پانچویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 


تکون کی مجلس

باطن کے صحرا میں کئی فٹ برف گر چکی ہے۔ہر قدم کوہ گراںبن چکاہے ۔ جوتوں کے تلوں کی سلائی زمین کی آخری حدتک
کردی گئی ہے۔مگر میں چل رہا ہوں بلندی کی طرف اورمیرا سفر پاتال سے شروع ہوا۔ میں آدم ہوں اور واپس آسمانوں کی طرف
جا رہا ہوں۔آسماں میرے قدموں تلے بہہ رہے ہیں۔میںاس سفر میں اپنے اندر داخل نہیں ہونا چاہتا تھا مگردروازے پر رکے
ہوئے بھی صدیوں گزر گئی تھیں۔جب اپنے آپ سے شرمندگی عرش تک پہنچ گئی توشعور نے مجھے اندر کی بے کراں لامکانی میں
گرا دیا۔جہاں اپنے جذبوں کی عبادت کی جارہی ہے جہاں خواہشوں کی دیویاں تراشی جا رہی ہیں۔جہاں خواب تجسیم ہورہے ہ
یںجہاں میں اپنی سائیکی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں

پانچویں مجلس

سائیکی نے جاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہاں سے جلد فارغ ہو گئی توتمہارے فلیٹ پرآجائوں گی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ سائیکی ایک دو
گھنٹوں کے اندراندر واپس آئے گی اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہاتھا کہ اسے مجھ سے جدا ہونااچھا نہیں لگ رہا مگر دنیا کے
کام بھی ہوتے ہیں۔میں نے اپنے معمول کے مطابق بہلول کی ذات میں پناہ لینا ہی مناسب سمجھا۔ میں جتنا زیادہ پریشان ہو رہا تھا
اتنی دلچسپی کے ساتھ بہلول کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ شاید وہ میرے لئے افیون بن گیا تھا ۔ ایک ایسا نشہ جس کے ملتے ہی میری روح
کو فرحت کا احساس ہوتا تھا اور میں ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا تھا۔ میں نے کھانا فرج سے کل کا لایا ہوا چکن ڈونر نکال
کرمائیکرووے میں گرم کیا اور کھالیا۔ ٹیلی ویژن آن کیا اس پر کوئی فلم چل رہی تھی مگر میں تو بہلول کے پاس پہنچ چکا تھا۔
قافلہ درختوں کے جھنڈ بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا اور اب اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی میں نے بہلول سے کہا
’’ مجھ سے اتنا تیز نہیں چلا جاتا ‘‘
وہ کہنے لگا
’’صحرائی قزاقوں سے واسطہ پڑ گیا تو چلو گے نہیں دوڑو گے ‘‘
میں نے پوچھا ’’
’’کیا ضروری ہے کہ اسی علاقے میں صحرائی قزاق ہوں وہ تو کہیں بھی ہمیں لوٹ سکتے ہیں ‘‘
بہلول نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ یہاں قریب ان کی کچھ بستیاں ہیں وہ صرف یہاں سے گزرنے والے قافلے ہی لوٹتے ہیں۔اور
اسی لوٹ کے مال پر بسر اوقات کرتے ہیں۔میں نے کہا
’’ قافلے والے لوگوں کے پاس بھی تو تلواریں موجود ہیں ‘‘
بہلول بولا
’’ دفاعی تلواریں جتنی بھی مضبوط ہوں حملہ آوروں کی جارہیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ ان میں جوش ، ولولہ اورکچھ حاصل
کرنے کی لگن بھری ہوئی ہوتی ہے ‘‘۔
قافلہ اس غیر محفوط علاقے سے باہر نکل آیا اورسب کے چہروں پر اطمینان جھلکنے لگا ، قافلے کی رفتار بھی معمول پرآ گئی۔ اچانک
میری نظر پڑی تو دور دوتین غزال کھڑے قافلے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔میں نے بہلول کو ان کی طرف متوجہ کیا ،بہلول نے انہیں دیکھ کر کہا
’’یہ بارہ سنگھے ہیں ان کی کھال سے بنے ہوئے جوتے بہت نرم اور مضبوط ہوتے ہیں ان کے سینگھ جہاں ہوںوہاں صحرائی
چڑیلیںنہیں آتیں ‘‘
میں نے بہلول کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
’’ اتنی عقل رکھنے کے باوجود بھی تم صحرائی چڑیلوں کے وجود پر یقین رکھتے ہو‘‘
بہلول بولا
’’ہاں اس لئے کہ صحرائی چڑیلوں کا وجود ہے ان کے بارے میں میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جنہوںنے زندگی بھربدی کی
طاقتیں حاصل کرنے کی تگ ودو کی ہے اورچڑیلوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی اس چشمہ حیات تک رسائی ہو گئی
ہو جس کا پانی پی لینے کے بعد موت نہیں آتی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان پر بھی موت آتی ہواور یہ اپنی نسلیں آگے بڑھاتی ہوں۔
