چھٹی مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


روح کا درِ طلسم کھلا۔حیرتوں کی راہداریوں میں فہم کے آدھے دھڑپتھرکے ہو گئے۔دھویںکے مرغولے انسانی بدن کی شکل میں
لہرانے لگے۔عدم آباد میںکہانیاں کروٹیں لینے لگیں۔وجدان تڑخ گیا۔گیان پیچھے رہ گئے۔بے حد و بے کراں کائناتیں ایک
عصبیے میںسمٹ آئیں۔ازل اور ابد کاغذ پر کھینچی ہوئی لکیر کے دو نقطے بن گئے۔وقت پلے سٹیشن فائیو کی گیم کی طرح بچوں کے
اشاروں پر حرکت کرنے لگا۔دیکھنے والے سکرین کے اندر داخل ہونے لگے۔کہانی کار اور کہانی کے کردار آپس میں گتھم گتھا
ہوگئے۔وہ لفظ کو الف سے پہلے تھے اور وہ ہندے جو صفر سے پہلے تھے علم کے فٹ پاتھ پر چہل قدمی کرنے لگے۔ آدمی نے نئے
آدم کا عصبیہ تخلیق کرلیا۔ایسے آدمی چلتے پھرتے دکھائی دینے لگے جو نسلِ آدم میں سے نہیں


چھٹی مجلس


میری آنکھ کھل گئی صبح میرے فلیٹ میںکافی دیر پہلے طلوع ہو چکی تھی ۔میں نے ریسور اٹھایاتوورما تھا۔کہنے لگا یار میں رات بہت
پریشان رہا ہوں ۔ میرا خیال ہے ہم پیرس میں اپنا جو دفتر بنا رہے ہیں ۔وہاں فوری طور پرکام شروع کریں کچھ عرصہ کے لئے پیرس
چلے جائیں۔ورنہ مجھے لگ رہا ہے سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔ میں نے اسے حوصلہ دیا کہ کچھ نہیں ہو گا ۔میں تیرے ساتھ ہوں اور
تیرے ساتھ رہوں گا ۔آقا قافا جو کچھ بھی ہے وہ ہمارا دشمن نہیں ہے۔تم دفتر چلو میں آرہا ہوں وہیں بات کرتے ہیں۔
دفتر پہنچاتودفتر میں اتنے مسائل بکھرے ہوئے تھے کہ شام تک ورما سے اس موضوع پر بات نہیں ہو سکی حتی کہ چاہنے کے باوجو د
میںسہ پہر کو سائیکی کے ساتھ آقا قافا کے پاس بھی نہیں جا سکا۔اچانک اتنی زیادہ فائلیں اپنی میز پر دیکھ کر میں پر یشان ہو گیا تھا
۔میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی۔کہ کہیں ورما بزنس سے علیحدہ کرنے کے متعلق تو نہیںسوچ رہا۔میں نے
سوچاکہ اسے سوچنا بھی چاہئے ۔واقعتا حالات بہت عجیب و غریب ہیں۔میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ ورما کہیں باہر سے اندر آیا اس
کے ہاتھ میں کچھ اے تھری سائز کے کاغذ تھے وہ پنوں کی مدد سے انہیں دیواروں پر لگانے لگا۔میں نے غور سے دیکھا تو ان کے
اوپر کوئی تعویز نما شے بنی ہوئی تھی۔ہر طرف سے سات خانے بنائے گئے تھے اور ان کے اندر بار بار سات کا عدد لکھا ہوا تھا میںنے ورما سے پوچھا
’’یہ کیا لگا رہے ہو‘‘
ورما انہیں لگاتے ہوئے بولا
’’یہ نقش مجھے کسی گیانی نے دئیے ہیں موجودہ صورت حال میں بہتری کیلئے ‘‘
میں نے پوچھا
’’سادھو بابانے ‘‘
کہنے لگا
’’ نہیں میںایک اور گیانی کے پاس گیا تھا وہ ہندو نہیں سکھ ہے ۔گلاسکو کے قریب رہتا ہے اس نے یہ دئیے ہیں ‘‘
میں نے پوچھا
’’بائی پوسٹ بھیجے ہیں ‘‘
ورما بولا
’’نہیں ۔۔۔میں خود لینے گیا تھا کل رات گیارہ گھر سے نکلا تھا اور ابھی واپس پہنچا ہوں سات سو میل گاڑی چلائی ہے‘‘
مجھے ورما کی ذہنی حالت پر ہنسی بھی آئی ۔اور میرے دل سے کچھ بوجھ بھی کم ہوا کہ ورماآج دفتر آیا ہی نہیں اس لئے مجھے اتنا کام کرنا
پڑا پھر میںنے سوچا کہ میںغلط آدمی ہوں سارا دن میں نے کسی سے یہاں تک بھی نہیں پوچھا کہ ورما کہاں ہے سارا کام میری ٹیبل پر
کیوں آتا جا رہا ہے۔ الٹا یہ سوچتا رہا ہوں کہ ورما میری طرف بھیج رہا ہے۔ورما نے جب سات عدد والے پوسٹر لگا لیے تومیں نے کہا
’’ سات کے ہندسے کے متعلق تم کیا جانتے ہو‘‘
ورما بولا۔
’’یہی کہ یہ ایک لکی نمبر ہے‘‘
میں نے کہا
’’کچھ اور ‘‘
کہنے لگا
’’بس ایک طاق عددہے۔کہتے ہیں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی عدد ہوتا ہے ۔ گیانی جی کے خیال میں میرا عدد بھی سات ہے اور ہمارے
بزنس کا عدد بھی ساتھ ہے‘‘
میں نے ہنس کر کہا
’’چلو آج تمہیں تمہارے اس سات عدد کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں ۔سات کا عدد آغازِ علوم ِ ہندسہ کے ادوارسے ہی پراسرار
الوہی طاقتوں سے وابستہ ہے ۔بات قدیم بابلی تہذیب سے شروع کی جائے یا مصری کاہنوں سے ۔اِس کا آغاز یونانی دیو مالائی داستانوں
سے کیا جائے یا ہندومیتھالوجی سے ۔ہر جگہ سات عدد کاطلسم اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہے ۔ یہی وہ تہذبیں ہیں جنہوں
نے اعداد کی مدد سے نقاطِ اعتدال کی طریق شمس پر دھیمی،رجعی حرکت یا اس کے نتیجے میں ہر نجمی سال پر نقطہ ٴاعتدال کا پیشتر
واقع ہونا معلوم کیا تھااور ہزاروں سال پہلے دن اور رات کے برابرہو جانے کی اس حقیقت تک پہنچ گئے تھے کہ یہ کائناتی عمل ہر
پچیس ہزارآٹھ سوستاسی سال کے بعد اپنے آپ کو دھراتا ہے۔ آج سائنس ان کی تصدیق کرتے ہوئے حیرت زدہ ہو جاتی ہے کہ
صرف ہندسوں کی مدد سے انہوں نے اتنی بڑی سچائی کیسے دریافت کر لی تھی۔اعداد کا آغاز انہی تہذیبوں سے ہوتا ہے۔ سات کا
عدد ان تہذیبوں میں تو اعداد کا اسم اعظم تھا ہی لیکن الہامی کتابوں میںبھی اس کی پراسراریت اپنے پورے عروج پر دکھائی دیتی
ہے۔ مثال کے طور پر ’’تورات‘‘ کا پہلاباب جس میں تکوین ِ کائنات کا ذکرآیا ہے۔اس کے مطابق کائنات کی تخلیق سات دنوں
میں ہوئی ہے۔ اس میں سات آسمان موجود ہیں ،سات مہریں دکھائی دیتی ہیں، سات سنگھاسن ہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ
ہے کہ حضرت دائود علیہ اسلام سے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش کا زمانہ بھی سات نسلوںپر مشتمل ہے ۔ انجیل کا وہ باب
جس میں یوحنا کو مستقبل کے متعلق ملنے والے الہامات کا بیان ہے اس میںخدا کی طرف سے زمین پر سات روحوں کے بھیجے جانے
کا تذکرہ ہے ۔ عہد نامہئ عتیق میںسات فرشتوں کا ذکر آتا ہے جو خدا کی طرف سے زمین پر آتے جاتے ہیں ۔ اسی طرح مصری
