تیسری مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول


تکون کی مجلس

خواب کوآنکھ کی شیف سے نکالا۔صدیوں کی گرد جھاڑی۔آنسوئوں میں بھیگ بھیگ کر خشک ہونے والے اکڑے ہوئے غلاف
کو اتارا۔چمکتی دمکتی ہوئی بے شکل لڑکیاں میرے آئینہ خانے میں داخل ہوئیں ۔ نرم و نازک بدن یاداشت کے گلاس سے طلوع
ہوئے۔دل کی دھڑکن دھولک کی تھاپ بن گئی۔ذہن میں کیروا بجنے لگا۔قیام ِ جنت کے دن یاد آئے نواح ِ فہم میںلاشعور کی بھولی
بھٹکی لہروں کی انگلیاں ہارمونیم پر چلنے لگیں۔حوا کیلئے لکھا ہوا آدم گیت حوروں کے بدن میں سرسرانے لگا۔ ہوا تیز ہونے لگی

خواب کے صفحے الٹ الٹ جانے لگے
 
 
تیسری مجلس


اورمیں نے سائیکی کو غور سے دیکھا آج مجھے وہ بہت زیادہ خوبصورت لگی میں نے اسے کچھ اور غور سے دیکھا کہ کیا یہ وہی سائیکی ہے
جسے میں روز ملتا ہوں تو مجھے محسوس ہوا کہ نہیں اُس سائیکی اور اِس سائیکی میں کافی فرق ہے۔ اب مجھے پتہ چلا کہ یہ جو ڈیڑھ گھنٹے
کیلئے سائیکی کسی کام کے بہانہ سے کہیں گئی تھی وہ کام گھر جا کر لباس تبدیل کرنا تھا ۔ سائیکی کو آج میں پہلی بار ایشیائی لباس میں دیکھ
رہا تھا وہ ہمیشہ مغربی لباس میںہوتی تھی ۔ آج اس نے گلے میں موتیوں کی مالا بھی پہن رکھی تھی ۔بہت قیمتی مالا۔کانوں کی لووں پر
دو ہیرے جگمگا رہے تھے ۔وہ مجھے کوئی نوابزادی لگ رہی تھی ۔اپنی چال ڈھال ، اپنے طور اطورار اپنے رکھ رکھائو میں تو سائیکی
ہمیشہ سے مجھے کوئی نواب زادی ہی لگتی تھی مگر آج اپنے بنائو سنگھارسے کوئی وہ اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی چیز ثابت کر رہی تھی ۔
میں جیسے جیسے اسے دیکھتا چلا جا رہا تھا میرے دل کی دھڑکنیں اس کیلئے تیز ہوتی جار ہی تھیں ۔ اچانک میرے دماغ میں یہ خیال آیا
کہ میں نے جس لڑکی کے انتظارمیں ابھی تک شادی نہیں کی۔کہیں یہ وہی تو نہیں۔اس وقت ہماری منزل لیڈز کا ایک ریستوران
تھا ۔لیڈز اور بریڈ فورڈ دونوں جڑواں شہر ہیں ۔ہمیں کارلائل روڈ سے لیڈز روڈ تک پہنچنے میں پنچ سات منٹ لگے اور پھر لیڈز روڈ پر تو
یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں بریڈفورڈ ختم ہوا ہے اور کہاں سے لیڈز شہر شروع ہو گیا ہے۔۔کار چلتی رہی اور میں سائیکی کو دیکھتا
رہا۔سائیکی کار چلا رہی تھی اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ صرف کار ہی کا نہیںآج سے میرے وقت کااسٹیئرنگ وہیل بھی سائیکی کے
ہاتھ میں آگیا ہے۔ تقریباً دس منٹ تک خاموشی ہمارے درمیان چیختی چلاتی رہی رنگ بکھیرتی رہی خواب دکھاتی رہی ۔خیال
اجالتی رہی ۔یک لخت کیکر کے ان درختوں پر پیلے پیلے پھول کھل اٹھے جنہیں میں میانوالی چھوڑ آیا تھامیری معصوم اور سادہ محبت
کے پھول۔۔ مجھے یقین ہوتا چلا گیا کہ مجھے سائیکی سے محبت ہوگئی ہے ،بے پناہ محبت کا احساس مجھے رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس
ہوااور پھر میں نے اس احساس کی وجہ تلاش کرنی شروع کردی ۔سوچنے لگاکہ کیا اس کا سبب صرف سائیکی کی خوبصورتی ہے۔۔ یا
پھریہ بھی کوئی آقا قافا کی کرامت ہے ۔ آخر کار سائیکی نے خود خاموشی کے حیرت کدے میں پائوں رکھا اور کہنے لگی
’’ یہ اتنی دیر سے مجھے کیوں دیکھتے آ رہے ہوکیا کبھی پہلے دیکھنے کا موقع نہیں ملا؟‘‘
میں نے کہا
’’نہیں۔۔ سچ یہی ہے کہ میں نے آج تمہیں پہلی بار دیکھا ہے اور ۔۔۔۔۔۔‘‘
سائیکی میرا جملہ کاٹتے ہوئے اشتیاق سے بولی
’’ہاں بولو نا اور کیا۔۔۔‘‘
اور میں نے بول دیا