میں یقین سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا مگر ان کے وجود سے اس لئے انکار نہیں کرتا کہ بچپن میں مجھے ایک صحرائی چڑیل اٹھا کر لے
گئی تھی ۔میں اس وقت آٹھ سال کا تھا مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ ایک غار میں میری آنکھ کھلی تھی وہاں بہت ہی بدشکل عورت بالکل
برہنہ حالت میں موجود تھی۔ اس کے لمبے لمبے دانت تھے اس نے بے ہوشی کی حالت میں میرے تمام کپڑے اتار دئیے تھے پتہ
نہیں وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتی تھی کہ بڑے مندرکا بڑا پنڈٹ میرے بابا کے ساتھ غار میں داخل ہوااور وہ چڑیل فوراً
غائب ہو گئی اس کے بعدبڑے پنڈٹ نے مجھ پر کچھ منتر پڑھے اور کہاکہ اس بچے کو وہ کچھ حاصل ہو گا جو مجھے اور اس صحرائی چڑیل
کو نہیں مل سکاشاید میں اسی حاصل کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں،شایدوہی کائنات کا سب سے عظیم دیوتا ہے باقی تمام دیوتا جس کی
کسی نہ کسی صفت کا پرتو ہیں، شاید اسی کا نام روح ِ کل ہے‘‘ ۔
اور میری روح اپنے کمرے میں واپس لوٹ آئی ۔ دروازے پر بِل ہوئی کھولا تو سائیکی کی بجائے ورما اپنی پریشان کن مسکراہٹ کے
ساتھ کھڑاتھااس نے بیٹھتے ہی مجھے کہا
’’میں پھر سادھو بابا کے پاس گیا تھا انہیں میرا آقا قافا کے پاس جانا بالکل اچھا نہیں لگا انہوں نے اس کیلئے ایک پیغام دیا ہے کہ اگر
ہم چاہتے تو تمہیں مسلمان بنانے کی بجائے بتوں کو پوجنے والا بھی بنا سکتے تھے‘‘
’’میں نے یہ جملہ سن کر کہا’یہ توخدائی دعویٰ ہے’’
ورما بولا
’’ پریشانی کی بات یہ کہ بابا نے کہا ہے کہ میں فوری طور پر جائوں اور اسے یہ پیغام دے آئوں ‘‘
میں نے کہا
’’ پتہ نہیں اس وقت ہمارا وہاں جانا مناسب ہے یا نہیںویسے بھی آقا قافا آج بہت افسردہ تھے ان کا شاعر دوست فوت ہو گیا ہے
ورما بولا
’’ جاوید اختر بیدی فوت ہو گیا ہے وہ تو تمہارا بھی دوست تھا ‘‘
میں نے کہا
’’ ہاں مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ جاوید اختر بیدی نے مجھ سے دنیا بھر کی باتیں کی مگر کبھی آقا قافا کا ذکر نہیں کیا۔افسوس جب
میری آقا قافا کے ساتھ صنم ریستوران میں بیدی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد میں ان سے مل ہی نہیں سکا کہ کچھ
آقا قافاکے بارے میں معلوم کر سکوں
ورما بولا
’’ یہ سوچو کہ مجھے بابا نے ابھی پیغام پہنچانے کیلئے کہا ہے اورمیں بابا کی حکم عدولی نہیں کر سکتا‘‘ ۔
میں اٹھ کھڑا ہوا ہم دونوں گاڑی میں بیٹھے تو ادھر سے سائیکی بھی آگئی ہمیں جاتے ہوئے دیکھ کر اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار
ہوئیں جن کا مفہوم میں سمجھ رہا تھا۔ میں نے اسے کہا
’’اپنی کار یہیں پارک کردو اور اسی گاڑی میں آجائو ہم دونوں آقا قافا کے پاس جارہے ہیں ‘‘
سائیکی نے ورماکی کار میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
’’کیوں کیا ہوا ہے؟‘‘
میں نے اسے سادھو بابا کے پیغام اور فوری طور پرپہنچانے کے بارے میں بتایا تو بولی
’’معاملات روز بروز الجھتے جارہے ہیںمگر ہندو مت کے ساتھ آقا قافا کا کوئی تعلق ضرور ہے انہوں نے اپنے کتے کا نام بھی ’’راون‘‘
رکھا ہوا ہے ۔ یہ کتا وہ پچھلے دنوں نیپال سے لے کر آئے ہیں۔ آقا قافا کے پاس رات کے وقت کوئی نہیں جاتا ۔اسی خوفناک راون
کے خوف سے۔ رات کو اس پیلس پر اسی کی حکمرانی ہوتی ہے ۔ وہ آقا قافاکے سوا کسی کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیتا‘‘
میں نے حیرت اور تجسس سے کہا
’’ انہوں نے کتا بھی رکھا ہوا ہے۔ ‘‘
ورما نے پوچھا
’’ کونسی نسل کا ہے ‘‘
سائیکی بولی
’’ہے تو راٹ وائلر مگر عام راٹ وائلرز سے خاصا بڑا ہے ۔میں نے اتنا بڑااور خوفناک راٹ وائلر کہیں نہیں دیکھا۔ آقا قافا تمام دن
اسے باندھ کر رکھتے ہیں صرف رات کو کھولتے ہیں ‘‘
میں نے سائیکی سے پوچھا
’’آقا قافا کے گھر میں اور کون ہوتا ہے کوئی ملازم بھی ہے؟ ‘‘
سائیکی بولی
’ ’نہیںاور توکوئی بھی نہیںوہاں ۔ وہ اتنے بڑے گھر میںبالکل اکیلے رہتے ہیں اپنے زیادہ تر کام خود ہی کرتے ہیں ‘‘۔
میں نے کہا