مذہب میں سات روحوں کی کہانی موجود ہے ، ہندومت کی پوتھیوں میں سات دیویوں کا ذکر آیا ہے ۔قدیم بابلی تہذیب بھی سات
روحوں پر ایمان رکھتی تھی۔ قدیم ایرانی اعتقادات میں بھی سات کا عدد مقدس ہے ۔دنیاسات سمندروںاورسات زمینوں پر
تقسیم کی گئی ۔سات سمندروں میں توبحر منجمد شمالی ، بحر منجمد جنوبی ،شمالی بحرالکاہل،جنوبی بحرالکاہل،شمالی بحراوقیانوس، جنوبی بحر
اوقیانوس اور بحرہند شامل ہیں مگر سات زمینوں کی وضاحت نہیں ہو سکتی۔شاید برِاعظم کی بابت کوئی بات ہو۔پیدائش کے بھی
سات مراحل ہیں ۔سات رنگ سامنے آئے ۔ سات سروں کا سرگم جاگا۔سات جہنم جل اٹھے اور سات بہشتیں خلق ہوئیں
۔ہندو مت میں دولھا اور دلہن کیلئے آگ کے چاروں جانب سات طواف ضروری قرار پائے ۔ کعبہ سات طوافوں پر سعادت تقسیم
کرنے لگا۔حج میں مروہ اور صفاپر سات بار آنا جانا ضروری ہے ۔شیطان کو کنکریاں بھی سات مرتبہ ماری جاتی ہیں ۔ایک نیکی کے
عوض ستر ہزار نیکیوں کا ذکر آیا ہے ۔استقبال کیلئے ’’ست بسمہ اللہ ‘‘اور’’ ستیں خیریں ‘‘جیسی ترکیبیں سامنے آئیں ۔عورت سات
سنگھاروں میں محدود ہوئی ۔سات پردوں میں چھپ جانے کا آغاز ہوا۔سات تووں سے منہ کو کالا کرنے والی لوک کہانیاں سنائی
دیں ۔الف لیلوی داستان سات سفر کے قصے لائی۔اور ان تخلیقی سیاروں کی تعداد بھی سات شمار کی جاتی ہے جو زمین پر اپنی
برقناطیسی لہریں بکھیرتے رہتے ہیں ۔ اہل ِ بابل کے نزدیک یہ سات ستارے کام اور قسمت پر اثرات مرتب کرتے تھے ۔ یونا نیوں
نے انہی سات ستاروں کے ناموں پر سات دیوتائوں کے نام رکھے اور پھر انہی ناموں پرہفتے کو سات دنوں میں تقسیم کیا ۔ تقریبا ً
دنیا کی ہر زبان میں دنوں کے جو نام ہیںان کے قدیم ماخذ میں یہی سات ستارے جلوہ نماہیں۔سورج اتوار کے دن کا ستارہ ہے
۔انگلش میں اسی لئے اسے سنڈے کہتے ہیں ۔چاند پیر کے دن کا ستارہ ہے اسے انگریزی زبان میں’’ منڈے‘‘فرانسیسی زبان میں
لنڈی(Lindi)اردو اور ہندی میں سوموارجرمن میں (Montag)ہسپانوی میں(Lines)کہتے ہیںلیکن ان تمام زبانوں کے
ناموں کاکچھ نہ کچھ چاند سے تعلق ضرور بنتا ہے ۔ منگل کا ستارہ مریخ ہے ، بدھ کا عطارد ہے ۔جمعرات کاستارہ مشتری ہے جمعہ کا ستارہ
زہرہ ہے اور ہفتے کا ستارہ زحل ہے ۔اس سات کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہودیوں کے مطابق خدانے انہیں
ساتواں دن کام کرنے کیلئے نہیں آرام کیلئے دیا تھا۔ اور پھر یہودی دنیا میں جہاں بھی گئے انہوںنے لوگوں کو اس ساتویں یعنی ہفتے کے
دن کی اہمیت کاایسا احساس دلایا کہ ایک بہت بڑی دنیا آج بھی ہفتے کے دن چھٹی کرتی ہے۔
ورما نے میری اتنی لمبی تقریر بڑی دلچسپی سے سنی اور بولا
’’یہ سوال تو اپنی جگہ پر کھڑا ہے کہ سات کا ہندسہ اتنا مقدس کیوں ہے؟‘‘
میں نے کہا
’’اس کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید آغازِ علوم ِ ہندسہ کے ادوار سات عدد پر رک جاتے تھے ۔ آٹھ تخلیق نہیں ہوا
تھا۔ حقیقت جو بھی ہے لیکن لگتا نہیں ہے کہ سات کے ہندسے کی پراسراریت شاید کبھی ختم ہو گی۔سات کے عدد سے انگریزی
زبان کی ایک اصطلاح یاد آرہی ہے (seven deadly sins) یعنی سات سنگین گناہ ۔ روایت کے مطابق غرور، حرص، ہوس،
غصہ، بسیار خوری ، حسد اور کاہلی کو ان سات سنگین گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔اور کہا جاتا ہے کہ ان میں سے اگرکوئی گناہ آپ کو
گناہ محسوس نہیں ہوتاتو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے خمیر میں مکمل طور پر رچ بس چکاہے۔ سات کے ہندسے کے حوالے
سے ) (seven sisterسات سہلیوں کی کہانی بھی بھولنے والی چیز نہیں۔سات بہادر بیٹوں کی داستان بھی مجھے یاد ہے۔ ممکن
ہے ورمایہ تمہارے سات عددکانقش بھی اپنے اندر کوئی روحانیت رکھتے ہوں۔ مجھے ان سے اختلاف نہیں ۔اور ان دنوں جس
طرح کے واقعات پیش کر رہے ہیں کسی بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میں جو کچھ اس عدد کے بارے میں جانتا تھا وہ میں نے
تمہیں بتا دیاہے‘‘
ورما کے ساتھ اعداد کے موضوع پر بڑی لمبی گفتگو ہوئی تھی۔۔۔۔ وقت کا پتہ ہی نہ چلا تھاسائیکی کا فون آیا کہ ہم نے دس بجے
ایک’میڈیم‘نورما کے پاس پہنچنا ہے ۔میں پارکنگ میں موجود ہوںسیدھے میری کار میں آجاوٴ ۔۔ میں نے دفتر کے گھڑیال پر
نظر ڈالی تورات کے نو بج رہے تھے میں نے ورما سے کہا کہ اب باقی باتیں کل کریں اورمیں تیزی سے چلتا ہوا سائیکی کی کار تک پہنچا اور کار میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
’’میڈیم نورما کون ہے؟ ۔یہ نام تم نے پہلے کبھی نہیں لیا‘‘
کہنے لگی
’’ وہ ایک ایسی خاتون ہے جو ماورائی مخلوقات کے رابطے کی وساطت سے ماضی اور مستقبل میں جھانکنے کی قوت رکھنے کے بارے
میں مشہور ہے ۔ممکن ہے آقا قافا کے حوالے سے وہ کسی بات پر روشنی ڈال سکے ۔ اس کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے ساتھ
دس منت کی ملاقات کیلئے لوگوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ کسی منسوخ شدہ ملاقات کے وقت میںمجھے بہت مشکل سے آدھ گھنٹہ کا وقت ملا ہے ‘‘
میں نے کہا
’’ہاں اب یہ روحوں کی چکربازی بھی سمجھنی پڑے گی‘‘۔
اور پھر ایک لمبی ڈرائیو کے بعد قدرے ویران اور نیم تاریک راستہ سے ہوتے ہوئے ہم ایک بڑی سی مینشن نما عمارت میں داخل
ہوئے ۔ عمارت بظاہر کسی بھوت بنگلہ سے کم نہیں تھی ۔دیواروں پر جگہ جگہ کائی کی ہریالی تھی کسی کیتھیڈرل کی کھڑکیوں کی
طرح رنگین شیشوں سے صدیوں کے دبیزپردے جیسے کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے تھے ، اندر سے کہیں دور کوئی شمع سی جلی محسوس
