ساتویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول


تکون کی مجلس


پچھلے خیال میںیاداشت کی سینماسکرین پر چلنے والی فلم کے سین میںفلم بین داخل ہو گئے۔بوٹوں کے تسمے اور سینڈلوں کے بکل
کھلے اور غیر پسندیدہ کرداروںکے چہروں پر اپنے نشان بنانے لگے۔بیگ گراونڈ میوزک میں گالیوں بھرے تبصرے شامل ہو گئے ۔
شر کے شاٹ میں خیر کی جیپ دوڑنے لگی ۔شیطانوں کے جسموں پر ٹائروں کے نقش اجاگر ہونے لگے۔اور پھر معاملہ الٹ گیا
سکرین سے دیکھنے والوں کے ساتھ کردار بھی باہر نکلنے لگے۔ ایک تیز رفتار ٹریلاسکرین سے نکلا اور ڈرائنگ روم کو گراتا ہوا سڑک
پر دوڑنے لگااس کے پیچھے پولیس کی ہوٹر بچاتی ہوئی گاڑیاں دوڑنے لگی ۔شہر کی پولیس سکرین سے نکلتی ہوئی پولیس کی کاروں کو
حیرت سے دیکھنے لگی اوروائرلس پر ان سے ان کی شناخت پوجھنے لگی۔ ٹریلا اڑنے لگادس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اور پھر وہاں
پہنچ گیا جہاں ادراک کے عجائب گھر میں سجے ہوئے پہاڑوں میں پڑتی ہوئی دراڑوں کو دھاگوں سے جوڑا جارہا تھا


ساتویں مجلس


آقا قافا چلتے ہوئے کہنے لگے
’’میں نے اپنے تعلیمی کریئر کے آغاز میں تقریباًدو سال میانوالی کے ایک مدرسے میں درس نظامی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی،مسجد
کے ساتھ ملحقہ اس مدرسے میںچھ کمرے میں تھے جن پر کھجور کی بنی ہوئی چٹائیاں بچھائی گئی تھیں، دیواروں کا پلستر اتنا پرانا تھا کہ
اکثر اوقات ہاتھ لگنے سے اس کے ٹکڑے گر جاتے تھے۔ صرف اُس کمرے کی حالت بہتر تھی جِس میں مولانا میاں محمد صاحب
بیٹھا کرتے تھے اور کتابوں کی الماریاں تھیں ۔ اگرچہ میانوالی میں ایک بہت بڑا مدرسہ جامعہ اکبریہ بھی تھا جو ہمارے گھر کے بالکل
ساتھ تھا اور وہاںمولانا عبد المالک صاحب ہوا کرتے تھے جِن کے ساتھ ہمارے خاندانی مراسم بھی تھے مگرمجھے میاں محمد صاحب
کے پاس اس لئے بھیجا گیا تھا کہ وہ شریعت کے ساتھ طریقت کی تعلیم بھی دیتے تھے جس کا پاکستان بھر کے مدارس میں کوئی رواج
نہیںتھا اوریقیناً اب تک نہیں ہے۔مدارس کی تعلیم صرف و نحو ، علم تجوید،منظق، فقہ ، اور دوسرے ظاہری علوم پر مشتمل ہے ،
باطنی علوم کہیں نہیں سکھائے جاتے ، تصوف کی تعلیم کہیں نہیں دی جاتی ۔‘‘
میں نے سائیکی سر گوشی کی
’’آقا قافا نے اس وقت جو بات کی ہے وہ ان کی نہیں میری ہے۔میاں محمد صاحب میرے استاد تھے جامعہ اکبریہ ہمارے گھر کے
قریب ہے۔‘‘
سائیکی نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’بعد میں بات کرتے ہیں ‘‘
وہاں موجودایک دینی شخصیت نے ہمیں زیر ِتعمیر مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ کی عمارت دکھائی جس پر اس وقت تک پانچ ملین
پونڈ سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے اور تقریباً دو ملین پونڈ خرچ ہونے کی توقع ہے ۔ انہوں نے مسجدکا ہال دکھایا جس میں کم ازکم پانچ
ہزار کے قریب لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں پھر اوپر کی منزل میں لے گئے جہاںایک پورے کالج کی ضرورت کے مطابق کلاس روم
بنائے گئے تھے۔ وسیع و عریض لائبریری کی عمارت،کشادہ دفاتراورآرائش کیلئے فوارے تک بنائے جا رہے تھے۔ پتھروں کے
اندر کھدائی سے لکھائی کاکام جاری تھا ۔مختلف رسم الخط میںاللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی لکھے جارہے تھے ،لکھنے والے کاری گر
ہندوستان سے بلائے گئے تھے ۔ عمارت پر وہی وہ پتھر استعمال کیا جا رہا تھا جو لاہور کی بادشاہی مسجد کی تعمیر میں استعمال کیا گیا ہے۔
کلاس روم دکھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس مدرسے میں ہم درس نظامی اورجدید تعلیم کے ساتھ تصوف کی تعلیم بھی دیں گے
جس کا سلسلہ ابھی سے شروع ہے ۔ابھی ہماری کلاسیں صفتہ الاسلام کی پرانی عمارت کے علاوہ بریڈفورڈ کالج میں ہورہی ہیں جو
اس ادارے کی تعمیر مکمل ہونے پر یہاں منتقل ہو جائیں گی۔آقا قافا کسی مدرسے میں تصوف کی تعلیم کے متعلق سن کر چونک
پڑا۔ر ایک خوشگورا سا احساس ان کے چہرے پر نمودار ہوا اورکہنے لگے
’’یقینا یہاں محی الدین ابن عربی اور حسین بن منصور حلاج کو پڑھا جائے گا، یہاں جنید بغدادی اور شمس تبریزی کی باتیں کانوں
میںرس گھولیں گی۔ ‘‘
مسجد کی عمارت سے باہر بہت وسیع احاطہ موجود تھااسے دیکھتے ہوئے آقا قافا نے کہا
’’یقینا یہاں خوبصورت لان بنائے جائیں گے‘‘
احاطے کے ساتھ بہت وسیع گہری کھائی نظر آئی تو انہوں نے کہا
’’ یہاں ایک خوبصورت سی تالاب نماجھیل بنائی جا سکتی ہے۔ مجھے مولانا جلال الدین رومی یادآرہے ہیں وہ اسی طرح کی ایک
تالاب نما جھیل کے کنارے بیٹھ کر کوئی علمی کام کر رہے تھے ان کے پاس بہت نایاب کتابیں رکھی ہوئی تھیںکہ وہاں سے شمس
تبریزی کا گزر ہوا اور مولانا رومی کے ساتھ معمولی سے مکالمے کے بعد انہوں نے وہ کتابیں اٹھائیں اور جھیل نما تالاب میں پھینک
دیں جس پر مولانا رومی چیخ پڑے کہ تم نے یہ کیا قیامت کردی ہے۔ مولانا رومی کی بہت زیادہ پریشانی کو دیکھ کر شمس تبریزی نے
پانی میں ہاتھ ڈالااور کتابیں نکال کر باہر رکھ دیں۔ مولانا رومی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ کتابیںبالکل خشک تھیں پانی
نے انہیں چھوا بھی نہیں تھا۔اور پھر وہ مقام آگیا کہ مولانا روم کو کہنا پڑا