’’ یہ ناممکن ہے اتنے بڑے محل میں آقا قافا اکیلے نہیں رہ سکتے۔اس کی تو صفائی کم از کم پانچ چھ ملازموں کی ضرورت پڑتی ہوگی‘‘
سائیکی بولی
’’ ملازم دن کے وقت آتے ہیں ۔ رات کو راون کے سوا آقا قافا کے سوا کوئی نہیں ہوتا‘‘
ہماری کارجیسے ہی آقا قافا کی ڈرائیو میں داخل ہوئی ایک کتا چیتے کی طرح بہت خوفناک آواز میں بھونکتا ہوا ہماری طرف لپکا۔بڑا قد
آور کتا تھا۔بجری بھری راہداری سے چھلانگ لگا کر اس نے باڑ عبور کی اور ہمارے سامنے آگیااس کا بدن بڑا توانا اور مبضبوط
تھاسانولے رنگ کا چمکتا ہوامجسمہ دکھائی دے رہا تھا۔دم کٹی ہوئی تھی۔اس کے جسم کے ایک ایک حصے میں قوت بھری حرکت کا
احساس موجود تھاوہ واقعی خوفناک کتا تھا۔ اسے دیکھ کر سائیکی اور ورما نے تو کار سے نیچے اترنے سے بھی انکار کردیا۔مجبوراً مجھے ہی
اترنا پڑا میں نے جیسے کار کا دروازہ کھول کر پہلا پائوں زمین پر رکھا اس کی غراہٹ کم ہو گئی ۔میں نے اس کی خوبصورت بھور ی
آنکھوں میں غور سے دیکھاتو مجھے یوں احساس ہوا جیسے اس نے مجھے پہچان لیا ہو ور وہ بڑے پیار سے میری طرف منہ کر کے اپنی دُم
ہلانے لگا۔میں نے دوسرا پائوں باہر رکھنے کیلئے آگے بڑھا یا ہی تھا کہ پیچھے سے سائیکی نے مجھے کھینچ لیااور کہا
’’یہ کسی کو نہیں چھوڑتا بہت بری طرح کاٹتا ہے‘‘
مگر کتوں کا کچھ تجربہ مجھے بھی تھا۔ میں نے سائیکی سے کہا
’’یہ مجھے نہیں کاٹے گا‘‘
اور میں کار سے باہر نکل کر اس کی سمت بڑھنے لگا وہ بڑے پیار سے میرے قریب آگیا اور میرے پائوں چاٹنے لگا ۔میں نے اس کی
ذرا سی کمر سہلائی اور سائیکی اور ورما سے کہا
’’ کار سے باہر آجائو اب یہ تمہیں بھی کچھ نہیں کہے گا‘‘
وہ دونوں بھی اتر آئے اور سہمی سہمی نظروں سے کتے کی طرف دیکھنے لگے۔ مگر کتاان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہواہم تینوں
دروازے کی طرف چل پڑے کتا میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ہم جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو دوسری طرف سے آقا قافا نے دروازہ
کھولا اور کہا
’’آئیے آئیے ۔سادھو بابا بھی بادشاہ ہیں ۔بے وقت تم لوگوں کو تکلیف دی ہے انہوں نے‘‘
ہم جب لِونگ روم میں جا کر بیٹھ گئے توورما نے پوچھا
’’کیاآپ جانتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ ‘‘
آقا قافا بولے
’’ہاںیہی کہنے آئے ہو نا کہ ہم چاہتے تو تمہیں مسلمان بنانے کی بجائے بتوں کو پوجنے والا بھی بنا سکتے تھے ‘‘
ورما گھبرا کربولا
’’جی جی اور وہ۔۔۔‘‘
آقا قافا
’’وہ بھی میں جانتا ہوں‘‘ ۔
آقا قافا یہ کہہ کر اچانک اٹھے کہ راون دروازے پر کچھ دینے آیا ہے اور دروازہ کھول دیا۔ باہر کتاکھڑا تھا جس کے منہ میں کوئی کپڑا
تھاآقا قافا نے اس کے منہ سے وہ چھوٹا سا کپڑے کا ٹکرا لے لیا۔ کتا پلٹ گیا اور آقا قافا نے واپس آکر بیٹھتے ہوئے کہا
’’یہی نقش یہاں چھوڑنے آئے تھے نا ‘‘
ورمانے سہمی ہوئی نظر سے اس کپڑے کودیکھا جس پر کوئی الٹا سیدھا نقش بنا ہوا تھااور ہاں میں گردن ہلا دی آقا قافا نے کچھ دیر
خاموشی سے ورما کی طرف دیکھا اورکہا
’’ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم یہ جاننے کی کوشش کرو کہ سچائی کیا ہے اور اب تم جائو سادھو بابا سے میں خود بات کرلوں گا‘‘۔
سائیکی بولی
’’ میں بھی ایک بات پوچھنا چاہتی ہوںکہ آج آپ کے کتے کارویہ کیوں بدلا ہوا تھا ؟میرا پہلے بھی کئی بار اس سے واسطہ پڑ چکا ہے‘‘
آقاقافا ہنس دئیے اورکہا
’’ تمہارے ہونے والے شوہر کی وجہ سے ‘‘
سائیکی نے حیرت سے پوچھا
’’اس کا اس سے کیا تعلق ہے
آقا قافا بولے
’’وہی جو میرے ساتھ ہے ۔وقت آنے پر تمہیں سب معلوم ہو جائے گا اب جاوٴ ‘‘
اور ہم تینوں باہر آگئے ۔آقا قافا ہمیں کار تک چھوڑنے آئے۔ کار چلی تو سائیکی بولی
’’میں مان ہی نہیں سکتی کہ اس کتے کے ساتھ آج تم پہلی بار مل رہے تھے مجھے کتوں کا تم سے کہیں زیادہ تجربہ ہے ۔وہ اتنی محبت
سے کبھی آقاقافا سے پیش نہیں آتا جتنی محبت سے تمہارے پائوں چاٹ رہا تھا۔مجھے ایسا لگتا ہے یہ کتا بہت عرصہ تمہارے ساتھ
رہا ہے ۔۔‘‘
میں نے کہا
