انقلاب کاکربلا

Posted in موازنۂ فیض و فراز ۔۔ تنقید

 


انقلاب کاکربلا

فیض نے بھی زندان میں بعض بہت اچھے شعر کہے ہیں

مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل و الوکوچہ ئِ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں

مقتل میں جانے کی دھج اور شان و آن کی بات بھی فیض نے غالب سے ہی لی ہے کہ اس نے کہا تھا

عجب نشاط سے جلد دکے چلے ہیں ہم آگے
کہ اپنے سائے سے سر پائوں سے ہے دو قدم آگے

لیکن اسکے باجود بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اشعار ایک انقلابی کی شان کے شایا ں ہیں سقراط نے اسی دھج سے سا غرِ
زہر اٹھا یا ہو گا۔ مسیح (ع) ایس اان بان سے مصلوب ہونے گئے ہونگے اور کر بلا کا سالار اپنی فوج کٹا کر اپنی جان حق پر
وار دینے کیلئے اپنے گھوڑے پر سوار زمین و آسمان کو کپکپا دینے والی شانِ بے نیازی سے میدان میں آیا ہوگا۔ لیکن
مجموعی طور پر زندان نامہ کی فضا اداس اداس ہے ۔ دل پر گھبر اہٹ قبضہ کر تی نظر آتی ہے امید سحر کا سہارا
ساتھ ہے لیکن یہ امید ہے ڈھارس ہے و اہموں کو تار تار کر دینے وا لا یقین نہیں سحر قریب ہے دل سے کہونہ گھبرائے
جیسی کیفیت ہے ۔ اگرچہ انہیں مختلف جیلوںمیں اتنی سختیاں برداشت نہیں کر نا پڑیں لیکن ان میں
تقریبا ً اپنے ہی دور کے دوسرے قیدی شاعروں کا ساحوصلہ نہیں تھا زندان نامہ کا میجر ا سحاق کا
مقدمہ دیبا چہ پڑھ لیا جائے تو انکی اداسی میں گھر ی ہوئی ساری فضا سامنے آجاتی ہے ۔ ادھر دیکھئے تو
مولانا حسرت موہانی نے جیل کس طرح گزاری ہے
 
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

زندان نامہ کی نظم ’’بنیادکچھ تو ہو‘‘ میں بلا شبہ لہجہ دبنگ ہے

مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا
اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے ، دست و پا

لیکن اس کے پیچھے جو ذہن کا م کر رہا ہے وہ اس شخص کا ہے جس کی ساری اپیلیں خارج ہو چکیں اب اسے
قتل بہر حال ہونا ہے اب وہ روئے دھوئے یا قہقہے لگائے کچھ فرق نہیں پڑتا فیض صاحب کا مشورہ ہے کہ وہ ہنس کر
پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالے کہ اب کوئی راہِ نجات نہیں انکے اشعار میں یہاں بھی وہ رنگ نہیں آیا
جس نے غالب سے یہ شعر لکھوا یا تھا

عشرت ِ قتل گہ ِ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
جیسا کہ میںنے لکھا ہے کہ یہ نظم وہ ہے جو سب اپیلیں خارج ہونے کے بعد زندگی سے مایوس شخص کے لئے بطور
مشورہ لکھی گئی ہے وگر نہ تو فیض صاحب نے حسین شہید سہر وردی کی شان میں قصید ہ لکھا جنہوں نے
پنڈی سازش کیس میں انکی وکالت کی تھی ، اس قصیدہ کا آخر شعر یہ ہے جس میں ذوق کے مشہور مصرع ’’اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ‘‘پر قبضہ کر لیا گیا

ہر دن ہو ترا لطفِ زباں اور زیادہ
اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ

مولانا محمد علی جو ہر نے بھی زندگی کا بڑا حصہ قید و بند میں گزار ا ۔ ان کا یہ شعر دیکھئے ۔

مستحق دار کو حکم نظر بندی ملا
کیا کہوں کیسی رہا ئی ہوتے ہوتے رہ گئی

فیض صاحب عام قید﴿جس میں انکو بہت سی آسائشیں حاصل ہوئی ﴾ سے رہائی مانگتے ہیں اور اپنا 
کیس ہا تھ میں لینے والے وکیل کی مدح میں قصید ہ لکھے ہیں ۔ مگر جو ہر کہتے ہیں ’’ بد بخت جج کو تو چاہئے تھا
کہ مجھے سزائے موت سناتا اس نے سزائے قید کیوں سنا دی ؟