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم تا غلام ِ شمس تبریزی نہ شد‘‘
آقا قافا شعر پڑھ کر کچھ دیر کیلئے خاموش ہوگئے پھر آچانک ہنس پڑے۔چوہدری امداد نے بڑے ادب سے کہا
’’جی کیامیں مسکراہٹ کا سبب پوچھ سکتا ہوں ‘‘
آقا قافا کہنے لگے
’’میں یہ سوچ کر ہنس پڑا ہوںکہ ایک کھائی کے کنارے کھڑا ہوکر کیا شیخ چلی والی باتیں سوچ رہا ہوں کہ یہاں جھیل بنائی جائے گی
جس کے کنارے آنے والے وقت کا کوئی رومی بیٹھا ہواہو گا اور کوئی نیا تبریز اس کی کتابیں اٹھا کر جھیل میں پھینک دے گاپھر
خیال آیا کہ انہیں خشک نکال لینے کا فن سیکھنا تو آج کے دور میں وقت کا زیاںہے ۔کہتے ہیںایک بزرگ کسی دریاکو کہیں سے عبور
کرنا چاہتے تھے ۔ملاح نے انہیں کہا کہ چار آنے دوگے تو دریا عبور کرائوں گا ۔بزرگ کے پاس چار آنے نہیں تھے۔ سو ملاح نے
انہیںدریا پار نہیں کرایا ۔بزرگ نے کئی سال ریا ضت کی اور پانی پر چلنے کا فن سیکھ لیا۔ آخرایک دن وہ پانی پر چل رہے تھے کہ
وہی ملاح اپنی کشتی میں ان کے قریب سے گزرا اور اُس نے اُنہیں پانی پر چلتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے اُن سے سوال کیا کہ آپ نے
کتنے عرصہ میں پانی پر چلنا سیکھا ہے ۔ بزرگ بولے کہ بہت سال بڑی ر یاضت کرنی پڑی ہے۔ ملاح کہنے لگا کہ یہ تو کوئی کمال نہیں
کہ اِتنے برس ضائع کرنے کے بعد صرف چار آنے کا فن سیکھا جائے۔ بہر حال یہ طے شدہ بات ہے کہ تصوف میں کرامات کی
کوئی حیثیت نہیں ۔حضرت داتاگنج بخش کے پاس ایک شخص ایک سال گزار کر جب واپس جانے لگا تو اس نے کہا کہ میں بڑی امید
سے آیا تھا مگر میں نے سال بھرمیں آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی۔ جس پر داتا گنج بخش نے اس سے پوچھا کہ یہ بتائو کہ تم نے
میرا کوئی ایسا عمل بھی دیکھا ہے جو سنت ِبنوی کے مطابق نہ ہو۔ اس شخص نے کچھ دیر سوچا اور پھرکہا’ نہیں ‘تو داتا صاحب بولے’’
اس سے بڑی اور کوئی کرامت نہیں‘‘۔
وہاں دیرتک آقا قافا کی کئی لوگوں سے کئی موضوعات پر بہت کھل کر بحث ہوئی خاص طور پر اسلام کے معاشی نظام پر ،زکوٰۃ کے
نصاب پر ۔آقا قافانے انہیں بتایا کہ وہ اسلام کے اُس معاشی نظام کو ماننے والے ہیںجس کے علم بر دار حضرت ابوزر غفاری ہیں ۔
انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک عورت نے اپنی کنیز کو امام احمد کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیلئے بھیجا کہ میں سینے پرونے کا کام کرتی
ہوں ،رات کے وقت جب بہت اندھیرا ہوجاتا ہے تو میرے لئے سوئی میں دھاگہ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن رات کے وقت
میرے گھر کے باہر روز بادشاہ کی سواری کا جلوس گزرتا ہے جس میں بادشاہ کے ملازموں نے بڑی بڑی مشعلیں اٹھائی ہوتی ہیں
جن کی روشنی میرے گھر میں در آتی ہے اور اس وقت میں میرے لئے یہ کام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ کیا اس روشنی میں کام کرنا
میرے لئے جائز ہے ۔ امام احمد نے کہا کہ جواب دینے سے پہلے میرا یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ عورت کون ہے تو کنیزنے ایک بہت
بڑے ولی اللہ کا نام لیا اورکہا ان کی بہن ہے امام احمد نے فوراً کہا کہ ان کیلئے جائز نہیں ہے۔وہ عورت جس مقام و مرتبہ پر فائز ہے
وہاں کمائی میں اتنی سی بات بھی ناجائز سمجھی جاتی ہے اور اسلام ہر مسلمان کو اسی مقام و مرتبے پر فائز دیکھنا چاہتا ہے۔ مگرنجانے
دولت و ثروت کی خواہش ہم مسلمانوں کے رگ و پے میں وہاںتک کیوںاتر گئی ہے کہ جہاںقرآ ن حکیم کایہ فرمان عائد ہو جاتا
ہے ’’اور جو لوگ مال و دولت جمع کرتے ہیں انہیں خوشخبری سنادو ایک عظیم عذاب کی جس دن تپائی جائیں گی ان کی پیٹھیں،
کروٹیں اور پیشانیاں کہ پس چکھو مزا دولت کو سینت سینت کر رکھنے کا‘‘۔مال و دولت کی اسی محبت نے آج دنیا میں امت مسلمہ کو
ذلیل و رسوا کیا ہوا ہے۔
ہم وہاں سے نکلے تو میںنے ورما سے پوچھا
’’تمہارے مورتی کا کیا حال ہے۔آج تو وہ مسجد سے ہو آئی ہے ‘‘
ورما نے کوٹ کے باہرکی جیب ٹٹولی اور پھر تیزی سے اندر ہاتھ ڈالا کوٹ کی جیب میں مورتی موجود نہیں تھی اس نے تمام جیبیں
اس طرح ٹٹول کر دیکھیں جیسے وہ مورتی نہیں کوئی بہت ہی چھوٹی سی چیز تھی مگر اس کی ایک جیب سے سبز رنگ کا وہی کپڑا برامد
ہوا جو اسے مورتی کو لپیٹنے کیلئے آقا قافا نے دیا تھا یہ وہی جیب تھی جس میں اس نے مورتی رکھی تھی ورما پریشانی کے عالم میں بولا
’’وہ مورتی کہاں جا سکتی ہے ۔
سائیکی کہنے لگی ۔
’’یہ بات یا تمہارا سادھو بابا بتا سکتا ہے یا پھر آقا قافا ‘‘
ورما کچھ سوچتے ہوئے بولا
’’ میں آقا قافا سے اس مورتی کا پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ میں انہی کے کہنے پر اسے اس سبز کپڑے میں لپیٹا تھا‘‘
مسجد سے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔میں نے کار موڑ لی اور اپنی کار آقا قافا کی کار پیچھے لگا دی ۔ایک بار پھرہم آقا قافا
کے ساتھ ان کے لیونگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے آقا قافا کہہ رہے تھے
’’وہ مورتی ہمالیہ کے ایک غار اس وقت تمہارے سادھو بابا سامنے رکھی ہوئی ہیں ۔انہیں پسند نہیں آیا کہ تم نے اسے اس سبز
کپڑے میں لپیٹ دیاتھا اور پھر مسجد میں لے گئے تھے‘‘
میں نے پو چھا