ہو رہی تھی ، باہر کچھ اندھیرے سایوں کی وحشت ،کچھدرجہئ حرارت کی کمی اور کچھ تیز ہوا کی سائیں سائیں نے ماحول پر ایک ڈراونا
ساہو کا عالم طاری کر رکھاتھا ۔ گاڑی ایک آہنی دروازے میں سے ایک کھلے اور روشن میدان میں عمارت کے استقبالیہ کے قریب
کھڑی کرنے کے بعد جب ہم صدر دروازے کے قریب پہنچے تومیں نے پلٹ کر دیکھا ۔ یہ میدان دراصل عمارت کے سامنے ایک
ایسے باغیچہ کا حصہ تھا جِس میں دور دور تک صرف جھاڑیاں یا سوکھے ہوئے پود ے اور درخت چیخ چیخ کر ان گنت محرومیوں کے
موسموں کی داستان سنا رہے تھے ۔ کچھ خزاںتھی اور کچھ سناٹا تھا کہ پائوں میں سوکھے پتے حشر کا سماں الاپتے محسوس ہو رہے تھے ۔
نظر ایک لمحہ کا فاصلہ کئی برس میں طے کرتے ہوئے صدر دروازے پراٹک گئی ۔ رنگ اور وارنش سے بے نیاز بڑا سا پرانی لکڑی کا
دروازہ جِس پر ایک بڑا سا زنگ آلودہ آہنیknocker اور چند ایک آرائشی بڑے بڑے کیلوں کے ابھرے ہوئے سربلب کی
روشنی میںبرسوں سے کسی نامعلوم آزمائِش میں گڑے ہوئے دِکھائی دیتے تھے ۔ سائیکی کے دروازہ پر دستک دیتے ہی چھت کی
منڈیر کے کسی ٹوٹے ہوئے بوسیدہ حصے میں چھپاہوا کوئی کبوترکسی بدروح کی طرح پھڑ پھڑاتے ہوئے ہوا میںغائب ہوگیا ۔ میرے
بدن میں جھری جھری آئی اور میں نے سوالیہ انداز میں سائیکی کی جانب اچٹتی سی نظر ڈالی ۔ وہ بولی
’جن پرانی عمارتوں کے مالک موجود کو بھول کر گزری ہوئی روحوں میں زندگی گزارتے ہیںوہاں یہی کچھ ہوتا ہے ‘‘
میں نے کہا
’’ آقا قافا بھی ایسی کوئی روح مگر اس کا محل پوری زندہ و شاداب دکھائی دیتا ہے‘‘۔
سائیکی کہنے لگی
’’ آقا قافابہت حیرت انگیز آدمی ہے‘‘
اور ایک چڑچڑاتی ہوئی آواز کے ساتھ لکڑی کا پرانا دروازہ تھوڑا سا کھلا ۔ اس کے کھلنے کی آوازشاید سڑک تک سنائی دی ہو گی۔
سامنے ایک بڑی سی موم بتی والا لیمپ ہاتھ میں لئے ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی جس کو دیکھتے ہی میری ذہن میں ننھے بہلول کو
اغوا کرنے والی صحرائی چڑیل لہرا گئی ۔اسنے ہماری طرف سرسری نظرسے دیکھا اور سرجھکا کر ہمیں اندر آنے کا اشارہ دیا ، سائیکی
اور میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔۔۔ایک طویل اور وسیع و عریض راہ داری سے گزر تے ہوئے ہم ایک کشادہ سے کمرہ میں
آگئے جس میں کسی طرح کا کوئی فرنیچر موجود نہیں تھا۔ راہ داری میںالبتہ خاص تزئین و آرائِش کا ثبوت ملتا تھا۔ دیواروں کا رنگ
اور وال پیپر اگرچہ اپنی طبعی عمر عرصہ سے پوری کرچکنے کے بعد شاید دوسرے یا تیسرے جنم کے سلسلوں سے گزر رہا تھا مگر ہر دو
تین فُٹ کے فاصلے پر بڑے بڑے لکڑی کے فریموں میں قدیم گرجوں ، حضر ت مریم اور حضرت عیسیٰ کی مصلوب حالتوں میں
تصاویر آویزاں تھیں ۔ مختلف طاقوں میں موم بتیاں بھی روشن تھیں ۔ یہاں کمرہ میں صرف دیواروں کے ساتھ ساتھ کچھ
فاصلوں پر صلیب کی شکل کے قدیم زنگ آلود آہنی کینڈل سٹینڈکھڑے تھے اور ہر ایک میں مومی شمع جل رہی تھی ۔ روشنی بہت
کم تھی ۔ ہم اس کمرے میںسے گزر کر ایک اور قدرے چھوٹے کمرے میں داخل ہوئے ۔ درمیان میں لکڑی کادس بارہ انچ قطر کا
ایک گول مینارہ ساتھا زمین سے تقریباً تین فٹ اونچا۔۔ اس کے اوپرلوہے کی ایک کڑاہی نما چیز فٹ تھی جسمیں ایک بڑی مشعل
جل رہی تھی۔ایک طرف بیٹھنے کیلئے پرانے زمانے کا لکڑی کا ایک صوفہ بھی پڑا ہوا تھا۔ فضائ میں ’’ہوانا ‘‘سگار کی خوشبو رچی
ہوئی تھی۔ یہاں پرسراریت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اس عورت نے ہمیں اشارہ سے وہیں بیٹھ جانے کیلئے کہا اور خودایک چھوٹے
سے دروازے سے اندر کہیں چلی گئی میں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے سائیکی سے کہا
’’یہ تو واقعی کوئی بدروحوں کا مسکن لگتا ہے مگر مجھے تو سگار کی خوشبو میں بھی کوئی راز پوشیدہ محسوس ہو رہا ہے۔ شاید روحیں بھی
تمباکو نوش فرماتی ہوں‘‘
اور ہم دونوں اپنی ہنسی دبانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہوگئے ۔۔اچانک اس کمرے میںایک آواز گونجی یہ ایک ایسی آواز
تھی جیسے بہت سی عورتیں بیک وقت بول رہی ہوں
’’تم لوگ کس کی روح کو بلانا چاہتے ہو‘‘
سائیکی بولی ’’
ہم ایک زندہ شخص کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں وہ اسی شہر میں رہتا ہے اور آقا قافا اس کانام ہے‘‘
آواز آئی
’’ کیا جاننا چاہتے ہو’’
سائیکی نے کہا
’’یہی کہ وہ کون ہے کہاں سے آیا ہے اس کے اندر کوئی نیک روح ہے یا بری ؟‘‘
دوسری طرف خاموشی ہو گئی۔ کافی دیر کے بعد پھر آواز آئی
’’وہ شخص اس وقت تیرے ساتھ بیٹھا ہواہے ،مجھے ایسا لگتا ہے تم لوگ میرا امتحان لینے آئے ہو اور یہ بہت بری بات ہے ‘‘
سائیکی بولی
’’یہی ہمارا مسئلہ ہے کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے اس کا کیا تعلق ہے کیونکہ ان دونوںکے فنگر پرنٹس تک ایک جیسے
ہیںصرف چہرے کے خدو خال کچھ مختلف ہیں ‘‘
عورت کی آواز آئی
’’کیا تم مجھے اس کی آواز سنا سکتی ہو‘‘
سائیکی بولی
’’میں آپ کو اس کا فون نمبر دیتی ہوں آپ انہیں فون کرلیں ‘‘
اور پھر سائیکی نے اس عورت کوآ قاقافا کا فون نمبر بتایا۔ اس نے فون نمبر ملایا۔شاید اس عورت نے فون بھی سپیکر کے ساتھ اٹیچ
کیا ہوا تھاکیونکہ اس کے ڈائل ہونے کی آواز بھی سنائی دیتی تھی ۔پھر آقا قافا کی آواز سنائی دی انہوں نے کہا ’’ہیلو‘‘
تو عورت نے انگریزی زبان میں پوچھا
’’کیا میں’’ آقا قافا ‘‘سے بات کر سکتی ہوں‘‘
دوسری طرف سے آقاقافا بہت ہی خوبصورت انگلش لہجے میں بولے ’
’جی میں بول رہا ہوں‘‘
عورت نے کہا
’’میں روحوں سے گفتگو کرنے والی ایک عورت ہوں اور اپنے کسی کلائنٹ کے کہنے پرآپ کے بارے میں کچھ جاننے کیلئے آپ کی
آواز سنا چاہتی تھی ڈسٹربنس پر معذرت خواہ ہوں ‘‘
