اپنی وابستگی کے اعتراف کے طور پر غالب ہی سے نام مستعار لئے ،نقش فر
یاد ی، دست تہ سنگ ، غالب ہی کی دین ہے اور یہ کوئی غلط بات نہیں صرف کتابوں کے ناموں تک بات محدود
نہیں نظام فکر کی ترتیب میں بھی اس نے غالب سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے میں اسے عیب کہنے
کی بجائے فیض کا استفادہ ئِ حسن سمجھ کر اسکے اوصاف میں شمار کرتا تھا لیکن اسے کیا کہا
جائے کہ وا بستگان ِ فیض نے ایسی چیزوں کو فیض کی اپنی ندرتِ تخلیق اور جد تِ فکر قرار دے لیا ہے ۔
میںاس کی بھی ایک دو مثالیں پیش کئے دیتا ہوں۔ترقی پسند تحریک بلا شبہ ایک عالمی تحریک تھی اور اس
نے اس وقت زور پکڑا جب سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی پہلو کھل کر زیر بحث آئے ۔ اس تحریک نے
ادیب کو بھی اپنے فرائض سے آگاہ کیا اور اس میں یہ احساس بیدار کیا کہ وہ لوگوں کو صرف عشق و عاشقی کے
قصے نہ سنائے انہیں شعور دے کہ انکے بحیثیت انسان بہت سے حقوق ہیں جنہیں استحصال پسند وں نے غصب کر
رکھا ہے اسطرح وہ ادبی محا ذ پر لوگوںکو متحرک بھی کرے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور
انقلاب لے آئیں ۔ اردو شاعری کی لائبریری داستان عشق اور وارداتِ عشق تک محدود تھی غالب نے ترقی
پسند تحریک سے بہت پہلے یہ مجتہدانہ سوچ دی کہ صرف غم ِ جاناں ہی نہیں غم دوراں بھی ایک مو ضو ع ہے
اور بھر پور مو ضوع ہے حقیقت یہ ہے کہ غالب کسی انجانے اور انوکھے جہانِ دانش کا نقیب ہے مسلسل   
پر یشانیوں اور محرومیوں نے میر تقی میر کو رونا ، رو تے رہنا ، زندگی کی طرف پیٹھ کر کے آنسو بہاتے
رہنا اور زندگی کو اپنی بد عا منیوں سے قابل نفر ت بنا نا سکھا یا تھا مگر غالب کو انہی چیزوں نے زندگی سے
پیا رکر نا سکھا یا تھا وہ نفی سے اثبات کا درس لیتا رہا اس نے غم کی عظمت کو سمجھا اور زندگی کو غم کے
مترادف قرار دیا وہ قید حیات و بندِ غم کو ایک قرار دیتے ہوے غم کا عرفان حاصل کر تا ہے اور
اس میں ڈوب کر ابھرنے کا ذاتی تجربہ بیان کر تا ہے وہ بتاتا کہ غم سے نجات پانے کے لئے ہاتھ پائوں مارنا بیکار ہے ۔

رنج سے خو گر انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑ یں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں

غم کو یوں اساسِ نشاط و عیش بنا لینا اور بجلیوں پر بنیاد آشیاں رکھد لیا اردو تو کجا فارسی غزل میں بھی
بالکل نئی بات تھی خیر یہ ایک بہت بڑا اور بہت وسیع موضوع ہے میںبتا نا یہ چاہتاہوں کہ غالب نے شعر کو
کھو کھلی لفاظی سے آراستہ کیا نہ آنسوئوں سے لفظ ڈھالے اس کا ہر لفظ اسکے خو نچکاں سینے کے کسی زخم سے ٹپکتا لہو ہے

درد ِ دل لکھوں کبتک جائوں انکو دکھلائوں
انگلیاں فگار اپنی ، سینہ خونچکاں اپنا

یہ وہ بات ہے جسے اقبال نے
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
کے انداز میںکہا ۔ اور اسی شعر کو دیکھ کر فیض نے یہ شعر لکھا