’’اور یہی کہ بار بار دیکھنے کی ہوس ہے ‘‘
سائیکی ہنس پڑی اور شرما کر بولی
’’بکواس نہ کرو۔ہمارے درمیان طے تھا کہ ہم ایسی باتیں نہیں کریں گے‘‘
میں نے کہا
’’مگر آج میری نیت ٹھیک نہیںہے ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ اب اور کچھ کہا تو یہیں گاڑی سے اتادوں گی‘‘
میں نے کہا
’’ اتار دو۔ مگر میں جو فیصلہ کر چکاہوں وہ اب تبدیل نہیں ہو سکتا ‘‘
سائیکی نے پوچھا
’’ کیا فیصلہ کر چکے ہو‘‘
میں نے کہا
’’ابھی نہیں بتایا جاسکتاآرام سے کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں‘‘
سائیکی بولی
’’ پلیزدیکھو بڑے دنوں کے بعد آج موڈ بہت اچھا ہے۔اسے اچھا ہی رہنے دو ‘‘
میں نے کہا
’’میں آج صرف محبت کے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوںمیرا خیال ہے یہ کوئی ایسا موضوع نہیں جو کسی کے موڈ کو خراب کردے‘‘۔
سائیکی ذراسا مسکرائی اور بولی
’’اچھا یہ بتائوتمہارے خیال میں محبت کیا شے ہے ‘‘
میں کار کی کھڑکی سے باہر جلتی بجھتی روشنیوںمیں خزاں زدہ درختوں کو دیکھتے ہوئے بڑی وارفتگی سے کہنے لگا
محبت بانسری دل کی ۔محبت ہجرکی نے ہے
محبت روح کی وحشت۔محبت درد کی لے ہے
محبت اک عجب شے ہے ۔محبت اک عجب شے ہے
یہ پتھر جیسے دل پگھلا کے آنکھوں سے بہا دینے پہ قادر ہے ۔
محبت کیاعجب شے ہے۔۔۔
یہ پیلے خشک پتوں کے کناروںپہ بھی گرتی اوس کے قطروں کے اندرچلتی رہتی ہے۔۔۔
یہ وہ ظالم ہے جومہتاب میں ڈھل کرسمندر کا گریباں چیر دیتی ہے ۔۔۔
مرا دل تو شکستہ آئینہ خانہ جہاں بارش ہوئی ہے سنگ و آہن کی
مری آنکھوں میں اپنی کرچیاں چبھنے لگی ہیں ۔۔
محبت سائیکی ہے جو لہو سرسراتی ہے۔
بدن میں گیت گاتی ہے۔۔
مراسم کی بہاریں ریگزاروں میں اگاتی ہے
مسافر کشتیوں کو ساحلوں کے پاس لاتی ہے
دماغوں کے جزیزوںکو یہی آباد رکھتی ہے
محبت سائیکی ہے تیرے جیسی ہے۔
تراچہرہ محبت ہی کا چہرہ ہے ۔
تری آنکھیں محبت ہی کی آنکھیں ہیں۔۔
محبت سائیکی تم ہو۔۔
محبت سائیکی میں ہوں
سائیکی نے میرے لہجے کی گھمبیرتا سے متاثر ہوتے ہوئے کہا
’’شاعر اچھے ہو مگرنظم سنانے کا ڈھنگ مجھے پسند نہیں آیا ۔پاگلوں کی طرح جذباتی انداز میں بولتے چلے جا رہے تھے ‘‘
میں نے سائیکی کے گیئر لگانے والے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
’’پتہ نہیں آج مجھے کیا ہوگیا ہے یہ کیا وارفتگی مجھ میں در آئی ہے ۔ تمہارے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آرہا۔بس تم ہی ایک
پھول کی طرح کھلتی ہوئی لڑکی ۔میں تمہاری خوشبو ہوںسائیکی مجھے محسوس کرو ‘‘
جب میری بات ختم ہوئی تو سائیکی نے آہستگی سے اپناہاتھ کھینچ لیا اور مصنوعی انداز میں کھردرے لہجے میں بولی
’’تم نے پھر مجھے چھوا ہے ۔۔ہمارے درمیان طے تھا کہ تم کبھی مجھے ہاتھ نہیں لگائو گے‘‘
میں نے کار کے شیشے سے باہر دیکھ کر کہا
’’سوری ۔اپنے اوپر قابو رکھناکبھی کبھی مشکل ہوجاتا ہے۔
لیکن ایک گزارش ہے
او دونوں جہاں کی سب سے سندر لڑکی
میرے ساتھ گزاروگی جو پیار بھرے دوپل توکیا نقصان کرو گی اپنا۔۔۔
تم میںکیاکم ہوجائے گا۔۔
تیرے جوبن کے گلشن کومیرے پاکیزہ ہاتھوں کے چھو لینے سے میل نہیں لگ جائے گی ۔۔
میرے شانوں پرآ گرنے سے تیرے بالوں میںدھول نہیں پڑجائے گی۔۔
الٹا اور بڑھے گی رخساروں پر گرم لہو کی سرخ حرارت۔۔
شاخ بدن کھل جائے کی
کچھ اور حسین ہو جائے گی‘‘
سائیکی نے کار روک دی اور غصے سے کہا
’’تم نے میرا موڈ خراب کردیا ہے ۔نیچے اترو جائو ۔
میں نے فوراً کہا