اس طرح فیض میں ہمیں وہ انقلابی شاعربھی نہیں ملتا جس کے بعض لوگ بڑے بڑے پو سٹر
اٹھائے پھرتے ہیں۔حالانکہ بحیثیت ایک نظریاتی شاعر فیض صاحب خود ترقی پسندوںمیں بھی بڑے
شاعر یا مکمل ترقی پسند شاعر نہیں سمجھے جاتے تھے، سابق میجر اسحاق جو انقلابی کا رکن تھے اور جنہوں
نے بعد میں مزدور کسان پارٹی بنائی پنڈی سازش کیس میں ماخوذ تھے اور جیل میں فیض
صاحب کے ساتھ بلکہ بہت قریب رہے اور جنہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے زندان نامہ کا طویل دیباچہ لکھا اپنے اسی دیباچے میں لکھتے ہیں ۔

’’ فیض کی شاعری میں ایک صاحب دل کا جوش و جذبہ اس میں قوم کا دل دھڑک رہا ہے لیکن کیا
بات ہے کہ شاید اس کے قوم میں پاکستان کے محنت کشوں کے مبارک پسینہ اور خون کی حرارت
ابھی تک پوری مقدار میںشامل نہیں سمن و گلاب کو جس چاہت سے یاد کیا ہے اس چاہت اور تفصیل
سے اس بد حال و بد نصیب کا ذکر نہیں ہے جس نے سمن و گلاب کو اپنے خو ن ، جگر سے سینچ کر شاداب کی
اہے اور جس کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بھی ان سمن و گلا ب کی نزا کتوں ، رنگ روپ اور عطر بیزیوں سے مستفید ہو سکے ‘‘
ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں

ان کی شاعری کو ڈر ائنگ روموں ، سکو لوں، کالجوں سے انکل کر سٹرکوں، بازاروں ، کھیتوں ، کار خانوں میں ابھی پھیلنا ہے ۔

سجا دظہیر ترقی پسند ادب کی تحریک کے بانی تھے وہ بھی ان دنوں زندانی تھے میجر اسحاق انہیں فیض کا تازہ کلام
بھیجا کر تے تھے میجر صاحب انہیں جیل سے بھیجے ہوئے ایک اور خط میں لکھتے ہیں ۔

’’ زندان نامہ میں فیض صاحب نے حق و باطل کی اس ہو لناک جنگ میں بہادروںکی بہادری کے وا
قعات کا تذکرہ شروع کر دیا ہے اس کی ابتدائ وہ دست صبا ہیں ، ایرانی طلبہ کے نام لکھ کر کر چکے ہیں لیکن ابھی
تک انکی یہ عادت پوری طرح نہیں گئی کہ وہ آتش فشاں پہاڑ کے دھوئیں کے پہلے مر غولہ کو ہی لے بیٹھتے ہیں اور
جب یہ دھواں ہوا کہ جھونکوں سے چشم زدن میں تتر بتر ہو جاتے ہیں اور جب اسے ساحل کی ریت میں جذب
ہوتا دیکھتے ہیں تو فرطِ درد سے بے حال ہوجاتے ہیں یا بڑھتے ہوئے لشکر کے سب سے اگلے سکا ئوٹ کھیت
ہوجاتے ہیں تو ان کو تڑ پتا دیکھ کر تمام نظام کا ئنات کو آگ لگا دینا چاہتے ہیں ایسے درد کی فرا وانی ہر دل کا
خاصہ ہوتی ہے لیکن اگر آتش فشان کی زمیں دوز گرج کر سنا جائے اور اس کے چند لمحوں میں ابلنے
والے کر وڑوں من لا وا ہے کا تصور کیا جائے یا پہلی لہر کے پیچھے بپھرے ہوئے بے کنار سمندر کا خیال کیا
جائے تو دھو ئیں کے پہلے مر غولہ کے بکھیر ے ہوئے طوفان کی پہلی لہر کے جذب ہوجانے اور سکائوٹون
کے مر ٹے میں درد و غم کا جگہ مجا ہدانہ تڑ پ آجاتی ہے ۔ ان تینوں کی موت پر زور دھونے کی بجائے ان کی
یادگاربنانے کو جی چاہتا ہے وہ عشق و محبت کے پہلے کشتے ہی نہیں فتح کے بانی بھی ہیں اور ان کی مو ت زندگی کا
رس ہے فیض صاحب کا کینوس ذرا اور وسیع ہوجائے تو بلاشبہ ہمارے گور کی بن جائیں گے ‘‘