’’یہ سبز کپڑا کیا ہے ۔‘‘
آقا قافا نے کہا
’’یہ ایک ایسا کپڑا ہے جس سے کسی طرح کی لہریں نہیں گزر سکتیں‘‘
ورما اسے قریب پڑے ہوئے ٹیبل لیمپ کے بلب کے سامنے کیا توبانکل یوں احساس ہواجیسے روشنی اس کے ادرگرد سے ہو کر باہر
نکل رہی ہے ۔ورما نے پوچھا
’’کیا یہ کپڑا میں لے جا سکتا ہوں ‘‘
آقا قافا بولے ’
’ہاں کیوں نہیں ‘‘
سائیکی نے آقا قافا سے کہا
’’منصور بہت پر یشان ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اور وہ ایک استاد کے پاس ایک وقت میں پڑھتے ہوں ایک جگہ آپ کا گھر ہو
مگر آپ ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں ‘‘
آقا قافا ہنس کر کہنے لگے
’’یہ مجھے نہ جانے مگر میں تو اسے جانتا ہوں ۔اور ہاں یہ کہانی دو آدمیوں کی کہانی نہیں ایک آدمی کی کہانی ہے اب تم جا سکتے ہو‘‘
ورما سادھو بابا کی طرف چلا گیا میں اور سائیکی صنم ریستوران میں جا کر بیٹھ گئے ۔کھانا کھایا اور طے کیا کہ جس طرف حالات لے کر جا
رہے ہیں اسی طرف بہتے جائیں ممکن ہے زندگی کی کشتی ہمیں اس مقام تک لے جائے جہاں تمام اسرارکھل جائیں۔میرا اور
آقاقافا کا تعلق سمجھ میں آجائے۔میں نے سائیکی سے یہ بھی کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم فوری طور پر شادی کرلیں مگر یہ سوچ کر
رک جاتا ہوں کہ کہیں تمہیں بعد میں افسوس نہ ہو ۔سائیکی میری اس بات پر خاموش رہی تھی ۔ہم وہاں اٹھے اور کچھ دیر کے بعد
اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے ۔ میں بھی تھک گیا تھا جاتے ہی بستر پر ڈھیر ہو گیا اور تھکن اتارنے کیلئے بہلول سے ہمکلا م ہوا
۔بہلول یوگا کی کوئی مشق کر رہا تھا میں نے اس سے پوچھا
’’یہ کیا کر رہے ہو ‘‘
کہنے لگا
’’اپنی تلاش کے سفرپر نکلا ہوا ہوں اسوقت‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’یہ کیسی تلاش ہے کہ تم التی پالتی مار کر بیٹھے ہوئے ہو اور کہہ رہے ہو میں سفر میں ہوں ‘‘
بہلول بولا
’’اپنی تلاش کا سفر آدمی اپنے اندر کرتا ہے باہر نہیں
میں بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
’’ میں نہیں سمجھ سکا ‘‘
تو کہنے لگا
’’یہ اپنی پہچان کا سفر ہے۔میں اپنی تلاش کی مسافت میں ہوں اس وقت ‘‘
میں نے بہلول سے پوچھا
’’تم اپنی تلاش کے سفر میں راستے کے تعین کیلئے کسی رہنما کی بھی بات کرتے ہو جس کی تلاش میں اس وقت تم لاہور جا رہے
ہو۔تم اب تک گیان کی جس منزل تک پہنچ چکے ہو اس میں تو تمہارا رہنما کوئی نہیں تھا۔ ‘‘
بہلول کہنے لگا
’’ اس سے پہلے بھی کئی رہنما میری زندگی میں آئے ہیں میرا پہلا رہنما سندھو بابا تھا۔دھن کوٹ میں سہ پہر کے وقت وہاں لڑکیاں
دریا پر گھڑے بھرنے جایا کرتی ہیں میں بھی بچپن میں ان کے ساتھ چلا جاتا تھا ایک دن انہوں نے کہا ’’وہ سندھوبابا‘‘ اور وہاںسے
بھاگ کر دور ایک جگہ سے پانی بھرنے لگیں میں وہیں کھڑا رہا۔ وہ سندھو بابا میرے پاس آگیا۔ مجھ سے بڑے پیار سے بولا ’’بیٹے
دریا سے باتیں کرنی ہیں ‘‘میں نے پوچھا’’بابا کیا دریا بھی باتیں کرتے ہیں‘‘ تو وہ کہنے لگا’’کیوں نہیں ، موجیں بولتی ہیں سیپیاں
گنگناتی ہیں، مچھلیاں قہقہے لگاتی ہیں، کچھوے روتے ہیں اور پانی جلترنگ بجاتے ہیں ‘‘ ۔ میں نے کہا’’مگر بابا مجھے تو کچھ سنائی نہیں دیتا
بس ایک شور سا ہے ‘‘ تو اس نے کہا’’میرے ساتھ آئومیں تمہاری پانی کے ساتھ بات کرا دیتا ہوں مگر تم کسی کو بتانا نہیں ‘‘ اور وہ
مجھے دریا کے باکل قریب لے گیا ۔اس نے پانی سے اپنا کان لگا لیا ۔ میں نے بھی اس کی نقل کرتے ہوئے پانی کے سینے پر اپنا کان
کسی پر مفہوم دھڑکن کے خیال میں رکھ دیا ۔مجھے پانی سے تو کوئی اورآواز نہیں سنائی دی مگر سندھو بابا کی آواز میرے کانوں میں آج
تک گونجتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا ’’اے میرے ساتھ بہتے سندھو سنا پہاڑوں پر کچھ برف پگھلی ہے، وہ وقت کی شہزادی جو صدیوں سے
چل رہی ہے اس کا کیا حال ہے ، ابھی اس کا کتنا سفر اور باقی ہے۔ اس نے میرے نام کوئی اورپیغام بھیجا ہے یا نہیں ؟ یہ تیری ہم عمر
بوڑھی ہوا کل مجھے بتا رہی تھی کہ شہزادی میرے انتظار میں روز دلہن کی طرح سجتی ہے اور تجھ سے پوچھا کرتی ہے کہ تو مجھے اس
کے پاس کب لے کر جائے گا؟‘‘
میں نے بہلول سے کہا
’’یہ تیرے سندھو بابا کی باتیں میری تو بالکل سمجھ میں نہیں آئیں ‘‘
بہلول بولا
’’سندھوبابا کا سفر دراصل اُسی حقیقت ِ کبریٰ کی تلاش میںصعوبت بھری ایک ایسی مسافت ہے جس کی گردبھی انسانی جسم کیلئے
سوغات سے کم نہیں۔مگر راستے کے صحیح تعین کے بغیر ہونے والے سفردوسری دنیا کے بھٹکتے ہوئے شوق تو ہو سکتے ہیںمنزل کے
راز دار نہیں ۔ ریاضت کے یہ کٹھن راستے انسانی تاریخ میں لاکھوں لوگوں نے اختیار کیے اورعرفان کی منزل تک پہنچنے کی جستجو
میں رہے مگرشایدبرہما کے قرب کی سعادت کسی کو نصیب نہ ہوسکی ۔ پانی پر چلنے والے اور ہوا میں اُڑنے والے زندگی بھر اس کے
نزدیک ہونے کی خواہِش میں زندگی سے جنگ کرتے رہے ۔ افسوس انہیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ جِس زندگی سے وہ برسرِپیکار
ہیں، جس سے نفرت کرتے ہیں وہی اس برہما کا پرتو ہے ۔آئو محبت کریں زندگی سے ، انسان سے، خوبصورتی سے ،خیرسے کیونکہ
یہی بھگوان سے محبت ہے۔‘‘
