دوسری مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس



خواب گاہِ دماغ کی کھلی کھڑکیوں پر لٹکتے ہوئے باریک پردے ہوا کے زیر و بم کے ساتھ جاگ جاگ جاتے تھے۔ کمرے میں اونگتی
ہوئی ہلکی نیلی روشنی لہرا لہرا جاتی تھی۔صبحِ وصال کی شعاعیں پچھلی گلی سے نکل نکل دیواروں کے کینوس پرالٹی ترچھی لکیریں کھینچ
رہی تھیں ۔زمانے بدل رہا تھا۔شہر تبدیل ہو رہے تھے۔زبانیں بنتی اور بگڑتی جا رہی تھیں۔ روح کی تقسیم کا عمل جاری تھا۔عدم
سے کچھ وجود میں آرہا تھا۔خواب کی کار چل رہی تھی۔ خیال کے پائوں اٹھ رہے تھے۔آسمان پر کچھ لکھا جا رہا تھا۔میرے ارد گرد
کوئی خوشنما کہانی نبی جا رہی تھی۔کسی قبر سے زندگی کی کوپنل ابھر رہی تھی۔
سوچوں کو بدن مل رہے تھیں ۔کائنات ِ ذات میں تحریک ہو رہی تھی


دوسری مجلس




جب ہم آقا قافا کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو اندر نماز ہو رہی تھی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ امام کے پیچھے
دو صفیں تھی پہلی صف میںدس گیارہ نوجوان کھڑے تھے اور دوسری صف میں بھی تقریباً اتنی ہی نوجوان لڑکیاں ۔ان میں کچھ
مغربی لباس میں بھی تھیں۔ یہ عصر کی نماز تھی چند ساعتوں میں ختم ہو گئی میں نے امام کے دعا مانگتے ہوئے چہرے کو غور سے
دیکھا۔ یاد رکھنے والا خوبصورت چہرہ تھا۔عمر زیادہ سے زیادہ تیس سال ہونی چاہئے اس نے تازہ شیو کیا ہوا تھاوہ نوجوان امام میری
زندگی کا سب سے حیرت انگیز شخص تھاثبوت کیلئے یہی بہت ہے کہ اس نے پہلی نظرمیں مجھ جیسے آوارہ فکر شخص کو متاثرکرلیا تھا
سائیکی نے اس سے میرا تعارف کرایااور پھر سائیکی اور میں بھی دوسروں کی طرح مئودب ہو کرقالین پر بیٹھ گئے ۔میرے سامنے
والی دیوار پر دو تلواریں ایک دوسرے کو کراس کرتی ہوئی لگی ہوئی تھیں ان کے نیچے شیر کی کھال آویزاں تھی ۔میں نے دوسری
دیوار کی طرف دیکھاتو وہاں آرٹ کے تین نمونے سجے ہوئے تھے ایک صادقین کی پینٹنگ تھی جس میں ایک مشہور آیت کو اس
نے تجسیم کیا ہوا تھا۔دوسرے دو نمونے مجھ سے دور تھے لیکن اتنا احساس ہو رہا تھا کہ کوئی تجریدی آرٹ کے شہکار ہیں ۔جب
سائیکی نے اپنے مرشد سے ملاقات کیلئے مجھے کہا تھاتو میں نے سوچا تھاکوئی ساٹھ ستر سال کا بوڑھا شخص ہو گالمبی لمبی داڑھی ہو
گی۔تعویذدھاگے کا کام کرتا ہو گااور بیچاری سائیکی اپنی ضعیف العتقادی کی وجہ سے اس کے چکر میں آگئی ہو گی مگر اس محفل میں
تو سائیکی سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں موجود تھیں اور آقا قافابے پناہ پر کشش شخص نظر آتا تھااس نے بہت شاندار سوٹ پہن
رکھا تھاٹائی لگائی ہوئی تھی لباس کے رنگوں میں حسنِ تناسب اس کے ذوقِ جمال کی خبر دے رہا تھامیں زندگی میں پہلی بار کسی ایسے
شخص کو دیکھ رہا تھا جو سوٹ پہن کر امامت کرا رہا تھا
ایک طویل خاموشی کے بعد آقا قافا نے اپنے لب کھولے اور بڑے دھیمے لہجے میں کہا
’’آج ایک ایسا شخص ہماری محفل میں موجود ہے جس نے خواب اور حقیقت کے درمیان ایک پل بنا لیا ہے وہ جاگتے ہوئے تصور
میں جہاں تک پہنچتا ہے اس سے آگے کا سفر سونے کے بعد خواب میں شروع کر لیتا ہے اور اپنے اس کمال کااسے احساس ہی
نہیںشاید یہ کمال اسے بہلول کی ہمسفری سے ملا ہے۔ لیکن اسے علم نہیں کہ وہ ذہنی ارتقائ کے جس سفر پر روانہ ہونے والا ہے
اس راستے پر بہلول زیادہ دیر تک اس کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔ وہ نہیں جانتا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ کچھ بھی نہیں جانتا نہ اپنے
