پہلی مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


۔۔۔۔۔۔۔
خانہ ء لاشعور میں کھڑکیاں بج رہی تھیں۔چمکتی بجلیوں میں پنجابی فلموں کے ہیرو صوراسرافیل
پھونک رہے تھے ۔بادلوں میں روشنیوں کی رقاصہ آخری کتھک ناچ رہی تھی۔بھادوں بھری شام کے سرمئی سیال
میں زمین ڈوبتی چلی جا رہی تھی ۔پگھلا ہوا سیسہ سماعت کا حصہ بن گیا تھا ۔مرتے ہوئے سورج کی چتا
میں ڈوبتے ہوئے درخت چیخ رہے تھے۔پرندوں کے پروں سے آگ نکل رہی تھی ۔ ٹوٹتے تاروں کے مشکی گھوڑوں کی
ایڑیوں سے اٹھتی ہوئی کالک زدہ دھول میں کائنات اور میں گم ہوچکے تھے۔سٹریٹ لائٹ کی آخری لوبھانپ بنتی ہوئی
تار کول میں ضم ہوچکی تھی ۔سائے دیواروں کو چاٹ چکے تھے ۔آسماں گیر عمارتیں مقام ِ صفر سے
مل چکی تھیں ۔انڈر گراونڈ ٹرینوں کی طرح بہتا ہوا لاوہ سرنگوں میں دوڑ رہا تھا۔چٹانوں کے ٹکڑے نرم نرم
ریشوں میں ڈھل رہے تھے ۔آہنی چیزوں میں کپاس کے پھولوں کا گداز در آیا تھا۔کُن کا عمل وقت سے کئی لاکھ گنا
زیادہ تیزہو چکا تھا۔ہوا نے آخری ہچکی لی اوراچانک شعور کے بیڈروم میں میری آنکھ کھل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پہلی مجلس


 


یہ دوہزار بائیس قبل از مسیح کی ایک خوشگوار صبح تھی ۔میں اوربہلول ایک قافلے ساتھ دھن کوٹ سے لہوار
جارہے تھے۔ ابھی شہر سے نکلے ہوئے ہمیں تھوڑی دیر ہوئی تھی۔اس وقت دریائے سندھ ہمارے سامنے
تھا۔پہاڑوں کی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی دریاکی موجوںکے گرم خرام میں نرم روی آرہی تھی ۔کنارے پر تھرتھراتی
ہوئی کشتیاں پرسکون ہوتی جارہی تھیں۔ان میں سامان لاد جا رہاتھا۔اونٹ اورگھوڑے بھی کشتیوں پر سوار ہونے
تھے۔دریا پر زندگی جاگ چکی تھی۔ساحل چہک رہا تھا ۔جہاں ہم کھڑے تھے ہمارے بالکل پیچھے نمک کی
کان تھی۔ہمارے دائیں طرف سرسبز وشاداب کالا باغ کی بستی تھی بائیں طرف بے آب و گیا ہ کوہساروں کا
سلسلہ تھا۔ہمارے سامنے دریا کے اس پار کوریوں کی بستی ’’ماڑی ‘‘ تھی جہاں کچھ سال پہلے کوریوں اور پانڈوں کے
درمیان خوفناک لڑائی ہوئی تھی۔اتنا خون بہا تھا کہ دریائے سندھ کے پانی کا رنگ بھی سرخ ہو گیاتھا۔کئی
چٹانوں پر ابھی خون کے داغ موجود تھے جہاں ہر جمعرات کو لوگ سرسوں کے تیل کے دئیے جلاتے
تھے۔تھوڑی دیر میں قافلہ کشتیوں میں سما گیا۔جیسے ہی کشتیاں دریا کے درمیان میں پہنچیں تو پہاڑ
پرنشیب سے فراز تک پھیلا ہوا کالاباغ شہر دکھائی دینے لگا۔آنکھیں ابھی اس منظر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ
ہم دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔قافلہ کشتیوں سے اتر آیا۔اور ماڑی شہر کو ایک طرف چھوڑ کر آگے بڑھنے لگا۔
اب ہم کئی کوس چل چکے تھے ۔دریا کے پانی سے دوشیزہ رہنے والی زمینیں بہت پیچھے رہ گئی تھیں ۔اس وقت
ریت کا لق و دق تھل کاصحرا ہمارے دائیں طرف بہہ رہا تھااور چچالی کا بے آب و گیاہ پہاڑی سلسلے کی
دیوتاوٴں کے ہاتھوں سے تراشی ہوئی سربلند دیوار بائیں طرف تھی۔ابھی سورج دوپہر کے نیزے تک نہیں پہنچا