اور پھرمیں بہلول سے باتیں کرتے کرتے سو گیا صبح جلدی آنکھ کھل گئی چائے بنائی اور تیار ہوکراخبارات کا مطالعہ کرنے لگا۔
پاکستان کے حوالے سے ایک خبر شہ سرخیوں کے ساتھ چھپی ہوئی تھی۔جس میں حکومتِ وقت کے بیس وزیروں کی کرپشن کی
تفصیل بیان کی گئی تھی چند سالوں میں ہونے والی یہ کرپشن دو ارب ڈالرسے زیادہ تھی یہ خبر پڑھتے ہوئے میری آنکھوں میں
برطانیہ کے کئی مناظر گھوم گئے ۔میں نے فلیٹ کے لیونگ روم میں گھومتے ہوئے کھڑکی سے باہر گلی میں دیکھا تو رابن کک چلتا ہوا
جا رہا تھاپھرمجھے اس سابق برطانوی وزیر خارجہ کی بڑبڑاہٹ سنائی دی ۔۔

’’ مجھے تو سگریٹ کی راکھ کے گرنے کی آواز بھی سنائی دیتی ہ ے تو بھلاتم کیسے کہتے ہوبرطانیہ عراق سے بہت دور ہے ۔۔مجھے
گرتے ہوئے بموں کی آوازنہیں سنائی دے گی ۔۔ نہیں نہیں ۔۔میں مرتے ہوئے معصوم بچوں کی ڈوبتی ہوئی چیخیںاور ہارتی
ہوئی کراہیں نہیں سن سکتا۔ میں انسانی جسموں کے اُڑتے ہوئے لوتھڑے اپنی پلکوں میں نہیں پرو سکتا ۔ ۔ نہیں نہیں۔۔ مائی ڈئیر
پرائم منسٹر ۔مائی ڈئیر ٹونی بلیئر۔میرے دِل میںساری عزتیں اور سارے احترام تمہارے لئے ہیں مگرمیں اِس سفر میں تمہاراہم
رکاب نہیں ہوسکتا ، بہتر یہی ہے کہ میری وزارت کا قلمدان کسی اور میز پر رکھ دو۔‘‘
میں کھڑکی سے باہر دیکھنا چھوڑ دیا اور صوفے پر آگیا بیٹھ گیا میرے سامنے سن اخبار پڑا ہوا اس پر نظر پڑی توکلیئر شاٹ دکھائی دی
میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں سوج گئی ہیں۔وہ دو مئی 1997 سے اِنٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کیلئے سیکریٹری آف سٹیٹ کے عہدے
پر فائز تھی۔ حقوقِ انسانی کی علمبردار اس عورت سے یہ برداشت نہیں ہورہا تھاکہ صرف تیل کے چند سوداگروں کی ایما پر تیل کی
تلاش میں لہو کے سمندر کا سفر کیا جائے،وہ بہت چیخی ،بہت روئی ،اس نے ٹیلی ویژن کو اپنی آنکھیں بنا لیا اور اخبار کو اپنا لباس ۔ پھر
یوں ہوا کہ اُس کی آنکھوں میں مجبوریوں کی سِلائیاں پھیر دی گئیںاور اس کے لباس میں خاردار پیوند لگا دئیے گئے اور اس کے
دفتر کی میز پر مایوسی فائل در فائل پھیلتی چلی گئی تو 12 مئی 2003 کے روز اس نے پائوں کی ٹھوکر سے وزارت کی کرسی کو ایک
طرف کیااور ہمیشہ کیلئے اپنے ڈرائینگ روم کے صوفے پرآ کر بیٹھ گئی۔بالکل میری طرح جیسے وقت میں بیٹھا ہوا تھا۔میں سن کے
ورق الٹانے شروع کئے، مجھے دو آنکھیں دکھائی دینے لگیںیہ سابق برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلیکنٹ کی آنکھیںتھیںجوبچپن سے
دیکھ نہیں سکتی تھیںاُس پر طرفہ تماشا یہ کہ محبت کی روشنی نے انہیںکچھ اوربھی چندھیا دیا تھا ۔ بصارت و بصیرت کی اندھی
ساعتوں میں اس نے صرف یہی تو کیا تھا کہ اپنی محبوبہ کے بچوں کی ’’نینی‘‘کے ویزے کی رفتار ذراسی تیز کروادی تھی۔وہ کام
جومہینوں میں ہونا تھا ہفتوں میں ہو گیا۔۔ ذرا سی بات تھی جِس پراس قدر شور اٹھا کہ ہوم آفس کی کنکریٹ سے بنی ہوئی دیواروں
میں شگاف پڑنے لگے۔عمارت ہلتی محسوس ہوئی تواس نے اپنی وزارت کے دفتر کی چابی اپنے آنکھوں والے دوست ٹونی بلیئر کو لوٹا
دی اوراپنے کتے کی ڈوری تھام کر اپنے شہرشیفلیڈ آگیاجس کے کسی کونے میں چھُپ کرشاید اس نے اپنی محبت کا سوگ منانا تھا۔
میں اٹھ کھڑا ہوا دفتر جانا تھا چند لمحوں کی ڈرائیو کے بعد میری کار کار لائل بزنس سنٹر کی پارکنگ میں داخل ہورہی تھی ۔ جیسے میں
دفتر میں داخل ہواتو مجھے یاد آیا کہ سابق برطانوی ہوم سکریٹری چارلس کلارک نے بھی اپنی نیندیںاپنے دفتر کی میز پر سجادی
تھیںاوراپنے خواب دیواروں پرجگہ جگہ فریم کرا کے لگوا دئیے تھے۔ اس کا بھاری بھرکم بدن بھاگتی ہوئی برطانوی وزارت داخلہ
کے ساتھ پوری تیز رفتاری کے ساتھ دوڑتا رہااس کی آنکھیں سرحدوں پرلگائی گئی کانٹے دار تاروںپرگھومتی ہوئی لائٹ کے ہمراہ
برطانیہ کے اندر آتے اور یہاں سے باہر جاتے لوگوں کو دیکھتی رہیں۔ آنکھیں تو آخر آنکھیں ہی ہیں پلکیں تو جھپکتی ہی ہیں ، بس اِسی
پلک جھپکنے میں کچھ سزایافتہ مجرموں نے اپنی رہائی کے بعد قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے آپ کوبرطانیہ کی گلیوں
میںبیس سے تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرتی ہوئی زندگی میں چھپا لیا۔ ملک بدری کہاں ممکن تھی ۔ مجرم کون تھا اور
سزا کِسے دی گئی۔۔ ہوم آفس کی اس ذرا سی کوتاہی پرہر برطانوی چالس کلارک سے استعفیٰ طلب کر چکا تھا۔ٹونی بلیئرخود بھی تو
ایک برطانوی شہری تھا آخر کہاں تک صبر سے کام لیتا۔ اُس نے چارلس کلارک کی میز کا قلمدان ا ُٹھا کرکسی اور کے سپرد کر دیا۔
ورما سے ملاقات ہوئی ورما صرف میرا بزنس پارٹنر ہی نہیں تھا دوست بھی تھا۔ ورما کو دیکھتے دیکھتے میری آنکھوں میں پیٹر مینڈیسن
گھوم گیاسابق برطانوی وزیر تجارت پیٹرمینڈلسن کا شمارٹونی بلیئر کے بہت قریبی دوستوںہوتا ہے ۔ وہی تو تھا کہ جس نے لیبر
پارٹی کی سوئی ہوئی آنکھوں میںنیو لیبر کی حکمرانی کاخواب بھر دیاتھا۔ وہ خواب جِس کے ہر گھر میںبِک جانے سے ٹونی بلیئر کو
رہائِش کے لئے 10ڈائوننگ سٹریٹ کا مکان مِل تھا۔ آخر پیٹر مینڈلسن کو بھی تو اپنی رہائِش کیلئے ایک مکان کی ضرورت تھی ۔اُسے
بھی مکان تو خریدناہی تھا۔ایسا مکان جِس میں آسودگی کے بیڈ روم ہوں، جس کے لائونج میںزندگی کی رعنائیاں سجی ہوئی ہوں اور