’’سوری سوری ۔ اب ایسی کوئی نہیں ہو گی۔میں نے تو ایک اور نظم سنائی ہے تجھے انداز بدل کر۔ چلو محبت کا موضوع ختم ۔۔ ‘‘
سائیکی نے براسا منہ بنایا اور ایکسیلیٹر پر پائوں دباوٴبڑھا دیا۔اس رات ہم کھانا کھانے کے بعد کافی دیر تک لیڈز شہر کی سڑکوں پر
گھومتے رہے۔جدا ہونے سے پہلے میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ سائیکی سے کہا
’’دل کا چین ، آنکھوں کی راحت بننے سے پہلے
مجھ سے بچھڑ جا ۔۔۔میری عادت بننے سے پہلے‘‘
اگلے دن جب میں پھر سائیکی کے ساتھ آقا قافا کی مجلس میں گیا تو وہ کسی سوال کے جواب میں کہہ رہے تھے
’’چند ساعتوں کی سبک خرام ندی کے کھو جانے کا دکھ سونے کے پہاڑ کے گم ہو جانے سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے کیونکہ خیر کے لئے
صرف ہونے والے چند لمحے سونے کے پہاڑوں سے زیادہ قیمتی ہیں۔اور خیر کیا ہے؟ خیر روشنی ہے خیر حسن ہے خیر زندگی ہے
خیرآگہی ہے اور یہ خیر ہم سب کے سینوں میں موجود ہے اس کی تلاش کیلئے تمہیں کسی آقا قافا کی ضرورت نہیں ہے۔اور کوئی
سوال ‘‘
میں نے سوال کیا
’’میرے خیال میں تواگر راستہ دکھانے والا کوئی آقا قافا نہ ہو توآدمی اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے اورآپ کہتے ہیں کہ خیر کیلئے یعنی
کائناتی سچائی تک پہنچنے کیلئے کسی رہنما کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘۔
آقا قافا بولے
’’ہاں راستہ وہ خود دکھاتا ہے وہی کسی کے سینے کو روشنیوں سے بھر دیتا ہے اور کسی کے کانوں میں پگھلا ہو سیسہ ڈال دیتا ہے ۔ ان
رہنمائوں کی حیثیت سٹریٹ لائٹ سے زیادہ نہیں ہوتی کہ چلنے والا راستہ دیکھ سکے‘‘۔
سوال و جواب کا سلسلہ کافی دیرتک چلتا رہا جب مجلس ختم ہوئی اور سب لوگ جا نے لگے تو آقا قافا نے میرے اور سائیکی کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’تم نے دونوں ابھی بیٹھو۔ تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں‘‘ ۔
سب لوگوں کے چلے جانے کے بعدآقا قافا بولے
’’نکاح جوانی کا محافظ ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں آپس میں نکاح کرلو، شاید یہی تمہاری تقدیر میں لکھا ہے ‘‘۔
سائیکی نے عجیب نظروں سے آقا قافا کی طرف دیکھا اور کہا
’’حضور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ درست کہہ رہے ہیں مگر میں نکاح کو ایک غیر فطری فعل سمجھتی ہوں۔ ایک ہی شخص کے
ساتھ زندگی گزارنا انسانی جبلت کے خلاف ہے انسانی فطرت میں اکتاہٹ ایک اہم عنصر ہے۔ایک ہی کھونٹے کے ساتھ ساری
زندگی بندھے رہنا کسی بیل یا بکری کا کام ہے اس کے مقابلے میں طلاق ایک فطری شے ہے ۔انسان روز ایک طرح کا کھانا نہیں
کھا سکتا ایک طرح کا لباس نہیں پہنتا۔وہ تبدیلی چاہتا ہے اور تبدیلی فطرت کا ایک روپ ہے‘‘
آقا قافا سائیکی کی طرف اس طرح دیکھتے رہے جیسے کوئی بچی بات کر رہی ہو اور سائیکی کی بات ختم ہو نے پر کہنے لگے ’’مجھے تمہاری
کسی بات سے بھی اختلاف نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح کا عمل انسانی جبلت سے مطابقت نہیں رکھتا مگر انسانی معاشرت
کی تشکیل فطرت کے ٹکرائو سے ہوتی ہے۔ فطرت یہ ہے کہ انسان ننگا ہے لباس غیر فطری شے ہے مگر ہر معاشرت کیلئے جزو لازم
ہے ایک اور بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ انسان فطرت کا حصہ نہیں فطرت انسان کے لئے ہے اور انسانی جبلتوں میں خیر کے ساتھ ساتھ
شر بھی ہے ان سب سے جو چیز بلند تر ہے وہ انسانی دماغ ہے اور ہاں تم نے طلاق کی بات کی ہے طلاق اللہ تعالی کے نزدیک ناپسندیدہ