’’نہیں سائیکی تمہاری قسم میں نے آج زندگی میں پہلی بار اسے دیکھا ہے‘‘
سائیکی بولی
’’میں سوچ رہی ہوں کہ کہیں تمہارے اور آقا قافا کے جسم کی خوشبو بھی ایک جیسی تو نہیں‘‘
میں نے کہا
’’اتنا کچھ ایک جیسا ہو سکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے‘‘
ہم نے اُس نقش کے سلسلے میںورماسے کوئی بات نہیں کی ۔ ورماکار چلاتے ہوئے تھوڑی دیر کے بعد بولا
’’میں شرمندہ ہوں میں نے تم کو اس نقش کے بارے میں نہیں بتایا تھا ‘‘
میں نے ہنس کرکہا
’’ چھوڑو ۔۔ٹھیک کیا ہے تم نے۔ آقاقافا اور سادھو بابا دونوں مقابلے کی چیزیں ہیں۔ ہم عام سے لوگ ہیںسب کی مانتے رہو پرواہ
مت کرو‘‘
سائیکی بولی
’’مگر یہ ضرور دیکھنا کہ سچ کیا ہے‘‘۔
ورما نے ہمیں میرے فلیٹ کے باہر اتاردیااور خود یہ کہہ کر چلا گیا کہ میں نے سادھوبابا کے پاس جانا ہے ۔ ورما کے جاتے ہی سائیکی بولی
’’میں بھی جارہی ہوں تم جانتے ہو میں کل رات بالکل نہیں سو سکی تھی اور صبح صبح دفتر چلی گئی تھی۔ مجھے بہت زیادہ نیند آئی ہوئی ہے ‘‘
دونوں کے چلے جانے کے بعدروزمرہ کے کچھ کام جلدی میں نپٹا کر میں بھی بستر پر لیٹ گیا۔اور پھر بہلول اور میں محوِگفتگو تھے ْْ میں نے پوچھا
’’ کیا تم ایک آدم کی آسمانوں سے آمد کو نہیں مانتے ‘‘
کہنے لگا۔
’’میں مانتا ہوں ۔ بڑے پنڈٹ کہا کرتے ہیںکہ دنیا کے پہلے شاعربابا آدم تھے۔کہیںکچھ چٹانوں پر آدم کاایک مرثیہ بھی درج ہے
جو انہوں ہابیل کی موت پر کہا تھا کہ ’’زمین نے گرد پہن لی ہے اور بدنمائی کو اپنے ماتھے پر سجالیا ہے۔ ہر رنگوں بھری ہوئی اور
لطف و اکرام سے وابستہ شے نے اپنی آنکھیںبدل لی ہے چہروں کی بشاشت مٹی ہو گئی ہے۔قابیل نے کسی سفاک درندے کی
طرح ہاہیل کوموت کی وسعتوں میں اتار دیا ہے۔ اس کی اٹھتی ہوئی پُرثواب جوانی پر افسوس کا ایک دریائے بے کنار۔۔مگر میری
آنکھوں کوکیا ہوا ہے ان سے آنسووں کی ندیاں کیوں رواں نہیں ہوئیں۔اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میرے خوش
مزاج ہابیل کو مٹی نے اپنی آغوش میں لے لیا ہے ۔‘‘
میں نے پوچھا
’’کیا واقعی ایک عورت کیلئے قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا‘‘
بہلول کہنے لگا
’’ میرے نزدیک تو مرد کی عورت کے ساتھ ملاپ کی خواہش ہی زندگی کا سبب ہے‘‘
میں نے کہا
’’ میں نہیں سمجھا تمہاری بات ‘‘
کہنے لگا
’’جب سراندیپ کے جزیرے پر ۔جسمِ آدم میں لمسِ حواکے ۔۔خواب ہیجان بن کے لہرائے تھے اسی وقت کوہ جودی پہ حوا کے
بدن میں کسی پر جمال جذبے نے ایک مثبت سی آنچ سلگائی تھی ۔وصل کی بے پنہ کشش جاگی تھی اورزمین میں جسم کی خوشبوبے
کراں تیزیوں سے ہم آغوش ہوکرایسے پھیلی کہ پھیلتی ہی چلی گئی تھی اسی خوشبو کے تقاقب میں دونوںایک دوجے کی سمت
بڑھتے چلے گئے تھے تقریباً چودہ ہزار میل کی وہ طویل ترین مسافت طے ہو ئی تھی یعنی اعجازِ جنس کے صدقے زندگانی وجود میں آئی ہے‘‘
اگلے دن جب میں اور سائیکی آقاقافا کی مجلس میں گئے تو انہوں نے وہی گفتگو شروع کی ہوئی تھی جو بہلول میرے ساتھ کر رہا تھا
آقا قافا کہہ رہے تھے
’’آدم و حوا کی کہانی قدیم زمانے کے فلاسفر نہیں جانتے تھے اس کا بنیادی ماخذاس وقت کچھ تحریف شدہ الہامی کتابیں اورکچھ ان
کے گرد و نواح میں پھیلی ہوئی کہانیاں ہیں ہم آدم و حوا کے بارے میں صرف اتنا کچھ یقین سے کہہ سکتے ہیں جو قرآن حکیم میں آیا
ہے۔اس سلسلے میں ایک کہانی یہ بھی ہے کہ آدم علیہ اسلام نے دونوں بھائیوں میں اختلاف دیکھ کر کہا کہ قربانی کرو اللہ تعالی نے
جس کی قربانی قبول کر لی میرا فیصلہ اسی کے حق میں ہو گا۔ قابیل نے مہینوں دھرتی پہ ہل چلائے اورگندم اگا قربان گاہ میںرکھی ۔
ہابیل نے شکار کیا اور جانور کا گوشت قربان گاہ میں لا کر رکھا آسمان سے بجلی گری جس نے گوشت کو جلا کر راکھ کر دیاآدم علیہ
اسلام نے کہا کہ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی ہے جب کہ قابیل نے کہا کہ نہیں میری قربانی قبول ہوئی ہے چونکہ ہابیل نے خون
بہایا تھا ظلم کیا تھا کہ اس لئے تعالیٰ نے اس بجلی کے ذریعے میں تبدیل کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ مگر ان کہانیوں پر