جو ہائوس آف کامنز کے قریب بھی ہو۔ اب ممبر آف پارلیمنٹ کو اتنی تنخواہ کہاں مِلتی ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر خرید سکے۔ بس
اُس نے بھی وہی کیا جو ایسے حالات میں عام آدمی کرتا ہے ۔ اُدھار مانگ لیا۔ اب اُدھار مانگ لینا کوئی جُرم تو نہیں ہے اور یہ بھی ہر
شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ کم سے کم یہاں تک کہ نہ ہونے کے برابر سود پر بنک اُسے اُدھار کی رقم دے دے۔پیٹر ایک وزیر
تھا اُس کے ایک ملین ایئر ایم پی نے بخوشی اُس کی مدد کر دی اوربغیر سود کے ادھاردے دیا۔ منظر کے پسِ منظر میں احسان مندی
کے درختوں پر حسبِ خواہش ثمرآگیا۔۔یقینا وزیروں کو مِلنے والا سود کے بغیر ادھار بحث طلب ہوتاہے ۔۔۔اس ادھار کی اتنی
تشہیرہوئی کہ پیٹر مینڈلسن کو اپنے مکان کے عوض اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ دوست آخر دوست ہوتا ہے۔ ٹونی بلیئر
نے بھی حقِ دوستی ادا کرتے ہوئے پیٹر کواگلے سال پھر ایک اور وزارت سے نواز دیا۔ ابھی سال ڈیڑھ ہی گزرا تھا کہ نرم مزاج اور
رحم دِل پیٹر نے برطانوی شہریت کے کیس میں کسی کاروباری شخصیت کے لئے ہوم آفِس کوسفارشی ٹیلی فون کر دیا۔ اِتفاق کی بات
تھی کہ وہ کاروباری شخصیت ہندوجا جیسے کروڑ پتی کنبے کی تھی جنہوں نے پیٹر ہی کے پراجیکٹ میلینیئم ڈوم کے فیتتھ زون‘ میں
کثیر کفالت کی ذمہ داری بھی اُٹھا رکھی تھی۔ اب بھلا پیٹر کو کیا معلوم تھا کہ اُس کے ذرا سے فون کو اِتنا بڑا جرم سمجھا جائے گا کہ
جِس کے لئے خود اُس کا دوست ہی اُسے ملازمت سے فارغ کر دے گا۔۔۔ سب مقدر کا کھیل ہے ۔ کیا کرسکتا ہے کوئی۔

میں نے اپنی ڈاک دیکھنی شروع کی ایک پیکٹ پاکستان سے آیا ہوا تھا کھول کر دیکھا توایک دوست نے مجھے وحید احمد کا لکھا ہوا ناول
’’زینو بھیج رکھا تھا۔ اس ناول سے میرا ذہن ایک انگریز ناول نگار بیرن جیفری آرچرکی طرف چلا گیا۔ ٹوری پارٹی کا سابق ایم پی اور
ہاوٴس آف لارڈز کا ممبربیرن جیفری آرچر جسے2000 میں لندن کے میئر کیلئے ایک اُمیدوار کی حیثیت سے نامزد بھی کیا گیا تھا اُس
سے ایک عہد شِکنی کا جرم سرزد ہوگیا، جِس کی پاداش میںوہ قید خانے میں راتیں گزارنے کے ایک طویل تجربے سے گُزرا؛ یہ اور
بات ہے کہ اِس عرصے کو اُس نے اپنے تخلیقی عمل میں ڈھال دیااور دنیا کو ایک اور سپر ہٹ ناول مل گیا۔۔۔۔۔۔
پھر میں پاکستان پلٹ گیا اورسوچنے لگا کہ وہاںکِتنی سزائیں اورکتنے استعفے واجب الاداہیں۔پھر میں نے ان کی فہرست مرتب کرنی
شروع کردی۔اچانک میں چونک پڑا ۔فون کی گھنٹی چیخ پڑی تھی دوسری طرف سائیکی تھی کہنے لگی ’’میرے گھر میں کام کرنے والی
عورت کا ایک مسئلہ ہے اس کو پاکستان سے فون آیا ہے وہاں اس کی بھتیجی کو سکول میں داخلہ نہیں مل رہا۔۔۔تم ذرا پاکستانی وزیر
تعلیم کو ٹیلی فون تو کردونا۔تم نے کہا تھا وہ تمہارا دوست ہے ‘‘سائیکی کو انکا ربھی نہیں کیا جا سکتا تھا سو معمولی سی ہی سہی مگر کرپشن
سے مجھے بھی اپنے ہاتھ رنگین کرنے پڑے۔دن بھر دفتر کے ضروری کام کئے ۔ورما کہیں چلا گیا تھا ۔ سائیکی آئی تو اس کے ساتھ ہی
ورما بھی آگیا اورپھر ہم تینوں آقا قافا کی مجلس میں پہنچ گئے۔آقا قافا گفتگو شروع کر چکے تھے ان کا موضوع بھی آج پاکستان تھا یقینا
کسی نے اس حوالے سے کوئی سوال کیا ہوگا۔وہ کہہ رہے تھے

’’میں برسوں سے برطانیہ کی ایک غار میں بیٹھا ہوا ہوں میرے سامنے آگ جل رہی ہے۔ مجھ سے پہلے جو بزرگ یہاں بیٹھا کرتا
تھا اس نے جاتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ یہ آگ ہمیشہ جلتی رہے گی اور اگر بجھ گئی تو سمجھنا کہ پیچھے کچھ ہونے والا ہے ۔ اب وہ آگ بجھ
گئی ہے ۔۔۔اور مجھے ہلکی سی کسی کے رونے کی آواز سنائی ہے۔ اس بزرگ نے اس آواز کے متعلق تو کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔ میں
نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک طرف اخباروں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے ،روز اخبار پھینکنے والا یہاں اخبار پھینک جاتا تھا ۔میں نے
اخبار اٹھا کر پڑھنے شروع کر دئیے اور اب کئی دنوں سے مسلسل پڑھ رہا ہوں۔میں نے دیکھا کہ گذشتہ کچھ دنوں سے پاکستان سے
آنے والی خبریںاور زیادہ دل دہلانے والی ہیں ۔وہاں پھر کچھ ہونے والا ہے ،کوئی طوفان ، کوئی خوفناک حادثہ، کوئی ہولناک
واقعہ،کوئی کرب کے دوزخ سے نکلی ہوئی تاریخ بدلنے کی ساعت،کوئی ٹوٹتی زمین کی دہشت خیز آواز،کوئی ساکت ہوتی زندگی ،
کوئی ٹیلی وژن کی سکرین پر چہرے بدلتی ہوئی رات، کوئی اجتماعی سماعت شکن دھماکہ۔۔۔کچھ ہونے والا ہے۔ میں اخباروں میں
چھپے ہوئے لفظوں سے گزر کرایک تیز رفتار ریل گاڑی کو ایک ایسی سرنگ سے گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جِس کا دوسرا دہانہ بنایاہی نہیںگیا۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ کھونٹے پر بندھے ہوئے جانوراپنی ریساںتوڑ کر بھاگنے کی کوشِش میں ہانپ رہے ہیں ، گھونسلوں سے پرندے
نکل آئے ہیں اور اپنی اپنی بولیوں میں شور مچا رہے ہیں۔افراتفری کا عالم ہے ، زمین کے پرت اُلٹ جانے کا اِمکان پیدا ہورہا
ہے،پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑ نے پر پر تول رہے ہیں۔ فضائ میں ایک بے رونق سُرمئی اور سُرخ بُجھا بُجھا رنگ پھیلتا جارہا