فعل ہے مگر گناہ نہیں ۔ ‘‘
سائیکی نے آقا قافا کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
’’آپ خود کیوں نہیں شادی کرتے؟ ‘‘
آقا قافا بولے’’اس موضوع پر تم سے پہلے بات ہو چکی ہے ،
’’اب تم دونوں جا سکتے ہو‘‘
اور ہم دونوں آکر گاڑی میں بیٹھ گئے ۔کچھ دیر کے بعد سائیکی نے پوچھا
’’کیا تمہیں بھی آقا قافا کی یہ بات پسند نہیں آئی ؟‘‘
میں نے کہا
’’نہیں میں نے تو کل رات ہی تمہارے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر لیاتھا‘‘۔
سائیکی نے گاڑی ایک طرف سڑک پر روک دی اور میری طرف اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے ایسے دیکھنے لگی جیسے میرے جملے کو
تولنے کی کوشش کر رہی ہو۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سائیکی نے گاڑی آگے بڑھادی مگر بولی کچھ نہیں ۔ میں نے خاصی دیر کی خاموشی کے بعد کہا
’’تم مغرب میں ہو تم اگر کوئی مشرق میںہوتیں تو میںتمہاری خاموشی کا مفہوم ’’رضامندی ‘‘لے سکتا تھا

مگریہ اکیسویں صدی ہے تمہیں اپنی مرضی کا اپنی زبان سے اظہار کرناہوگا‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ بات دراصل یہ ہے کہ میں انکار بھی نہیں کرناچاہتی اور اقرار بھی نہیں کر سکتی۔کوشش کروں گی کہ جلدی اس الجھن سے نکل

آوٴں ۔ ہاں وہ میں نے تم سے پوچھنا تھا کہ تمہیں رنگ کونسا پسند ہے‘‘میں نے ہنس کر پوچھا’’رنگ۔۔اتنی سطحی بات تم نے پہلے کبھی نہیں پوچھی۔‘‘
سائیکی بولی
’’17جنوری کو تمہاری سالگرہ ہے اس موقع پر سوچ رہی تھی کہ تمہارے لئے ایک سوٹ خریدوں اس لئے تم سے پوچھ لیا ہے کہ تمہیں کونسا رنگ پسند ہے ‘‘
میں نے کہا
’’رنگ تو مجھے نیلا پسند ہے مگر خدا کیلئے نیلے رنگ کا سوٹ نہ لے لینا ۔‘‘
سائیکی نے بیزاری سے کہا
’’میں سب سے زیادہ اسی رنگ سے الرجک ہوںیہ بھی کوئی اچھا لگنے والا رنگ ہے ‘‘
سائیکی ایسے شکایت کر رہی تھی جیسے وہ ایک دوست سے زیادہ میری کچھ لگنے لگی ہے ۔میں نے سوچا کہ سائیکی نے ذہنی طور پر مجھ

سے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے سو میں نے مسکراتے ہوئے بہت شوخی بھرے لہجہ میں کہہ دیا
’’نیلا رنگ تو بہت خوبصورت رنگ ہے یہ روح کا رنگ ہے سمندر کا رنگ ہے آسمان کا رنگ ہے طاقت کا رنگ ہے جنس کا رنگ ہے
،آنکھوں کی آخری حد کا رنگ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہاری آنکھوں کا بھی تو یہی رنگ ہے‘‘
سائیکی حیرت بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی
’’حیرت انگیز۔۔آقا قافا کو بھی نیلا رنگ پسند ہے اور میں نے ان سے اس کی پسندیدگی کی وجہ پوچھی تھی تو انہوں نے بھی مجھے یہی
جواب دیا تھا مجھے ابھی تک یاد ہے کہ ان کے بھی یہی الفاظ تھے‘‘
مجھے اچانک کچھ خیال آیا ۔میں نے سائیکی سے کہا
’’جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کبھی تم کو اپنی تاریخ پیدائش نہیں بتائی ۔۔تمہیں کیسے علم ہوا کہ میں 17 جنوری کو پیدا ہوا
تھا۔اور تمہیں علم ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کاغذی طور پر میری تاریخ پیدائش 17فروری ہے ۔ اور اس ملک میں کوئی یہ بات نہیں جانتا ؟‘‘
سائیکی بولی
’’مجھے تمہاری تاریخ پیدائش آقاقافا نے بتائی تھی ‘‘
میں نے حیرت سے کہا
’’کیا‘‘
اور سائیکی نے کہا
’’ حیران ہونے کی ضرورت نہیں آقا قافا کی تاریخ پیدائش بھی 17جنوری ہے اور ایک اور پریشان کن حد تک حیران ہونے والی