ہمیں یقین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہلول چاہے آدم و حوا کے ملاپ کو معجزہ ، جنس کہے یا کچھ اور۔۔ سچائی صرف وہی ہے جو
الہامی ہے ۔۔قصہ ئ ابلیس و آدم میں ایک بحث اور بھی ہے۔ مولانا جلال الدین رومی نے اپنی کتاب مثنوی معنوی ﴿جسے ہست
قرآں در زبان پہلوی کہا جایا ہے ﴾ میں لکھا ہے کہ انسان پہلے جمادات تھا پھر اس کا ارتقائی عمل بناتات تک پہنچا وہاں سے ارتقائ
آگے بڑھا تو حیوانات کے دور میں آگیا اس کے بعدانسان تک پہنچا اور اس کے آگے ذہنی ا رتقائ کا سلسلہ شروع ہو گیا یہ وہ بات
ہے جسے پچھلی صدیوں میں ڈارون نے ایک سائنسی انداز میں پیش کیاہے۔ارتقائ کی یہ کہانی بڑی پُر کشش ہے مگر سوال پیدا
ہوتا ہے کہ پھر قرآنی قصہ ابلیس و آدم کو کہاں لے جائیں صوفیائے کرام اس کے حوالے یہ خیال تھا کہ یہ ایک تمثیلی کہانی ہے جو
اللہ تعالی نے عام لوگوں کو سمجھانے کیلئے بیان کی ہے ۔میں ذاتی طور پر ابھی صوفیائے کرام کی اس بات کا قائل نہیں ہو سکا ۔ اس
حوالے سے ایک نظم بھی کہی تھی میں نے
ہست قرآں در زبان پہلوی کی ایک آیت اور ہم
ابتدائے آفرنیش کی کوئی ساعت۔۔ جماداتی زمانہ
نیلم و الماس کے ڈھیروں میں حرکت کی طلسماتی نمو
پہلے نباتاتی تغیر کا فسوں
پہلی وجودیت کی پھر تجسیم کاری
جسم ِ حیواں کے مسلسل ارتقائ کی آخری حد
آدمیت کا جنم
فکری و ذہنی سفر کے راستوں پر گامزن
آدمی مٹی کی کچھ تبدیل ہوتی حالتوں کا اک ظہور
آدم و حوا کا قصہ ایک تمثیلی شعور
کچھ لوگوں نے قرآن ْْھکیم کے قصہ ئ ابلیس و آدم اور انسانی ارتقائ کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ زمین
آدم کی پیدا ئش سے کئی لاکھ سال پہلے تخلیق کی گئی تھی اور اس پر ارتقائی مراحل طے ہو رہے تھے۔ تخلیق ِ آدم کا واقعہ اس زمانے
میں وقوع پذیرکیا گیا جب ارتقائی عمل انسان تک پہنچنے والا تھااقبال نے جو کہا تھا کہ
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے ابھی تک صدائے کن فیکون
اس پر بھی غور کیا جائے تو ’’صدائے کن فیکون‘‘ایک مسلسل عمل محسوس ہوتا ہے جو ارتقائی مراحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ
رہا ہے۔۔۔ صدیوں سے انسانی دماغ ابتدائ اور انتہا کے دوسوالوں کے درمیان آویختہ ہے جن کے سنیکڑوں جواب موجود بھی
ہیںاور یہ سلگتے ہوئے سوال تشنہ ئ جواب بھی ہیں۔کچھ اور ان سے زیادہ پیچیدہ سوال بھی وادی ئ ذہن و نظر میں اضطراب افزا
تسلسل کے ساتھ موجود ہیں
آدمی اور کائناتِ خارجی میں ارتباط
کیوں ہے کیا ہے کس طرح ہے اور آخر کس لئے
مجھ پہ کیا موقوف شاید کوئی بھی سمجھا نہیں
انہی مصرعوں پر آقاقافا نے اپنی گفتگو ختم کی اور اندر چلے گئے ۔ سائیکی نے مجھ سے کہا
’’آج آقا قافا نے ہم سے کوئی بات نہیں کی ‘‘
میں نے کہا
’’ نہیں آج کی بھی ان کی تمام گفتگو صرف میرے لئے تھی‘‘
سائیکی نے حیرت سے پوچھا
’’تمہارے لئے‘‘
میں نے سائیکی کو بتایا کہ یہ بہلول اور میرے درمیان ہونے والی گفتگو پر ایک سیر حاصل تبصرہ تھا۔اسی وقت ایک اور شخص
ہمارے قریب آیا یہ آقاقافا کی مجلس میں شریک ہونے والا ایک آدمی تھا سائیکی نے اسکا تعارف کراتے ہوئے کہا
’’یہ مسٹر ارشاد اعوان ہیں جسٹس آف پیس ہیں انہیںپچھلے دنوں ملکہ برطانیہ کی طرف سے نائٹ ہڈ کا اعزاز ملا ہے ۔‘‘
مسٹر ارشادا اعوان نے رسمی گفتگو کے بعد مجھے اپنا کارڈ دیتے ہوئے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور کہا
’’ میں نائٹ ہڈ کا اعزاز ملنے پر ایک تقریب کر رہا ہوں میری خواہش ہے کہ آپ اس میں شریک ہوں ‘‘
میں نے بھی رسماً کہہ دیا ’’ جی ضرور ۔ ہم ضرور شریک ہونگے ۔
اس کے جانے بعد ہم کار میں بیٹھ گئے سائیکی نے مجھ سے پوچھا ۔
’’ کیا بات ہے مسٹر ارشاد اعوان تمہیں اچھے نہیں لگے ۔ وہ بہت خوبصورت آدمی ہیں بڑی اچھی گفتگو کرتے ہیں ‘‘
میں نے کہا
’’ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مجھے نائٹ ہڈ لینے والے لوگوں سے کوئی دلچسپی نہیں ‘‘
سائیکی جھنجھلا کر بولی
’’ کیوں ۔ ‘‘
میں نے کہا