تھاہم آسمان سے ہمکلام ہوتی ہوئی دیوار کے سائے سائے چل رہے تھے ۔ ہم صرف چند لوگ نہیں تھے یہ ایک
بڑا تجارتی قافلہ تھا سب تاجروں کے پاس دو طرح کا سامان تھا ،ہر تاجر کے سامان ایک حصہ’’ نمک‘‘ پر
مشتمل تھا۔یہ بڑا قیمتی نمک تھا۔ کالاباغ کی کانوںسے نکلنے والے اس نمک کی شہرت ہڑپہ اور موہنجو داڑو تک
پھیلی ہوئی تھی ،اس نمک کو پچاس خچروں پر لادا گیا تھا۔سامان کا دوسرا حصہ سندھو گوزہ گر کے نگار
خانے میںبنائے گئے برتنوں اورکچھی کے ترنجنوں میں بنے ہوئے ریشم کے نازک پارچہ جات پرمشتمل
تھاکچھی کے جنگلات سے حاصل ہونے والے ریشم کی چمک سونے سے کم نہیں تھی۔ اکثر خریدار یہ سمجھتے تھے
کہ یہ سونے کی تاروں سے بنا ہوا کپڑا ہے۔سامان کے اس حصے کو بائیس اونٹوں پر مضبوطی کے ساتھ باندھا گیا تھا ۔
ایک بوڑھا تاجر جو ہمارے قریب چل رہا تھا اس نے بہلول سے پوچھا
’’ نوجوان تم کیابیچنے جا رہے ہولہوار‘‘
بہلول نے آہستہ سے کہا
’’دماغ‘‘
بوڑھے تاجر نے سوچتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا اور کہا
’’جانتے ہو دماغ کسے کہتے ہیں ‘‘
بہلول نے کہا
’’ہاں دماغ دیوتائی عقل کے منبع کو کہتے ہیں جوروح کو سمجھنے کی اہلیت رکھتاہے ‘‘
بوڑھا تاجر بولا
’’اور روح‘‘
بہلول نے کہا
’’روح اس مکمل وحدت کی ایک کرن ہے جو ہر شے کی اصل ہے‘‘
اب بوڑھے تاجر نے محبت بھرے انداز میںبہلول کو دیکھااور بولا
’’میری دعاہے کہ تم جس مقصد کے لئے جارہے ہو اس میںعقل کا دیوتا تم پر مہربان رہے تمہاری باتوں سے
الہام کی خوشبو آتی ہے الہام جو زندگی کی رہنمائی کیلئے روح ِ ِکل کا سب سے بڑا انعام ہے‘‘
چلتے چلتے اچانل قافلہ رک گیا کسی اونٹ پر بندھی ہوئی پسے ہوئے نمک کی بوری میں سوراخ ہو گیا تھا۔بوڑھا
تاجر ہمیں چھوڑ کر اس سمت بھاگا۔میں نے بہلول سے کہا
’’بوڑھا تاجر ایسا بھاگا ہے جیسے بوری سے نمک نہیں سونا بہہ رہا ہو‘‘
بہلول نے کہا
’’میرے نزدیک تو یہ نمک سونے سے زیادہ اہم ہے۔ تمہیں معلوم ہے جس کان سے یہ نمک نکلتا ہے اس
میں کام کرنے والوں کی عمر چالیس سال سے زیادہ نہیں ہوتی
میں نے حیرت سے کہا
’’وہ کیوں ‘‘
بہلول کہنے لگا
’’نمک ہڈیوں کو چاٹ جاتا ہے۔۔۔انسانی زہر کے تریاق ہر بوری،انسانی سانسوں کا اجتماع ہوتی ہے اور سانس
سے زیادہ قیمتی شے اس کائنات میں اور کوئی نہیں‘‘
میں نے سوچتے ہوئے کہا
’’انسانی زہر کا تریاق۔۔یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی ‘‘
بہلول نے مجھے حقارت بھری نظر سے دیکھاجیسے اس واسطہ کسی بہت ہی کند ذہن شخص سے پڑ گیا ہو اور
کہنے لگا
’’انسان بنیادی طورپر ایک زہریلا جانور ہے۔بہت زیادہ زہریلا جانور۔۔وہ انسان جو نمک نہیں کھاتے وہ اتنے زیادہ
زہریلے ہوتے ہیںکہ غلطی سے انہیں کبھی اڑنے والا کوبراکاٹ لے توخود مرجاتا ہے۔‘‘
مجھے پھر حیرت سے پوچھنا پڑ گیا‘‘
’’میں سانپوں کے متعلق بہت کچھ جانتا ہوں مگرکوبروں کی کوئی ایسی نسل میری نظر سے نہیں گزری جو
اڑ بھی سکتی ہو‘‘
بہلول نے ہنس کرکہا