آقا قافا بولے ’
’میڈیم نورما۔۔مگر میں تو اس وقت آپ کے مینشن میں اسی کلائنٹ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں ‘‘
عورت نے حیرت سے کہا
’’ پھر آپ اس نمبر پر کیسے بول رہے ہیں کیونکہ وہ میرے سامنے ہے اور خاموش بیٹھا ہوا ہے‘‘
آقا قافا بولے
’’یہ سمجھنا اب آپ کا کام ہے ‘‘
اور فون بند کردیا۔۔کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی تقریباً دس منٹ کے بعد وہی عورت جو انہیں یہاں بٹھا گئی تھی کمرے میں
داخل ہوئی اس نے ہم دونوں سے ہاتھ ملائے اور کہا
’’یہ میری زندگی کا سب سے حیران کن تجربہ ہے میرا علم کہتا ہے کہ آپ اس وقت یہاں بھی موجود ہیں اور یہاں سے کہیں دور
بھی ہیں جہاں سے ابھی آپ نے میرے ساتھ گفتگو کی تھی‘‘
میں پہلی بار بولا
’’یہی تو سمجھنے کیلئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں‘‘
وہ بولی
’’ یعنی آپ کواس بات کا احساس نہیں کہ آپ وہاں بھی موجود ہیںلیکن وہ جو کہیں اور ہیں انہیں اس بات کا احساس ہے ‘‘
میں نے کہا
جی‘‘۔
عورت ہمیں اپنے ساتھ اندر لے گئی اس چھوٹے سے دروازے سے گزرتے ہی ہمیں احساس ہوا کہ ہم چرچ میں داخل ہو گئے ہیں
۔دیواروںپر صلیبیں ، عیسیٰ علیہ اسلام اور حضرت مریم کے بت لٹکے ہوئے تھے۔ وہاں ایک سنگل بیڈ پڑا ہوا تھا جس کے چاروں
طرف لکڑی کا ایک باڈر لگا ہوا تھا اور اس پر بہت قریب قریب مومی شمعیں جل رہی تھیں ۔اس نے ایک طرف سے پکڑ کر اس
باڈر کو کھول دیا شمعوں کی ایک لائن بیڈ سے ہٹ گئی اور مجھے کہا
’’یہاں لیٹ جائو‘‘
میں نے سائیکی کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی یہی تھا کہ میں لیٹ جائوں۔ میں لیٹ گیا اس نے قریب پڑے ہوئے
ایک سٹول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سائیکی سے کہا
’’تم یہاں بیٹھ جاوٴ‘‘
اور اس کے بعد ایک بڑی شمع جو قریب میز پر جل رہی تھی اس نے پھونک مار کے اسے بجھا دیا ۔اب کمرے میں صرف انہی
شمعوں کی روشنی تھی جو بیڈ کے ارد گرد تھیں۔ اس نے مجھے کہا
’’ذہن کو کھلا چھوڑدو سانس کھینچ لو اور آنکھیں بند کر دو‘‘
میں نے اس کے کہنے پر عمل کیاوہ کچھ پڑھنے لگی ۔ مجھے وقت کا کوئی اندازہ نہیں مگر یوں لگ رہا تھا جیسے گزر ہی نہیں رہا کہ اچانک
دور سے میڈیم نورما جیسی ہی ایک گونجتی ہوئی آواز سنائی دی
’’میں یہاں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتی ۔۔مجھے تمہارے گرد و نواح میں بہت تیز الوہی روشنی دکھائی دے رہی ہے۔ میں اگر
تمہارے قریب آئی تو میں اس روشنی میں جل جائوں گی‘‘
میڈیم نورما منمنائی
’’مجھے صرف اتنا بتا دو کہ اس شخص کی روح اورآقا قافا کی روح کا آپس میں کیا تعلق ہے؟‘‘
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد پھر وہی آواز سنائی دی
’’آئینہ اور اس کا عکس ۔۔۔۔برف کے بلند پہاڑوں پر کسی نا معلوم قوت کا اس عکس کو آئینہ بنانے کا عمل۔۔ان دونوں میں ایک
صرف آئینہ ہے اور ایک آئینہ بھی اور عکس بھی۔۔۔اس کے سوا مجھے اور کچھ نہیں نظرآتا ۔ دونوں کے ارد گرد بڑی بڑی طاقتور
روشنیوں کے ہالے ہیں جن سے گزرنا ممکن نہیں۔‘‘ پھرخاموشی چھا گئی۔ میڈیم نورما کچھ دیر کچھ پڑھتی رہیں اور انہوں نے مجھے کہا
’’اب آپ اٹھ جائیے میرا علم بس یہیں تک تھالیکن میں چاہوں گی کہ آپ مجھ سے رابطہ رکھیں۔۔آپ اپنی روحانی قوتوں کا
احوال تو سن چکے ہیں ‘‘
میں نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے حیرت سے کہا
’’میری روحانی قوتیں ؟ مجھے ان کا کچھ علم نہیں ‘‘
وہ بولی
’’میری درخواست ہے کہ مجھے اپنے فیض سے بہرہ مند فرمائیے میں اس راستے کی ایک معمولی سی مسافر ہوں ‘‘۔
سائیکی اور میں نے بڑی مشکل سے اس سے اپنی جان چھڑا ئی۔ اس عمارت سے نکلتے ہی میں نے سائیکی سے پوچھا ’’یہ بتاوٴجب اس
روح کی آواز سنائی دے رہی تھی اس وقت میڈیم نورما کے ہونٹ تمہیں دکھائی دے رہے تھے ’’
سائیکی نے کہا
’’ہاں میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا تھا اس وقت اس کے ہونٹ بند تھے آنکھوں کی پتلیاں الٹ گئی تھیں اور اس کے ہاتھ
بالکل سرخ ہو گئے تھے‘‘۔
ہم میڈیم نور ما کے بارے میں کافی دیر گفتگو کرتے رہے ۔ اپنے فلیٹ کے باہر سائیکی کی کار سے اترتے ہوئے میں نے کہا
’’میں اس نتیجے پر پہنچا ہواکہ یہ میڈیم بھی گلے پڑگئی ہے اب کل اسے آقا قافا سے ملانا ہے ہم اس کے ساتھ وعدہ کر کے آئے
ہیں۔۔ دیکھتے ہیں کل وہ کیا فرماتے ہیں‘‘
سائیکی نے میری بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور چلی گئی ویسے بھی بہت دیر ہو گئی تھی۔ میڈیم نورما نے رات کا ایک بجا دیا تھالیکن
میں کچھ نہ کچھ اس کی روحوں کا قائل ہو گیا تھا۔بستر پر لیٹتے ہی وہ روحِ کل کا پجاری میرے پاس آگیا ۔میں یہاں اپنے کمرے میں سو
رہا تھا اور وہاں بہلول مجھے صبح ہوجانے کی وجہ سے بیدار کر رہا تھامیں نے اٹھتے ہی بہلول سے کہا
’’تم نے میری روح کونیچے کھینچ کر اچھا نہیں کیاوہ ساتویں آسمان سے واپس آئی ہے‘‘
بہلول ہنس کر بولا
’’جسم سے جدا ہونے کے بعدروح کی نہ کوئی زمین ہوتی ہے اور نہ آسمان۔ اس کا اظہار صرف جسم کے ساتھ وابستہ ہے مگر اسے
فنانہیں، وہ ایک ایسے عمل کا نام ہے جو وجود ِ حقیقی سے جڑا ہوا ہے اور وجودِ حقیقی ہی تما م روحوں کا ماورائی ماخذ ہے ‘‘
میں نے بہلول سے پوچھا
’’کیا کسی روح سے ہمکلام بھی ہوا جا سکتا ہے ‘‘
وہ بولا
’’ہاں یہ ممکن ہے دراصل کائنات کا ہر حصہ دوسرے حصے کے ساتھ اس طرح ملا ہوا ہے کہ اگر ایک حصے کے ساز کے تار کو چھیڑا
جائے تو دوسرے حصے میں بھی ارتعاش پیدا ہوتا ہے اسی طرح کئی مناجات کئی منتر کئی دعائیں ایسی ہیں کہ جن کے پڑھنے سے کسی