بارے اور نہ ہمارے بارے میں ۔۔ وہ تو یہاں صرف سائیکی کا دل رکھنے کیلئے آیا ہے مگر مجھے بڑے دنوں سے اس شخص کا انتظار
تھا۔۔شاید اس کی یا میری کوئی نیکی ہم دونوںکے کام آگئی ہے جس نے اسے سائیکی سے ملا دیا ہے سائیکی جو اس کا باطن ہے سائیکی جو
اس کی روح ہے سائیکی جو روحِ کل سے اس کے رابطے کا ذریعہ ہے اور اس کی دوست بھی ۔ابھی میری باتیں اسکی سمجھ میںنہیں
آئیں گی ۔ کیونکہ یہ تو وہ ہے جو اپنے گناہوں کا حساب رکھتا ہے ان پر اتراتا ہے اس کے خیال میں سائیکی اس کی زندگی میں آنے
والی دوسو اکیسویں لڑکی ہے اور میرے خیال کے مطابق پہلی۔۔اسے لڑکیوں کو تسخیر کرنے میں حسن دکھائی دیتا ہے اور جب گناہ
خوبصورت نظر آنے لگیں بدی خوبی محسوس ہونے لگے تو اس کا مطلب ۔ کوئی مطلق مایوسی نہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس
شخص کا باطن مردہ خانہ بن چکا ہے جہاں ثواب اور خیر کی لاشیں پڑی ہوئی ہیںمگر روح کے ویرانوں میں جتنا بھی اندھیرا ہو جائے
کوئی نہ کوئی چاند کوئی نہ کوئی ستارہ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتا ہے۔ عورت اور مرد کا ملاپ تو ’’کن‘‘ کے فروغ کا نام ہے ثوابِ
عظیم ہے صدقہ ئ جاریہ ہے بس اتنی سی بات ہے کہ آپ خدا کی کھینچی ہوئی لکیر کے اندر کھڑے ہیں یا باہر۔۔آپ نے اسے گواہ
بنایا ہے یا نہیں۔وہ جو ہر شخص کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے۔وہ بادشاہ ہے چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق اس خوبصورت
ترین عمل میں اسے بھی یاد رکھے۔ خوبصورت ساعتوں میں اسے یاد کرنا بدصورت ساعتوں میں اسے یاد کرنے سے ہزار گنا افضل ہے‘‘
اور پھر آقا قافاکی گفتگواس موضوع کے ادر گرد گھومنے لگی کہ نیکی کیا ہے۔تقریباًوہ گھنٹہ بھر بولتے رہے اور پھر مجلس اختتام کو
پہنچی۔میں باہر نکل آیا سائیکی ابھی اندر تھی کسی کے ساتھ کوئی بات کر رہی تھی میںنے آقا قافا کی ڈرائیو وے میں سائیکی کی کار کے
پاس کھڑے ہو کرغور سے اس عمارت کو دیکھنا شروع کیا ۔ یہ کوئی پرانا پیلس تھالیکن اسے بہت خیال سے رکھا گیا تھا۔ محراب دار
کھڑکیوں میں رنگ دار شیشے کا کام تھامحرابوں کے اور پر نیلے رنگ کے شیشے کی ایک موٹی سے لائن تھی جو محراب کے ساتھ ساتھ
بل کھاتی چلی جاتی تھی ۔گھر کے باہر صحن کی دیوار سے ملحقہ ایک بڑی سے ڈیوڑھی تھی جسے پتھر کے گول گول ستونوں پر اٹھا گیا
تھااور اس کے اوپر مورچے بنے ہوئے تھے یہ مورچے پیلس کے چاروں کونوں پر بھی تھے جن کے اوپر چھوٹے چھوٹے گنبد تھے
محل میں داخل ہونے کیلئے اس ڈیوڑھی گزرنا پڑتا تھا ۔ ساری عمار ت پر باہر سے سنگ سرخ لگا ہوا تھا۔عمارت کے چاروں طرف
وسیع و عرایض لان تھے جن میں فوارے لگے ہوتے تھے ۔ تمام چل رہے تھے ۔خزاں رسیدہ بے شمار درختوں کے باوجود کہیں
کوئی پتہ زمین پر گرا ہوا نہیں تھا لان کی گھاس تازہ تازہ کاٹی ہوئی تھی پھولوں کی کیاریاں بھی ویران نہیں تھیں۔ لگتاتھا کہ اس محل
کی تزئین و آرائش کیلئے آقا قافا نے کئی ملازم رکھے ہوئے ہیں۔اتنی دیر میں سائیکی محل کے دروازے سے کسی شخص کے ساتھ
باتیں کرتی ہوئی باہر نکلی۔وہ شخص اپنی مرسیڈز میں بیٹھ گیا اور سائیکی میرے پاس آکر بولی
’’یہ سر پرویز ہیں‘‘
میں سر کا لفظ سن کر برا سا منہ بنایااورکہا
’’پتہ نہیں سر کا لفظ سن کر میرے تن بدن میں آگ کیوں لگ جاتی ہے۔صدیوں پرانی کوئی دشمنی ہے شاید اس لفظ کے ساتھ‘‘