’’اڑنے والے کوبرے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے پر ہوتے ہیں ۔ یہ کوبرے دراصل بہت لمبی چھلانگ لگانے پر قادر
ہوتے ہیں اسی چھلانگ کے دوران ڈس بھی لیتے ہیں ۔یہ دنیا کا سب سے زہریلا سانپ ہوتا ہے‘‘
میں بحث کرتے ہوئے کہا
’’مجھے اس نسل کا پتہ ہے مگر یہ کوبرے نہیں ہوتے‘‘
بہلول میری بحث سے اکتا کے بولا
’’ اچھا بھی یہ کوبرے نہیں ہوتے ہونگے ۔ مجھے تمہاری یارو سنیاسی سے کرانی پڑے گی اس کے مخبوں میں کئی ایسے
کوبرے موجود ہیں اور خود یارو سنیاسی کوبرے سے زیادہ زہرہلا ہے‘‘
میں نے پوچھا
’’کیا اس نے ساری زندگی نمک نہیں کھایا‘‘
بہلول کہنے لگا
’’اس کا تعلق جس قبیلے سے کہا اس میں نمک کے استعمال کا ابھی رواج شروع نہیں ہوا۔اس قبیلے
کی لڑکیاں اور لڑکے صرف ایک دوسرے سے شادی کرتے ہیں ۔ان کا کوئی فرد کسی نمک کھانے والے سے شادی
کرلے تو بیچارے کی فوراً موت واقع ہوجاتی ہے۔ یارو سنیاسی کی دو بہت خوبصورت بیٹیاں ہیں مگر لوگ ان کے
قریب سے بھی ڈر کر گزرتے ہیں‘‘
اور کہیں قریب میں آک کا کویا پھٹا اور زندگی جاگی۔ہوا کے جھونکے نرم نرم ریشوں اپنے پروں پر سجا کر اڑنے لگے۔
آک کے کچھ ریشے پرمیرے چہرے سے لپٹ گئے اور ادھر بوڑھا تاجر میری طرف متوجہ ہوامگر
اس کے کچھ کہنے سے پہلے سائیکی نے میرا کندھا پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا اور میں دوہزار دس عیسویں میں
واپس آگیا میں وہیں بریڈفورڈ کے کارلائل بزنس سنٹر میں بیٹھا ہوا تھاکھڑکی سے آتی ہوئی دسمبر کے سورج کی
برفاب شعاعیںسیدھی سائیکی کے چہرے پر پڑ رہی تھیں ۔اس کا چہرہ دوسو واٹ کے دودھیابلب
کی طرح روشن تھاحالانکہ سائیکی کی رنگت گندمی مائل تھی ایک آدھ سکینڈ میری نظریں اس
روشنی پر مرتکز ہوئیں توسائیکی پیپر کٹر کو اپنی انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہنے لگی
’’یہ کہاں کھو جاتے ہو اتنی اتنی دیر۔۔ میں کتنی دیر سے تمہارے سامنے کھڑی ہوں اور تمہیں دکھائی ہی نہیں
دے رہی‘‘
میں نے ہاتھ سے اپنے چہرے پر چپکے ہوئے آک کے نرم ریشے ڈھونڈتے ہوئے کہا۔’’میں ذرا بہلول کے
ساتھ تھا‘‘
سائیکی بولی
’’بہلول بہلول۔۔جاگتے میںبہلول ۔ سوتے میں بہلول ۔۔کہیں تم پاگل ہی نہ ہو جائو اسے سوچ سوچ کر ۔تم نے تو
اسے اس طرح حواس پر طاری کر لیا ہے جیسے تمہاری زندگی میں میانوالی کے اس قدیم فلاسفر سے
اہم شے کوئی اور ہے ہی نہیں ۔۔‘‘
میں نے سائیکی سے کہا
’’وہ مجھے اچھالگتا ہے اس کے ساتھ جب میں گفتگو کرتا ہوں تو یقین کرو مجھے یوں احساس ہوتا ہے جیسے وہ اور
میں ایک ہی زمانے میں ہیں۔ میں اسے محسوس کرتا ہوں ۔ مجھے اس کی سانسوں کی آواز تک سنائی دیتی ہے
۔میں اسوقت دو ہزار سال پرانی صاف ستھری ہوا میں اڑتے ہوئے آک کے نرم نرم ریشوں کو مس کر رہا
ہوں۔‘‘
سائیکی مجھے سنجیدگی سے دیکھتے ہو ئے کہنے لگی
’’مجھے تو شک پڑنے لگ گیا ہے تمہاری ذہنی حالت پر۔۔ پتہ نہیںیہ آقا قافا تم سے کیا چاہتا ہے ‘‘
میں نے کہا
’’ کون ‘‘
تو بولی
’’میں نے تم سے ذکر کیا تھا اپنے مرشد کا ۔تمہاری طرح بڑے اچھے شاعر ہیں۔ ان سے میں نے