متا عِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میںنے

غالب ہی نے سب سے پہلے اردو شاعر کو کو یہ بتایا کہ غم صرف عشق و عاشقی کا نہیں ہوتا ، اور بھی بہت سے دکھ ہیں بہت سے غم ہیں

غم اگرچہ جاں گسل ہے یہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا ، غم روز گار ہوتا

اس سے بھی صریح الفاظ میں غمِ روزگار کی ترجیحی حیثیت کو یوں واضح کیا

کم جانتے تھے ہم بھی غم ِ عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا

اور یہ غم روز گا ر وہ ہے کہ اس کے بکھیڑے سکون سے خدا کی عبادت بھی نہیںکرنے دیتے غالب سے بہت پہلے ’’ جہاں گرد ‘‘ اور جہاںساز شاعر سعدی شیرازی نے بھی کہا تھا

خدا وندِ نعمت بحق مشتغل
پر اگندہ روزی پر اگندہ دل

جنہیں نعمتیں حاصل ہیںوہ تو خدا کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں مگر جن لوگوں کو روزی رزق کی پریشانیاں ہیں انکے قلب و زہن بھی پر اگندہ ہوتے ہیں 
غالب نے اس خیال کو بہت زیادہ رفعت دی اور اسے آسمان پر پہنچا دیا ۔

در عالم بے زری کہ تلخ است حیات
طاعت نتواں کر دی بہ امید ِ نجات
اے کاش زحق اشارتِ صحرم و صلوٰۃ
بو دے بو جود ِ مال ہمچو حج و زکوٰۃ

غربت کے عالم میں نجات کی امید پر طاعت و عبادت کیا ہو کہ غربت میں تو زندگی بہت تلخ
ہوتی ہے کاش جس طرح حج اور زکوٰۃ کے لئے مال کو موجودگی ضروری ہے اسی طرح صوم و صلوٰۃ کے لئے ما لدار ہونا
ضروری ہوتا کیونکہ افلاس کی پریشانیوں میںیہ عبادت صحیح طریقہ سے نہیں ہوسکتی 
غم جاناں اور غم ِ روز گارکے علاوہ بھی بہت سے دکھ ہیں جو زمانہ کے ہاتھوں کے انسان کو بر داشت کرنا پڑتے ہیں۔
شاعری اگر غم کی یادوسرے لفظوں میں زندگی کی ترجمان ہے تو اسے دوسرے دکھوںکی طرف بھی
متوجہ ہونا چاہئے اور انسان کے سارے زخموں کی زبان بننا چاہئے شعر کو صرف غم ِ عشق تک محدود کر لینا اسے
زندگی کے بسیط و وسیع تنا ظر سے محروم کرنا ہے ۔ اسی احساس کے پیش نظر غالب محبوب کے
مہر بان ہو جانے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتا ۔

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کر دہر میں
تیرے سوابھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

فراق نے بہت پہلے کہا

اور بھی غم ہیں زمانے غم الفت کو
اس کی یاد اچھی نہیں اے دل ناکام بہت

فیض غالب کے عقید تمند تھے بلکہ غالب انکے حواس پر چھا یا ہوا تھا اور ان پر غالب کا یہ پہلو بھی منکشف
ہوچکا تھا کہ غم عشق ہی سب کچھ نہیں اور انسان پر دھرنے اتنے ستم کئے ہیں کہ محبوب کی وفا سے انکی تلافی نہیں
ہوسکتی ادھر ترقی پسند ادب انسان پر ہونے والے انہی امظالم کی نشاندہی کرچکا تھا اور کر رہا تھا ، فیض کے ذہن پر ترقی پسند
ادب کے اثر ات مر تب ہورہے تھے ، انہوں نے گو، غالب کے اس شعر کی منظوم شر ح بیان کی اور اس
طرح وہ نظم وجود میں آئی جس کا عنوان ہے ’’ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘ اب فیض کا یہ مشہور شعر پڑھئے ۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں اور وصل کی راحت کے سوا