دوسری روح کے تار میں ارتعاش جنم لیتا ہے اور ہم اس ارتعاش سے مفہوم اخذ کر سکتے ہیں ‘‘
میں نے کہا
’’یہ جو بڑے بڑے پنڈٹ ،جادو گر اور کاہن جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے قبضہ ئ قدرت میں روحیں ہیں کیا واقعی یہ روحوں پر
اثرانداز ہو سکتے ہیں؟ ‘‘
تو کہنے لگا
’’کسی دوسری روح پر صرف وہی اثرانداز ہو سکتا ہے جس کی اپنی روح کا بالائی روح یعنی کائناتِ کل کی روح کے ساتھ رابطہ مضبوط
تر ہوتا ہے اور جو اپنے اس الوہی رابطے کو اتنا مضبوط کر لیتا ہے وہ پھر عام روحوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتاکچھ شیطانی طاقتیں بھی
ہوتی ہیںاور اپنے اصل سے کٹ جانے والی بدی پرست روحیں ان کا ساتھ بھی دیتی ہیں مگر یہ صبح صبح روحوں کی کہانی کیوں چھیڑ لی
ہے سامنے افق کو دیکھو شاید کروٹیں لیتی ہوئی عظیم ترین آگ کی پہلی کرن تمہاری طرف چل پڑی ہے‘‘
اور پھر پہلی کرن کی آمد کے ساتھ ہی قافلہ بھی چل پڑابہلول نے کہا
’’شاید ہم چند روز میں لہوارپہنچ جائیں گے وہاں صرف دو چیزوں کو اپنے ہونٹوں میں رکھنا ۔پہلی شے خاموشی ہے اور دوسری شے
سوال ۔اور ہاں یہ یاد رکھنا کہ سوال طویل ترین خاموشی کے تفکر سے جنم لیتا ہے سوال یہ نہیں کہ ایک روٹی کیلئے کتنی گندم چاہئے
سوال یہ ہے کہ گندم کیا ہے زمین کی تاریکی میں اسے کون پالتا ہے کیوں پالتا ہے کیسے پالتا ہے کیا سورج کی کرن اس لئے بنائی گئی
ہے کہ جب وہ زمین کی تاریکی سے نکلے تو اس کی پرورش کرے یا یہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے ‘‘
میں نے کہا
’’یہ سوالات تو ہمارے اعتقادات پر ضرب لگاتے ہیں‘‘
کہنے لگا
’’سوال وہی ہوتا ہے جو مسلمات کو توڑنے کی قوت رکھتا ہو۔ سچائی کی کھوج میں نکلنے والے تلوار کی دھار پر اپنا سفر شروع کرتے
ہیںاور کوئی کوئی منزل تک پہنچتا ہے ۔‘‘
میں نے کہا
’’یعنی سوال سچائی کی تلاش کا کھوج کا نام ہے‘‘
وہ بڑے گھمبیر لہجے میں بولا
’’ہاںسوال وہی اسم اعظم ہے جو علم کے درباز کرتا ہے ۔۔ وہ چراغ ہے جوباطن کی لامکانی میںمکان تعمیرکرتا ہے ۔ دیا سلائی کا وہ
شعلہ ہے جس شمع منور ہوتی ہے۔میںسوال ہی کو تلاش ِ ذات کی پہلی منزل سمجھتا ہوں۔میں اس منزل سے گزر چکا ہوں یہ وہ
مقام ہے جہاں تمام میں نے کائنات کو چھان ڈالا تھا۔ چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک کے دھڑکتے دِلوں کو ٹٹولا تھا اور پھِر آدم وحوا کی
طرف متوجہ ہو کر ان نبضوں پر اپنی انگلیا ںرکھ دی تھیں مگر کہیں بھی مجھے اس کی تلاش کاثمرنہیں مل سکا تھالیکن جب وہ اپنی
تلاش اپنی ذات کے اندر شروع کردی تو فروز مندیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار ہونے لگا‘‘
میں نے اس کے لہجے کی بڑھتی ہوئی گھمبیرتا کودیکھ کر موضوع بدل دیا اور اس سے پوچھا
’’ وہ تمہاری تخلیق کردہ دیوی کا کیا بنا ہوا ہے ‘‘
بہلول ہنس کر کہنے لگا
’’اب کچھ عرصہ میں وہ سچ مچ کی دیوی بن جائے گی ۔ ‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’وہ کیسے ‘‘
تواس نے کہا
’’انسان دماغ شعاعیں خارج کرتے ہیںجو مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہیں ۔ اس لڑکی کو چونکہ لوگوں نے دیوی سمجھ لیا ہے اب
جو بھی اس کے پاس جائے اس کے دماغ سے خوف ، احترام ،اور یقین کی شعاعیں نکلیں گی جو اس لڑکی کے ارد گرد جمع ہونے لگیں
گی رفتہ رفتہ ان شعاعوں کو اتنا بڑا ہجوم ہوجائے کہ وہ ایک طاقت کا روپ دھار لیں گی پھر اس لڑکی کے گرد و نواح سے اسی طاقت کا
اظہار ہونے لگے گا ایک غیر مرئی طاقت کا ۔۔اور جب کسی کے پاس کوئی غیر مرئی طاقت آجاتی ہے تو وہ آدمی سے دیوتا بن جاتا
ہے۔اب اسے تھوڑی سی تعلیم کی ضرورت ہے ۔ایک جنسیات کی تعلیم اور دوسری زمین اور زمین سے جو کچھ نکلتا ہے اس کی تعلیم
۔۔کیونکہ تحوت دیوی انہی دونوں قوتوں کی دیوی ہے ۔‘‘
کوئی بڑی تیز چکا چوند پیدا ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ بجلی کی چمک اور کڑک تھی جو بہت کم مغرب میں دیکھنے اور سننے کو ملتی
ہے کیونکہ مغرب میں بادلوںکا اور خاندان آباد ہے اور مشرق میں اور۔۔۔میں جلدی جلدی تیار ہو کر دفترچلا گیا کیونکہ کچھ بہت
ضروری میٹنگز تھیںدن بہت مصروف گزرا سائیکی کا فون آیا کہ وہ میڈیم نورما کے ساتھ پارکنگ میں موجود ہے۔ میں نے ورما سے کہا
’’ اب تم باقی معاملات سنبھال لینا میں جا رہاہوں آقا قافا کی طرف ‘‘
وہ بولا
’’میں نے بھی آنا ہے‘‘
میں نے اسے آج نہ آنے کا مشورہ دیا کہ کام بہت ہے اور خود سائیکی اورمیڈیم نورما کے ساتھ آقا قافا کی طرف چل پڑا ۔ منیگھم روڈ
پر ٹریفک بلاک ہو گئی نہ آگے جا سکتے تھے اور نہ پیچھے مڑ سکتے تھے سوتقریباً ایک گھنٹہ لیٹ جب وہاں پہنچے تو آقا قافا مجلس ختم کر چکے
تھے، لوگ جا رہے تھے ۔آقا قافا اندر جا چکے تھے ہم لوِنگ روم میں جا کر بیٹھ گئے کیونکہ ہم نے میڈیم نورما کو ان سے ملانا
تھا۔تھوڑی دیر کے بعد آقا قافا آئے معمول کے مطابق بڑی محبت سے ملے اور ہنس کر میڈیم نورما سے کہنے لگے
’’صرف ایک شخص کی بے احتیاطی کی وجہ سے کتنی دنیا کو پریشان ہونا پڑتا ہے لیکن یہ تو زندگی کامعمول ہے ٹریفک جام ہوتا رہتا
ہے آپ فرمائیے کیسے آنا ہوا ‘‘
میڈیم نورما بولی
’’میں آپ سے کچھ سیکھنا چاہتی ہوں اس لئے جو قیمت آپ کہیں میں ادا کرنے پر تیارہوں‘‘
آقا قافا نے کہا
’’آپ جو کچھ حاصل کرنا چاہتی ہیں اس کا تعلق آپ کی قوتِ ارادی کے ساتھ ہے میں آپ کی رہنمائی کے لئے تیا رہوں لیکن کہیں
ایسا نہ ہو کہ آپ راستہ کے امتحان سے گھبرا جائیں‘‘
میڈیم نورما بولی
’’میں جب آپ کے پاس آنے لگی تھی میں نے حساب کیا تھا جس میں یہ آیا تھا کہ آپ سے میں اسوقت کچھ سیکھ سکتی ہوںجب اپنا