پھر ہم دونوں کار میں بیٹھ گئے ۔کار چلتے ہی میں نے سائیکی سے شکایت کی کہ اس نے میرے بارے میں نجانے کیا کیا آقا قافا کو بتا
رکھا ہے مگر وہ قسمیں اٹھانے لگی کہ میں نے تمہارے بارے میں ان سے کوئی بات نہیں کی۔وہ روحانی طور پر جس بات کو جاننا
چاہتے ہیں اللہ تعالی انہیں اس بات کا علم عطا کر دیتا ہے۔میں نے آقا قافا کے ذوقِ جمال کی داد دیتے ہوئے کہا
’’لیونگ روم میں صادقین کی بڑی اچھی کیلی گرافی لگی ہوئی تھی ۔ یہ اورجنل ہے کاپی‘‘
سائیکی بولی
’’صرف وہی اورجنل نہیں ۔ اس طرف لیونارڈو ڈونچی کی ایک پینٹنگ بھی لگی ہوئی ہے۔وہ کئی ملین پونڈ کی ہے‘‘
میں نے سائیکی سے کہا کہ کل بھی مجھے ساتھ لے کر جانا۔۔ اس نے مجھے میرے دفتر کی پارکنگ میں اتار دیا میں نے وہاں سے اپنی
گاڑی نکالی اور معمول کے مطابق کسینو چلا گیارولیٹ کی میزیں آباد تھیں کچھ دیر ادھر ادھر کا جائزہ لینے کے بعدمیں ایک میز کے
پاس کھڑا ہو گیا پچاس پونڈ کے ٹوکن لے لیے اس میز پر مجھ سے پہلے چار آدمی اور موجود تھے۔ آج کا دن بہت اچھا تھا میں نے آغاز
ہی سے جیتنا شروع کردیا تھااور رولیٹ بال گھمانے والی لڑکی نے کئی بار مسکرا کر مجھے دیکھا بھی تھا مگر حیرت انگیز طور پر آج یہاں
بھی میرا دل نہیں لگ رہا تھا تقریباًآدھے گھنٹے کے بعد میں اپنے ٹوکن سمیٹتا ہوااس میز سے اٹھ گیااور پھر ایک سو بیس پونڈ کے
ٹوکن واپس کرکے میں کیسنو سے باہر آگیاکار پارکنگ سڑک کے دوسرے سمت تھی میں جا کر کارمیں بیٹھا تومیری نظر کسینو کے
جلتے بجھتے سائن بورڈ پر پڑی جہاں’’ نیپولین‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں روز یہیں کارکھڑی کرتا تھا مگر میںنے کبھی اس طرح نیپولین کو نہیں
دیکھا تھا جس طرح آج دیکھ رہا تھامیرے ذہن میں نیپولین بوناپارٹ کی شبہہ بن رہی تھی۔ چھوٹے سے قد کا ایک جرنیل مجھے نظر
آنے لگااس کے سینے پر بے شمار اعزازات چمک رہے تھے اور پھر نیپولین کے خدو خال میں آقا قافا کا چہرہ درآیا اس کا قد بڑھتا چلا
گیااور کار پارکنگ سے باہر آگئی۔
میں ٹائون سنٹر سے گزرتا ہوالیگرم لین پر آگیاسوچا کہ کھانا پنجاب سویٹ ہائوس پر بیٹھ کر کھایا جائے مگرکسی ان جانی طاقت نے
مجھے وہاں کار روکنے نہیں دی اور میں آگے بڑھ گیاصنم ریستوران پر جا کر کار رک گئی۔اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک ٹیبل پر آقا
قافا اور جاوید اختر بیدی بھی کھانا کھا رہے ہیں ۔ میں نے سلام کیا اور پھر ان کے اصرار پر اسی ٹیبل پر بیٹھ گیاجاوید اختر بیدی شعر سنا
رہے تھے جو میرے بیٹھ جانے پر انہوں نے مکمل کیا
’’اور آبِ یخ سے میری طبعیت سنبھل گئی
دریا کودی دعا ۔۔۔۔۔کہ ترا خاتمہ نہ ہوا‘‘
کھانے کے دوران ان سے ہلکی پھلکی گفتگو جاری رہی۔برطانیہ میں پاکستانی فورڈ کی بڑھتی ہوئی مانگ میں مرچ مصالوںکی اہمیت پر
بات ہوئی۔پھر بیدی صاحب چلے گئے ۔کچھ اور ہم نے ادھر ادھر کی گفتگو کی ۔کھانے کے بعد بل بھی زبردستی انہوں نے ادا کیااور جاتے ہوئے مجھے کہا
’’پریشان نہیں ہونا تم ذہنی طور پر کچھ عجیب و غریب ساعتوں سے دوچار ہونے والے ہو۔بہت سے ایسی کہانیاں تمہارے سامنے
آنے والی ہیںجو یقین کی گلیوں میں آباد نہیں ہو سکتیں‘‘
میں نے ہنس کر کہہ کر کہا
’’پہلے بھی بہت عرصہ میری آنکھیں میرے دماغ میںایک شک اتار کراگلے جہاں کے مشاہدوں سے میرا مکالمہ کراتی رہی ہیں ‘‘
آقا قافا بولے
’’وہ مشاہدہ کائناتی حیرتوں پر پھیلا ہوا تھا مگرنئے مشاہدات ذاتی حیرتوں پر محیط ہونگے ‘‘
میںوہاں سے اپنے فلیٹ پر آگیاسونے سے پہلے معمول کے مطابق مجھے بہلول یاد آیا پھرمجھے خیال آیا کہ یہ بات آقا قافا کو کیسے