غالب کا ایک اورشعرہے

گلشن میںبندوبست برنگ دگر ہے آج
قمری کا طوق حلقہ ئ بیرون در ہے آج

یہ وہ خیال ہے تقریباً ہر ترقی پسند شاعر نے کسی نہ کسی انداز میں ضرور کہا ہے۔ قمری کا یہی طوق جسے
غالب نے حلقہ ئ بیرون در دیکھاوہ کہیں اپنے محل بچا کر سارے دیس کو جیل بنایاکی صورت
میں ظاہر ہوا اور کہیں دیوارِ قفس حدِ نظر سے اوجھل ہوئی۔بقول فیض

وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوارِ قفس حدِ نظرسے

فیض نے اپنی نظم یہاں سے شہر کو دیکھو‘‘میں اس خیال کو وضاحت کے ساتھ کہا ہے

یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ
کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل

غالب کو سامنے رکھتے ہوئے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ کیا فیض اسلوب شاعر ہیں یا نہیں۔اسلوب سازی
کے سلسلہ میں دیکھا یہ جا تا ہے کہ کیا ایک شاعرنے نئے الفاظ باندھ کر زبان کو وسعت دی ؟ کی اس نے مر وج
اسلوب سے انحراف کر ے اپنا کوئی مخصوص انداز سخن پیدا کیا جو ادب میں اسکی پہچان بن یگا ؟ کیا
اس نے نئی تراکیب وضع کیں اور تشبیہات واستعارات میں جد ت پیدا کی؟ یا پھر اس نے قدیم الفاظ
سے نئے تلازمات وابستہ کرکے معانی کو نئی جہت دی۔ ہم اس معیار کو سامنے رکھ کر فیض کے کلام نظر
ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ فیض کی پہلے دور کی شاعری جس میں انہوں نے نقش

فریادی اور دستِ صبا لکھی جد ت ِ تراکیب کے نمو نے مل جاتے ہیں زندان نامہ مین بھی ایسی چیز یں سامنے 

آجاتی ہیں مگر بعد کی شاعری میں وہ زیادہ تر سپا ٹ ہوجاتے ہیں حالانکہ سجاد ظہیر نے لکھا تھا ۔
 
’’ فیض کے تمام چاہنے والے ’’ نقشِ فریادی ‘‘ ’’ دست صبا‘‘ اور زنداں نامہ کے شیدائہونے کے باوجود ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ کمیت اور کیفیت دونوں لحاظ سے انکی وہ تخلیقیں جو ابھی نہیں ہوئیں ان کے مقابلہ میں جو وہ کر چکے ہیں