گھر اپنی تمام دولت کسی خیراتی ادارے کو دے کر دو کمرے کے ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو جائوں۔کیا اس بات میں
ترمیم نہیں ہو سکتی ‘‘
آقا قافا نے اسے بہت گہری نظروں سے دیکھا اور سوچتے ہوئے بولے ’’
آپ کیا سیکھنا چاہتی ہیں ؟‘‘
میڈیم نورما نے کہا
’ایک آدمی بیک وقت دو مقامات پر کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
آقا قافا ہنس پڑے اور کہنے لگے ’
’یہ معمولی سا شعبدہ توآپ کو کوئی بھی سادھو سکھا سکتا ہے مگر ان کی بھی پہلی شرط کھدر کی ایک چادر کے سوا زندگی کی ہر شے کو
تیاگ دینا ہوتا ہے‘‘۔
اور پھر آقا قافا میری اور سائیکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے
’’انہیں رام ورما سے ملا دینااس وقت ان کوبھی شاید آپ کی ضرورت ہے وہ کوئی ایک آدھ شعبدہ آپ کو سکھا ہی دیں گے‘‘
میڈیم نورما بولی
’’میں بڑے یقین سے آئی تھی کہ آپ مجھے کچھ سکھائیں گے‘‘
آقا قافا بولے
’’آپ نے زندگی سفلی عملوں میں گزاری ہے اور آپ ان سے باہربھی نہیں آنا چاہتیں اس لئے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا‘‘
وہ بولی
’’آپ مجھے جس شخص کے پاس بھیج رہے ہیں کیاوہ سفلی علوم کا کوئی ماہر ہے؟ ‘‘
آقا قافا نے کہا
’’نہیں۔۔۔ مگر سفلی علوم سے اسے نفرت بھی نہیںاس کامقصدِ حیات بھی تمہاری طرح نیکی اور بدی نہیں ماورائی طاقتوں کا حصول ہے‘‘
وہ کچھ دیر چپ رہی اور پھر بولی
’’ایک اور سوال کہ جو روشنی کا ہالہ آپ کے اور﴿میری طرف اشارہ کرکے﴾ ان کے ارد گرد موجود رہتا ہے وہ کیا ہے؟‘‘
آقا قافا بولے ’
’ وہ روح کلِ سے ہماری روح کا واسطہ ہے‘‘
میڈیم نورما بولی
’’کیا جو شیطانی ارواح ہیں وہ روح ِکل سے علیحدہ کوئی شے ہیں ‘‘
آقا قافا نے کہا
’’نہیں مگر ان کا رابطہ روح ِکل سے کٹ کران بھٹکی ہوئی روحوں کے اجتماع سے ہے جس کا آغاز ابلیسِ لعین کی روح سے ہوا تھا‘‘
میڈیم نورما نے پوچھا
’’ کیا میں ماورائی طاقتوں کے حصول میں کامیاب ہو جاوٴں گی‘‘
آقا قافا بولے
’’غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے آپ اور میں صرف وہی جانتے ہیں جو ہمارے لئے غیب نہیں رہتا جس طرح ایک سائنس
دان کو علم ہوتا ہے کہ مٹی کے اس ذرے میں کتنی ایٹمی توانائی ہے مگر ہمارے نزدیک تو وہ ایک ذرہ ہی ہوتا ہے سو ہم اتنا ہی جانتے
ہیں جتنا ہمیں علم ہے جتنا ہم سیکھ سکے ہیں۔کل کیا ہونے والا ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات ہی جانتی ہے۔۔۔اور اب
آپ لوگ جا سکتے ہیں ‘‘۔
میڈیم نورما جب ہم سے جدا ہونے لگیں تو میں نے انہیں کہا
’’آپ جب کہیں گی آپ کو رام ورما کے ساتھ ملادیں گے‘‘
وہ مسکرا کر بولی
’’میرا خیال ہے اب میں انہیں خود ہی تلاش کر لوں گی‘‘
سائیکی اور میں فلیٹ پر گئے۔ تھوڑی دیر بعد ورما آگیاسائیکی کچن میں چائے بنا رہی تھی میں نے اسے آواز دی
’’ورما کیلئے بھی ایک کپ بنا لینا ‘‘
وہ وہیں سے بولی
’’سن لی ہے اس کی آواز‘‘
ورما نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا
’’لگتا ہے دل کے معاملات میں بھی کافی پیش رفت ہے‘‘
میں نے بھی اسی طرح سرگوشی کی
’’احتیاط ۔کیونکہ یہی تمہاری ہونے والی بھابھی ہے ‘‘
اس نے ہنس کر کہا
’’یہ جملہ میں پہلے بھی کئی لڑکیوں کے بارے میں سن چکاہوں ‘‘
میں نے کہا
’’نہیں ورما میں بدل چکاہوں ۔۔شاید تمہارے سادھو بابا ٹھیک کہتے تھے کہ میں وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔اب میرا کوئی غلط کام کرنے
کو جی نہیں چاہتا‘‘ورما بولا ’’سادھو بابا نے ایک اور ڈیوٹی لگا ئی ہے ‘‘
میں نے پوچھا
’’کیا‘‘
کہنے لگا
’’ انہوں نے کالی ماتا کی ایک چھوٹی سی مورتی دی ہے اور کہا ہے کہ کل آقا قافا کی محفل میں جانا اور اس مورتی کو جیب میں رکھنا ‘‘
میں نے اس سے پوچھا ’’
تم نے سادھو بابا کو یہ نہیں بتایا کہ آقا قافا کو ہر بات علم ہو جاتا ہے ‘‘
وہ کہنے لگا
’’بتایا ہے وہ کہتے ہیں جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے یہ جو آقا قافا ہے یہ ہماری اپنی غلطیوں کی سزا ہے‘‘
میں نے ہنس کر کہا
’’کل جیب میں ڈال کر آجانا دیکھیں گے کیا ہوتا ہے اور ہاں سادھو بابا کو بتانا کہ ایک روحوں کا علم رکھنے والی انگریز خاتون میڈیم
نورما ان کی تلاش میں ہے شاید وہ ان سے کچھ سیکھنا چاہتی ہے ‘‘
سائیکی چائے لے آئی اورہم تینوں چائے پینے لگے۔ سائیکی نے ورما سے کہا
’‘سادھو بابا نے تمہیں تنہائی میں تو آقا قافا کے بارے میں کچھ بتایا ہو گا
‘‘ورما بولا ’
’ آقا قافا کے حوالے سے صرف ایک جملہ کہا ہے انہوںنے کہ بڑے سادھو نے اپنے تجربے کی کامیابی کیلئے اپنے دھرم کو قربان
کردیاہے۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا کہ اس کا کیا مطلب ہے ‘‘۔
پھر سائیکی نے مجھ سے پوچھا
’’ یہ تم نے کچن کی دیوار پر ایک فریم لگایا ہوا ہے ۔جس کے اندرمکمل سگریٹ موجود ہے ۔ یہ میری سمجھ میں نہیں آسکا ۔﴿ہنس
کر﴾ یہ کوئی دنیا کا بہت خاص سگریٹ ہے‘‘
میں نے کہا
’’ یہ بہت اہم سگریٹ ہے۔میرے مرنے کے بعد اسے شاید نیلام کیا جائے گا ۔ ملین پونڈ سے قطعاً کم بولی نہیں لگے گی ۔۔‘‘
سائیکی حیرت سے بولی
’’کونسی ایسی بات ہے اس میں ‘‘
میں نے پوری سنجیدگی سے کہا
’’اس نے میری لائف پربہت گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ‘‘
ورماکہنے لگا
’’ میں نے کئی مرتبہ اس فریم شدہ سگریٹ کو دیکھا مگرسائیکی کی طرح نہیں سوچاکہ ممکن ہے یہ کوئی آرٹ کا شاہکار ہوتجریدی
آرٹ کا‘‘
سائیکی کہنے لگی ’
’ اس میں آرٹ والی تو کوئی بات نہیں نظر آتی میں نے غور سے دیکھا ہے عام سا سگریٹ ہے بینسن اپنڈ ہیجزکا ۔‘‘
میں نے کہا