تمہارے متعلق بات کی تھی وہ تم سے شاید ملنا چاہتے ہیں‘‘۔
میں نے ہنس کر کہا
’’ شاید۔۔ شایدکیوں ۔۔ ویسے تمہاری اطلاع کیلئے عرض ہے کہ میںایک آزاد خیال مسلمان ہوں اور ان پیری مریدی
کے سلسلوں کو روزی کے دھندے سمجھتا ہوں ۔بیچارے مرید یہ سمجھتے ہیں یہ پیر ہمارا رکھوالا ہے اور پیر سمجھتے
ہیں کہ یہ اون سے بھری ہوئی بھیڑیں ہیںجن کی کھال ذبح کیے بغیر بھی اتاری جا سکتی ہے‘‘
سائیکی بولی
’’ میں تمہیں جانتی ہوں۔۔ اتنے دنوں میںکسی کے عقائد اور نظریات تو ایک طرف اس کی روح کو بھی
سمجھا جاسکتا ہے‘‘
میں ہنس کر بولا
’’ اتنے بڑے بڑے دعویٰ اچھے نہیں ہوتے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا ۔وقت کا کالا انجن بیچارہ ۔ہمارے بیچ۔رک
رک کے چل رہا ہے۔اتنی آہستگی سے تو ماڑی انڈس سے عیسیٰ خیل جانے والی ریل گاڑی بھی نہیں چلتی تھی‘‘۔
سائیکی ہنس کر بولی ’’
میں اس ریل گاڑی کے متعلق تم سے زیادہ جانتی ہوں وہی جو اڑھائی فٹ کی ریلوے لائن پر چلا کرتی تھی‘‘۔
میں نے اس کی معلومات سے خوفزدہ ہوکربات بدلتے ہوئے کہا
’’بہلول نے کہا تھاآدمی کی پہچان سفر میں یا خواب میں ہوتی ہے۔ابھی نہ تو ہم نے مل کر سفر کیا
ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خواب دیکھے ہیں ‘‘
سائیکی زچ ہو کر بولی
’’ یہ بہلول زندہ ہوتا تو میں اسے مار دیتی ۔ ۔
میں ہنس کر کہا
’’کیا آنکھ ‘‘
سائیکی نے مصنوعی غصے سے پیپر کٹر کی نوک میری ہاتھ میں چبھوئی اور کہا
’’میں کوئی دھان پان کی لڑکی نہیں ہوں ۔ کئی بار موت کے کھیل میں شریک رہی ہوں ۔مرتے ہوئے لوگوں کا بغور
مطالعہ کیا ہے میں نے‘‘
میں نے سائیکی کی ہولناک دعوئوں سے صرف ِ نظرکرتے ہوئے کہا
’’ ایک بات پوچھتا ہوں سچ سچ بتانا۔‘‘
سائیکی بولی۔
’’کیا‘‘
میں نے کہا
’’میں دو مرتبہ تمہارے گھر گیا ہوں ۔ میں نے دونوں مرتبہ کھڑکی سے تمہیں لیونگ روم میں بیٹھے
ہوئے دیکھ لیا تھامگر تم اٹھ کر اندر کمرے میں چلی گئی یا دروازے کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ تمہاری ملازمہ نے
آکرجب مجھے لیونگ میں بیٹھا دیا تو تم پھر لیونگ روم داخل ہوئی ۔ اس کا سبب کیا ہے‘‘
سائیکی ہنس بولی
’’صرف اسلئے تمہارے آمد مجھے نہ اٹھنا پڑے ۔ بلکہ میری آمد پر تمہیں کھڑا ہونا پڑے ‘‘
میں نے ماتھے پر پھیلتی ہوئی شکنوں کو کم کرنے کیلئے سگریٹ کی ڈیبا سے سگریٹ نکالا اور اسے لائیٹر سے
جلاتے ہوئے کہا
’’سائیکی یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ‘‘
کہنے لگی
’’میں بس ایسی ہی ہوں اور ایسی ہی رہنا چاہتی ہو۔۔ ۔ تم یہ بتائو کہ تم جیسے ہی پیکٹ سے سگریٹ نکالتے ہو فوراً اسے
جلاتے ہو ۔اتنی تیزی سے سگریٹ جلانا تمہیاری شخصیت کو زیب نہیں دیتا
‘‘میں نے کہا
’’سائیکی مجھے اپنے ہاتھ میں ان جلا سگریٹ کسی انگارے کی طرح محسوس ہوتا ہے ‘‘
سائیکی نے حیرت سے کہا
’’وہ کیوں ۔۔ میرے پاس اکثر ’سر پٹیل آتے ہیں ۔ میں ان کیلئے بھی کبھی کھڑی نہیں ہوئی‘‘
میں نے طنزیہ کہا