معلوم ہوئی ہوگی کہ میں سونے سے پہلے خیالوں میں بہلول کے ساتھ ہوتاہوںاور اسے سوچتے سوچتے جب سو جاتا ہوں تو اس کی
ہمراہی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا خواب میںشروع ہو جاتا ہے یہ وہ بات تھی جو میں نے کبھی کسی کو بھی نہیں بتائی تھی کیونکہ یہ
کوئی عام زندگی کی بات نہیں تھی۔ میں نے اک دو بار یہ بھی سوچا تھاکہ اس سلسلے میںکسی ماہرِ نفسیات سے بات کروں مگرکسی انجانی
قوت نے روک دیا تھا۔میں آقا قافا کو بھول کر پھر بہلول سے جاملا۔۔۔۔ قافلے نے ایک جگہ پڑائو ڈال رکھا تھاخیمے لگ چکے تھے
ایک خیمے میں بہلول اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تھا اورمیں لیٹ چکاتھا ۔ بہلول نے میری طرف دیکھا اور پوچھا
’’ نیند آرہی ہے ‘‘
میں نے کہا
’’ نہیں‘‘
اور میں اٹھ کی دوسری سمت سے لیٹ گیا تاکہ بہلول مجھے اور میں اس کو دیکھ سکوں ایسا کرنے سے میرے پائوں شمال کی طرف ہو
گئے اور بہلول نے مجھے کہا
’’شمال کی طرف پائوں نہ کرو شمال کا احترام کیا کرو اس سمت سے دیوتائوں کا ہمراز قطبی ستارہ طلوع ہوتا ہے جو ہمیں دشت کی
تاریکیوں میں راستوں سے سرفراز کرتا ہے۔۔ شمال بلندی کی سمت ہے اور بلندیاں قابلِ احترام ہوا کرتی ہیں۔۔ پانی شمال کی سمت
سے بہتے ہیںکیونکہ برف بلندیوں پر اپنے نشیمن بناتی ہے ۔‘‘
میں نے اپنے پائوں سکیڑ لئے اور کہا
’’ میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ روح کے زیریں حصہ سے بالائی حصے کے جس رابطے کی تم بات کرتے ہواگراس میں کوئی
رکاوٹ نہیں ہے۔ وہ کہیں سے بھی ٹوٹا ہوا نہیں ہے توزیریں حصے کو بالائی حصے کا احساس کیوں نہیں ہوتا ‘‘
بہلول بولا
’’ احساس ہوتا ہے ہر شخص اپنے اندر کسی غیر مرئی طاقت کے آگے جھکنے کی جبلت کو محسوس کرتا ہے اسے کسی کو سجدہ کرنے میں
تسکین ہوتی ہے یہ جذبہ روح کے بالائی حصے سے تعلق کی خبر دیتا ہے‘‘
میں نے پو چھا
’’ کیا روح کی تقسیم بھی ممکن ہے ‘‘
کہنے لگا
’’ روح تو ایک تسلسل کانام ہے چلتی رہتی ہے بڑھتی رہتی ہے اسی تسلسل کی بدولت تو نسل ِ انسانی کی افزائش ہو رہی ہے
اورکبھی کبھی ایک روح دو جسموں میں بھی ظاہر ہو جاتی ہے ۔بعض جڑواں پیدا ہونے والے بچوں میں علامتیں ملتی ہیں ‘‘
میں نے کہا
’’ یعنی تم یہ کہہ رہے ہو کہ ایک روح دو جسموں میں بھی ہو سکتی ہے ‘‘
بہلول بولا
’’ہاں ہو سکتی ہے‘‘
اور پھر بہلول اور میں سو گئے میں شاید وہاں بھی سو گیا اور یہاں بھی ۔۔۔۔اور پھر قافلے والوں نے صبح ہونے سے پہلے بیدار کردیا ۔
یقینا یہ سونا اور جاگنا خواب کے اندر تھا۔۔۔خیمے اکھیڑ دئیے گئے اور قافلہ چل پڑاصبحِ صادق کی گہری ملگجی روشنی میںبہلول کا
چہرہ بہت نکھرا ہوا تھااس کی صبح جیسی صادق آنکھیں میری طرف بار بار اٹھ رہی تھیں میں نے اس سے پوچھ لیا
’’کیا بات ہے بہلول ‘‘
کہنے لگا
’’صبح کا آغاز اس روحِ کل کی یاد سے کرنا چاہئے مگر تم ابھی نیند کے حصار میں ہو ‘‘
میں نے پو چھا
’’ تم اس روح کل کو کیسے یاد کرتے ہو‘‘
بہلول بولا
’’کچھ دیر مراقبے میں رہتا ہوں جس میں صرف اس روحِ کل کو محسوس کرتا ہوں حتی کہ اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہوں ‘‘
گرمی کا احساس بہت زیادہ ہوا اور میری آنکھ کھل گئی میں سونے سے پہلے کمرے کا ہیٹربند کر بھول گیا تھا اب اٹھا تو افق آگ کے
شعلوں سے بھرا ہوا تھا میں کچھ دیر کھڑکی سے آتی ہوئی سورج کی کرنوں سے لطف اندوز ہوا برطانیہ میں سورج بھی کبھی کبھی نکلتا
ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہی معمول کے کام شروع ہو گئے آج دفتر میں کئی میٹنگزتھیںوقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا اورسائیکی کا
فون آگیا کہ میں پارکنگ میں انتظار کر رہی ہوںاور ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔۔میں فوراً اٹھ گیا کوئی کشش ایسی آقا قافا میں ضرور تھی
جو مجھے اس کی طرف کھینچنے لگی تھی۔ہم جب وہاں پہنچے تو آقا قافا کی گفتگو جاری تھی وہ کہہ رہے تھے
’’ وقت کائنات کی سب سے قیمتی شے ہے سب سے انمول ہیرا ہے مگر وقت کے باب میں پھر گفتگو ہو گی۔ابھی کچھ دیر اس
نوجوان کے بارے میں بات کرتے ہیںکیونکہ یہی میرا کل ہے میں نے اسی سے مکمل ہونا ہے مجھے اسی کا انتظار تھا اور ان جملوں کی
وضاحت بھی ابھی نہیں کی جا سکتی۔یہ بہلول سے روح کا پوچھتا ہے حالانکہ وہ برگزیدہ شخص اتنا کچھ نہیں جانتا جتنا یہ خود جانتا ہے مگر
اس کے دماغ میں ایک گرہ پڑی ہوئی ہے اس گرہ کے کھلنے کی دیر ہے بہلول جب اسے شمال کے احترام کا مشورہ دیتا ہے تو یہ سوچنے
لگتا ہے کہ آج بھی ہم برصغیر کے لوگ شمال کا احترام کیوں کرتے ہیں ادھر سائبریا کے برفاب میدانوں کے سوا کچھ بھی نہیںہم
جن کا ایمان ہے کہ سارے ستارے اللہ کے ہیںانہیں قطبی ستارے سے کیا نسبت ۔بہلول کے زمانے میں شاید یہاں ستارہ
پرست لوگ آباد تھے ۔ بدھوں کے نزدیک بھی شمال قابل ِ احترام ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے ’’ہن‘‘ بھی شمال سے آئے تھے۔یہ
سوال آج دن میں کئی بار اس کے دماغ میں آیا ہے کہ شمال میں نہ تو شاہ عبدالقادر جیلانی کا مزار ہے اور نہ ہی کوئی ایسی شے جس کا ہم
مسلمان احترام کرتے ہیں پھر ہم کیوں شمال کی طرف پائوں نہیں کرتے۔اور اس نے اس کا جواب بھی درست سوچا ہے کہ وہ
عقائد جو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیںوہ مذہبی تبدیلی سے بھی انسانی سرشت سے باہر نہیں نکل سکتے۔رات میں اس نوجوان
کونیپولین بونا پارٹ لگ رہا تھا اس کی وجہ یہ نہیں جانتا میں اسے بتاتا ہوں کہ بچپن میں اس نے جب نیپولین کے متعلق ایک کہانی
پڑھی تھی تو شدت کے ساتھ اس کے جی میں آیا تھا کہ وہ بھی بڑا ہو کر نیپولین بنے گاسو نیپولین کے چہرے میں میرے خدو خال
دیکھنے کا مفہوم دراصل اپنے خدو خال میں نیپولین کو دیکھنے کی ایک لاشعوری خواہش ہے ۔ اس کے تمام مسائل اس لاشعوری گرہ
کے کھلنے تک ہیں جو میری زندگی کا حاصل ہے پھر ایک ایسا جملہ بول گیا ہوں جس کی ابھی وضاحت ممکن نہیں ۔‘‘
آقا قافا کی گفتگو سن کردسمبر کے مہینے میں لیونگ روم کے نارمل درجہ ئ حرارت کے باوجودمیں اپنے ماتھے سے پسینے کی بوندیں
پونجھ رہا تھا ۔ مجلس ختم ہوئی کار بیٹھتے ہی میں نے سائیکی سے کہا
’’زندگی میں دوسری بار کسی ایسے شخص سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بارے میں میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ یہ شخص انسان
کے باطن میں جھانکنے کی قوت رکھتا ہے ۔‘‘
سائیکی نے پو چھا
’’ پہلا شخص کون تھا ‘‘
میں نے کہا
’’پہلا شخص ایک مسجد کا مولوی تھا ‘‘
سائیکی بولی
’’ کوئی پرانی بات ہے ‘‘
میں نے کہا
’’یہ انیس سو ستاسی کی بات ہے آگست کے ایک دہکتے ہوئے جمعے کی صبح تھی میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹھیک نو بجے اس شخص
سے ملنے پپلاں گیا تھاوہ میرے بڑے بھائی کا دوست تھا وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے تھے ہم جب وہاں پہنچے تو مولوی صاحب بڑے