بات یہ ہے کہ آقا قافا اور تمہاری انگلیوں کے نشانات میں بھی کوئی فرق نہیں اور شاید یہ انسانی تاریخ پہلا واقعہ ہے‘‘
میں نے پریشان کن لہجے میں کہا
’’میں یقین نہیں کر سکتا اس بات میں تم سے کوئی غلطی ہوئی ہے‘‘۔
وہ کہنے لگی
’’ وہ میری دوست کیتھی ہے نا وہ جس دفتر میں کام کرتی ہے وہاں فنگر پرنٹس ہی چیک ہوتے ہیں ۔ میںنے تصدیق کے لئے دو مرتبہ
تمہارے اور آقا قافا کے فنگر پرنٹ اٹھائے تھے‘‘
میں نے پوچھا
’’ تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ‘‘
سائیکی نے کہا
’’آقا قافا نے اس طرف متوجہ کیا تھا مجھے‘‘
میں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا
’’آقاقافا کو سمجھنا اب بہت ضروری ہو گیا ہے‘‘ ۔
اس دن سائیکی اور میںرات دیر گئے تک گھومتے رہے ، دنیا کی جتنی خوبصورت باتیں ہو سکتی تھیں وہ ہونٹوں اور کانوں کی وساطت
سے ایک دوسرے کو منتقل کرتے رہے تتلیوں کے پروں پر خوشبو کے نقش و نگار بناتے رہے ، رنگوں کے کینوس پر خواب
بکھیرتے رہے باری باری ایک دوسرے کے راستے میں روشنی اور پھول لے کر کھڑے ہوتے رہے اور پھر اپنے اپنے راستوں پر
جانے کا وقت ہو گیا یعنی رات بہت بیت گئی۔ میں نے سائیکی سے کہا
’’میں صرف اتنا معلوم کرنا چاہوں گا ۔۔گھر جانے سے پہلے۔۔کہ وہ کونسی بات ہے جو تمہیں میرے ساتھ شادی کرنے سے روک رہی ہے ‘‘۔
سائیکی کچھ دیر سوچنے کے بعد ٹھہر ٹھہر کر بولی
’’میں شادی کرنے پر تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے ‘‘
میں نے پوچھا
’’کیا‘‘
تو کہنے لگی
’’میں تم سے جب کہوں گی تم سبب معلوم کئے بغیر مجھے طلاق دے دو گے‘‘
اس عجیب و غریب شرط پر میں پریشان ہو گیا ۔میں کچھ دیر کیلئے خاموش ہو گیا اچانک میرے دماغ میں ایک بات آئی اور میں نے سائیکی سے پوچھا
’’کیاتم کسی اور سے محبت کرتی ہو ‘‘
سائیکی نے دھیمے لہجے میں مردہ سی آواز کے ساتھ کہا
’’ہاں ‘‘
میں نے پو چھا
’’ کس سے ‘‘
تو بولی
’’ ہے کوئی ‘‘
میں نے پوچھا
’’کیا میں اسے جانتا ہوں ؟‘‘
تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا اور میرے ذہن میں فوراًآقا قافا کا نام آیا میں نے بے اختیار کہہ دیا
’’کون آقا قافا ؟‘‘
سائیکی خاموش رہی مگر اس کی خاموشی چیخ چیخ کر آقا قافا کے ساتھ اسکی محبت کی داستان سنا رہی تھی ۔ میں نے صورت احوال سے
مکمل آشنا ہو جانے والے انداز میں سائیکی سے پوچھا
’’ کیا تم ان کے سامنے اس بات کا اظہار کر چکی ہو ‘‘
تو سائیکی بولی
’’ہاں ۔۔ مگروہ کہتے ہیں میں نے کبھی شادی نہیں کرنی۔اور اگر زندگی میں کبھی شادی کی تو تمہارے ساتھ کروں گا۔ میں نے اسی
لئے وہ شرط لگائی تھی کہ اگر کبھی وہ میرے ساتھ شادی کرنے پر تیار ہو گئے تو تم رکاوٹ نہیں بنو گے ‘‘
یہ بات سن کر نجانے کیوں مجھے سائیکی پر ترس آنے لگامیں نے سائیکی سے کہا
’’ایک بات ذہن میں رکھو کہ جب تم میرے ساتھ شادی کرلو گی تو ان کے ساتھ شادی کے امکانات اور کم ہو جائیں گے‘‘
سائیکی بولی
’’ نہیں انہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور وہ جو بات کرتے ہیں اس سے پھرتے نہیں‘‘
میں نے سائیکی سے کہا
’’پھر تو تمہیں ایک سچے محبت کرنے والے شخص کی طرح انتظار کرنا چاہئے ‘‘۔
سائیکی بے ساختہ ہنس پڑی اور ہنستے ہنستے کہنے لگی

’’تو تم نے میرے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ بدل لیا ہے صرف یہ بات سن کر کہ میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔

کیا اتنی ہی محبت تمہارے دل میں میرے لئے اٹھی تھی‘‘                                       میں نے سائیکی سے کہا
’’ نہیں سائیکی میں نے شادی کا ارادہ تبدیل نہیں کیا۔ دراصل میری محبت ایسی خود غرضی پر مبنی نہیں ہو سکتی جس میں صرف ’’
حاصل‘‘ ہی محبت کا مقصد ہوتا ہے میرے خیال میں لا حاصلی بھی محبت میں کوئی کم شے نہیں‘‘۔
سائیکی کے چہرے پر خوشی کا تاثرابھرا اور وہ بولی
’’فلسفوں کو چھوڑو اگر تمہیںواقعی مجھ سے محبت ہے تو پھر تم مجھے حاصل کر سکتے ہو ‘‘
میں نے پوچھا
’’ مگر وہ شرط‘‘
سائیکی بولی
’’ اس میں ترمیم ممکن نہیں ‘‘
میں نے کہا
’’ایک بات کی ذراسی وضاحت کرو۔ ایک طرف تم اتنی مشرقی اور مذہبی ہوکہ تمہیں میرا ہاتھ بھی لگ جائے تو ناراض ہو جاتی ہو
۔۔ دوسری طرف تم ایک مرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے فلسفے کو غیر فطرتی سمجھتی ہو۔ایسے نظریات رکھنے والی لڑکی کو کسی
وقت بھی کسی کے ساتھ سو جانا چاہئے‘‘
سائیکی بڑی سنجیدگی سے بولی
’’ بس ایسی ہی ہوں ۔۔ سوچتی کچھ ہوں اور کرتی کچھ ہوں‘‘اور پھر ہم نے رات بھر شادی کے مسئلہ پر سوچنے کے لئے اپنی راہیں مختلف کر لیںاور اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
میں نے بستر پر کچھ دیر کے لئے سائیکی کو سوچااور پھر اسے ذہن سے جھٹک کر بہلول کی طرف جا نکلا۔
قافلہ ابھی تک پہاڑ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھابہلول نے ایک پہاڑی درے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’یہ ڈھک کی پہاڑی ہے۔ یہ پہاڑ صرف یہیں سے عبور کرنے کے قابل ہیں دہن کوٹ سے دہنی کے علاقے میں جانے والوں کو
یہیں سے آکر پہاڑ عبور کرناپڑتا ہے۔ کہتے ہیں اس کے دوسری سمت ایک جھیل ہے اور اس کے ساتھ بڑی بڑی غاریں
ہیں۔ہزاروں سال پرانی غاریں ۔۔مادھو چند نے مجھے بتایا تھا کہ
قدیم کاہنوں کے خیال میں بھگوان نے جو پہلا جوڑا بنایا تھاوہ انہی غاروں میں سے کسی غار میں رہتے تھے‘‘
میں نے پوچھا
’’ تمہارا کیا خیال ہے بھگوان نے پہلا جوڑا کس چیز سے بنایا تھا‘‘
بہلول کہنے لگا
’’اس حوالے سے دو رواتیں سننے میں ملی ہیں پہلی یہ ہے کہ بھگوان نے بندر اور بندریا کو بلا کر ان پر پھونک ماری اور وہ مرد اور
عورت میں تبدیل ہو گئے ۔دوسری روایت بھی اسی سے ملتی چلتی ہے وہ یہ ہے کہ بھگوان نے مٹی سے عورت اور مرد بنائے اور پھر
ان میں اپنی روح پھونک دی۔ عورت اور مرد کے درمیان یہ جو محبت کا رشتہ ہے اس کا سبب بھگوان کی وہی روح ہے۔
میں نے پوچھا
’’یہ محبت کیا شے ہے ‘‘
بہلول کہنے لگا
’’یہ جو محبت ہوتی ہے نااس کی لاکھوں کروڑوں قسمیں ہیںیہ ہمارا سفر بھی محبت کی ایک شکل ہے ہم جسے حاصل کرنا چاہتے ہیں
جس کی تلاش میں مشکل راستوںکو عبور کر رہے ہیںاس سے یقینا ہمیں محبت ہے لیکن ہر محبت کا آغاز اپنی ذات سے شروع ہوتا
ہے۔ حسن یا حسن ِکل سے یعنی بھگوان سے محبت بھی اصل میں اپنی ذات سے محبت ہے ۔ہم اپنی تکمیل کی جستجو میں بھٹک رہے
ہیںاور یہی محبت ہے یہی کائنات کا سب سے عظیم جذبہ ہے‘‘
میں نے بہلول سے کہا
’’کیا یہ ہمیشہ سے ہوتی ہے اور ہمیشہ رہتی ہے ‘‘ تو کہنے لگا
’’نہیں اس کا اظہار وہاںہوتا ہے جب کسی روح میںحسن سے ہم آغوش ہونے کاجذبہ اتنا توانا ہو جائے کہ اس کے ادراک کو اپنی
گرفت میں لے لے۔حسن کی بھی دو سطحیں ہوتی ہیں ایک حسنِ خالص اور دوسرا حسنِ مجسم ، تجسیم شدہ حسن بھی حسنِ مطلق ہی
کا اظہار ہوتا ہے ،یہ زیریں حسن محبت کرنے والے کو اس بالا ئی حسن کی طرف لے کر جاتا ہے جس کے ساتھ اس کا تعلق قدیم