’’پٹیل اس لئے بڑا آدمی ہے کہ اسے ملکہ برطانیہ نے نائٹ ہڈ کا خطاب دے رکھا ہے ‘‘
سائیکی بولی
’’نائٹ ہڈ کا اعزاز یعنی سر کا خطاب آسانی سے کسی کو نہیں ملتا ‘‘
میں نے کہا
’’یہ سر۔۔ور اپنے پاس رکھو۔مجھے تو اس لفظ سے اپنے اجداد کے خون کی بو آتی ہے ‘‘
سائیکی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی
’’اوہ یہ تم نے کن باتوں میں الجھا دیا ہے میں تویہ کہنے آئی تھی کہ میں ایک گھنٹے کے بعد آئوں گی ہم دونوں قنے تین بجے
آقا قافا کی مجلس میں شریک ہونا ہے ۔ ادھر ادھر مت ہو جانا ۔۔ہمیں وہاں جانا ہے ‘‘
میں نے ہنس کہا
’’جب تم نے کہہ دیا ہے کہہ جانا ہے تو پھر جانا ہے ‘‘
میرا جملہ ابھی آدھا تھا کہ سائیکی کمرے سے باہر جا چکی تھی۔اور میرا بزنس پارنٹر ورما اندر داخل
ہوا اور ہنس کر بولا
’’سائیکی سے تمہاری دوستی کچھ لمبی نہیں ہوگی ؟۔کبھی اس کے بارے میں کچھ بتایا نہیں۔میں کافی دیر سے
اس کے جانے کا انتظار کر رہا تھا ‘‘
میں نے اسے کہا
’’میرا وہ دوست رضا ملال ہے نا لیڈز یونیورسٹی میں میڈیا ڈپارٹمنٹ کا چیئرمین۔۔ اس نے ایک دن
سکرپٹ رائیٹنگ کے موضوع پر لیکچر دینے کیلئے مجھے یونیورسٹی میں بلایاتھا۔انگریز طالب علموں نے تو
میرے لیکچر میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لی تھی مگرایک ایشین لڑکی لیکچر کے بعد میرے سر ہوگی ۔ ۔۔
خوبصورت تھی اس لئے میں نے بھی اس میں دلچسپی لینی شروع کردی ۔‘‘
ورما بولا
’’ہاں ہاںپہلے پہلے سائیکی تم سے تو صرف سکرپٹ رائیٹنگ کے حوالے کچھ پوچھنے ہمارے دفتر آیا کرتی تھی‘‘
میں نے کہا
’’ اس نے اپنے لکھے ہوئے ایک ڈرامہ سریل کے پانچ ایپی اسوڈ کا مسودہ مجھے دیا تھا مگر مجھے وقت ہی نہیں ملااسے پڑھنے
کا‘‘
ورما طنزیہ انداز میںہنس کر بولا
’’ہاں جب سائیکی جیسا خوبصورت سکرپٹ پڑھنے مل جائے تو پھر کاغذوں سے کچھ پڑھنے کی کیا
ضرورت ہے‘‘
میں نے کہا
’’ نہیں وہ ایسی ویسی نہیں ہے ۔بس خالی خولی دوست ہی ہے۔بڑی انا ہے اس میں ۔ اپنے آپ کو کوئی بہت
توپ چیز سمجھتی ہے ۔اکیلی رہتی ہے ۔اکثر لوگوں سے اس کارویہ غلاموں جیسا ہوا ہوتا ہے ۔اس نے
گھر میں ملازمہ رکھی ہوئی ہے ۔فل ٹائم ملازمہ ۔اور وہ برطانیہ میں بھی اس کے سامنے سہمی ہوئی کھڑی ہوتی
ہے ۔
ورما نے حیرانگی سے کہا
’’یہاںبرطانیہ ملین ائیر بھی گھر میں ملازم نہیں رکھتے۔لگتا ہے اس کے پاس بہت دولت ہے۔ کام
کیا کرتی ہے ۔کوئی بزنس ہے اسکا‘‘میں نے کہا’’ نہیں کوئی کام نہیں کرتی ۔میں نے ایک بار پوچھا تھا
اس سلسلے میں تو کہتی تھی باپ دادا بہت چھوڑ گئے ہیں اس لئے نسلوں تک ختم نہیں ہو گا۔
ورما بولا۔
’’اکیلی لڑکی ہمیشہ پارٹنر کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ کئی ایسی بھی ہوتی ہیں جہنیں ہر رات نئے پارنٹر کی ضرورت
ہوتی ہے۔ میں نے کہا’’نہیں ورما اس حوالے بہت مضبوط لڑکی ہے ۔ایک بار اتفاق سے میرا ہاتھ اس کے
 جسم کے کسی حصے سے جا لگاتھا جس پر وہ کئی روز تک ناراض رہی تھی ۔باقاعدہ منانا پڑا تھا‘‘
ور ما نے حیرت سے کہا