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو دراصل اس کے ساتھ ایک واقعہ منسلک ہے سن لو۔میں جب نیا نیا برطانیہ آیا تھا۔ایک دن میری کار لندن
سے بریڈفورڈ جانے والے موٹروے ایم ون پر دوڑتی جا رہی تھی ،اور میں ایک نئی زندگی کے آغاز میں کہیں کھویا تھا سوچ رہا تھا کہ
بنک میں بزنس اکائونٹ کھلوانا ہے ، الیکٹرو رول لسٹ میں اپنے نام کا اندراج کرانا ہے ۔ابھی ایک سو پونڈ روڈ ٹیکس کا ادا کیاتھا اور یہ
سو پونڈ دیتے ہوئے مجھے پاکستان بہت یاد آیا تھا۔وہ واقعی ایک آزاد ملک ہے یہاں تو گاڑی سڑک پر لانے سے پہلے سڑک کا کرایہ
ادا کرنا ضروری ہے ۔ اگلے مہینے کار کی ایم او ٹی بھی کرانی ہے،یعنی کیا وہ روڈ پر چلنے کے قابل ہے یا نہیں۔ اور میرے دوستوں کو
اس بات کا خدشہ بھی تھا کہ اس کار کی ایم او ٹی نہیں ہو سکے گی اس کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے مگر مجھے اس کار میں کوئی خرابی
نہیں دکھائی دیتی تھی وہ کار اگر پاکستان میں ہوتی تو اس کی قیمت کم از کم ڈیڑھ دو لاکھ روپے ضرور ہوتی۔ ۔۔انہی سوچوں میں گم
۔۔میں نے سپیڈو میٹر کی سوئی طرف دیکھا ہی نہیں جو کافی دیر سے نوے میل فی گھنٹہ کی رفتار پر پہنچی ہوئی تھی ۔ میں نے یہ پرانی
فورڈکار آکشن سے دو سو پونڈ کی خرید لی تھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائنس میں اپنے ساتھ پاکستان سے لا یاتھا،ہاں البتہ کار کی
انشورنس دو ہزار پونڈ میں ہوئی تھی۔ انشورنس کے بغیر تویہاں کوئی گاڑی نہیں چلائی جا سکتی نا۔سو چھ ماہ کے لئے ایک ہزار پونڈ
دے کر انشورنس بھی کرالی تھی ۔ میں نے کوشش کی تھی کہ انشورنس کے بغیرسلسلہ چل جائے گا مگر دوستوں نے سمجھایا کہ یہ
پاکستان نہیں ہے پکڑے جائو گے سو مجبوراً انشورنس بھی کرالی تھی۔
اچانک ایک تیزرفتار پولیس کار میرے آگے آگئی اور مجھے گاڑی روکنے کا اِشارہ دینے لگی ۔مجبوراً میں نے کار ایک طرف ہارڈ شولڈر
پر کھڑی کر لی اور فوراً گاڑی سے باہر نکل آیا۔ پولیس کار میں ایک ہی پولیس مین تھا وہ بھی کار کھڑی کر کے ڈرائیوِنگ سیٹ سے اٹھ
کر میری طرف بڑھا تقریبا ًہم دونوں ایک ہی وقت میں اپنی اپنی گاڑیوں سے باہر آئے اورایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ اس
نے مجھے سر کہہ کر بہت احترام سے مخاطب کیا میں نے تو خیر اسے' سر' کہنا ہی تھا یہ تو ہم پاکستانیوں کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ خیر اس
نے مجھے بتایا کہ میں حدِ رفتار سے کتنا زیادہ آگے جا رہا تھا جس پر میں نے اس سے سوری کیا۔اس نے مجھے ایک کاغذتھما دیا اور کہا کہ
اپنے کے قریبی پولیس اسٹیشن پر جا کر اپنے کاغذات چیک کرا دیجئے گا۔پولیس اسٹیشن جانے سے بچنے کیلئے میں نے اسے پھر کہانی
ڈالنی شروع کردی۔ وہی گھر سے دس میل دور پردیسی ہو جانے والی کہانی کہ میں ابھی کچھ دن ہوئے ہیں پاکستان سے آیا ہوں۔
یہاں کے قوانین کے متعلق کچھ زیادہ نہیں جانتا پلیزتم ہی میرے کاغذات دیکھ لو تاکہ مجھے پولیس اسٹیشن نہ جانا پڑے۔ اس کے
ساتھ ہی میںجیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا ایک سگریٹ خود لگا لیا اور دوسرا اسے پیش کیا۔ اس نے معذرت کی ۔مگر میں پاکستانی
تھا اسے سگریٹ لینے پر مجبور کر دیا اس نے سگریٹ تو لے لیا مگر اسے جلایا نہیں اور کہا ’’لائیے کاغذات چیک کرا دیجئے ‘میں نے
اسے کاغذات دکھائے اس نے باقی کاغذ توسارے واپس کر دئیے مگر میرا ڈرائیونگ لائنس اپنے پاس رکھ لیااوروہیںچالان پر بنے
ہوئے ایک خانے کو پین سے ٹک کرادیااور کہا کہ اب آپ فکر نہ کریں آپ کے پاس خط پہنچ جائے ۔ پاکستانی ٹریفک پولیس کے
تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ، اس کے سگریٹ لے لینے سے میں مطمئن ہو گیا تھا کہ اب میرے خلاف کوئی بڑی کاروائی نہیں ہوگی۔

اس واقعہ کو ابھی تین دِن بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے کورٹ سے لیٹر آگیا کہ فلاں تاریخ کو فلاں عدالت میں تم نے پیش ہونا
ہے۔ میں نے فوراً دوستوں سے مشورہ کیا ۔وکیل کرنے کے متعلق سوچا مگر پتہ چلا کہ اگر میں وکیل کروں تو کم از کم اسے ایک
ہزار پونڈ دینے پڑ جائیں گے اور پھر بھی فیصلہ میرے خلاف ہوگا۔ بہتریہی ہے کہ خود چلا جائوں تو جج چالیس پچاس پونڈ جرمانہ
کردے گا۔میں نے دل ہی دل میں اس پولیس آفسر کو بڑی صلواتیں سنائیں، مجھے اپنے سگریٹ کے ضائع ہوجانے کا اتنا دکھ نہیں
تھاجتنادکھ اس بات کا تھا کہ میں نے اُس کی مسلسل آدھا گھنٹہ خوشامد کی تھی ۔مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے میرے اتنے
خوبصورت اور احترام بھرے لچک دارلفظوں کو اٹھا کر گندی نالی میں پھینک دیا ہو۔۔۔میں مقررہ تاریخ کو عدالت میں پہنچ گیا
وہاں میرا کیس سننے کیلئے ایک نہیں تین جج بیٹھے ہوئے تھے،جنہیں دیکھ کر میرا دل دہل گیا۔ میں نے فوراً سوچا کہ یہاں ججوں کا
پینل بیٹھا ہوا ہے۔ لگتا ہے اس پولیس آفیسر نے میرے خلاف ٍ کوئی بہت سخت کیس بنایا ہے ،میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی
تھیں۔ جج نے شاید میری پریشان حالی پر یقین کر لیا تھا کہ میں واقعی مجرم ہوں۔۔۔بعد میں جب مجھے وہاں ان تین ججوں کی
موجودگی کی وجہ پتہ چلی تھی تو مجھے خود پر بڑی ہنسی آئی تھی،تم جانتے ہو یہاں چھوٹے موٹے مقدمات سننے کیلئے برطانوی حکومت
نے ایک جسٹس آف پیس کا چکر چلا رکھا ہے یہ جسٹس آف پیس ہر وہ شخص بن سکتا ہے جو دماغی طور پر ٹھیک ہو اور انگریزی زبان
پڑھنا جانتا ہویہ عوام کو انصاف میں شریک کرنے کیلئے ایک حکومتی اقدام ہے جس کے تحت کوئی بھی عام آدمی جسٹس آف پیس
بن سکتا ہے اور اس کا م کے عوض اُنہیں کوئی خاص معاوضہ بھی نہیں دیاجاتا۔اکثر عدالتوں میں ایک وقت میں پینل پر جے پی کے