’’ کیا جانتی ہو تم ان اعزازت کے بارے میں ۔ نائٹ ہڈ کی کہانی سنائوں تمہیں ‘‘
سائیکی نے کہا
’’سناوٴ ‘‘
اور میں شروع ہو گیا
’’یہ اس زمانے کی بات ہے جب یورپ تاریک صدیوں میں تھا اور چرچ اقتدار میں بادشاہوں کا مکمل طور پر شریک ہوا کرتا تھا ۔
یہاں نائٹ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا سات سال کے بچے کو کسی بڑے لارڈ کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ جہاں اس کی تعلیم شروع
ہوتی تھی اسے مذہبی باتیں سکھائی جاتی تھیں وہ تلوار بازوں اور گھڑ سواروں کی خدمت کرتا تھااسے تہذیب بھی سکھائی جاتی تھی
تیرہ سال کی عمر میں وہ نائٹ کا نائب بن جاتا تھا جسے سکوائر کہتے تھے اب اسے تلوار بازی اور نیزہ بازی کی تربیت دی جاتی تھی گھڑ
سواری میں مہارت حاصل کرتا تھا اس کیلئے جنگی مشقوں کا بندوبست کیا جاتا تھا ۔ یہ سکوائر اپنے ماسٹر کے گھوڑوں کی دیکھ بھال بھی
کرتے تھے ان کی زردہ بکتر اور ہتھیار وغیرہ پالش کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کی ہوتی تھی ان کی یہ بھی ذمہ داری ہوتی تھی کہ
جنگ میں اگر نائٹ گرنے لگے تو اس کی مدد کریں ۔ جب یہ سکوائر اٹھارہ سے اکیس سال کی عمر میں پہنچتے تھے تو ان کی کارکردگی
دیکھ کر انہیں نائٹ بنایا جاتا تھا ،نائٹ بنانے کی تقریب کا آغازمیں نائٹ کو پہلے باقاعدہ غسل دیا جاتا تھااس کے بعد وہ چرچ میں تمام
رات اپنے گناہوں اعتراف کرتا تھا اورعبادت میں مشغول رہتا تھا دوسرے دن وہ سفید لباس میں تلوار لے کر چرچ کے بڑے
ہال میںلایا جاتاتھا جہاں چرچ کا بڑا پادری اس کی تلوار پر اور اس کے جسم پر ہاتھ پھیرتا تھا اس کے بعد وہ اپنے نائٹ کے آگے جھکتا
تھا پھر لارڈ کے آگے جھکتا تھا لارڈ سے ایک سوال کرتا تھا اس کا جواب سے اگر لارڈ مطمئن ہوجاتا تھا تو اس کے نائٹ بنانے کی
تقریب جاری رہتی تھی اسے باقاعدہ خواتین نائٹ کا لباس پہناتی تھیں ۔وہ مکمل طور پر تیار ہوکر پھر اپنے لارڈ کے سامنے جھکتا
تھا۔لارڈ اسے تلوار دیتا تھا اور تین مرتبہ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتا تھا اور کہتا تھا کہ تمہیں گاڈ اور سینٹ جارج کے نام پر نائٹ
بنا جارہا ہے ۔یہی ٹائٹ جب کوئی کارنامہ سرانجام دیتے تھے تو انہیں نائٹ ہڈ کا اعزاز دیا جاتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ نائٹ ہڈ کا اعزاز
اپنی جگہ ایک حیثیت اختیار کر گیا اور اس کا مفہوم اعلیٰ کردار کا حامل شخص جو گھڑ سواری میںبہترین ہو۔ عورتوں کا خیال رکھنے والا
ہو ۔کمزوروں کی مدد کرنے والا ہواور بہادر ہو۔اور جسے نائٹ ہڈ کا اعزاز دیا جاتا تھا اسے ساتھ ’’سر ‘‘ کا لقب بھی مل جاتا تھا‘‘
سائیکی نے کہا
’’تو اس میں کونسی ایسی بات ہے جو تمہیں پسند نہیں ۔جو کچھ تم نے نائٹ ہڈ کے متعلق بتایا ہے وہ سب تو اچھی باتیں ہیں‘‘
میں نے ہنس کر کہا
’’تہذیبوں کی جنگ کے تناظر کو اس اعزاز پر غور کرویہ دیکھو کہ یہ وہ نائٹ ہڈکا اعزاز ہے جو چلتے چلتے سلمان رشدی جیسے اسلام
دشمن شخص تک آپہنچا ہے ۔اگرچہ اس راستے میں بڑے بڑے مسلمانوںکے نام بھی آتے ہیں۔مگر جو سچ ہے اس سے انکار تو نہیں
کیا جا سکتا تھا ، برطانوی حکومت کی طرف مسلمانوں کو ا عزازات دینے کا سلسلہ1857کی جنگ ِ آزادی کے بعد شروع ہوا۔وہ
مسلمان جنہوں نے 1857 میں غداری کی تھی ان کو برطانوی حکومت نے بڑے بڑے اعزازت سے سرفراز فرمایا جن کی تفصیل
﴿غداروں کے خطوط ﴾ نامی کتاب میں موجود ہے ۔سر کا اعزاز بھی پہلی بار انہی دنوں سامنے آیا ۔سید احمد خان کی انگریزی دوستی
سے خوش ہو کر انگریزوںنے انہیں یہ اعزاز دیا تو سید احمد خان نے اسے اتنی زیادہ اہمیت دی کہ اپنا نام گم کردیاآج سید احمد خان کے
نام سے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کس شخصیت کی بات کر رہے ہیں جب تک سرسیدا حمد خان نہ لکھیں اس وقت تک پہچان ممکن
نہیں رہتی۔‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’علامہ اقبال کو بھی سر کا خطاب دیا گیا تھا‘‘
میں نے کہا
’’علامہ اقبال کو جب یہ اعزاز دیا جانے لگا تو انہوں نے شعوری طور پر کوشش کی کہ میں اس اعزاز سے بوجھ سے بچ جائیں اور