ہے۔ درخت اپنی بہاروں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، سوکھی ٹہنیاں اپنے استخوانی وجودلئے ساکت و جامداپنی پور پور خشک پتھرائی
آنکھوں میں دہشت بھر کر آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی ہیں، کانٹوں کی باڑیں اپنے قریب کی ہر شے سے لپٹتی جارہی ہیں۔ تیز و تند
زہریلی آندھیاں ہر چیز کو جڑ سے اُکھاڑ کر بگولوں کے چکر میں جکڑنے کے موقع کی تلاش میں ہیں۔کیا قہقہے تاریخ میں بدل جائیں
گے،زبانیں پتھر کی ہوجائیں گی ، آنکھیں پھیل کر باہر اُبل آئیں گی ،زندگی کی رمق موت کی زردی میں بدل جائے گی ۔ ۔۔ مجھے
ایسا کیوں محسوس ہورہا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے کہ جو کچھ میں سوچ رہا ہوں ، دیکھ رہا ہوں ویسا نہ
ہو۔۔۔۔۔۔ کچھ اور ہو مگر یہ مصدقہ ہے کہ کچھ ہونے والا ہے ۔۔بزرگوں کا کہا کبھی غلط نہیں ہوا کرتا
میں دیکھ رہا ہوںکہ معیشت کی ستم گاہ میںزندگی کی درد انگیزکراہ طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ اس کی قبا میںجا بجا بھوک
کے پیوند لگے جاتے ہیں ۔مہنگائی نے اس کا بند بند مضمحل کر دیا ہے ۔ روٹی کی تلاش میں نکلا ہوا بچہ چاند کی گولائی دیکھ دیکھ کراُکتا چکا
ہے۔بھوک اس کا پیٹ کاٹتی جا رہی ہے۔ماں کو ہنڈیا میں پتھر اُبالتے ہوئے بہت دیر ہو چکی ہے ۔ فاقہ زدہ دوشیزہ کو اپنی عصمت
کے دام بھی پورے نہیں مل رہے ۔روکھی سوکھی کھا کر رات گزارنے والے سفید پوش صرف پانی پر عمر گزارے جا رہے ہیں
۔ماہانہ پانچ ہزار روپے تنخواہ لینے والاچار بچوں کا باپ خودکشی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔غربت آخری احتجاج کیلئے سڑکوں پر آنے
والی ہے اور خدا نخواستہ اسے کالے بوٹوںتلے روند دیا گیاتو کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ کچھ ضرور ہوگا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔

قومیت کی قربان گاہ پر نثار ہونے کیلئے پختون اور بلوچ ہتھیلیوں پر سروں کو سجاکر گھروں سے نکل آئے ہیں اور انہیںبارود بھری
آوازکے دھماکوںسے لوٹ جانے کا مشورہ دیاجا رہا ہے۔ وزیرستان کی پہاڑیوں کو لہورنگ کرنے کا جو کام جانے کس ایمائ پرشروع
کیا گیا ہے وہ مکمل ہونے والا ہے ۔اور جس کی ایمائ پر یہ سب ہوا ہے انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ طوطا چشم کوئی دکھائی ہی نہیں
دیتا۔۔لو وہ پھر اس نے اپنی آنکھیں بدل لی ہیں۔۔دوسری طرف خون ۔۔توپھر خون ہے ۔۔گرتا ہے تو جم جاتا ہے ۔مگرسروں
کی بیج بونے والے کیایہ نہیں دیکھ رہے کہ وہاں دماغوں کی فصل اگ آئی ہے جو بار بار اپنے کاٹنے والوں کوآگاہ کر رہی ہے کہ کچھ ہونے والا ہے ۔
معاشرت میں برادری ازم کا زہر جس کے پودے سنگینوں کے سائے میںبوئے گئے تھے اب ایک تناور اور ثمرآور درخت بن چکا
ہے اس کی زہریلی جڑیں زمیں میں دور دورتک پھیل گئی ہیںاور سانپ سانپ شاخوں نے اپنے زہر بھرے پھل ڈائینگ ٹیبل
پرسجادئیے ہیں ۔سو ہر گھر میں منافرت کا رقص جاری ہے ۔۔۔ یعنی ۔کچھ ہونے والا ہے۔
علم کی درس گاہ میں نصاب سے روشنی کے وہ تمام ورق نکال لئے گئے ہیںجو سچائی کی کھوج میں نکلنے والوں کی رگوں میں لہو کی رفتار
کو تیز کرتے تھے۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس نصاب کو پڑھ کر پروان چڑھنے والی نسلیںاپنی سرحدوں کا دفاع کیسے کریں
گی۔شاید پھر نصاب بدلنے والا ہے۔کچھ نئے نصاب لکھنے والے اپنے کان پرقلم رکھ کر حرکت میں آنے والے ہیں ۔۔۔کچھ ہونے والا ہے۔۔‘‘
میں سائیکی کے کان میںپھر معمول کی سر گوشی کی
’’یہ جو کچھ آقا قافاکہہ رہے ہیں یہ میں کہیں لکھ بھی چکا ہے حیرت کی ہے کہ آقا قافا نے لفظ بہ لفظ وہی بولا ہے ‘‘
میری سرگوشی کے جواب میں آقا قافا نے مجھے مخاطب کر کے کہا
’’اپنے آپ کو مضبوط کرو ۔تمہاری حیرت زیادہ طویل نہیں ہے میں اپنی کہانی شروع کر رہا ہوں ۔میں آقا قافامیانوالی کے مذہبی
گھرانے میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم مسجد سے حاصل کی ابھی میری عمر پندرہ سال تھی کہ میری زندگی میں ایک بھیانک واقعہ
ہوامیری کہانی کا آ غاز اس واقعہ سے ہوتا ہے ۔ سردیوں کی ایک رات تھی بارہ بجے کے قریب وقت تھا میں میانوالی ریلوے
اسٹیشن پر کندیاں جانے والی ریل گاڑی کا انتظار کر رہا تھا ۔کندیاں میانوالی سے دس میل دور ایک شہر ہے جہاں میں نے بہت
سویرے اپنے دوستوں کے ساتھ مرغابیوں کے شکار پر جانا تھا ۔انتظار ختم ہو اریل گاڑی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی گاڑی سواریوں
سے اٹی ہوئی تھی میں ایک ڈبے میں داخل ہو نے میں کامیاب ہو ہی گیا اندر مسافر ڈبے کی سیٹوں سے فرش تک کیڑوں مکوڑوں کی
طرح لیٹے ہوئے تھے مجھے بہر حال کھڑے ہو نے کی جگہ مل گئی میں نے ادھر ادھر دیکھا تمام مسافر سو رہے تھے دروازے کے
بالکل قریب کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر ایک سیاہ برقعہ پوش خاتون بیٹھی ہوئی تھی چہرے سے نقاب ہٹایا ہوا تھا دیکھنے میں خاصی
خوبصورت تھی ۔عمر میں کوئی پچیس چھبیس برس کی ہو گی اس نے اپنے آگے اپنا بڑا سا بستر بند کھڑا کیا ہوا تھااور اپنی دونوں ٹانگیں
اس کے اوپر لمبی کی ہوئی تھیں خاصی سردی تھی مگر اس کے پائوں میں جرابیں نہیں تھیں اور اس نے جوتے اتارے ہوئے تھے