پیار سے ہمیں ملے ان کے حجرے میں چار لوگ اور بھی بیٹھے ہوئے تھے اور مولوی صاحب بڑے دھیمے انداز میں گفتگو کر رہے
تھے ۔ بات سمجھنے کیلئے مجھے اپنی سماعت مجتمع کر کے پوری توجہ ان کی آواز پر مرکوز رکھنی پڑرہی تھی ۔ہمیں وہاں بیٹھے ہوئے تقریباً
آدھے گھنٹہ گزراتھا کہ انہوں نے کہا ’’ جمعہ کی نماز کا وقت ہونے والا ہے اس لئے اٹھا جائے‘‘ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے میں
نے سوچا کہ ہمیں اٹھانے کیلئے مولوی صاحب کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ابھی ساڑھے نو ہوئے ہوں گے جمعہ کی نماز ایک
ڈیڑھ بجے کھڑی ہوتی ہے یہی سوچتے ہوئے میں اس حجرہ، درویش سے باہر آیاتو مجھے احساس ہوا کہ سورج کو جہاں ہونا چاہئے تھا
وہاں نہیں ہے۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے بارہ بج رہے تھے میں نے بھائی سے وقت پوچھا تو انہوںنے بھی میری گھڑی کی
ایک لائن میں کھڑی ہوئی سوئیوں کی تصدیق کی ۔میں پریشان ہو گیاتقریبا ساڑھے تین گھنٹوں کا فرق لگ رہا تھا مجھے ۔۔میری سمجھ
میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ خانہ ئ ذہن سے یہ وقت کون چرا کر لے گیا ہے ۔میں ہفتہ بھر اسی وقت کی گمشدگی کے بارے میں سوچتا
رہا ۔پھر ایک دن گھر سے نکلا تو میرے موٹر سائیکل کی تیز تر رفتار اس وقت دھیمی ہوئی جب میں پپلاں پہنچ چکا تھا۔ پپلاں پہنچتے ہی
میرا موٹر سائیکل خوبخود اسی مسجد کی طرف مڑ گیا۔۔میں جو خدا کو نہیں مانتا تھا ۔۔میں جس نے الحاد اور تشکیک کو اپنا اوڑھنا بچھونا
بنا رکھا تھا۔کئی سال سے نماز نہیں پڑھی تھی مسجد کے دروازے کے پاس جا کر رک گیا۔ شام کی نماز ہو چکی تھی نمازی مسجد کے
دروازے سے نکل رہے تھے مسجد کے صحن میںصرف ایک شخص نمازپڑھ رہا تھا۔وہ وہی مولوی صاحب تھے شاید نفل پڑھ رہے
تھے میں مسجد کے اندر داخل ہوا اور انہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے لگا میں شاید ان سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا ۔۔اچانک
مجھے ایک دوست کی آواز سنائی دی’’شکر ہے کہ اللہ تعالی تمہیں مسجد میں لے آیا ہے رک کیوں ہو چلو وضو کرو اور نماز پڑھو‘‘
میںنے اس سے کہا ’’میں نماز پڑھنے نہیں آیا میرا مولوی صاحب سے کوئی کام ہے‘‘اس نے مجھے کہا’’ دیکھواگر آج بھی تم نے نماز
نہ پڑھی تو میں ساری زندگی تم سے کلام نہیں کروں گا ‘‘اور میں نے اپنے دوست کیلئے نماز پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔ وضو کیا اور مسجد کے
صحن میں آگیاجہاں پانچ چھ قطاروں میں پنکھے لگے ہوئے تھے جن کے نیچے صفیں بچھی ہوئی تھیں۔ میں آخری صف پر ایک پنکھے

کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ میرے باکل سامنے مجھ سے پانچ صفیں آگے مولوی صاحب نماز پڑھے رہے تھے میں نے ابھی کوئی
الٹی سیدھی نیت باندھی ہی تھی کہ ایک طالب علم نے مولوی صاحب کے اوپر چلنے والے پنکھے کو چھوڑ کر باقی تمام پنکھوں کے بٹن
آف کردئیے۔ بلا کی گرمی تھی میں نے سوچا کہ میرے دوست کا خدا بھی نہیں چاہتا کہ میں اس کیلئے نماز پڑھوں اور میں نے حیرت
سے مولوی صاحب کو دیکھا جنہوں نے کھڑے کھڑے سلام پھیر لیااور جا کر میرے اوپر چلنے والے پنکھے کا بٹن آن کیا۔۔ واپس
آئے اور نماز کی پھر نیت باندھ لی میں اندر سے کانپ کر رہ گیا وہ مجھ سے اتنی دور تھے کہ انہیں میرے سر پر چلنے والے پنکھے کے بند