’’اتنے خوبصورت ’’اتفاق ‘‘ سے ناراض ہو گئی تھی ‘‘
میں نے کہا
’’اسے چھوڑو یہ بتائو آج میرے لئے کوئی کام ہے ۔
ورمابولا۔
’’ کام ۔۔ تمہیں محبت کرنے کے سوا اور کوئی کام آتا ہے کیا ‘‘
اور چیک بک میرے سامنے میز پر پھینک کرکمرے سے باہر نکل گیا۔۔ چیکوں پر دستخط کرتے ہوئے میں نے
فائلوں والی ٹرے میں نظر دوڑائی تو مجھے اس حقیقت کا احساس ہواکہ جب سے میں نے ورما کو اپنا بزنس
پارٹنر بنایا ہے میرے پاس دفتر میں چیک سائن کرنے کے سوا کوئی کام نہیں رہا۔لکھنے پڑھنے کا کام چھوڑے
ہوئے بھی کئی سال ہو گئے تھے ۔وقت نے مجھے کہا تھا کہ چیک پہ چلتا ہوا قلم میر و غالب کے قلم سے زیادہ
اہمیت کا حامل ہے تو میں نے اپنی بال پوائنٹ کو پارکر کے ایسے پین سے بدل لیا تھا جس میں سونے کی نب
لگی ہوئی تھی پھر مجھے یاد آیا کہ بہلول اور میں تو لہوار جا رہے تھے
صحرا کی دھوپ میں دھلی ہوئی ہواکا ایک ریت سے بھرا ہوا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا۔اور بہلول کہنے
لگا
’’اس ہوا کے بارے میں بابا کہا کرتے تھے۔ یہ ازل سے سفر میں رہنے والی بے شکل بلا کبھی کبھی صحرا میں
پاگل اونٹنی کی طرح کاٹنے لگتی ہے یہ نظر آئے تو ناگ دیوتا کے ہاتھ سے چہرہ ڈھانپ لیا کرو‘‘
میں نے سوالیہ انداز میں پوچھا
’’ناگ دیوتاکا ہاتھ؟ ‘‘
بہلول میری طرف دیکھ کر بولا
’’ تمہیں تو ہر بات بتانی پڑتی ہے۔۔یہ جو ہم بل دے کر سر پر چارد کی کنڈلی مارلیتے ہیں یہ ناگ دیوتا کی علامت
ہے ۔ ناگ دیوتا کا ہاتھ۔۔پگڑی کے پلوکو کہا جاتا ہے۔۔۔‘‘
اور میں نے بھی بہلول کی طرح پگڑی کے پلو کو چہرے کا نقاب بنا لیا۔کچھ دیر ہم خاموشی کے ساتھ
چلتے رہے۔اچانک میری نظر پہاڑ کی طرف اٹھی تو ایک سلیٹ کی طرح سیدھی چٹان پر کچھ تصویریں
بنی ہوئی تھی ۔میں نے بہلول کو ان کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تو کہنے لگا
’’ میں تم سے پہلے پڑھ چکا ہوں‘‘ ۔
میں نے حیرانگی سے پوچھا
’’کیا یہ کچھ لکھا ہوا ہے ‘‘
کہنے لگا
’’تم بولتے بہت ہو ۔۔ہاں یہ قطبی ستارے کی شان میں لکھا ہوا ایک دراوڑی گیت ہے ‘‘
میں نے کہا
’’سنائو گے نہیں ‘‘
اور بہلول گیت پڑھنا شروع کردیا
ابھے پاسے بکھداے ہن دے لیکھ دا تارہ
گندھیاے جیدے لشکاراںبھگوان دا گارا
شمال کی طرف سے ہنوں کے مقدر کا ستارہ روشن ہوتا ہے جس کی شعاعوں میں بھگوان کے بت کا گارا گوندھا گیا ہے
میں نے گیت کے بول سن کر حیرت سے کہا
’’یہ تو سرائیکی زبان ہے‘‘
بہلول کہنے لگا
’’سرائیکی ۔یہ بھی کسی زبان کا نام ہے۔یہ ہنی زبان ہے ۔ہنوں کی زبان ‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’یہ ہن کون تھے‘‘
بہلول بڑی بے رحمی سے بولا
’’جتنے جاہل تم ہو اتنا جاہل تو ہمارے قبیلے کا بال کاٹنے والا بھی نہیں ‘‘
مجھے ایسے لگا کہ آج بہلول گفتگو کرنے کے موڈ نہیں ہے سو میں نے بھی خاموشی پہن لی مگر ابھی ایک کوس ہی نہیں
 چلے تھے کہ اس نے مجھ سے کہا
’’ میرا خیال ہے تم زیادہ دیر میرے ساتھ نہیں چل سکو گے ۔تم دوسراپائوں ابد پر رکھنا چاہتے ہواور