میں نے اچھی طرح اس کا جائزہ لیا آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے مجھے پورا یقین تھاکہ وہ بھی سو رہی ہے میں نے اس کی طرف پشت
کر لی اور دروازے کا ہینڈل سہارے کیلئے پکڑ کر کھڑا ہو گیا ۔ٹرین چلنے پر پہلے ہی دھچکے کے ساتھ میری کمر اس کے بستر بند سے جا
لگی اور مجھے احساس ہوا کہ کھڑا ہونے کیلئے ایک سہارا بستر بند بھی ہو سکتا ہے چنانچہ میں نے بستر بند سے ٹیک لگا لی ابھی چند ہی لمحے
گزرے ہوں گے کہ اس خاتون نے اپنے دونوں پائوں اکٹھے میری پشت پر دے مارے میں غصے کے ساتھ پلٹاتو عورت نے اسی
طرح پرسکون انداز میں آنکھیں بند کی ہوئی تھیں‘‘
آقا قافا یہاں پہنچے تو انہوں نے میز سے پینے کے لئے پانی کا گلاس اٹھایا اور میں نے سائیکی سے کہا
’’ اس سے آگے کا حصہ تو اس محفل میں سنانے کے قابل بھی نہیںہے‘‘
ابھی میں نے اپنی سرگوشی مکمل ہی نہیں کی تھی کہ آقا قافا بولے
’’ہاں منصور تم ٹھیک کہہ رہے ہو اس بات کا اگلا حصہ واقعی ایسا ہے کہ جسے محفل میں تو کجا کسی اکیلے دوست کو سناتے ہوئے بھی
آدمی شرمندگی کے پسینے سے دھل جائے گا۔ مگر جنسیات کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں ۔خالقِ لطف و کیف نے اس میں بے شمار فوائد
رکھے ہیں ۔نسل انسانی کی افزائش سے لے کرسرور و لذت کی جنتیں اسی کی کوکھ سے نکلتی ہیں۔جہاںتک اس کے ذکر کی بات ہے
تو وہ الہامی کتابوںسے لے کر رومی کی مثنوی معنوی تک ہر جگہ اپنے تمام آسنوں کے ساتھ موجود ہے۔علم طب کی کتابیں اس کے
ذکر بھری پڑی ہیں ۔ایسی تحریروں یا ایسی کتابوں سے حظ اٹھانے والوں کے خود اپنے دماغ گاڑھے نیم سیال لجلجے سے لتھڑے
ہوئے ہوتے ہیں۔انہیں تو عورت کی لاش بھی برہنہ نظر آئے تو آنکھوں سے مادہ منویہ ٹپکنے لگتا ہے۔
ہاں تو میں کہا نی سنا رہا تھامیں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کسی اور مسافر نے بھی یہ منظر دیکھا ہے یا نہیں مگر تمام لوگ سو رہے تھے۔
اس واردات کی کسی کو خبرہی نہیں ہوئی تھی اورعورت کا چہرہ اتنا پر سکون تھا کہ جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہ ہو۔اس کی یہ بے نیازی
دیکھ کر میرا غصہ اور بڑھنے لگاتھا میں پوری طرح عورت مڑ گیا اس کے چہرے پر نظریں گاڑدیں اس نے ایک لمحہ آنکھیں کھولیں
اور پھر اسی طرح بند کر لیں میں بستر بند سے بالکل چیک گیا مگر اس کے کوئی حرکت نہ کی میں نے بستر بند پر اپنا دبائو اور بڑھا یا۔ اب
عورت کے پاوٴں میری رانوں سے لگنے لگے تھے۔ مگر اس نے پھر بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔میں نے اسکی پاوٴں پر ا پنی
رانوں کا دباوٴبڑھانا شروع کر دیاتو مجھے محسوس ہوا کہ عورت آہستہ آہستہ اپنے دونوں پاوٴں ایک دوسرے کی طرف سرکا رہی ہے
اور اس کے اس عمل سے میرے اندر کوئی تبدیلی رونما ہو نے لگی مجھے اس کے پاوٴں کے درمیان کسی تیسری چیز کا احساس ہوااور
گاڑی کے ہچکولوں کے ردھم کے ساتھ اس کے پاوٴں آہستہ آہستہ آگے پیچھے بھی ہونے لگے۔زندگی میں پہلی بار مجھے پگھلنے کیلئے
ابھی چند پائوں کا فاصلہ باقی تھاکہ گاڑی کندیاں کے اسٹیشن پر رک چکی تھی ایک مسافر اندر داخل ہونا چاہ رہا تھا۔ مسافر کو دیکھتے ہی
عورت نے اپنے پائوں پیچھے کھینچ لئے اور آہستہ سے بولی، ’’بیٹھ جائو بستر بند پر‘‘ اور میں بیٹھ گیا۔ عورت نے پوچھا ’’کہاں جا رہے
ہوں‘‘ میں نے کہا مجھے یہیں اترنا ہے ‘‘عورت کے چہرے پر افسردگی چھا گئی اور بڑی بیچارگی سے بولی ’’تم میرے ساتھ نہیں چلے
آتے‘‘ میں نے پوچھا ’’تم کہاں جا رہی ہو، کہنے لگی، ’’بھکر‘‘۔ ’’بھکر‘‘ کا نام سنتے ہی میں نے ہاں کر دی اور اس کے چہرے پر رونق
لوٹ آئی۔ دراصل میں خود جانا چاہتا تھا س کے ساتھ مگر بہت دور جانے سے خوفزدہ تھا۔ بھکر میانوالی سے کوئی ستر اسی میل دور
ایک شہر ہے جہاں میرے بہت سے رشتہ دار بھی رہتے تھے اور ہمارا اپنا ایک مکان بھی تھا۔ جو کچھ عرصہ سے خالی پڑا ہوا تھا۔
دوبارہ کرائے پر دینے سے پہلے اس کی مرمت کرائی جا رہی تھی۔
اور پھر آقا قافا نے مجلس کے اختتام کا اعلان کر دیا ہم خاموشی سے با ہر آگئے۔آج بہت زیادہ پریشان تھا۔میں نے سائیکی اور ورما سے کہا
’’ میں تقریباً پاگل ہونے والا ہوںتم یقین کرو آقا قافا نے جو کہانی شروع کی ہے وہ لفظ بہ لفظ میری کہانی ہے۔ اس میں بہت سی
ایسی باریک باتیں بھی شامل تھیں جو میرے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ یہ کہانی آقا قافا کی کہانی کیسے ہو سکتی ہے۔
ورما نے کہا
’’ نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ دو آدمیوں کی باکل ایک جیسی کہانی نہیں ہو سکتی اور پھر آقا قافا نے اس کہانی کو اپنی کہانی کہا ہے کیا ہم آقا قافا اس سے بات کی توقع کر سکتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے ‘‘
سائیکی بولی
’’ہرگز نہیں انہوںنے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تم یہی بات وہاں بیٹھے ہوئے مجھے سرگوشی میںبتا رہے تھے تو آقا قافا نے تمہاری
کی تائید بھی کی تھی یعنی وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ تمہاری اور ان کی کہانی ایک ہی ہے‘‘۔ میں نے ورما سے کہا
’’ تم مجھ سے جو چاہو قسم لے لو مگر اس بات کا یقین کرو کہ وہ کہانی میری کہانی ہے۔‘‘
ورما بولا
’’اگر یہ سچ ہے تو پھر میرا دماغ پھٹ جائے گا‘‘