ہے یعنی یہ بھی روح کا روحِ کل کے ساتھ رابطے کا ایک ذریعہ ہے ، مجاز سے متاثر ہونا انسانی سرشت میں شامل ہے لیکن اس سفر
میں حقیقت تک اس کی رسائی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ وارداتِ محبت کے باطنی اسرار سے واقف ہو جاتا ہے‘‘
مجھے یاد نہیں کہ بہلول کے ساتھ چلتے چلتے میں کس وقت سو گیا تھا اور کب میرا تصور خواب کی دنیا میں داخل ہوگیا تھا مگر اچانک مجھے
احساس ہوا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی نے مجھے نیند سے جگا دیا ہے ۔میری نظر گھڑیال کی طرف گئی تو وہاں رات کے تین بج رہے تھے میں
بیڈ سے اٹھا فون کا ریسور اٹھایا تو دوسری طرف سائیکی تھی اس کی آواز پہچانتے ہی میں نے پوچھا
’’ خیریت ہے نا ‘‘
بولی
’’ہاں مگر تم نے کچھ اتنا الجھا دیا ہے کہ ابھی تک نیند نہیں آئی میں نے سوچا کہ اگر میں جاگ رہی ہوں تو پھر تمہیں بھی میرے
ساتھ جاگنا چاہئے اپنے اپنے گھروں میں ہی سہی ۔ کم ازکم اتنا توہو گا کہ صرف میں ہی نہیں میرے ساتھ کہیں کوئی اور بھی جاگ رہا ہے ‘‘
میں نے ہنس کر کہا
’’ اپنے اپنے گھروں میں جاگنے کا کیا فائدہ ۔اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو۔۔ فقط نو دس کلومیٹر پہ میں ہوں ۔۔۔یا کہو تومیں ادھر ہی آجاتا ہوں ‘‘
سائیکی بولی
’’نہیں اس وقت ہمارا ملناہم دونوں کے لئے ٹھیک نہیں ۔جوانی میں بہکنے کی کچھ خبر نہیں ہوتی ۔ میں دراصل تمہیں ایک اور بات
بتانا چاہتی تھی میرے بارے میں کچھ سوچتے ہوئے اسے بھی ذہن میں رکھنا‘‘
میں نے کہا
’’ ذرا ٹھہرو میں چائے کا ایک کپ بنالوں ‘‘
اور پھر ریسیور کان سے لگائے ہوئے میں نے کیٹل کا بٹن آن کیا اور چائے بناتے ہوئے اس سے کہا
’’ہاں اب بولو ‘‘
تو کہنے لگی
’’ میں تمہیں یہ بتانا چاہتی تھی کہ میری اور تمہاری ملاقات اتفاقیہ نہیں ہوئی تھی مجھے آقا قافا نے تمہارے طرف متوجہ کیا تھا
۔۔اور میں نے پروفیسر رضا ملال کو کہا تھا کہ تمہیں لیڈز یونیورسٹی میں لیکچر کیلئے بلائیں ۔۔ ہوا یہ تھا کہ ایک دن میں آقافاقا کے
ساتھ کہیں جا رہی تھی کہ انہوں اچانک مجھے فوراً گاڑی روکنے کیلئے کہا اور میںنے گاڑی ڈبل ییلو لائن پر روک دی انہوں نے مجھے کہا
کہ گاڑی یہیں رہنے دو اور میرے ساتھ آئو۔میں نے انہیں اس بات کا احساس دلایا کہ گاڑی ڈبل ییلو لائن پر کھڑی کی ہوئی ہے تو
کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں اترو اگر آج بھی وہ نکل گیا تو شاید پھر اسے ڈھونڈنے میں نجانے کتنا عرصہ لگ جائے ۔ آقا قافا بہت تیز
تیز چل رہے تھے مجھے ان کا ساتھ دینے کیلئے تقریباً بھاگنا پڑ رہا تھا کہ ایک جگہ وہ رک گئے سامنے ایک کافی شاپ تھی جس کے باہر
بھی بنچ رکھے ہوئے تھے لوگ ان بنچوںپر بیٹھے ہوئے کافی پی رہے تھے ہم بھی ایک بنچ پر جا کر بیٹھ گئے میں نے سوالیہ نظروں سے
ان کی طرف دیکھاتو انہوں نے ساتھ والے بنچ پر اکیلے بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا اور کہاکہ یہ تمہارا ہونے والا شوہر ہے تم
اس کی سائیکی ہو میں نے حیرت سے پوچھاکہ سائیکی تو کہنے لگے ، ہاں آج سے تمہارا نام سائیکی ہے ۔میر اصلی نام تو نور ہے مگر میں
نے ان کے کہے کے مطابق اپنا نام بدل لیا ہے۔پھر انہوں نے مجھے جانے کے لئے کہا اور میں آقاقافا کو وہیں چھوڑ کر اکیلی واپس
آگئی ۔جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ ‘‘
سائیکی محبت بھرے لہجہ کا شہد ٹپکا رہی تھی میرے کان میں اور میں اس مٹھاس کے حسن کو مجسم دیکھ رہا تھا ۔میں نے پوچھا