میں ازل کو سمجھنے کیلئے برسوں سے پہلے قدم پر رکا ہوا ہوں۔تمہارے نزدیک فلسفہ ئ صبر قاتلوں کی منطق ہے اور
میں انتظارکی صدیوں بھری وحشت کا مسافر ہوں۔تم ایک چھلانگ میں معرفت کی اعلیٰ ترین منزل
پر پہنچنے کا خواب دیکھتے ہو اور میںاپنی فکری پرواز میں معرفتِ اعلیٰ کا پابند ہوںمیرے لئے اس حقیقت تک
پہنچنے کے بہت سے مدارج ہیں جن سے میں نے گزرنا ہے ۔ دیکھو آندھیوں اور طوفانوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے ‘‘
میںنے اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا
’’بہلول تمہارا تعلق گائوں سے ہے اور تم یہ بھی کہتے ہو کہ تم پہلی باردھن کوٹ جیسے بڑے شہر میں آئے ہو ۔تو
پھریہ اتنی عقل مندی کی باتیں کہاں سے سیکھی ہیں‘‘ ۔
بہلول ہنس پڑا اور بولا
’’ علم صرف شہروں میں لفظوں کو چبانے والے گیدڑوں کا ورثہ تونہیں۔میرے ساتھ درختوں کے
پتے باتیں کرتے ہیںلہلہاتی فصلیں مجھے کہانیاں سناتی ہیں۔ان چھوئے جنگل مجھے اپنے خواب دکھاتے ہیں ۔ میری
پرندوں کی گفتگو رہتی ہے۔ہوائیں مجھے لوریاں دیتی ہیں۔ سندھ کے پانی مجھ سے سر گوشیاں کرتے ہیں۔پہاڑ آگے بڑھ
بڑھ کے میرے پائوں چومتے ہیں ۔ دشت میری آنکھ کی وسعت سے سہمے رہتے ہیں۔ راتوں کو ستارے مجھ سے ہمکلام ہوتے ہیں‘‘
بہلول کے منہ سے اتنی بڑی باتیں سن کر میں نے کہا
’’تو پھرلہوارجیسے شہر میں لفظوں کو چبانے والے گیدڑ وں سے کیا لینے جارہے ہو۔‘‘
بہلول کی پیشانی شکنوں سے بھر گئی اور بولا
’’تمہیں کہا ناکہ ماروائی اصل تک پہنچنے کے لئے جو مدارج میں نے طے کرنے ہیں ان کیلئے کسی رہنما کی ضرورت
پڑتی ہے میں نے سنا ہے کہ لہوارمیںچندروید نام کا ایک آدمی ہے جو اس سلسلے میں میری مدد کر سکتا ہے‘‘
اور میں نے چونک کر کہا
’’یہ کیسی آواز ہے شاید کوئی گھنٹی بج رہی ہے‘‘
اور ٹیلی فون کی گھنٹی مجھے واپس دفتر میں لے آئی ۔ فون پر سائیکی تھی کہ میں پارکنگ میں انتظار کر رہی
ہوں اور چند لمحوں کے بعد میں سائیکی کی گاڑی میں کارلائل روڈ سے گزر رہا تھا ۔کار منگھم لین پر مڑی۔ اس وقت
ہمارے دائیں طرف منگھم پارک تھا۔اسے دیکھتے ہی مجھے وہ شام یاد آگئی جب منگھم پارک کی جھیل میں
سائیکی ساتھ بیٹھ کر میں کشتی رانی کی تھی اس جھیل میں گھومنے کیلئے پیڈلوں والی چھوٹی چھوٹی کشتیاں
کرائے پر ملتی ہیں ۔ایک کشتی صرف دو آدمی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں اور وہ بھی بہت زیادہ ایک
دوسرے کے قریب ہو کر۔۔۔اسی کشتی رانی کے دوران میرا ہاتھ سائیکی کے جسم کے کسی نازک حصے سے ٹکرایا
تھااور وہ ناراض ہو گئی تھی۔کار منگھم لین کو پیچھے چھوڑتی ہوئی کیتھلے روڈ پر آگئی۔میں نے سائیکی سے کہا
’’تمہیں معلوم ہے نا آج کتنا اہم کر کٹ میچ ہے ۔میری جیب میں دو ٹکٹ بھی موجود ہیں کہو تو گاڑی لیڈز کی
طرف موڑ لوں ‘‘
سائیکی بولی
’’نہیں ہرگز نہیں ‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’تمہیں کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’میرے بدن پر کرکٹ کی گیندوں کے لگے ہوئے بہت زخم ہیں ۔ہم جدھر جا رہے ہیں بس ادھر ہی جا رہے ہیں ‘‘