ہو جانے کا احساس ہی نہیں ہو سکتاتھاپھرمیری طرف ان کی پشت تھی میں آج تک اپنے دماغ کو اس بات کا قائل نہیں کر سکا کہ
انہیں پنکھے کے بند ہو جانے کا احساس ہو گیا تھا اور اگر احساس بھی ہو گیا تھا تو اس شخص سے زیادہ عظیم اور کون ہو سکتا ہے جس نے
صرف ایک اجنبی آدمی کو گرمی سے بچانے کیلئے اپنی نماز توڑ دی‘‘۔
میری بات ابھی یہیں پہنچی تھی کہ سائیکی کی کار میرے دفتر کی پارکنگ میں داخل ہو گئی ۔ میں نے سائیکی سے کہا
’’ یہ باتیں تمہیں پھر سنائوں گا دفتر میں ورما میرا انتظار کر رہا ہو گا ‘‘
سائیکی بولی
’’ یقینا وہ مولوی صاحب بھی آقا قافا کی طرح کوئی حیرت انگیز شخص تھے۔۔ تم ورما سے بات کرو میں ابھی ایک کام کر کے آتی
ہوں ۔۔‘‘
میں دفتر داخل ہوا تو ورما جا چکا تھا اب بیٹھنا بھی مجبوری تھی کہ سائیکی نے آنے کا کہا تھااور میں وقت ملتے ہی بہلول کی طرف چل
پڑابہلول جس کے ساتھ میں تصور میں دھن کوٹ سے لہوارجارہا تھا ۔ جھلساتی ہوئی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی اور میں نے
پگڑی کے پلو سے چہرہ ڈھانپ کربہلول سے کہا
’’ان روحوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جواپنے پروردگار کو بھلا چکی ہوتی ہیں ‘‘
بہلول بولا
’’ اپنے اوپر ظلم کرنے والی ان روحوں پر ایک ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے جس کے سبب وہ اس مقدس وطن سے غافل ہو جاتی
ہیںجو ان کا حقیقی ماخذ اور مسکن ہے اور اس سفاک اور ہولناک المیے سے دوچار ہو کراپنی علیحدگی اور خود پسندی کے خمار میں مبتلا
ہو جاتی ہیں ان کی آنکھوںمیں صرف یہی مادی دنیا یہی فنا ہو جانے والی دنیا رہ جاتی ہے‘‘
بہلول خاموش ہوا تو میں نے پوچھا
’’ان روحوں کو اپنے حقیقی وطن کی طرف کس طرح لوٹایا جا سکتا ہے‘‘۔
وہ کہنے لگا
’’اس کا ایک طریقہ کار ہے سب سے پہلے تو ان کے اندر خود کوجاننے کی خواہش پیدا کرنی پڑتی ہے پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ان
آنکھوں میں دیکھنے کی صلاحیت ہے یا نہیںکیونکہ انہوں نے جسے تلاش کرنا ہے وہ ان کی ذات سے جدا نہیں اور اگر انہوں نے
ذات سے جدا کسی غیر کی تلاش شروع کردی ہے تو وہ پھر بھٹک گئی ہیںلیکن یہ طے ہے کہ ان روحوں کو راہ راست پر لانے کیلئے
کسی بہلول کی ہر حال میں ضرورت ہے باقی روح روح میں فرق ہوتا ہے کسی کے لئے کسی بہلول کی ایک نگاہ کافی ہے اور کہیں عمر بھر
کی کوششیںبے سود ہیں خود میں یعنی بہلول اپنی منزل کی تلاش میں کسی چندر وید کو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ‘‘
وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔ سائیکی دفتر میں داخل ہورہی تھی۔گھڑیال کی طرف دیکھنے پرخبر ہوئی کہ وہ ڈیڑھ گھنٹے میں واپس
آئی ہے۔ سائیکی نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا
’’ہاں تو پھر اس مولوی صاحب سے ملاقات ہوئی ؟پھر کیا ہوا ؟‘‘۔
میں نے وہیں سے بات دوبارہ شروع کر دی
’’ میں نے نماز پڑھی سچ مچ کی نماز اور مولوی صاحب سے کوئی بات کئے بغیرمسجد سے باہر آگیا ۔باہر میرا دوست میرا انتظار کر رہا
تھااس نے پو چھا کہ مولوی صاحب سے ملے تو میں نے کہا ’’ہاں میری ملاقات ہو گئی ہے ۔‘‘میرا دوست ہنس پڑا اور بولا ’’کسی وقت
اس شخص سے ضرور ملنا ۔ حیرت انگیز آدمی ہے میں نے اس سے ملنے والوں کی تقدیریں بدلتی دیکھی ہیں ۔‘‘بہرحال یہ واقعہ
میرے دماغ میں اٹک کر رہ گیا تھامیں نے بہت سے ہم خیال دوستوں کے ساتھ اس موضوع پر گھنٹوں گفتگو کی ۔بہت سی تاویلیں