انہوں نے شرط عائد کردی کہ جس استاد نے مجھے پرائمری سکول پڑھایا تھا پہلے اسے اعزاز دیں پھر میں یہ اعزاز لوں گا اقبال کا
خیال ہے کہ انگریز ایک معمولی پرائمری سکول کے استاد کو اعزاز نہیں دیں گے اور یوں اقبال اس بارِ گراں سے محفوظ رہ جائے گا
مگرانگریز بھی بات سمجھتے تھے انہوں نے اس پرائمری کے استاد کو بھی اعزاز دے دیا ۔ کئی لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے
اس اعزاز کو لینے سے انکار کر دیا ابھی دوسال پہلے کی بات ہے سیاہ فا م شاعر بنجمن زیفانیہ نے یہ اعزار لینے سے انکار کردیا تھاکہ
مجھے اس سے اپنے بزرگوں کے خون کی بو آتی ہے۔ برمنگھم کے ڈاکٹر نسیم نے بھی یہ کہہ کر اس اعزاز کو مسترد کر دیا تھا کہ اس سے
برٹش ائمپائر کے مظالم کی یاد آتی ہے۔ ذرا سوچوکہ اس سے پہلے جن ہزاروں افراد کو یہ اعزاز ملا ہے وہ کون تھے صیلیبی جنگوں
میں مسلمان کے ساتھ لڑنے والے سینکڑوں سپاہی یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں ۔برصغیر کو مسلمانوں کے لہو سے رنگین کرنے
والوںبے شمار انگریز یہ اعزاز پا چکے ہیں انیسویں صدی میںمسلمانوں کو شکست و ریخت سے شکار کرنے والوں کو بڑی تعداد یہ اعزاز
ملے ہیں ۔ سو یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ اعزاز صدیوں سے انہی لوگوں کو مل رہے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف کارہائے نمایاں سر
انجام دیتے آئے ہیں اورسلمان رشدی بھی انہی میں سے ایک تصور کیا جا رہا ہے۔اب جہاں تک کچھ مسلمانوں کو اس اعزاز سے
سرفراز کرنے کی بات ہے تو ہمیں ان مسلمانوں کے متعلق غور کرنا ہو گا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مسلمان جنہیں یہ اعزاز ملا
انہوں نے کسی نہ کسی حدتک انگریزوں کے مقاصد کی تکمیل کی ہو۔بہر حال انگریز حکومت سے اعزاز پانے والے بڑے بڑے
مسلمان ہیں ۔ جن کے بارے میںبات کرتے ہوئے بھی زبان پر چھالے پڑنے لگتے ہیں ۔برطانیہ میں ہمارے بہت سے سیاسی
معززین بھی مختلف اعزاز حاصل کر چکے ہیں کوئی’’ ایم بی ای ‘‘ہے تو کوئی او بی ای ‘‘ ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کا مفہوم
کیا ہے ۔ ایم بی ای کا مطلب ہے ’’ممبر آف برٹش ائمپائر ‘‘ اور او بی ای ‘‘ کا مفہوم ہے ’’آڈر ہے برٹش ائمپائر‘‘۔ حیرت کی ہے کہ
سیاسی جدوجہد کرنے والے جمہوری مزاج کے لوگوں کو ایسے اعزازات دینا اور زیادہ حیرت انگیز بات ان کا وصول کرنا ہے کہ ایک
شخص جو ساری زندگی جمہوری عمل کی تبلیغ کرتا ہے وہ آخر میں اس برٹش ائمپائر کا ممبر ہونا اپنے لئے باعث اعزاز سمجھنا شروع
کردیتا ہے جو ختم ہو چکی ہے اور جسے ختم کرنے کیلئے برطانوی عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔برطانوی حکومت کو چاہئے کہ وہ
ظلم و ستم کی یہ یاد گاریں اب صرف عجائب گھروں میں سجادے اور کوئی جمہوری مزاج کے اعزازات شروع کرے۔تاکہ قول و
فعل کا تضاد ختم ہو۔‘‘
سائیکی نے تنگ آکر کہا
’’لگتا ہے تم نے ابھی ایسٹ انڈین کمپنی کے جرائم پر برطانیہ کو معاف نہیں کیا‘‘
میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا
’’نہیں ایسی بات نہیں ۔مجھے یہ ملک اچھا لگتا ہے ۔میں نے جمہوری برطانیہ کی شہریت حاصل کی ہے۔ لیکن مجھے جب بھی ظلم اور نا
انصافیوں سے بھری ہوئی بادشاہت کی کوئی نشانی دکھائی جاتی ہے تو میں بے ساختہ اس پر تھوک دیتا ہوں۔‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’یہ تم نے کس طرح کی باتیں شروع کردی ہیں ۔ مجھے گھر پر ڈراپ کردو۔ میری دوست کرس نے آنا ہے ۔ میں نے کسی سے ملنے
کیلئے اسے بلایا ہے اس کے ایک میڈیم سے بہت اچھے مراسم ہیں ۔ میں چاہتی ہوں ہم دونوں اس سے ملیں۔ ممکن ہے اس الجھاوٴ
میں کوئی سلجھاوٴ دکھائی دے‘‘
اور پھر میں نے سائیکی اس کے گھر اتار دیا اور خود اپنے گھرآگیا۔کچھ دیر تیزی بدلتے ہوئے حالات و واقعات پر غور کیا آقا قافا کو
اپنے اندر کہیں تلاش کرنے کی کوشش کی اور پھرذہنی سکون کی تلاش میں بہلول کے پاس پہنچ گیا۔۔ بہلول نے میرے کان میں
سرگوشی کی