میں نے مسکرا کر کہا
’’ کوئی نوکدار گیندیں تھیں ۔ کہاں سے ہوئی تھی تم پر باولنگ‘‘
سائیکی نے بڑی معصومیت سے کہا
’’کمپیوٹر کے مانیٹر سے نکل نکل کر لگتی رہی ہیں مجھے ‘‘
میں نے ذرا سا سنجیدہ ہو کر کہا
’’اتنی علامتی گفتگو اچھی نہیں ہوتی ۔ایک لفظ کے کئی کئی مطلب ہوتے ہیں ‘‘
سائیکی بڑی سنجیدگی سے کہنے لگی
’’میں نے کوئی علامتی بات نہیں کی ۔۔ شاید تمہیں اس کا تجربہ نہیں ہے کبھی کبھی سکرین سے کردار باہر
بھی نکل آتے ہیں۔مگر ہر شخص ان کرداروں سے ہمکلام نہیں ہو سکتا‘‘
میں نے اس کی سنجیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا
’’کمپیوٹر کے متعلق کتنا کچھ جانتی ہو ‘‘
کہنے لگی
’’ تمہارے تصور بھی شاید کچھ زیادہ۔۔۔۔کمپیوٹر کا شمار میرے محسنوں میں ہوتا ہے۔تم سوچ بھی بہیں سکتے کہ
میں اس کمپیوٹر کی کھڑکی یعنی ونڈو کا کتنا احترام کرتی ہوں۔ یہ جادوائی کھڑکی میرے نزدیک زندگی میں نہ
آتی تو پتہ نہیں میرا کیا حشر ہوا ہوتا ‘‘
میں نے سائیکی کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
’’کیا احسان کیا ہے کمپیوٹر نے تم پر ‘‘
سائیکی بولی
’’میں یہاں سے پانچ ہزار میل دور ایک قید خانے میں تھی ۔جہاں مجھے صرف کمپیوٹر کی میسر تھی ۔میں وہاں اس ونڈو میں داخل ہوئی اور یہاں برطانیہ آنکلی
میں نے ہنس کر کہا
’’ لگتا تو نہیں ہے مگر ممکن ہے تم کمپیوٹر کا کوئی پروگرام ہو‘‘
سائیکی نے اور زیادہ سنجیدگی سے کہا
’’صرف میں نہیں تم بھی ایک ڈیزائن شدہ پروگرام ہو مگر ہمارا پروگرامر کوئی آدمی نہیں خدا ہے ‘‘
اسی لمحے مجھے ایک تیز رفتار گاڑی بالکل سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی میں تیزی سے کٹ ماری ااورسانس
بحال کرنے کیلئے گاڑی روک دی ۔ ایکسینڈنٹ ہوتے ہوتے رہ گیا تھامیں نے سائیکی کی طرف دیکھا تووہ
بڑے اطمینان سے بیٹھی ہوئی تھی۔میں نے سائیکی کہا
’’کوئی کالا تھا‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ہاں کالے وائرس بڑے خطرناک ہوتے ہیں ۔ ہمیں اللہ نے بچالیا ہے وگرنہ کمپیوٹر سچ مچ کرش ہونے لگا تھا‘‘
یک لخت پھر لولیس کے سائرن بجنے کی آوازیں آنے لگی اور پھر لیولیس کاریں شاں کر کے ہمارے قریب سے گزر گئی یقینا وہ
کالا پولیس بھاگ رہا تھا۔سائیکی بولی
’’اوہ تو اینٹی وائرس فورسز پیچھے لگی ہوئی تھیں‘‘
ہم نے چند منٹ خاموشی سے سفر طے کیا۔ اچانک مجھے سائیکی کی گوری ماں یاد آئی اور میں نے
سائیکی سے پوچھا
’’سائیکی تم نے تو کہا تھا تمہاری ماں انگریز تھی۔ پھر تم یہاں پانچ ہزار میل دور سے کیسے آئی ہو ‘‘
سائیکی براسا منہ بنا کر بولی
’’مجھے ماں نے یہاں سے پانچ ہزار میل دور جنم دیا تھا ۔۔۔گاڑی آہستہ کر لو۔ ہم بس یہاں سے گیٹ کے اندر داخل ہونا ہے‘‘
اور پھر سائیکی کے کہنے پر میں ایک وسیع عریض پیلس کے گیٹ میں گاڑی موڑلی ۔اور بر بڑاتے ہوئے کہا
’’یہ تو کوئی بہت امیر آدمی ہے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