ساتھ دواور ساتھی بھی بِٹھا دئے جاتے ہیں تاکہ فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے اور اِس سلسلے میں انہیں انصاف کرتے ہوئے
زیادہ دقت نہ ہو۔میرا مقدمہ نجانے کس وقت شروع ہوا اور کب ختم ہو گیا مجھے کچھ پتہ نہ چلا بس دو یا تین منٹ کی گفتگوہوئی اور
اس کے بعدجج نے فیصلہ سنا دیامجھ پر صرف تیس پونڈ جرمانہ کر دیاگیا اور اس کے ساتھ وارننگ بھی دی گئی۔ ۔۔۔ابھی میں
صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ جج نے مجھے پاس بلا کرمیرا لائنس اور اس کے ساتھ وہی سگریٹ جو میں نے اس پولیس
آفسر کو دیا تھا مجھے واپس کردیا اس وقت مجھے یو ں محسوس ہوا جیسے جج کہہ رہا ہے کہ یہ پاکستان نہیں ہے ۔۔۔میں نے لائسنس تو
جیب میں ڈال لیا مگروہ ان جلا سگریٹ بہت دنوں تک میری انگلیوں میں انگارے کی طرح اٹکا رہا۔آخر کار میں نے فریم کرا کے دیوار پر لگا دیا‘
‘سائیکی اور ورما دونوں سگریٹ کی کہانی سنتے ہوئے زیر لب مسکراتے رہے مگر جیسے میں کہانی کا اختتام کیا تو دونوں سنجیدہ ہوگئے سائیکی کہنے لگی
’’ میں تمہیں حساس آدمی نہیں سمجھتی تھی ‘‘
ورما نے مجھے مشورہ دیا
’’ یہ کہانی کسی اور کو مت سنانا‘‘
میں نے پوچھا
’’ کیوں ‘‘
تو کہنے لگا
’’بس۔۔ رہنے دو یہ بات میں تمہیں سمجھا نہیں سکتا۔یہ دنیا ہے ۔دوڑتے ہوئے ڈالروں اور بھاگتے ہوئے پونڈوں کی دنیا۔۔یہاں
لوگ صرف کار کا پرائنڈ اور نمبر نہیں دیکھتے۔اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ تم نے جو جوتے پہن رکھے ہیں یہ کونسی کمپنی کے بنے ہوئے ہیں۔‘‘
اس موضوع پرکافی دیر کی گفتگو ہوئی پھر وہ دونوں اپنے اپنے گھروں چلے گئے اورمیں بہلول کے پاس ۔۔۔بہلول مجھ سے کہنے لگا
’’مجھے تو اس قافلے میں جتنے لوگ شامل ہیں سب سنسان مقبروں کی طرح دکھائی دینے لگے ہیں۔ اور یہ پڑائو ویران مندر کی طرح
محسوس ہورہا ہے۔۔‘‘
میں نے حیرت سے کہا
’’دیوی کی آمد کے بعد تو انہیں زیادہ پر جوش ہو جانا چاہئے تھا‘‘
بہلول نے کہا
’’دیوی نے اس فافلے میں اپنی آمد کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دیوتائوں اور ان کے باغی دیوئوں کے درمیان جنگ شروع
ہوگئی ہے ۔دونوں لشکریوں کے طور پرانسانوں کا استعمال کرنے لگے ہیں۔یعنی دونوں طرف سے مرنے والے انسان ہیں۔
دیوتائوںکے سردار کے پاس بھی بڑی طاقتیںہیں وہ اپنے سفید محل میں بیٹھ کر پوری دنیا کی خبر رکھتا ہے اُس کے میلوں دور دیکھنے
کی صلاحیت رکھنے و الے چوکیدار بھی ہیںجنہیں گھاس کے اگنے کی آواز تک سنائی دیتی ہے وہ قوسِ قزح پر رہتے ہیں۔دیوتا اور
دیواپنے لئے زیادہ سے زیادہ زمین اور وسائل چاہتے ہیں۔انہوں نے بھی ایک ایسا نیزہ بنایا ہوا ہے جو جس چیز سے ٹکراتا ہے اسی
سے گزرتا چلا جاتا ہے اور ان کا ہتھوڑا تو ایسی زبردست چیز ہے اس کا اپنے ہدف سے خطا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان کی
آواز پوری دنیا میں سنی جا سکتی ہے ۔مگر ان کے پاس انسانوں کی کمی ہو گئی ہے اس لئے مجھے بھیجا گیا ہے کہ میں انسانوں کا ایک لشکر
لے کر آئوں ۔ اب قافلے والے خوف زدہ ہیں کہ کہیں دیوی انہیں اپنا لشکری بنا لے ‘‘
میں نے ہنس کربہلول سے پوچھا
’’ تم نے اسے سمجھایا نہیں ‘‘
کہنے لگا
’’ نہیں ابھی جا کر میں نے اعلان کرنا ہے کہ دیوی نے کہا ہے کہ وہ اپنے تمام لشکری لہوار شہر سے جمع کرے گی تم نے لوگوں نے
صرف لشکریوں کو جمع کرانے میں دیوی کا ساتھ دینا ہے بس ذرا تخت تیار ہو جائے‘‘
اس وقت قافلے دریائے چناب کے کنارے پڑائو ڈال رکھا تھا اور دیوی کیلئے ایک تخت تیار کیا جا رہا تھا جس پر بیٹھ کر اس نے دریا
عبور کرنا ہے۔تخت بنانے کا عمل دیکھتے دیکھتے صبح ہوگی ۔۔میں نے مڑ کر دیکھا تو کھڑکی سے دھوپ اندر آرہی تھی ۔ بریڈفورڈ
یونیورسٹی کی اونچی بلڈنگ سے سورج ذرا سا جھانک مجھے دیکھ رہا تھا۔میں نے بستر چھوڑ دیا۔
پھروہی معمول کی مصروفیات ۔بہر حال آج ہم تینوں وقت پر آقا قافا کی مجلس میں پہنچ گئے وہ گفتگو شروع کرہے تھے ہمیں بیٹھتے
ہوئے دیکھ کر رک گئے اور سب سے لوگوں سے بولے
’’میں چند منٹ کے لئے اندر جارہا ہوں ابھی آتا ہوں ‘‘
وہ اندر چلے گئے اور ورما نے مجھ سے کہا
’’میں جس وقت سے اس کمرے میں داخل ہوا ہوںکالی ماتا کی مورتی میں لرزش ہونے لگی ہے ‘‘
اتنی دیر میںآقاقافا باہر کے دروازے سے واپس آئے ہم اس دروازے کے بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے دروازے پر
کھڑے ورما کو بلایا۔ورما باہر گیا تو آقا قافا نے ورما کو سبز رنگ کا چھوٹا سا کپڑا دیتے ہوئے کہا
’’کالی ماتا کو اس کپڑے میں لپیٹ لو‘‘
ورما نے اس سبزکپڑے میںمورتی کو لپیٹ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا میں نے اس سے پوچھا
’’ کیا اب بھی اس میں لرزش ہے ‘‘
تو ورما بولا
’’نہیں اب اس کی لرزش ختم ہو چکی ہے‘‘
آقا قافا نے گفتگو شروع کی اور کہا
’’ آج سے میں اپنی کہانی سنانے کی ابتدا کرتا ہوں ۔جس کا تم سے ایک طویل عرصہ سے وعدہ ہے ‘‘
ایک شخص نے اٹھ کرکہا
’’آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آج ہمارے مسجد کا وزٹ کریں گے‘‘
آقا قافا بولے
’’کیا ابھی جانا ہے‘‘
وہ آدمی کہنے لگا
’’اگر آپ ابھی چلیں تو تمام احباب ساتھ آجائیںگے ‘‘
آقا قافا نے دم بھر سوچا اور پھر کہا
’’دوستو آئوآج سبھی چلتے ہیں چوہدری امداد کے ساتھ۔یہ ایک مسجد کی تعمیرمیں اللہ کا ساتھ دے رہے ہیں اللہ تعالی ان کے
خوابوں کی تعبیروں کی تعمیر میں ان کا ساتھ دے گا‘‘
اور پھر تمام لوگ اپنی اپنی کاروں میں بیٹھ کر ایک وسیع و عریض مسجد کے احاطے میں پہنچ گئے جس کا اسی فیصد کام مکمل ہو چکا تھا