بھی تلاش کیںمگر سانس میں پھانس بن کر اٹک جانے والا مولوی دماغ سے نکلتا ہی نہیں تھا تقریباً دو ہفتوں کے بعد میں نے سوچا کہ
مولوی صاحب کی تقریر سنی جائے اس کے علم کا اندازہ لگایا جائے خود میں نے ایک مذہبی گھرانے میں جنم لیا تھا ابتدائی تعلیم مسجد
سے حاصل کی تھی اور مطالعہ کا شوق مجھے لائبریری سمیت ورثے میں ملا تھا اس لئے میں خود کو اسلام پر اتھارٹی سمجھتا تھا اورشاید
یہی زعم مجھے الحاد کی طرف لے گیا تھا۔ میں جمعہ کے روز جمعہ کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے مسجد میں پہنچ گیا میرے پہنچنے سے پہلے وہ
تقریر شروع کر چکے تھے مسجد کا ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب کے بالکل سامنے دوسری صف
میںایک شخص کے بیٹھنے کی جگہ موجود ہے میں صفیں چیرتا ہواس جگہ تک پہنچا ۔۔ مولوی صاحب سے میری نظریں ملیںاور پھر
مجھے کچھ یاد نہیں۔۔ جب ہوش آیا تو میں سلام پھیر رہا تھا اور شدت کے ساتھ رو رہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا گریبان پسینے سے
نہیں آ نسوئوں سے بھیگا ہوا ہے ’’آنکھیں ٹکرانے ‘‘ سے لے کر ’’سلام پھیرنے تک‘‘ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ ہے میں توان
ساڑھے تین گھنٹوں کی تلاش میں تھا جو کچھ دن پہلے اسی شخص کی محفل میں کھو گئے تھے الٹا ڈیڑھ گھنٹہ اور کھو بیٹھا ۔مگر اس ڈیڑھ
گھنٹے کی گمشدگی نے ساری گمشدہ گُتھیاں سلجھا دیںاور میں یہ سوچ کر تشکیک کی وحشت سے باہر نکل آیاکہ میں اس خدا کے وجود
کا کیسے انکار کر سکتا ہوں جس کے ایک معمولی سے ماننے والے مولوی کی ایک نگاہ برداشت نہیں کر سکا۔ میں شام کے وقت پھر
اسی مسجد میں گیا اور خود کومولوی صاحب کے حلقہ ادارت میں دے دیا ۔انہوں نے دو باتیں کیں پہلی یہ تھی کہ اپنا حلقہ ئ
احباب تبدیل کر لو اوردوسری یہ کہ وقت کو ضائع کرنا گناہ کبیرہ سے بھی بڑھ کے ہے قضا نمازیں تو لوٹائی جا سکتی ہیں مگر قضا
ساعتیں نہیں لوٹ سکتیں ‘‘
سائیکی بولی
’’ مجھے یقین نہیں آتا کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں ۔میرے خیال میں تو وہ صرف کرپٹ حکمرانوں کی سرزمین ہے‘‘
میں نے کہا
’’ نہیں حکمرانوں میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ہونگے مگر ان کا کبھی برطانیہ کے حکمرانوں سے موازنہ کرو ۔ ‘‘
میں نے ہنس کر کہا
’’یہ دنیا اور ہے وہ دنیا اور ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’کیاں وہاں انسان نہیں رہتے ‘‘
میں نے کہا
’’تم یہاں اور وہاں کے حکمرانوں کا موازنہ چاہتی ہونا ۔۔وہاںپچھلے ساٹھ سال سے چیونٹیوں کی حکومت ہے ۔جو اگلے موسم کیلئے
خوراک ذخیرہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ۔اور یہاں سور حکمران ہیں جو اپنی مادہ کے ساتھ ملاپ میں بھی شراکت کا خیال رکھتے ہیں
اور لائن میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں ‘‘
سائیکی ناک چڑھاتے ہوئے کہا
’’کبھی کبھی تم بہت بری مثال دیتے ہو۔تم نے ان لوگوں کی اچھائی کو بھی برائی میں بدل دیا ہے ‘‘
میں نے سمجھانے والے انداز میں سائیکی سے کہا
’’اچھائی اور برائی کے درمیان ایک باریک سا پردہ ہوتا ہے ۔جو اچھائی کو بدی آمیز نیکی میں اور برائی کو نیکی آمیز بدی میں بدلتا رہتا ہے
سائیکی بات بدل کربولی
’’ آج میرے پاس کافی وقت ہے ۔کل کسی کام کیلئے آفس سے چھٹی لے رکھی ہے میں نے ‘‘
مجھے اور کیا چاہئے تھا ہم دونوں دفتر سے باہر آئے اور سائیکی کی کار میں بیٹھ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