میجر صاحب کے خطوط کے جواب میں سجاد ظہیر نے مچھ جیل بلو چستان سے جو خط لکھا اس میں وہ
فیض کے کلام کی تعریف کرتے ہیں لیکن میجر اسحاق کے اعتراض سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتے ہیں

’’تم نے اپنے گز شتہ خط میں اس کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اب انہیں ہمت کر کے ایک جست لگانے
چاہیئے تاکہ انکی شاعری میں خوشبوئوں اور گل بینر یوں کے علاوہ خلق خدا کے اس مبارک پسینے اور خون کو
آمیز ش بھی ہو جس سے فی الحقیقت زندگی بنتی ، بدلتی اور سنورتی ہے میں اس خیال سے بالکل متفق ہوں
البتہ میںانہیں ایسا کرنے کے لئے دھکا نہیں دینا چاہتا میرا خیا ل ہے وہ خود اس نکتہ کو سمجھتے ہیں ‘‘

سجا د ظہیر فیض کے سینیٹر ساتھی اور استاد تھے وہ فیض کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے اسی خط کے آخر میں لکھتے ہیں ۔

’’ شاید چونکہ موسم بہار کا ہے اس لئے ہمیں ’’ گلوں میں رنگ بھرے باد ِ نو بہار چلے ‘‘ والی غزل سب سے
اچھی لگی اس شعر کی تعریف نہیں ہوسکتی

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پر آئینگے غمگسا ر چلے

جس غزل کو تم نے وا سوخت کا عنوان دیا ہے وہ بھی اپنے رنگ میں خوب ایک ایک شعر نشتر ہے کس کس
کی تعریف کریں خاص طور پر یہ شعر

گر فکرِ زخم کی تو خطا کا رہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدحِ خوبی ئِ تیغِ ادا نہ تھے

اسکی داد تو فیض مرزا نوشہ ﴿یعنی مرزا غالب﴾ سے بھی لے لیتے

آپ سمجھتے یا نہیں کہ سجاد ظہیر نے اس شعر پر مر زا نو شہ یعنی مرزا غالب کا نام کیوں لیا ہے کہا جاسکتا
ہے کہ مر زا غالب کا نام لے کر بین السطور وہ یہ بتا نا چاہتے تھے کہ یہ خیال مر زا غالب کا ہے اور اسی خیال کو انداز بدل کر پیش کیا گیا ہے ۔ غالب کا شعر ہے ۔

نظر لگے نہ کہیں اسکے زور بازو کو
یہ لو گ کیوں مر ے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

دیکھا آپ نے خیال ہی ہے محبوب زخم لگا تا ہے بڑا گہرا گھائو ہے فیض کہتے ہیں مجھ سے خطا ہوگئی کہ
میںنے زخم دیکھ کر فکر کرنے لگا کہ یہ مندمل کیسے ہوگا حالانکہ محبوب کو یہ تو قع تھی کہ مجروح زخم دیکھ کر
تلوار کے وار کی تعریف کر یگا ۔ شعر سے فیض کی فطر ی کمزور دلی جھانک رہی ہے مگر غالب کا حوصلہ دیکھئے
کہ وہ کہتا ہے کہ زخم اتنی مہارت سے لگایا گیا ہے کہ لوگ مجروح سے ہمدردی کی بجائے زخم لگانے والے
کے زور باز و کی تعریف کر نے پر مجبو ر ہوجا ئینگے اور اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے زور بازو کو نظر نہ لگ جائے ۔
زخم کی کوئی فکر نہیں یہ اندیشہ ستارہا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ آجائے اور وہ پھر ایسا زخم لگانے سے
عاجز نہ ہوجائے ۔ خیریہ تو ایک ضمنی بات تھی جس سے اس بیان کوتقویت ملی ہے جس میں یہ بتا یا تھا کہ
فیض کے ذہن پر غالب چھایا ہوا ہے ۔ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ ترقی پسند ساتھیوں نے بھی فیض کو مثالی
ترقی پسند شاعر کا مقام نہیں دیا اور ان سے توقع کی کہ وہ انقلابیوں کا مر ثیہ لکھنے کی ادا سے آگے بڑھ گا مگر میں کہتا
ہوں کہ فیض کی اصل شاعری تو نقش فریادی دست صبا اور زندان نامہ میںہی آگئی ہے۔بعد کی شاعری میں تو وہ
اپنے آپ کو ہی دہرا تا رہا اس لئے بعد کی شاعری میں بمشکل ایک آدھ نظم ہی خوبصورت ملتی ہے ۔