’’ کون تھا ‘‘
تو بولی
’’ وہ تم تھے‘‘۔
جب میں نے سائیکی سے دن ، وقت اور جگہ معلوم کی تو مجھے احساس ہوا کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔میں نے سائیکی سے کہا
’’ تم مجھے پریشان کرتی چلی جا رہی ہو آقا قافاکو سمجھنے کا تجسس اور بڑھتا جا رہا ہے‘‘
سائیکی بولی
’’ مگر میرے اندر آقا قافا سے زیادہ تمہیں سمجھنے اور جاننے کا تجسس ہے یقین کرو جو چیز مجھے سب سے زیادہ تمہارے قریب لے
آئی ہے وہ یہی تمہارے بارے میں جاننے کا تجسس ہے میں جاننا چاہتی ہوں کہ آقا قافا کے ساتھ تمہارا کیا تعلق ہے تمہاری آواز
تمہارا لہجہ آقا قافا سے ملتا جلتا ہے تم دونوں کی تاریخ پیدائش ایک ہے تمہارے قد ایک جتنے ہیں تم دونوں کی آنکھیں ایک جیسی
ہیںمیں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے کمپوٹر پرتصویروں سے تم دونوں کی آنکھیں نکال کر ملائی ہیںیقین کرو ان میں ذرا بھر بھی کوئی
فرق نہیں اور میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی ہوں انسانی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ کہ تم دونوں کے فنگر پرنٹس ایک جیسے ہیں ۔میں اگر
یہ بات دنیا کو بتا دوں تو تم دونوں کو یہاں کے سائنس دان اٹھا کر اپنی تجربہ گاہوں میں لے جائیں گے ‘‘
میں اس کی گفتگو سن کر پریشان ہوتا رہا اور بولا
’’میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک اتفاق ہے ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ نہیں یہ اتفاق نہیں ہو سکتا اگر یہ ایک اتفاق ہے تو آقا قافا تمہاری تلاش میں کیوںتھا ‘‘
میں نے پوچھا
’’ کیااتنے عرصہ میں آقاقافا نے اپنے ماضی کے بارے میں کبھی کوئی بھی بات نہیں کی کہ وہ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اور یہ اتنا
بڑا محل نما جس مکان میں رہتے ہیںیہ انہوں نے کیسے خریدا ہے ،اس کے بل کیسے ادا ہوتے ہیں ملازموں کی تنخواہیں کہاں سے
آتی ہیں، وہ کوئی بھی کام نہیں کرتے ، ان کے اتنے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟ یہ جو اتنے سارے سوال ہیں تم نے ان پر
کبھی غور نہیںکیا ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ کچھ سوالوں کے جواب تو میں جانتی ہوں لیکن کچھ سوال ایسے ہیں جن کامجھے کوئی جواب نہیں مل سکا یہ کوئی نہیں جانتا کہ آقا قافا
کون ہیں ، کہاں سے آئے ہیں ۔ ان کے ماں باپ کون تھے کہاں پڑھے وغیرہ وغیرہ ، میں نے اس سلسلے میں آقا قافا سے پوچھا بھی
ہے صرف میں نے ہی نہیں ان کی محفل میں شریک ہونے والے دوسرے لوگوں نے ۔۔۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ مجھے کسی شخص کا
انتظار ہے جب وہ آجائے گاتو میں اپنی کہانی تم لوگوں کو سنا ئوں گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ انہیں جس شخص کا انتظار تھا وہ تم ہو ۔
اس دِن محفل میں وہ اس بات کا اظہار بھی کر چکے ہیں‘‘
میں نے اسے کہا
’’ جن سوالوں کے جواب تم جانتی ہو وہ تو مجھے بتا دو ‘‘
سائیکی کہنے لگی ۔
’’اس کے لئے تمہیں ایک اور کہانی سننی پڑے گی جو بہت طویل ہے ‘‘
میں فوراً بولا
’’میرا خیال ہے میں تمہارے پاس اُدھر ہی آجاتا ہوں اب نیند آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اتنی لمبی کہانی فون پر سنی بھی نہیں جا سکتی‘‘
سائیکی بولی’
’ نہیں اتنی رات گئے بالکل نہیں اب تم بہلول سے دل بہلائو ‘‘
اور ایک طویل ہنسی کے ساتھ اس نے فون بند کردیا ۔
۔۔۔۔۔