میں ہنس کر بولا
’’تم صرف یہ سن کر اتنے پریشان ہوگئے ہو ۔ میرے بارے میں سوچو۔۔‘‘
سائیکی نے کچھ سوچنے کے بعد مجھ سے کہا
’’ تم اپنے دماغ پر زور دوشاید تمہیں کچھ یاد آجائے۔ آقا قافا اورتمہارے تعلق کا راز جب تک نہیںکھلے گا۔ ہماری حیرت ختم نہیں ہوگی۔‘‘
ورما وہیں سے کہیں اور چلا گیا سائیکی اور میرے فلیٹ پر آگئے ۔میں نے پیزے کیلئے فون کیا اور سائیکی ٹیلی ویژن کے چینل بدلنے
لگی اسے پاکستانی نیوز کے چینل دیکھنے کی بہت عادت تھی۔آج پھرپشاور میں ایک خود کش دھماکہ ہوا تھا اس کے ساتھ پٹرول کی
قیمت میں دس فیصد اضافے کی خبر تھی سائیکی مجھے کہنے لگی
’’ تم پاکستان کو کس طرح دیکھتے ہو‘‘
میں سوچ رہا تھا کہ میں سائیکی کو کیسے سمجھائوں کہ آقا قافا جو کچھ بول رہا ہے وہ میری زبان ہے میرا بات کرنے کا تخلیقی انداز ہے
۔اس سائیکی اس سوال کا جواب میں نے آقا قافا سے بھی بہتر انداز میں دینے کا فیصلہ کیا اور اسے کہا ’’ ’’دھیرے دھیرے آگے
بڑھتی ہوئی زندگی کا نام پاکستان ہے۔وہاں وقت پتھرایاہواہے۔زمین و آسماں کی گردشیں رکی ہوئی ہیں۔موسموں کے دریا جمے
ہوئے ہیں ۔بصارتوں میں سلائیاں پھیری ہوئی ہیں ۔ سماعتوں میں سیسہ بھرا ہوا ہے۔آوازوں میں سناٹے گونج رہے ہیں ۔
تعبیروں سے محروم خوابوں کے ہجوم آنکھوں سے چپک کر رہ گئے ہیں ۔آسیب زدہ فاقلے دائرے کے بھنورمیں ڈوب چکے
ہیں۔آرزو کی سسکتی ہوئی آنکھیں گلی کے نکڑ پر اپنی بے بسی کا تماشاآپ دیکھ رہی ہیں۔پاکستان مردہ منظروں کی ایک فلم بن چکا
ہے۔ اڑتی ہوئی راکھ کے بگولے ۔فاسفورس بموں میں جلی ہوئی مسجدیں۔دورتک پھیلی ہوئی قبریں۔خودکش بمباروں کے طشت
میں رکھے ہوئے سر۔چٹانوں پر کھدے ہوئے موت کے نقشِ پا۔نمازیوں کے چہروں کے خوفزدہ کتبے۔امید کے پرندوں کی
کرلاہٹیں۔تپتی ہوئی ریت میں گم ہوتے ہوئے آسمان کے آنسو۔جمہوریت کے ایوانوں میں ہوتا ہوا پتلی تماشا۔بس یہی پاکستان کا
ماضی اور حال ہے۔بس یہی۔۔‘‘
سائیکی برسا منہ بنا کر بولی
’’تم آج کوئی اچھی بات کرنے کے موڈ میں ہی نہیں ہو میں اب گھر جا رہی ہوں‘‘
اور پھر تھوڑی دیرکے بعد میں اپنے بستر پر اکیلا سونے چکا تھا یقیناسائیکی بھی اپنے بیڈ پر اکیلی سو رہی ہو گی مجھے اب یہ اکیکگی زخم
محسوس ہونے لگی تھی مگربہلول اس زخم پر مرہم کی طرح تھا ۔اورپھر میںبہلول کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا صحرا کی دھوپ میں پسینے سے شرابور۔میں نے بہلول سے کہا
’’میں سوچتا ہوں یہ زندگی کیا ہمارے ادراک اور حواس کا نام ہے یا اس کا اپنا کوئی اٹل وجود ہے اور اس کا اپنا کوئی وجود ہے تو پھر دو
لوگوں کے ادراک اور حواس ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے ایک منظر کو ہر آنکھ مختلف انداز میں کیسے دیکھ لیتی ہے کیونکہ منظر تو
ایک ہی ہوتا ہے ۔‘‘
بہلول سورج سے نکلتی ہوئی آگ کو دیکھتے ہوئے بولا
’’یہ سورج جو اس وقت ہمیں جلا رہا ہے یہی زندگی ہے ۔یہ جو جھلساتی ہوئی ہوا چل رہی ہے اسے زندگی کہتے ہیںحواسِ خمسہ اور
ذہن انسان کو اس لئے دئیے گئے ہیں کہ وہ اس زندگی سے اس کائنات ِ خارجی اور کائنات ِ باطنی سے توازن آمیز روابط اور مناسب
مطابقت پیدا کرے تاکہ اپنے اندر اور اپنے باہر اپنی بقا اور اپنی خارجی و باظنی ضروریات کے حصول کی جنگ میںکامیاب
رہے۔زندگی نہ حواس و ادراک کانام ہے اور نہ ہی جارجیت کا اپنا ذاتی وجود ہے ۔ خارج و باطن ،ادارک و حواس روح مطلق کے
صفاتی منظر نامے ہیں۔جہاں تک ہر ادراک کی اپنی اپنی تفہیم کی بات ہے تووہ دراصل اس کی تخلیقی اپج ہے۔تجربے کی وسعت ہے
۔ادھورے اور مکمل مطالعے کی عکاس ہے۔ ‘‘
میں نے بہلول کے جملے کو کاٹتے ہوئے کہا
’’کیا دو مختلف حواس و ادارک کی ہر حرکت اورخارج کے ساتھ ہر تعلق ایک جیسا ہو سکتا ہے۔ ‘‘
بہلول نے کہا
’’نہیں یہ ممکن نہیں ۔دو شخص ایک جیسی زندگی نہیں بسر کر سکتے ۔ ان کی زندگی میں کہیں مماثلت تو ہو سکتی ہے مگر مکمل طور پر
ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔‘‘
اور پھر جھلساتی ہوئی گرم ہوا کا ایک تیز جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور میری آنکھ گھل گئی ۔یہاں بریڈفورڈ میں بھی سورج نکلا
ہوا تھا اور اس کی کرنیں کھڑکی سے گزر کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھی خاصی صبح ہو چکی تھی میں جلدی جلدی تیار ہو کر دفتر پہنچ
گیا ۔آج وہیں ناشتہ کیا اورسوچنے لگا کہ جس صورت حال سے میں دوچار ہوں اس میں ورما کتنی دیر میرے ساتھ چلے گا۔مجھے یقین
ہو گیا تھا کہ اسکے سادھو بابانے اسے کہہ دیا ہے کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لے ۔آج سے میں نے اپنے بزنس کو اس انداز میں
دیکھناشروع کر دیا تھا کہ اگرورما علیحدہ ہوجائے تو مجھے کیا کیا کرنے پڑے گا۔میرے دماغ میں یہ بات ایک بار پہلے بھی آئی تھی
۔مگرآج مجھے ورما کچھ زیادہ ہی کھچا کھچا سا لگا۔اس کا چہرہ ویران ویران لگ رہا تھا یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ تمام رات نہیں سو سکا
۔میں نے اس سے سادھو بابا کے بارے میں بھی پوچھا تو اس نے کچھ صحیح جواب نہیں دیا تھا گول مول سی بات کہہ کر موضوع بدل
دیا تھا۔ آج دفتر سے بھی ورما دوپہر کو ہی چلا گیا تھا یہ کہہ کرکہ میں نے کہیں جانا ہے بہر حال میں دفتر میں کام کرتا رہا ۔