’’تم جانتے ہو قافلے میں ایک لڑکی بھی شامل ہے اور اس نے مردوں والا بھیس بدل رکھا ہے‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’کون‘‘
کہنے لگا
’’وہ خوبصورت لڑکا ،لڑکا نہیں لڑکی ہے ۔‘‘
میں نے تجسس سے پوچھا
’’تم کیسے جانتے ہو‘‘
بہلول بولا
’’ہم جب سندھ کے پانی سے گزررہے تھے تودریا نے میرے ساتھ یہی سرگوشی کی تھی مگر میں نے اس وقت غور نہیں کیا تھا‘‘
میں نے کہا
’’میں سمجھا نہیں ‘‘
تو بولا
’’تمہیں یاد ایک جگہ دریا کا پانی بہت گہرا ہوگیاتھاوہاں اس کے کپڑے پانی میں بہت زیادہ بھیگ گئے ۔اور میرا ذہن میں لہرا یا تھا کہ
یہ تو کوئی لڑکی ہے۔اور آج تو اس نے خود مجھے بتایا ہے ۔ وہ میری پاس آئی تھی ۔ کہ اسے کس مجبوری کی وجہ سے لہوارجانا تھا مگر
لڑکی ہونے کی وجہ سے کوئی قافلہ اسے ساتھ لے جانے پر تیار نہیں تھا اس لئے اس نے لڑکے کا بھیس بدل لیا مگراب اس لئے
مسئلہ ہو گیا ہے کہ وہ لڑکا اس قافلے کے سب سے بڑے تاجر کو پسند آگیا ہے وہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ رات اس کے ساتھ
گزارے۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ وہ اپنی عزت کیسے بچائے۔ میرے پاس مدد کیلئے آئی تھی اور میں نے مدد کا وعدہ بھی کیا
ہے ۔ اب بتائو کیا کریںبڑے تاجر نے اسے آج رات کا وقت دیا کہ اگراس نے کہنا نہ مانا تو وہ زبردستی کرے گا۔ کیا کیا جائے ۔‘‘
بہلول کو اس پریشانی نے روحِ کل سے علیحد ہ کر رکھا تھا ۔اسے اس وقت کوئی فلسفہ کوئی حکمت کی بات یاد نہیں تھی وہ صرف ایک
ہی بات سوچ رہا تھا کہ اس لڑکی کی عزت کیسے بچائی جائے جس نے اتنے بڑے قافلے میں صرف اس پر اعتبار کیا ہے۔میں نے بہلول سے پوچھا
’’اگر وہ اپنے آپ کولڑکی کی حیثیت سے ظاہر کردے تو کیا ہو گا‘‘
بہلول بولا
’’وہی بڑا تاجر اسے ہمیشہ کیلئے اپنی لونڈی بنا کر رکھ لے گاکیونکہ وہ بہت خوبصورت ہے ‘‘
میں نے کہا
’’اپنی روح کے بالائی حصے کو آواز دو ۔کوئی ماروائی طاقت ہی اس کی عزت بچاسکتی ہے‘‘
اور بہلول نے کہا
’’جب تک آدمی اپنے اندر ماروائی طاقتیں جمع نہیں کر لیتا اس وقت تک کوئی ماورائی طاقت مدد کیلئے نہیں آئی ۔۔۔﴿کچھ خاموش
رہنے کے بعد ﴾آئو میرے ساتھ‘‘
اور خود دوڑ پڑامیں بھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑنے لگا جب ہم قافلے سے آگے نکل گئے تو بہلول نے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر کھڑے
ہو کر قافلے والوں کو روکا ۔ قافلہ رک گیا
بہلول بولا
’’تم میں سے زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیںمیںاٹل کے علاقے کے سرداربلوٹ ا کا بیٹا بہلول ہوں جس نے زندگی کی پندرہ بہاریں
بڑے پنڈٹ کے قدموں میں گزاری ہیں ۔انہوں نے ابھی ابھی میرے کان میں سرگوشی فرمائی کہ افزانش و بہار کی دیوی تحوت
تمہارے قافلے میں جلوہ افروز ہونے والی ہے اور اس نے اپنی جلوہ نمائی کیلئے نوجوان لڑکے کا بدن پسند کیا ہے ۔جس کا اظہار اس
طرح ہوگا کہ وہ لڑکا لڑکی میں تبدیل ہو جائے گا۔اور پھر بہلول تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا قافلے کی سمت بڑھنے لگتا ہے میں اس کے
پیچھے پیچھے چلنے لگتا ہوا سب لوگوں کی نظریں ہمارے اوپر مرتکز ہو چکی ہوتی ہے ۔ بہلول چلتے چلتے اسی لڑکے کے پاس پہنچتا ہے اور
اس کے آگے سجدہ زیر ہوجاتا ہے۔لڑکی بہلول کی چال کو سمجھ کر اپنی ’’پگ ‘‘کھول دیتی ہے تو اس کے لمبے لمبے بال نظر آنے لگتے
ہیں۔وہ سامنے سے بھی اپنی قمیض کو کچھ اس طرح کھینچ لیتی ہے کہ اس کی چھاتیاں ابھرکر سامنے آجاتی ہے اور تمام قافلے والے
سجدہ گر پڑتے ہیں ۔ میں بھی سجدے میں گر جاتا ہوں۔
بہلول نے سجدے سے اٹھ کرقافلے والوں سے کہا
’ ’تحوت دیوی نے کہا ہے ’’اس لڑکے نے اسے پکارا تھا کیونکہ قافلے کا سرداربڑا تاجر اسے اپنے ساتھ سلانے پربضد تھادیوی نے
یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ ابھی کچھ سال اسی لڑکے کے بدن میں قیام کرے گی۔مبارک ہو دیوی ناراض نہیں ہے یقینا قافلے
پر رحمتوں کا نزول ہو گا۔‘‘
اور پھر فون کی گھنٹی اور بہلول کی آواز ایک دوسرے میں گڈمڈ ہونے لگی ۔