 زیادہ گراں قدر ہونگی‘‘

مگر افسوس ہے کہ سجاد ظہیر کی یہ توقع پور ی نہیں ہوئی فیض کے قدر دانوں میںیقینا اضافہ ہو ا لیکن انکی تخلیق کا
گراف کمیت اور کیفیت دنوں لحاظ سے نیچے آتا گیا ۔ فیض نے بلا شبہ بعض نئی تراکیب ترا شیں ’’ غازہ ئِ
رخسارِ سحر ‘‘ ’’ شبِ سست موج ‘‘ نجاتِ دید ہ و دل ’’ وادیئِ کاکل ولب ‘‘ ’’ گلگشتِ نظر ‘‘ ’’ آنکھیں آہن
پوش ہوئیں ‘‘ ’’ شعر کے خیمے ‘‘ ’’ نغموں کی طنابیں‘‘ ’’ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت ‘‘ دل ساد ھڑ کتا ہو
امید کا ہنگام ‘‘ ’’درد کے بے خواب ستارے ’’ بے صبر نگا ہوں کا مقدر‘‘ ’’ بامِ مینا ‘‘ ’’ مچلی کوئی زنجیر‘‘ ’’
اترا کسی تالے کے جگر میں خنجر ‘‘ ’’ سر ٹپکنے لگا دریچہ کوئی ‘‘ ’’ ہونٹوں کے سراب ‘‘ سانس کی آنچ‘‘ ’’
دلدار کی شبنم ‘‘ ’’ دل کے رخسار پہ یاد کا ہاتھ ‘‘ یہ اور اس قسم کی اور ترکیبیں بھی ملتی ہیں یقینا ان میں حسن بھی ہے
اور ندرت بھی مگر یہ سب کچھ بعد میں ہوتے ہوتے ختم ہوگیا ۔ اور یہ ترکیبیں اور تشبہیات بھی غالب کے
اس دور ے کلام لکھے تا ثر سے وجود میں آئی ہیں جب غالب کو ’’ طرز ستم ریجادی ئِ بید ل ‘‘ پسند آیا ہو ا تھا
ویسے اگر ان تراکیب کے ماخذ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت کچھ مل سکتا جیسے دل کے رخسار پہ یاد کا
ہاتھ‘‘ کے پیچھے جھانکا جائے تو کئی مصرعے ذہن میں لہرا جاتے ہیںمصفحی نے کہا تھا’’کیوں ہاتھ گیا گل کے
گریباں میں صباکا‘‘اسیر کا مصرعہ ہے ’’عارضِ دل پہ گری پھول کی نازک پتی‘‘نسیم دھلوی نے
کہا تھا’’ دستِ خیالِ یار کو چوما ہے آنکھ سے‘‘’’غازہ ئ رخسار سحر‘‘کی ترکیب میں بھرپور تازگی کے پیچھے
اس زمین پر غور کیجئے جس پر یہ پھول کھلاکہ ’’ابٹن افق پہ مل لب و رخسار پہ نہیں‘‘اس وقت فیض کے
ہم عصر شعرار آختر شیرا نی وغیرہ بھی جدید ترکیبیں ڈھال رہے تھے ۔ غالب اور اقبال نے تخیل کے
بہت سے در کھول دیئے تھے اور حسی نے تشبہیات سے بلند ہو کر ذہنی و تخئیلی تشبہیں اور استعارے وجود میں لا ئے جا
رہے تھے ، فیض نے قدیم الفاظ سے نئے تلا زمات ت وا بستہ کر کے معافی کوئی جہت دینے کی کوشش کی یا نہیں ؟
یہاں بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ انہوں نے جد ید معنویت دی ، فیض نے جب یہ کہاکہ اور نکلیں گے عشاق کے
قافلے تو بلا شبہ ’’ عشاق ‘‘ کا لفظ ہمارے عہد کے حالات کے مطابق ایک نئی معنویت لے کر سامنے آیا مگر
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ غالب اس لفظ کو فیض کی معنویت کے انتہائی قریب برت چکے ہیں کہ ’’
عشاق فریب حق و باطل سے جد اہیں ‘‘ عشق اور عقل کو اقبال نے بھی مخصوص اصطلات بنا دیا اور اقبال کی سوچ کے پیچھے بھی رو می کا م کر رہا تھا جس نے جھوم جھوم کرکہا تھا ۔

شاداباش اے عشق ِ خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علتہائے ما
اے دوائے نخوت و نا موس ما
اے تو افلاطون و جا لینو س ِ ما

فیض جب دار و اسن کی آزمائش کو مشقِ سخن میں بدل رہے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے انہیں غالب کا یہ پر شوکت مطلع نہ یاد آیا ہو ۔

قدو گیسومیں قیس و کو ہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں وہا ں دار و رسن کی آزمائش ہے

ان تصر یحات کو ذہن میں رکھ کر کلام فیض کا مطالعہ کیا جائے تو اس خیال پر نظرِ ثانی کرنا پڑ یگی کہ
فیض ، غالب اور اقبال کی طرح صاحبِ اسلوب شاعرہیں۔